بورنگ

160

’’فرزانہ خالہ کی بہو سے تمہاری ملاقات ہوئی؟‘‘ نائلہ نے اپنی ماموں زاد بہن ریحانہ سے فون پر بات کرتے کرتے ایک دم پوچھا۔
’’بس سرسری ہی ہوئی۔ کہیں گئی ہوئی تھی، میں جب پھپھو کے ہاں سے اٹھنے لگی اُسی وقت آئی تھی۔ فرزانہ پھپھو نے تو مجھے کہا بھی کہ بیٹھ جائو، لیکن بچوں نے ستانا شروع کردیا کہ اب گھر چلیں، ویسے بھی مغرب کی اذانیں ہونے والی تھیں لہٰذا میں اٹھ گئی۔ کیوں کیا ہوا؟‘‘ ریحانہ چونکی۔
’’بس یونہی پوچھ رہی تھی کہ تم کو کیسی لگی؟ شادی کے تین سال بعد سسرال آئی ہے مستقل رہنے۔ شادی کے فوراً بعد ہی خالد کا تبادلہ لاہور ہوگیا تھا، لہٰذا ہمارا تو کوئی خاص ملنا نہیں ہوا، اب دو ماہ ہوگئے ہیں یہاں آئے، تو میں اس لیے پوچھ رہی تھی کہ تمہاری اب بھی ملاقات تفصیلی ہوئی یا نہیں؟‘‘ نائلہ نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
’’تم آخر کہنا کیا چاہ رہی ہو، وہ بتائو؟‘‘ ریحانہ، نائلہ کے مزاج و عادت سے اچھی طرح واقف تھی، وہ سمجھ رہی تھی کہ نائلہ کچھ نہ کچھ کہنا چاہ رہی ہے۔ ’’تمہارا گھر تو پھپھو کے گھر سے قریب بھی ہے اور تمہارے وہاں چکر لگتے ہی رہتے ہیں، آخر تمہیں ان کی بہو صاحبہ میں کیا بات نظر آئی، مجھے بھی بتائو‘‘۔ اب ریحانہ کو بھی تجسس ہوگیا تھا۔
’’بس کوئی خاص نہیں۔‘‘ نائلہ نے پہلو بچایا۔
’’دیکھو نائلہ چھپائو نہیں، اب بتا بھی دو۔‘‘ ریحانہ نے اصرار کیا۔
’’کیا بتائوں، بہت بورنگ ہے‘‘۔ نائلہ ناک چڑھا کر بولی۔
’’بورنگ؟ کیا مطلب بورنگ ہے؟ وہ تو مزاج کی اچھی بھلی ہے۔ ایک دو دفعہ میں اُس سے پہلے شادیوں میں مل چکی ہوں، تم کہنا کیا چاہتی ہو؟ پہیلیاں نہ بجھوائو‘‘۔ اب تو ریحانہ کو بھی تشویش ہوگئی تھی۔ نہ جانے نائلہ کیسی باتیں کررہی تھی۔
’’بس تم خود ملو گی ناں تو تمہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا، میں اب فون رکھتی ہوں، میرے بچے اسکول سے آنے والے ہیں، کھانے کو دیر ہوجاتی ہے تو بڑا شور مچاتے ہیں… او کے، پھر بات کریں گے‘‘۔ یہ کہہ کر نائلہ نے فون بند کردیا، اور دوسری طرف ریحانہ کو سوچوں میں ڈال دیا۔ ریحانہ کتنی ہی دیر تک الجھی الجھی رہی۔
…٭…
نائلہ سے بات کرنے کے چند دن بعد ہی ریحانہ نے پھپھو کے گھر جانے کا پروگرام بنایا، لیکن بچوں کے ٹیسٹ ہونے کی وجہ سے اپنا پروگرام ملتوی کردیا۔ پھر اُس کی ملاقات اس دوران اپنے ایک اور چچا کی بیٹی سے ہوئی۔ باتوں باتوں میں فرزانہ خالہ کی لاہور سے آئی بہو کا ذکر چھڑ گیا اور اس کی کزن حنا بھی منہ بناتے ہوئے بولی ’’ایسی بہو تو دیکھی نہ سنی، سوال چنا تو جواب گندم۔‘‘
’’نہ جانے تم کیا کہہ رہی ہو! کیا بہت بدمزاج ہے، یا سسرالیوں سے بات کرنا گوارا نہیں کرتی؟‘‘ ریحانہ، حنا کی بات سن کر الجھے انداز میں بولی۔
’’ارے چھوڑو اس کو، تم کوئی اور بات کرو‘‘۔ حنا نے بات ٹالی۔
’’کوئی اور بات کیوں کروں؟ تم مجھے آمنہ بھابھی کے بارے میں بتائو، میں نے نائلہ سے پوچھا تو اُس نے بھی ٹال دیا اور تم بھی اب یہی کہہ رہی ہو۔‘‘
’’ملو گی ناں تو خود ہی تمہیں پتا چل جائے گا‘‘۔ ایک دفعہ پھر نائلہ والا جملہ اس کے سامنے دہرایا گیا تھا۔ اور ریحانہ سر جھٹک کر رہ گئی، لیکن اب پھپھو کی بہو سے ملنے کا اشتیاق بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
