میرا خاندان، میرا وقار اور تحفظ

160

ساجد: لیکن آج تو ماں کی طرف جانا ہے، انہوں نے دو دن پہلے فون کیا تھا۔ زینب آنٹی اور بہت سے لوگ آئیں گے۔ زینب آنٹی تو ہماری شادی میں بھی نہیں آسکی تھیں۔ کل اتوار ہے، تمہاری کل بھی چھٹی ہے، تم اپنی امی کے پاس کل بھی جا سکتی ہو۔
سیرت: کل… کل تو مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹی میں جانا ہے، مہینے میں مشکل سے ایک مرتبہ ہی تو دوستوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع ملتا ہے۔ (بڑی ناگواری سے) اچھا یوں کرو مجھے شام کو وہیں سے تھوڑی دیر امی کے گھر چھوڑ دینا۔
٭…٭
ساجد اور سیرت کی شادی کو ایک سال ہونے والا تھا، ساجد نے اُس کی خواہش پر اسے الگ گھر کرائے پر لے کر دیا تھا، لہٰذا وہ سسرال کے بجائے شادی ہال سے سیدھے اس کرائے کے فلیٹ میں آگئی۔ ساجد کی والدہ نے دل پر پتھر رکھ کر بیٹے اور بہو کا یہ فیصلہ قبول کیا۔
مہینے میں ایک آدھ بار ہی وہ ساجد کے ساتھ سسرال جاتی اور بڑی مشکل سے دو تین گھنٹے گزارتی۔
سیرت اُن لڑکیوں میں سے تھی جن کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہماری زندگی ہے، ہم اسے اپنی مرضی سے جس طرح چاہیں گزاریں… صبح سے شام تک ملازمت۔ وہاں سے آکر موڈ بنا تو جیسے تیسے کھانا بنا لیا، ورنہ ہوٹل زندہ باد… ساجد کس سے شکایت کرتا! یہ تو اس کی اپنی پسند تھی، لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ سیرت کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرپائے گی۔ وہ تو اس بات کے حق میں بھی نہ تھی کہ اتنی جلدی اولاد کے جھنجھٹ میں پڑے اور اس کی آزادی ختم ہو۔
٭…٭
ساجد کی امی کے گھر میں بڑی رونق تھی۔ زینت آنٹی اپنے بیٹے کے ساتھ آئی تھیں۔ ساجد کی بہنیں، ان کے بچے، بڑے بہنوئی، گھر کی بڑی بہو سمعیہ، اس کے شوہر اور دونوں بچے… تمام مردوں نے ڈرائنگ روم میں ڈیرہ ڈالا ہوا تھا، وہاں سے ان کے ہنستے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں، جبکہ خواتین گھر کے بڑے لاوئج میں گفتگو میں مصروف تھیں…زینب آنٹی نے دبئی سے لائے ہوئے تحفے تمام گھر والوں کو دیئے۔ اس موقع پر وہ سیرت کے لیے اسپیشل تحفہ لائی تھیں کیونکہ وہ اُس کی شادی میں شریک نہیں ہوسکی تھیں۔
٭…٭
کھانا لگایا گیا۔ سمعیہ کے ساتھ بڑی نند اس کا ہاتھ بٹا رہی تھی۔
زینب آنٹی: ارے واہ زبردست… یہ کھانا یقیناً سمعیہ کے ہاتھ کا پکا ہوا لگ رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں تو بڑی لذت ہے۔
ساجد کی امی: (پیار سے) جی بھابھی، آج تو تقریباً سب کھانا سمعیہ نے ہی بنایا ہے، میری طبیعت کچھ خراب تھی۔
سمعیہ: (ساس کی طرف دیکھتے ہوئے) شکریہ آنٹی، لیکن میں شاگرد کس کی ہوں، انھی سے یہ سب کچھ سیکھا ہے۔
٭…٭
