میں براڈ کاسٹر بننا چاہتی ہوں، مشکوٰۃ محبوب

284

شب کور کے مرض میں مبتلا باہمت طالبہ کی پرعزم کہانی

زندگی کی مدار میں کئی ایسے لمحات بھی آتے ہیں جن سے ہمیشہ کے لیے یادیں وابستہ ہوجاتی ہیں۔انسان لاکھ کوشش کے بعد بھی ان سے ھٹکارہ حاصل نہیں کرپاتا بلکہ شاید ان یادوں سے جڑے رہنے کا بھی ایک الگ ہی لطف ہوتا ہے جو انسان کو اس کے ماضی سے جڑے رہنے پر مجبوررکھتا ہے ،اسی کی بدولت خدا کا قرب اور شکرگزاری جیسی نعمتیں انسان کی شخصیت کا خاصا بن جاتی ہیں۔مجھے فروری کی وہ سرد شام بھلائے نہیں بھولتی جس دن راہ چلتے سڑک پر کرکٹ کھیلتے بچوں کی جانب سے ایک زوردار گیندنے میری آنکھ کو بری طرح زخمی کردیا تھا،میں کئی ماہ آنکھ کی تکلیف میں مبتلا رہا،نظر بھی دھندلاہٹ کا شکار ہوگئی،تکلیف ایسی کہ جو ناقابل بیان تب یہ احساس ہوا کہ اللہ رب العزت کی بے حد و نہایت نعمتوں میں آنکھ کتنی بڑی نعمت ہے مگر ہم انسانوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی بے انتہانعمتوں کو فراموش کیے بیٹھے ہیں ،ہمیں ان نعمتوں کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب یہ نعمتیں ہم سے چھن جاتی ہیں.
ہمارے معاشرے میں ایسے بھی باہمت افراد موجود ہیں جو اپنی محرومیوں پر نہ کسی سے شکوہ کرتے ہیں نہ شکایت.اللہ اگر اپنی کسی نعمت سے انہیں محروم رکھ کران کی آزمائش کرتا ہے تو وہ اس آزمائش پر راضی برضا رہتے ہیں ،انہی باہمت افراد میں جامعہ کراچی کی طالبہ مشکوٰۃ محبوب بھی شامل ہیں جوشب کور(ریٹینائٹس پگمنٹوسا)کا شکار ہونے کے باجود عزم و ہمت سے اپنی لیے ایک نئی دنیا تخلیق کر رہی ہیں.ہم نے ان سے ان کے حالات جاننے کی کوشش کی ہےجو نذرِ قارئین ہے:۔