…٭…
’’عظمیٰ تم کل پھپھو کی طرف آئو گی؟ میرا ارادہ ہے پھپھو سے ملنے کا، بہت دن ہوگئے ملاقات ہی نہیں ہوئی تم لوگوں سے۔‘‘ ریحانہ نے عظمیٰ جو کہ پھپھو کی بڑی بیٹی اور اس کی سہیلی بھی تھی، کو فون کرکے اس سے پوچھا۔
’’ہاں ریحانہ میں آئوں گی، تم بھی آجائو، اچھا ہے سب سے مل لوگی۔‘‘
’’تمہاری بھابھی سے بھی نہیں ملی، کیسی ہیں وہ؟‘‘ ریحانہ اب اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے بولی۔
’’اچھا، تمہاری اب تک ملاقات نہیں ہوسکی! ان کو تو آئے ہوئے بھی تین ماہ سے اوپر ہوگئے۔ بھابھی تو بہت اچھی ہیں، بڑی اچھی عادت ہے ان کی۔‘‘ عظمیٰ نے پہلے حیرت کا اظہار کیا پھر مسکرا کر بولی۔
’’کیسی عادت ہے، ہنس مکھ ہیں یا ریزرو رہتی ہیں…؟ تم لوگوں سے کیسی ہیں؟‘‘
’’اب کیا سب کچھ فون پر ہی پوچھ لو گی! کل آئو گی تو خود ہی مل لینا، اور دیکھ بھی لینا۔‘‘ عظمیٰ نے بھی بات ادھوری کرکے فون بند کردیا۔ اب تو ریحانہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اگلا دن آئے اور کب وہ آمنہ سے ملے۔
…٭…
اگلے دن دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر ریحانہ بچوں کے ساتھ پھپھو کی طرف آگئی۔ پھپھو کے ہاں بھی رونق لگی ہوئی تھی۔ بیٹیاں، بہوئیں سب ہی تھے۔ بچے تو بچوں میں لگ گئے اور ریحانہ سب کے ساتھ باتوں میں مگن ہوگئی۔ اس نے یہی دیکھا کہ آمنہ بھی ان سب میں بالکل گھل مل گئی تھی، لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ پہلی دفعہ اس طرح سسرال میں آئی ہے، کیوں کہ پچھلے تین سال میں بھی وہ چند دن سے زیادہ سسرال آکر نہ ٹھیر سکی تھی۔ خالد کی جاب ہی کچھ ایسی تھی کہ اسے چھٹی بڑی مشکل سے ملتی، اور چند دن سے زیادہ نہ ملتی، جس کی وجہ سے پچھلے تین سال میں آمنہ صرف چار بار ہی آئی، وہ بھی ایک ہفتے سے زیادہ نہ ٹھیر سکی۔ دو دفعہ تو وہ شادیوں میں شرکت کی وجہ سے آئی تھی اور دو دفعہ خاص طور پر ساس کے ہاں آئی۔ اس کی امی کا گھر فیصل آباد میں تھا، لہٰذا وہ کبھی چھٹیوں میں وہاں بھی چلی جاتی۔ اب خالد کا یہاں دوبارہ تبادلہ ہوگیا تھا اور اس کی فی الحال رہائش یہیں تھی۔ چائے سے فارغ ہوکر سب نے مل کر برتن سمیٹے اور ریحانہ نے دیکھا کہ آمنہ نے سب ہی کو اصرار کرکے باورچی خانے سے باہر بھیج دیا تھا اور خود ہی برتن دھونے کھڑی ہوگئی۔ ریحانہ نے بھی زور دیا کہ وہ مل کر اس کے ساتھ برتن دھلوا دے گی، لیکن آمنہ نے اسے بھی مسکرا کر بڑے خلوص سے منع کردیا تھا۔
’’ریحانہ باجی! آپ تو مہمان ہیں، بھلا آپ سے ہم کیوں کام کروائیں؟‘‘
’’لیکن مجھے تو اچھا نہیں لگ رہا کہ ہم وہاں مزے سے باتیں کریں اور تم اکیلی یہاں برتنوں کا ڈھیر دھوئو، میں نہیں تو کم از کم کوئی نند یا جیٹھانی تو ساتھ ہو۔‘‘
’’کوئی اتنے زیادہ برتن بھی نہیں، میں دھو لوں گی۔‘‘ آمنہ مطمئن تھی۔
’’پھر بھی تم پہلی دفعہ تو یہاں آئی ہو، اور میں دیکھ رہی ہوں تم اکیلے ہی لگی ہوئی ہو، سب مہمان بنے بیٹھے ہیں، کسی کو بھی تمہارا خیال نہیں۔ کم از کم کوئی ایک نند یا جیٹھانی ہی ہاتھ لگا دے۔‘‘ اب ریحانہ نے باتوں باتوں میں آمنہ کو اُس کے سسرالیوں کی کوتاہی کی طرف توجہ دلائی۔