سیرت کو یہ سب بناوٹی ماحول لگ رہا تھا۔ ہونہہ ایک چھت تلے یہ سب کیسے خوش رہ سکتے ہیں! سمعیہ اندر ہی اندر کڑھ رہی ہوگی، لوگوں کے سامنے نندوں اور ساس سے میٹھا میٹھا بول رہی ہے۔ اور ساس بھی لوگوں کو دکھانے کے لیے اس کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے، دونوں نندیں تو بھابھی کی خوشامد اس لیے کررہی ہیں کہ ہر ہفتے یہاں آکر کھا پی کر جاتی ہیں۔
٭…٭
سمعیہ اور اس کی نند باورچی خانے میں چائے بنانے گئیں تو زینب اپنی جیٹھانی کے قریب آکر بیٹھ گئیں۔ سیرت سامنے صوفے پر بیٹھی تھی، بڑی نند بھی ساتھ بیٹھی تھیں۔
زینب: رقیہ تم سے ایک بات کرنی تھی… پچھلی مرتبہ میں پاکستان آئی تھی تو اُس وقت سمعیہ کی بہن پڑھ رہی تھی، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بات کروں۔ اب آئی ہوں تو… میں اصل میں عمیر کے لیے ربیعہ کے رشتے کی بات کررہی ہوں، تم سے اور سمعیہ بہو سے مشورہ کرنا چاہتی ہوں۔ ماشاء اللہ بہت پیاری بچی ہے، بالکل ہماری سمعیہ جیسی ہے۔ سب کے ساتھ مل جل کر رہنے والی لگتی ہے۔
رقیہ: یہ لو سمعیہ بھی آگئی۔ بیٹا بیٹھو یہاں، آپ سے کچھ مشورہ کرنا ہے۔
سمعیہ نے ساس کی تمام بات سن کر کہا: آنٹی یہ تو میری بہن کی خوش نصیبی ہوگی کہ اسے زینب آنٹی جیسی ساس ملیں گی۔ آپ جیسا مناسب سمجھیں، مجھے تو کوئی اعتراض نہیں بلکہ میرے لیے یہ خوشی کی خبر ہے۔
٭…٭
سیرت کو یہ سب کچھ بے معنی اور عجیب لگ رہا تھا۔ اس نے دوسرے کمرے میں بیٹھے ساجد کو فون کیا کہ مجھے امی کے گھر چھوڑ آئیے۔ ساجد بہت دنوں کے بعد اس طرح اپنوں کے درمیان بیٹھا تھا، اس نے سیرت کو سمجھایا کہ تمام مہمان بیٹھے ہوئے ہیں، ہمارا اس طرح آدھی محفل سے اٹھ کر جانا مناسب نہیں۔ مجبوراً سیرت کو مزید بیٹھنا پڑا۔ اس نے سامنے بیٹھی ساس کو دیکھا جو گود میں لیے دو سال کے پوتے کو پیار کررہی تھیں، دوسری طرف سے سمعیہ کی چار سالہ بیٹی کے رونے کی آواز آئی تو سارے لوگ اس کی طرف لپکے کہ چوٹ تو نہیں لگی۔
٭…٭
عقیلہ (چھوٹی نند): امی اب مجھے اجازت دیں، امی ابو گھر میں اکیلے ہیں، سہیل بھی میرے ساتھ آئے ہیں، ہم چلتے ہیں، مجھے ان کے لیے رات کا کھانا بھی بنانا ہے۔
سب نے عقیلہ کو پیار سے خدا حافظ کہا، سمعیہ نے ایک بڑا لنچ باکس عقیلہ کے ہاتھ میں تھمایا کہ رات کے لیے ابھی جاکر کھانا بنائوں گی؟ یہ لیتی جائو۔
عقیلہ: شکریہ بھابھی، آپ نے تو میرا مسئلہ ہی حل کردیا۔ آپی آپ ہمارے ساتھ چلیں، ہم آپ کو چھوڑتے جائیں گے۔
عمیر: (ساجد کے بڑے بھائی) ارے نہیں بھئی، اس کو ہم بعد میں آرام سے چھوڑنے جائیں گے، آپ لوگ جائیں، آنٹی اور انکل آپ کا انتظار کررہے ہوں گے۔
٭…٭
سیرت گھر آئی تو خاصی دیر تک اپنے سسرال والوں کے بارے میں سوچتی رہی۔ عجیب لوگ ہیں، ہر ایک کو اپنی مرضی سے جینا چاہیے لیکن یہ ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں۔ یہ بھی کوئی زندگی ہے!
