کفِ افسوس

68

اس سے قبل کہ زندگی مجبوری بن جائے

کئی سال پہلے ایک دن پتا چلا کہ بنت حوا کو وہ جان لیوا مرض لاحق ہو گیا ہے جس کا صرف نام سن کر بھی کسی عورت کی جان نکل جاتی ہے۔ رپورٹس میں صاف صاف لکھا تھا اور تقدیر کا لکھا کوئی ٹال نہیں سکتا تھا۔ اب سوال بنتا تھا کہ اس جوانی میں چھوٹے بچوں کے ساتھ کیا کیا جائے؟ مگر حل ایک ہی تھا۔ جان بچانے کے لیے اسے تکلیف دہ آپریشن سے گزرنا پڑا جس نے اس کا نسوانی وقار چھین لیا اور پھر کیموتھراپی کا تکلیف دہ عمل شروع ہوا جو نہ صرف اس کی ملائم چمکتی جلد بلکہ سب سے بڑھ کر اس کے ریشم جیسے حسین گھنے اور کالے سیاہ گھٹنوں تک آتے بال بھی لے گیا۔ ایسے بال جو کسی نے کبھی کسی اور کے سر پر نہ دیکھے تھے۔
سبحان اللہ! بس ایک اللہ تعالیٰ ہی ہر برائی سے پاک ہے اور ایک وہی الٰہ ہے جس کو کسی علاج کی ضرورت نہیں۔۔۔ البتہ ہم انسان ہیں، گنہگار ہیں اور ہمیں آزمائشوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم توبہ سے علاج کر کے پاکیزہ ہو سکیں۔ یہ آزمائش صرف اس بنت حوا کی ہی نہیں بلکہ ان سب کے لیے اور زیادہ تھی جو اس کے ارد گرد تھے، ان ہی میں سے ایک میں خود بھی تھی۔
روز میں یہی سوچتی رہتی کہ اگر اس کی جگہ میں ہوتی تو، اگر مجھے اِن شدید جسمانی تکالیف و درد سے گزرنا پڑتا، اگر مجھے کیموتھراپی کے اثرات برداشت کرنے پڑتے تو، میں کس طرح یہ سب جھیل پاتی؟ کہ میں اب خوب صورت نہیں لگ پاؤں گی، اپنے بال نہیں بنا سکوں گی، بہت لمبے عرصے تک اپنی پسند کا کھانا بھی نہیں کھا سکوں گی کیوں کہ مجھے کچھ ذائقہ محسوس نہیں ہوگا، اپنے بچوں کی دیکھ بھال خود نہیں کر سکوں گی، ان کی پڑھائی اور سرگرمیوں پر توجہ نہیں دے سکوں گی، ان کے ہنسی مذاق میں شامل نہیں ہو سکوں گی۔ خدا نخواستہ اگر میں اس کی جگہ ہوئی تو اپنے گھر کا انتظام کیسے چلاؤں گی جب میں خود ایسے حال میں پڑی ہوں گی توکیا کوئی میرا دھیان رکھ رہا ہوگا؟ اور پھر ایک خیال بم کی طرح سر پر پھٹا کہ پھر تو مجھے اپنا سر بھی ڈھانپنا ہوگا کیوں کہ کیموتھراپی کے بعد تو سَر پر ایک بھی بال نہیں بچے گا۔
نہیں! یہ میں نہیں ہوں، نا کبھی ہو سکتی ہوں۔ہاں ابھی نہیں ہوں تو کیا کبھی بھی نہیں ہو سکتی ؟ اور یہ سوال بہت طویل عرصے تک میرے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا رہا۔ لیکن ہاں اس سوال نے مجھے ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جس پر چل کر میں نے وہ سب سیکھا جو میں نہیں جانتی تھی اور اس کو زندگی پر لاگو کرنے کی سوچ پیدا ہوئی۔
سیکھنے کے بعد پہلا قدم سر ڈھانپنا ہی تھا اور یقیناً بہت کٹھن تھا۔ یہاں تک کہ اتنے سال گزرنے کے بعد آج بھی ہے کیونکہ اْس لمحے کی وہ آگہی صرف چند افراد کے لیے تھی سب کے لیے نہیں۔ بیشک ہدایت صرف ان کو ملتی ہے جو سچے دل سے اس کی طلب کرتے ہیں اور ہمیشہ ہدایت کے راستے پر چلنے کی کوشش میں ڈگمگاتے اور لڑکھڑاتے رہتے ہیں، کتنی بار بھی گریں ہمت نہیں ہارتے بلکہ ہر بار اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اے ابن آدم ہے کوئی ! جو اپنے گھر کے گوہر و نایاب موتیوں کو اپنے سیپ میں رہنے کی نصیحت کرے اِس سے پہلے کہ یہ اْن کی مجبوری بن جائے اور کفِ افسوس ملنا پڑے۔اے بنت حوا! ہے کوئی جو اپنے سر اور سینے کو اپنی خوشی سے رضائے الٰہی جان کر اجر و ثواب کی نیت سے ڈھانپ لے، قبل اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حکم پر عمل کے لیے آپ کو زبردستی اس راہ پر لے آئے؟ پھر یہ مجبوری بن جائے اور دوسری کوئی راہ نہ ملے۔

حصہ