سوال: کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟
جواب :میں 2 فروری 2000 کو سعودی عرب میں پیدا ہوئی۔ہم تین بہن بھائی ہیں،مجھ سے چھوٹے دو بھائی ہیں ۔میں نے میٹرک اور انٹر سائنس سے کیا اور اب میں جامعہ کراچی میں شعبہ تعلقات عامہ میں بی اے کی طالب علم ہوں۔میں Retinitis pigmentosa کی مریض ہوں یہ ایک پیدائشی مرض ہے اور اس کا سبب کزن میرج ہوتا ہے،اس مرض کے نتیجے میں آنکھ کی بینائی رفتہ رفتہ کم ہوتی رہتی ہے اور بالآخر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ انسان مکمل نابینا ہوجاتا ہے مگر میری صورتحال مختلف ہے۔ دن کی روشنی میں مجھے صحیح نظر آتا ہے البتہ رات کے وقت مجھے کچھ نظر نہیں آتا،مگر خدا کا شکر ہے کہ میری دن کی نظر اب بھی محفوظ ہے۔
سوال:اسکول اور کالج کا زمانہ کیسا گزرا؟
جواب :میں نے شروع سے ہی بلائنڈ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بجائے عام اسکول میں تعلیم حاصل کی تعلیمی سفر کے دوران ایک روز کے لیے بھی اپنی بیماری کو آڑے آنے نہیں دیا، اسکول میں مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑاعموماً اساتذہ میری بیماری کے باعث بھی میرے ساتھ تعاون نہیں کیا کرتے تھے جبکہ کالج کے زمانے میں بھی ساتھی طلبہ کا سلوک بہت تکلیف دے ہوتا تھا،اگر اساتذہ میرے ساتھ تعاون کرتے تو باقی طلبہ مجھ پر طنز کرتے ہوئے کہتے کہ اگر نظر کی کمزوری کی بنا پر استاتذہ تعاون کر رہے ہیں تو کل سے ہم بھی چشمہ لگا کر آئیں گے،لوگوں کی ان باتوں سے مجھے تکلیف پہنچتی تھی۔اس کرب کی کیفیت کا شاید آپ اندازہ بھی نہیں کرسکتے جس سے مجھے گزرنا پڑا۔ میٹرک تک مجھے پینسل اور پین کی لکھائی نظر آتی تھی میں کتابیں بھی پڑھ لیا کرتی تھی مگر اب میں بالکل بھی پڑھ نہیں سکتی۔اب اگر مجھے کچھ پڑھنا ہوتا ہے تو میں اسے نیٹ سے کاپی کرکے اپنے آئی پیڈ پر کاپی کرلیتی ہوں اس کا فونٹ سائز اور رنگ میں نے اپنے حساب سے کر رکھا ہے جس کے ذریعے میں بآسانی پڑھ لیتی ہوں۔
سوال:امتحان کس طرح دیتی ہیں؟
جواب : عموماً میری کزن یا کوئی کلاس فیلو امتحانات میں میری مدد کرتی ہیں میں دوران امتحان انہیں املا بولتی ہوں اور وہ لکھتے رہتے ہیں ویسے مجھے دوران امتحان ایک تلخ تجربے سے بھی گزرنا پڑا، ہوا کچھ یوں کہ انٹر میں اردو کے پرچے میں میری لکھاری ایک میٹرک کلاس کی طالبہ تھی اس کا املا کمزور تھا جس کے سبب مجھے بہت کم نمبر ملے تھے۔
سوال:کوئی مدد کرے تو کیسا لگتا ہے؟
جواب : لوگوں کا مدد کرنا آگے بڑھ کر سہارا دینا مجھے بہت اچھا لگتا ہے مگر میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ان پر مکمل انحصار نہ کروں اور نہ ہی میری ذات ان پر بوجھ بنے لہذا میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے کام خود سر انجام دوں اور جو لوگ میری مدد کریں بدلے کے طور پر میں بھی ان کے کام آسکوں۔
سوال:جامعہ میں اساتذہ اور طلبہ کا رویہ کیسا ہے؟
جواب :خدا کا شکر ہے کہ تمام اساتذہ کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا ہے وہ میرے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں اور بہتر انداز میں رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔ساتھی طالب علم بھی میرا بہت خیال کرتے ہیں اور پڑھائی کے معاملات میں ہم ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں البتہ ابتدائی دنوں میں مجھے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا شاید یہ مشکلات باقی طلبہ کو نہ پیش آئی ہوں مگر یہ وقت بھی گزر گیا۔
سوال:آپ کے اس عزم اور حوصلے کا سہرا کس کے سر ہے؟
