حریم ادب کی نشست میں کتاب کی رونمائی

67

جاتے جاڑوں کی حسین رُت تھی، جب کراچی حریم ادب کی مشاق ٹیم نے الخدمت کانفرنس ہال کے دیدہ زیب گوشے میں ایک خوبصورت نشست سجائی۔
یہ نشست نگراں نشرواشاعت ثمرین احمد، نگراں حریم ادب عشرت زاہد اور نگراں سوشل میڈیا شبانہ نعیم کی کاوش کا نتیجہ تھا۔ نشست میں نہ صرف یہ کہ کہنہ مشق قلم کار محترمہ آسیہ بنتِ عبداللہ صدیقی کی کتاب کی رونمائی رکھی گئی تھی بلکہ مدیرۂ ’بتول‘ محترمہ صائمہ اسما کی موجودگی نے اس شام کے حسن میں مزید اضافہ کردیا تھا۔
پابندیِ وقت کا خیال رکھتے ہوئے دونوں معزز مہمان تشریف لا چکی تھیں، لکھاری بہنیں بھی دبے دبے جوش کے ساتھ اپنی کرسیوں پر براجمان تھیں۔ سلام دعا اور مسکراہٹوں کے تبادلے کے ساتھ ہم نے بھی نشست سنبھال لی اور گرد و پیش کا جائزہ لیا۔ جانے انجانے چہرے ایک شوق کا جہاں سجائے بیٹھے تھے۔
نشست کا آغاز ثمرین احمد نے آسیہ بنتِ عبداللہ اور مدیرہ بتول کی آمد کے شکریے کے ساتھ کیا۔ محفل کا آغاز مدیرہ بتول سے سوال جواب کے ساتھ ہوا۔ اپنی جاذبِ نظر شخصیت اور دل موہ لینے والے انداز میں مدیرہ صاحبہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سلسلۂ کلام آگے بڑھایا اور ثمرین کے سوالات کے جوابات دیے۔
ادارہ بتول کے پس منظرکو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’چمن بتول‘‘ ملک کا واحد رسالہ ہے جس کا اجرا 1957ء سے بلا تعطل ہورہا ہے۔ یہ اُن خواتین کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جو اسلام کی سوچ کو عام خواتین تک ہلکے پھلکے انداز، لیکن ادبی پیرائے میں پہنچانا چاہتی تھیں، اور وہ مثبت سوچ دینے میں بلامبالغہ کامیاب رہیں۔ آن لائن کتابوں کے بڑھتے رجحان پر بات کرتے انہوں نے خوش خبری سنائی کہ بتول کی ویب سائٹ پر کام جاری ہے اور جلد ہی آن لائن بک اسٹور بھی اپنا کام شروع کردے گا جہاں سے آپ گھر بیٹھے ادارہ بتول کی کتابیں منگوا سکتے ہیں۔
ثمرین احمد کے، معیاری تحریر اور کتاب کی اشاعت کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ خواہش تو ہر لکھاری رکھتا ہے لیکن اس کے لیے پہلے اپنی تحریر کے معیار کو پرکھیں اور اپنی تحریر کو خود ہی مسترد کرنے کا حوصلہ پیدا کریں (جو کہ بہت مشکل ہے)، کیوں کہ کتاب تو شائع ہوکر بازار میں آجائے گی، لیکن اس کے بعد جب وہ قاری کے ہاتھوں میں جائے گی تو آپ کی تحریر کیا تاثر اُس پر چھوڑے گی، اس کو بھی نظرانداز نہ کریں۔ لہٰذا جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندانہ فیصلہ کیا جائے۔ یہاں انہوں نے کہانی اور افسانے کے فرق کو بھی واضح کیا۔ کہانی سیدھی سپاٹ ہوتی ہے، جب کہ افسانہ بات کو بالواسطہ کہنے کا نام ہے، جو پُراثر ہو اور انجام قاری پر چھوڑ دیا جائے۔ افسانے کو مؤثر ہونا چاہیے، جس کے لیے قلم کار کو اپنے خیال پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
شاعرہ اور مصنفہ محترمہ روبینہ فرید نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اپنی تحریر کا سب سے اچھا محاسب خود قلم کار ہوتا ہے، لہٰذا کتاب کی اشاعت سے پہلے معیار کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔
اس گفتگو نے جہاں حاضرینِ محفل کو دانش مندانہ فیصلہ کرنے پر متوجہ کیا، وہیں بہت سوں نے اپنی خواہش کو دل میں دبا لیا ہوگا۔ بہنیں بڑی دلچسپی اور شوق سے گفتگو سن رہی تھیں۔ ان میں ہماری سینئر قلم کار بھی تھیں اور جونیئر بھی۔ نیر کاشف، فریحہ مبارک، آمنہ رومیصہ زاہدی، فائزہ مشتاق، حمیرا فرید، اسما صدیقہ، شہلا خضر اور بہت سی بہنیں موجود تھیں، جبکہ بہت سی بہنیں آنے کی خواہش رکھنے کے باوجود شہر میں کرکٹ میچ اور اس کے نتیجے میں سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے شرکت نہ کرسکیں، جس کا افسوس سب کو تھا۔
اس موقع پر نگراں حریمِ ادب عشرت زاہد نے حریمِ ادب کراچی کی سرگرمیوں کا تعارف بھی دیا اور آن لائن ادبی گروپ جس میں نوآموز ادیبات و شاعرات کی اصلاح، تربیت و تبصرے کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بہت سی باصلاحیت لکھاری سامنے آرہی ہیں۔ گزشتہ سال جب کہ کورونا کی وجہ سے نشستوں کا انعقاد ناممکن ہوگیا تھا، اُس وقت بھی عشرت زاہد نے اپنی ٹیم کے ساتھ لکھاری بہنوں کی دل چسپی اور شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے آن لائن محفلوں کا انعقاد کرکے گھر بیٹھے رنگا رنگ نشستیں سجائیں، جن میں قلم کار بہنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی اوراپنی تحریروں کے ذریعے داد سمیٹی۔ عشرت اور ان کی ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے جو بڑی دل جمعی اور جانفشانی سے حریم ادب کو متعارف کروا رہی ہے۔
ہماری خوش قسمتی کہ ہماری نشست میں ناظمہ کراچی اسما سفیر صاحبہ نے بھی اپنے قیمتی اوقات میں سے وقت نکال کر شرکت کی اور بڑی محبت سے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کراچی حریمِ ادب کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتنے مختصر وقت میں انہوں نے دو کامیاب نشستوں کا اہتمام کیا۔
لفظ کی حرمت، اہمیت اور لکھاری اور کتب کی پذیرائی حریمِ ادب سے بہتر کون جان سکتا ہے! یہی آج کی نشست کی خاص بات تھی۔ ہماری بہت عزیز، محترم اور کہنہ مشق قلم کار محترمہ آسیہ بنت ِ عبداللہ صدیقی کی تیسری کتاب ’’گمنام سپاہی‘‘ کی تقریبِ رونمائی بدست مدیرہ بتول صائمہ اسما اور ناظمہ کراچی محترمہ اسما سفیر صاحبہ انجام پائی۔ اس موقع پر راقمہ نے کتاب کا مختصر تعارف رکھا۔ آسیہ آپا جو پچھلے پانچ عشروں سے جہاد بالقلم کررہی ہیں، اس سے قبل ان کا ناول ’’دل شکن‘‘ اور افسانوں کا مجموعہ ’’کربِ آگہی‘‘ قبولیت کی سند حاصل کرچکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب بچوں کا ناول ہے جو بچوں کے ایک رسالے میں قسط وار شائع ہوکر سندِ قبولیت حاصل کرچکا ہے۔ زیرنظر ناول بچوں کی تربیت و مہارت سیکھنے سے متعلق ہے، اس میں بھی آپا نے بڑی دل سوزی سے بچوں کی تربیت پر زور دیتے ہوئے انہیں دین و ملک کا بے لوث سپاہی بننے پر زور دیا جو نمود و نمائش سے پاک ہوں۔ کتاب دادا، دادی اور اُن کے پوتوں، پوتی کے کرداروں پر مشتمل ہے۔ دادی اپنی نسل کو ایک اعلیٰ مقصد کے لیے تیار کررہی ہیں اور کھیل و نصیحتوں کے ساتھ وہ بچوں کو وقت کی قدر کرنے اور ملک و قوم کے لیے اپنے اندر ایثار و قربانی کا جذبہ پروان چڑھانے پر ابھار رہی ہیں۔ یہ جذبہ آج مفقود ہے۔
کتاب کے تعارف کے بعد بہنوں نے ہاتھوں ہاتھ کتاب کے حصول میں اپنا شوق دکھایا۔ تیزی سے بھاگتی سوئیوں نے وقت گزرنے کا احساس دلایا، ناظمہ کراچی کی دعا کے ساتھ ہماری یہ یادگار اور خوب صورت محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔ کراچی حریم ادب نے مہمانوں کے لیے چائے کا اہتمام بھی کررکھا تھا۔

حصہ