انسانوں کی اجتماعی تنہائی

150

ہم سب پاس ہیں، مگر ہم سب تنہا ہیں۔ ہماری تنہائی کی تین بنیادی جہتیں ہیں: شخصی، جسمانی، اور روحانی۔ ہم معاشرتی مخلوق ہیں، الگ الگ نشوونما نہیں پاسکتے، مگر ہم سب آج تنہا ہیں۔ دیگر جان داروں کی سماجی ومعاشرتی زندگی ہم سے بہت بہتر ہے۔ سنجیدگی، تابع داری اور باہمی انس انسانوں میں عنقا ہوچکا ہے۔ مغرب نے ہمیں ’’معاشرتی انسان‘‘ سے ’’معاشرتی حیوان‘‘ کی سطح پر ہی گرایا تھا، ہم آج ’’معاشرتی مشین‘‘ بن چکے ہیں۔ معیاری انسان خال خال ہی میسر ہیں۔
ہمارے درمیان بے گانگی کی، بے معنویت کی، بے قدری کی غیر مرئی دیواریں کھڑی ہوچکی ہیں۔ سوشل میڈیا یا ’’معاشرتی ذرائع ابلاغ‘‘ وہ گمراہ کُن عنوان ہے، جو عین اپنے معنوں کا مخالف ہے۔ یہ دراصل معاشرتی ذرائع جمود ہے۔ ہم سب پاس ہیں مگر ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ہیں، بلکہ تنہا تنہا بے شعور مشینوں کی مصنوعی علامتوں (ایموجیز، رومن اردو، تصویریں وغیرہ) میں اپنے احساسات کی پرورش کررہے ہیں، یہ سعیِ لاحاصل ہے۔ ہم سب تنہا تنہا بے شمار نظروں(views) کی توجہ چاہتے ہیں، ایسی توجہ جس کی کوئی شناخت، کوئی معیار، کوئی وابستگی نہیں ہے۔ بس ایک بے معنی، بے ہنگم گنتی ہے، جس کی دوڑ میں سب تنہا ہیں۔ توجہ کی یکسوئی بدترین بحران میں ہے۔
آن لائن دنیا کا سراب صحرا کی تمازت سے بھی محروم ہے، تھکاوٹ کے احساس اور جدوجہد کی لگن سے عاری ہے۔ یہ سوائے بے کسی اور تنہائی، کچھ نہیں۔ ایک مشینی بے حسی ہے جو انسانی وجود پرطاری ہوجاتی ہے، بے کاری غالب آجاتی ہے۔ رات آجاتی ہے، اور کوئی زمینی حقیقت سامنے نہیں آتی۔
نہ یہ کائنات مشینی ہے، اور نہ انسان مشینی ہے۔ یہ شخصی، جسمانی، اور روحانی ہیں۔ یہ کائنات بامعنی ہے، سو انسانی زندگی بھی بامعنی ہے۔ یہ معنی کیا ہے؟ یہی معنی جو ہے، یہی نظریہ زندگی ہے! سب معنی کی تلاش میں ہیں۔ معنی معاشرتی زندگی میں ہے، اور معاشرتی زندگی زمین پر ہے، یہ ’’سوشل میڈیا‘‘ پر ممکن نہیں، یہ غیر فطری ہے۔ زمین پر معاشرہ بندی کی حقیقت فرد، والدین، مرد، عورت، اولاد، اور دوست احباب کی شخصی، جسمانی اور روحانی وابستگی سے ہی ممکن ہے، اور کوئی دوسری صورت ممکن نہیں۔ مغرب نے مسلسل معاشرتی شیرازہ منتشر کیا ہے، مشرق نے مسلسل معاشرہ بندی کی ہے۔ مغرب مسلسل مذہب دشمنی پرکاربند رہا ہے، مشرق نے ہمیشہ مذہب کی زندگی گزاری ہے۔ مغرب نے کائنات اور انسان کو مشینی سمجھا اور سمجھایا ہے، اور یوں خدا سے دوری اختیار کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے مغرب میں معاشرتی زندگی برباد ہوئی، اور آج پوری زمین شخصی، جسمانی اور روحانی کرب میں مبتلا ہے۔ ’ٹیک ٹائی کون‘ جنہیں دانشور بھی تسلیم کرلیا گیا ہے، کہتے ہیں: مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفشل انٹیلی جنس، یعنی اسمارٹ فون، یعنی سوشل میڈیا، یعنی واٹس ایپ، گوگل، فیس بک انسان کی جگہ لے لیں گے، یہ انسان پر قابو پالیں گے، ایسا امکان میں نہیں ہے۔ مگر یہ نظریہ انسانی معاشرے میں انتشار ضرور لارہا ہے، بلکہ معاشرتی جمود کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