جواب :یقیناً اس کا سہرا میرے والدین کے سر جاتا ہے جنہوں نے ہر موڑ پر میرا ساتھ دیا میں جب بھی مایوسی کا شکار ہوئی انہوں نے امید کا دیا روشن کرکے مجھے مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے باہر نکالنے میں مدد فراہم کی،میرے پاس شروع سے یہ موقع تھا کہ میں معذور بچوں کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کروں مگر میرے والدین نے مجھے اچھے اسکول میں تعلیم دلوائی تاکہ میں خود کو الگ محسوس نہ کروں بلکہ معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ بہتر طور پر مقابلہ کرسکوں،میری والدہ اسکول سے ملنے والا کام اکثر مکمل کردیا کرتی تھی اور یہ میرے والدین کا ہی میرے ساتھ تعاون ہے کہ میں آج جامعہ میں تعلیم حاصل کررہی ہوں۔
سوال:آپ کے مشاغل کیا ہیں؟
جواب : مجھے شاعری پڑھنے اور کہانی لکھنے کا شوق ہے۔کالج کے زمانے میں انگریزی میں کہانیاں لکھا کرتی تھی جبکہ کئی تقریری مقابلوں میں حصہ لے چکی ہوں جبکہ جامعہ میں آنے کے بعد پڑھائی میں مصروف ہوکر ان مشاغل کے لیے اب وقت نہیں نکل پاتی۔
سوال:خواب دیکھتی ہیں؟
جواب : یہ کیسا سوال ہے؟جی بالکل! کبھی اچھے اور کبھی ڈراؤنے خواب آتے ہیں،کبھی ایسا لگتا ہے کہ میں امتحان میں فیل ہوگئی اور کبھی یوں لگتا ہے کہ کامیابی نے میرے قدم چوم لیے ہیں۔
سوال:فمینزم کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب : میری دانست میں مرد و خواتین کو معاشرے میں کام کرنے کے یکساں مواقع ملنا چاہئے،مگر اس قسم کے فضول نعروں کی آڑ میں اسلامی احکامات کی مخالفت کرنا سنگین جرم ہے،اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے مرد اور عورت کے تمام حدود کو طے کردیا ہے انہیں تعلیمات پر چل کر ہماری کامیابی ممکن ہے۔
سوال: سیاست سے دلچسپی ہے؟
جواب : پہلے نہیں تھی مگر اب تھوڑی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے مگر ملک کی موجودہ سیاست الزامات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے عوام کی فلاح و بہبود سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے البتہ ذاتی طور پر میں سابق صدر پاکستان ایوب خان کی کارکردگی سے بہت متاثر ہوں،انہوں نے اپنے دور حکومت میں مثالی کام کروائے تھے جس کے اپنے اورپرائے بھی معترف ہیں۔
سوال:کیا بننا چاہتی ہیں؟
جواب : میں براڈ کاسٹر بننا چاہتی ہوں مگر والد صاحب کی خواہش ہے کہ میں سول سروس کو جوائن کروں جبکہ ایم این سی کی طرف بھی جانے کا ارادہ ہے اب دیکھیں کیا ہوتا ہے، میرا کام محنت کرنا ہے باقی جو اللہ کو منظور ہوا وہ ہوجائے گا۔
سوال: معاشرے کے لیے کوئی توجہ؟
جواب :میں بس یہ توجہ دلانا چاہتی ہوں کہ لوگ معذور افراد کو بھی معاشرہ کا حصہ سمجھیں،ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ معذور افراد کو ملازمتوں اور شادی کے معاملات میں بھی دشورایوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان رویوں کا اب خاتمہ ہونا چاہئے ان کو بھی معاشرے میں عزت و احترام ملنا چاہئے.کوئی بھی شخص کسی بھی وقت معذوری کا شکار ہوسکتا ہے لہذا اگر ہم معذور افراد کے ناروا سلوک اختیار کریں گے تو یہ اللہ کے فیصلوں سے بغاوت ہوگی،ہمیں ہر وقت اللہ سے توبہ کرنی چاہئے۔
سوال: پاکستانی قوم کے لیے کوئی پیغام؟

نا بینا جنم لیتے ہیں اس قوم کے بچے
جو قوم دیا کرتی ہے تاوان میں آنکھیں

میرا قوم کو بس یہی پیغام ہے کہ 75 سالوں سے ہم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کرسکے ہم ایسے لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو اقتدار میں آکر ہمارا استحصال کرتے ہیں،ہمیں چاہئے کے ہم ایماندار اور باصلاحیت لوگوں کے ہاتھوں میں ملک کی زمامِ کار دیں تاکہ ملک ترقی کی شارع پر گامزن ہوسکے اور ہم آئندہ آنے والی نسلوں کو ایک بہتر پاکستان دے سکیں۔

حصہ