منتخب غزلیں

139

مرزا غالب

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک
یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل
گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہونے تک
غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
٭٭٭

قابل اجمیری

ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہم
زنداں میں بھی گئے تو چراغاں کریں گے ہم
برہم ہوں بجلیاں کہ ہوائیں خلاف ہوں
کچھ بھی ہو اہتمام گلستاں کریں گے ہم
دامن کی کیا بساط گریباں ہے چیز کیا
نذر بہار نقد دل و جاں کریں گے ہم
ظلمت سے بے کراں تو اجالے بھی کم نہیں
ہر داغ دل کو آج فروزاں کریں گے ہم
اب دیکھتے ہیں کون اڑاتا ہے رنگ و بو
اپنا لہو شریک بہاراں کریں گے ہم
جن کو فریب شوق میں آنا تھا آ چکے
اب تو ترے کرم کو پشیماں کریں گے ہم
٭٭٭

ناصر کاظمی

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
رات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور
کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے
دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے
کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
اتفاقات زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے
٭٭٭

احمد فراز

ترا قرب تھا کہ فراق تھا وہی تیری جلوہ گری رہی
کہ جو روشنی ترے جسم کی تھی مرے بدن میں بھری رہی
ترے شہر میں میں چلا تھا جب تو کوئی بھی ساتھ نہ تھا مرے
تو میں کس سے محو کلام تھا تو یہ کس کی ہم سفری رہی
مجھے اپنے آپ پہ مان تھا کہ نہ جب تلک ترا دھیان تھا
تو مثال تھی مری آگہی تو کمال بے خبری رہی
مرے آشنا بھی عجیب تھے نہ رفیق تھے نہ رقیب تھے
مجھے جاں سے درد عزیز تھا انہیں فکر چارہ گری رہی
میں یہ جانتا تھا مرا ہنر ہے شکست و ریخت سے معتبر
جہاں لوگ سنگ بدست تھے وہیں میری شیشہ گری رہی
جہاں ناصحوں کا ہجوم تھا وہیں عاشقوں کی بھی دھوم تھی
جہاں بخیہ گر تھے گلی گلی وہیں رسم جامہ دری رہی
ترے پاس آ کے بھی جانے کیوں مری تشنگی میں ہراس تھا
بہ مثال چشم غزال جو لب آب جو بھی ڈری رہی
جو ہوس فروش تھے شہر کے سبھی مال بیچ کے جا چکے
مگر ایک جنس وفا مری سر رہ دھری کی دھری رہی
مرے ناقدوں نے فراز جب مرا حرف حرف پرکھ لیا
تو کہا کہ عہد ریا میں بھی جو بات کھری تھی کھری رہی

٭٭٭

جون ایلیا

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی
تیرا فراق جان جاں عیش تھا کیا مرے لیے
یعنی ترے فراق میں خوب شراب پی گئی
تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیے
حالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی
اس کی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجیے عمر گزار دی گئی
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی
بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماں
یاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی
اس کے بدن کو دی نمود ہم نے سخن میں اور پھر
اس کے بدن کے واسطے ایک قبا بھی سی گئی
مینا بہ مینا مے بہ مے جام بہ جام جم بہ جم
ناب پیالے کی ترے یاد عجب سہی گئی
کہنی ہے مجھ کو ایک بات آپ سے یعنی آپ سے
آپ کے شہر وصل میں لذت ہجر بھی گئی
صحن خیال یار میں کی نہ بسر شب فراق
جب سے وہ چاندنا گیا جب سے وہ چاندنی گئی
٭٭٭

پروین شاکر

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا
اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا
ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا
اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر
بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا
ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا
میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو
شہر کے شہر کو مرا واقف حال کر دیا
چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا
مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا
٭٭٭

نظر فاطمی

بہت ہی منفرد سایہ کمالِ رشتۂ جاں ہے
خمارِ زندگی ہے اور وصالِ نشۂ جاں ہے
عجب ہے خیر و شر کا معرکہ اس دل کی دنیا میں
بظاہر مطمئن لیکن وبال تشنۂ جاں ہے
میں جب سے گردشِ دوراں کے ہوں کاملِ تصرف میں
ہر اک دھڑکن پہ پہرا ہے مثالِ کوفۂ جاں ہے
ترے قبضے میں دل ہے دھڑکنیں ہیں جان ہے میری
تو کیوں آنکھوں میں پھر برپا دھمالِ کاسۂ جاں ہے
عجب سی بوالہوسی ہے مزاجِ قلبِ یاراں میں
سنبھل کر رکھ قدم اے دل جمالِ کوچۂ جاں ہے
گلِ امید سے خوشبو چرا تو لائے ہو لیکن
اگر امید ٹوٹی تو ملالِ فتنۂ جاں ہے
نظرؔ فریاد کرتا ہے اے ربِ دو جہاں تجھ سے
رہے توقیر جب تک یہ مآلِ توشۂ جاں ہے
٭٭٭

منتخب اشعار

فیض احمد فیض

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
٭٭٭
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

٭٭٭

قابل اجمیری

حرم کی آبرو لٹتی رہے گی
یہاں بھی غزنوی آتے رہے ہیں
٭٭٭
ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے

٭٭٭

حصہ