مذکورہ مقدمہ ضروری مشینی آلات کی افادیت سے انکار پر استوار نہیں ہے، بلکہ ان کی درست قدر کا تعین ہے۔ سوشل میڈیا پر وہی وقت اور توجہ دینی چاہیے کہ جتنی ضروری ہو، کہ جتنا وقت اور توجہ ہم اپنی موٹر سائیکل یا کار کو دیتے ہیں، اور استری یا واشنگ مشین پرصرف کرتے ہیں۔ یہ ساری مشینیں ہم نے اپنی خدمت کے لیے بنائی ہیں، ہم ان کے خادم بن کر نہیں رہ سکتے۔ صارف اُس وقت تک صارف ہے جب تک وہ صَرف نہ ہو، مشینوں کے ہاتھ صرفِ بے جا بن کر نہ رہ جائے۔مگر آج کی دنیا میں صورتِ حال یہ ہوچکی ہے کہ انسانی وجود ہی محلِ نظر ہے۔ پہلی بار انسانی فکر میں اس امکان نے جگہ بنائی ہے کہ کوئی مشین انسان کی جگہ بھی لے سکتی ہے۔ انسانی وجود کی غایت کیا ہے؟ اقبال شناسی کہتی ہے: جہاں ہے تیرے لیے تُو نہیں جہاں کے لیے۔ رب کائنات کی روح اور زمین کی خاک سے مرکب یہ وجود ساری خلقت میں بہترین ساخت پر ہے۔ اعلیٰ ترین بھی ہوسکتا ہے، پست ترین بھی بن سکتا ہے۔ کسی مخلوق کا انسان سے کوئی مقابلہ نہیں۔
سارا عالم معنی ہی معنی ہے، نظم ہی نظم ہے، توازن ہی توازن ہے، ہم آہنگی ہی ہم آہنگی ہے، وحدانیت ہی وحدانیت ہے، الوہیت ہی الوہیت ہے، عبادت ہی عبادت ہے، سوائے ابن آدم کی دنیا کے۔ یہ بے معنی ہے، انتشار ہی انتشار ہے، بگاڑ ہی بگاڑ ہے، شرک ہی شرک ہے، ابلیسیت ہی ابلیسیت ہے، اور کفر ہی کفر ہے۔ وجہ یہی ہے کہ انسان پست ترین حالت سے قریب تر ہے، اِلاّ یہ کہ وہ اعلیٰ ترین کی جانب رجعت کرے، خدائی سے ہم آہنگ ہوجائے، بامعنی ہوجائے! مگر یہ بہترین معاشرہ بندی کے بغیر ممکن نہیں، اور یہ معاشرہ بندی اس یقین کے بغیر ممکن نہیں کہ انسان کا وجود بامعنی ہے، اور یہ معنی صرف ’’الٰہی‘‘ ہیں، کہ جس نے انجیل اور زیتون کی قسم! اسے بہترین ساخت پر پیدا کیا…!۔
انسانوں کو اجتماعی تنہائی سے نکلنا ہوگا، ’’سوشل میڈیا‘‘ کے بحران سے نکلنا ہوگا، مشینوں سے نکلنا ہوگا، اور ایک دوسرے کے ساتھ شخصی، جسمانی، اور روحانی تعلق مضبوط کرنا ہوگا۔
اصلاح کیسے ہو؟ میں نے سب سے پہلے اس احساس کو شخصی طور پر محسوس کیا، روحانی طور پر جذب کیا، پین سے کاغذ پر باقاعدہ لکھ کر منتقل کیا، اور پھرکمپیوٹرکی باری آئی، ترجیح کاغذ کی ہارڈ کاپی رہی، اور پھریہ تحریرفیس بک کی زینت بنی۔ ہم سب کو پاس ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ بھی ہونا چاہیے، ایک دوسرے کی شخصی قدر کرنی چاہیے، روحانی تعلق مضبوط کرنا چاہیے، پھر مطالعہ، تحقیق اور کتب بینی کی طرف جانا چاہیے، پھرکمپیوٹر یا اسمارٹ فون پر ضروری ابلاغ کے بعد جسمانی آرام اور ذہنی سکون پرتوجہ دینی چاہیے۔ یہی انسانی تہذیب کی روح ہے، جسے مشینوں کی نذر نہیں کیا جاسکتا!

حصہ