٭…٭
ساجد کے لیے یہ بڑی خوشی کی خبر تھی، ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا تھا ان کی شادی کو… سیرت کے نہ چاہنے کے باوجود اسے اللہ کی طرف سے یہ خوشی کی خبر ملی تھی، بلکہ سارے گھر والے اس خبر سے خوش تھے۔ ساجد کی امی تو سیرت کو روز فون کرکے نہ صرف خیریت پوچھتیں بلکہ بہت سی احتیاطیں برتنے کی نصیحت بھی کرتیؐں جنہیں سیرت ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی۔ اس کی محفلیں، پارٹیاں ویسے ہی چل رہی تھیں۔ آج وہ دیر گئے پارٹی سے لوٹی تو اس کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔
٭…٭
امی نے سنا تو وہ فوراً ہسپتال پہنچیں جہاں ساجد بھی موجود تھا۔ سیرت کے چھپے آنسو امی سے نہ چھپ سکے، انہوں نے دونوں کو تسلی دی کہ ہر کام میں اللہ کی مصلحت شامل ہے، اللہ تم کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔
سیرت کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے امی اسے ہسپتال سے سیدھے اپنے گھر لے آئیں۔ سب اس کے دکھ میں شامل تھے، سب نے اسے تسلی دی۔ دیورانی، نندیں، ساس سب اس کے دکھ کو جانتے تھے کہ کس کرب سے وہ گزری ہے۔ محبتوں کے سائے میں آکر وہ کافی بہل گئی جیسے اس کے رِستے زخموں پر کسی نے مرہم رکھ دیا ہو۔ وہ تو سمجھ رہی تھی کہ جس طرح اس نے اپنے سسرال والوں کے ساتھ رویہ رکھا ہے وہ بھی اس سے وہی رویہ برتیں گے۔ اپنے رویّے پر اسے ندامت سی محسوس ہورہی تھی۔ ساجد بھی یہاں آکر اپنے دکھ کو بھول گیا تھا، اس کے چہرے کے سکون اور اطمینان سے سیرت کو آج اندازہ ہوگیا تھا کہ شاخیں اپنی جڑوں سے علیحدہ ہوکر مرجھا جاتی ہیں۔ وہ جو زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزارنا چاہتی تھی جہاں کسی کی دخل اندازی نہ ہو، کوئی روک ٹوک نہ ہو، کوئی رشتہ کوئی بندھن اس کی راہ میں رکاوٹ نہ ہو… آج اسے احساس ہورہا تھا کہ ان رشتوں کے بغیر وہ ادھوری تھی۔ یہ رشتے اسے تحفظ کا احساس دلا رہے تھے کہ تم اکیلی نہیں ہو، ہم ہیں ناں تمہارے ساتھ، تمہارے غم کو بانٹنے والے، تمہارا خیال رکھنے والے۔
دروازے پر دستک سے وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آگئی۔ ساس کو سامنے دیکھ کر سیرت نے کہا: امی آپ…
جی بیٹا، یہ دم کیا ہوا پانی ہے، پی لینا۔ بیٹا اپنا خیال رکھو، کھائو پیو، بہت کمزور ہو گئی ہو۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ساس کی آواز سے پیار جھلک رہا تھا، اسے بڑی شرمندگی محسوس ہورہی تھی کہ وہ انہیں کیا جواب دے۔ لڑکھڑاتی آواز میں اس نے کہا: امی (آج سے پہلے اس نے کبھی ساس کو امی نہیں کہا تھا، وہ انہیں آنٹی ہی کہتی تھی) آپ سب نے میرا بہت خیال رکھا ہے، اتنا خیال تو میرے گھر والے بھی نہ رکھتے۔ میں نے… میرا مطلب ہے کہ (اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے) مجھے یہاں آکر احساس ہوگیا ہے کہ میں اکیلی نہیں ہوں، آپ سب میرے ہیں۔
٭…٭
مذکورہ بالا خاندانی تصویر ’’تصوراتی‘‘ نہیں بلکہ حقیقی ہے۔ میرے چاروں طرف بہت سے مشترکہ خاندان ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح اکٹھے ہنسی خوشی جی رہے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ سُکھ میں شریک، ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوئے… خصوصاً بزرگوں کے سائے میں، دعائوں کے سائے میں جی رہے ہیں۔ آج ماڈرن سوچ کی حامل وہ لڑکیاں جو ان رشتوں کو ایک مصیبت سمجھتی ہیں، شادی کے بعد اکیلے من مانی سے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہیں، جہاں کوئی روک ٹوک والا، کوئی اصلاح کرنے والا نہ ہو، وہ نہ صرف اپنے شوہروں پر ظلم کررہی ہیں، بلکہ اپنی اولاد کو بھی ان بزرگوں سے دور رکھ کر ان کی دعائوں، ان کی صحبت سے محروم کررہی ہیں۔ بیشک مشترکہ خاندان میں رہنے سے کچھ باتوں پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے، لیکن اس کی افادیت سے انکار نہیں۔ اس کا احساس وہی کرسکتے ہیں جو ایسے خاندانوں کا حصہ ہیں۔ میری بیٹی بڑے فخر سے کہتی ہے کہ میرے بچے بڑے خوش نصیب ہیں کہ وہ دادا دادی کے ساتھ اُن کی دعائوں کے سائے میں رہتے ہیں، انہیں اپنے دادا دادی کی محبت ملی ہے۔
اسی طرح ایک عزیزہ نے کہا: یہ خاندان میرا تحفظ ہے، میری شناخت ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میں ان سب کے ’’درمیان‘‘ ہوں۔ میری والدہ مرحومہ ہمیشہ فرماتی تھیں کہ میری خوش قسمتی ہے کہ سسر کے زیر سایہ میں نے اور بچوں نے تہذیب و تمدن کے مطابق جینا سیکھا۔
٭…٭
بے شک کسی کے لیے بھی خصوصاً ایک عورت کے لیے اُس کا کنبہ، اُس کا خاندان بڑی اہمیت کا حامل ہے جس سے اپنی ذات کو محروم رکھنا سراسر اپنی ذات پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے خاندانی رشتوں سے جڑے لوگ معاشرے کے لیے بھی مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ خوشگوار اور مستحکم معاشرہ ایسے ہی خاندانوں سے پروان چڑھتا ہے۔

حصہ