’’نہیں نہیں ایسی بات نہیں… بھابھی، آپا سب ہی میرا بڑا خیال کرتے ہیں، یہ تو میں خود ہی ان سے کام لے لیتی ہوں، ورنہ آپا تو جب آتی ہیں مجھے کام نہیں کرنے دیتیں۔‘‘ اس نے عظمیٰ کے بارے میں کہا۔
’’اچھا، تم کہتی ہو تو مانے لیتی ہوں، ویسے تمہاری دونوں جیٹھانیاں تو بڑی تیز ہیں، ذرا بچ کے رہنا، ورنہ گھر میں تمہارا رہنا مشکل کردیں گی۔‘‘ ریحانہ نے کچھ رازداری دکھاتے ہوئے اس سے سرگوشی میں کہا۔ اب وہ اس کے ساتھ کھڑی دھلے ہوئے برتن پونچھ پونچھ کر رکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ گھر کے حالات بھی جاننا چاہ رہی تھی۔
’’نہیں باجی! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ بڑی چھوٹی بھابھی اور میں تو ایک دوسرے کے دوست بن گئے ہیں، کام بھی بانٹ لیے ہیں تاکہ کسی پر کوئی بوجھ نہ رہے۔ وہ تو مجھ سے بڑے سلوک سے رہتی ہیں۔‘‘ آمنہ کے لہجے کی نرمی قائم تھی، ریحانہ کی یہ گیند بھی ضائع ہی گئی تھی۔
’’آپ کے بچے کون سے اسکول میں پڑھتے ہیں؟‘‘ اس نے ریحانہ سے ایک نیا سوال کیا۔
’’ارے تم کیا یہاں کے اسکول جانو، اور پھر کون سے تمہارے بچے ایڈمیشن کے لیے بیٹھے ہیں۔‘‘ ریحانہ جھلاّئی۔
’’اچھا یہ بتائو پھپھو تمہارے ساتھ کیسی ہیں؟ منہ پر تو بڑی تعریف کررہی تھیں۔‘‘ اب ریحانہ اس سے ساس کے بارے میں جاننا چاہ رہی تھی۔
’’امی تو جیسے میری سگی ماں کی طرح ہیں، میرے کھانے پینے، آرام کا بڑا خیال رکھتی ہیں۔ کتنے مہینے ہوگئے یہاں آئے، لیکن بالکل نئی دلہن کی طرح آئو بھگت کررہی ہیں۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’ہاں وہ تو مجھے بھی نظر آرہا ہے۔‘‘ ریحانہ کا جیسے حلق تک کڑوا ہوگیا، وہ اس کو ساس نند کے خلاف گویا اکسا رہی تھی لیکن دوسری طرف مسلسل سب اچھا کی گردان تھی۔ چند سال پہلے یہی سوال جب اُس نے دونوں بڑی بھابھیوں سے کیا تھا تو دونوں مشین گن کی طرح تڑاتڑ شروع ہوگئی تھیں، لیکن یہاں تو آمنہ کی نظر میں انسان نہیں بلکہ ولی رہتے تھے۔ اس کے بعد بھی ریحانہ نے آمنہ سے کچھ پوچھنا چاہا لیکن آمنہ بڑے سبھائو سے اسے دوسرے موضوع کی طرف لے آئی۔ پھپھو کے بارے میں جاننا چاہا تو آمنہ رطب اللسان ہوگئی، جیسے ریحانہ تو پھپھو کو جانتی نہ تھی۔ بچپن سے وہ دیکھ رہی تھی پھپھو کی کنجوسی، ان کی زبان کے جوہر، اور بہوئوں کے ساتھ ان کی چاپلوسی۔ وہ سب جانتی تھی، لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہورہا تھا۔ آمنہ نے تو ان لوگوں میں وہ خوبیاں بھی پیدا کردی تھیں جو ان کے پیدا کرنے والے نے بھی ان کے اندر نہ رکھی تھیں۔ ریحانہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنے سسرال کے خلاف نہ تو ایک لفظ سننا پسند کررہی تھی اور نہ ہی کچھ کہنا پسند کررہی تھی۔ اس کے نزدیک تو گھر کا ہر فرد بڑا نیک، پارسا اور اس کا خیر خواہ تھا… بلکہ دوسرے لفظوں میں تو وہ ایک جنت میں تھی جہاں اس کے ساتھ فرشتے رہ رہے تھے۔ ریحانہ جلد ہی اکتا کر وہاں سے ہٹ گئی اور باہر سب کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ واپسی میں ریحانہ کی رائے بھی نائلہ اور حنا سے مختلف نہ تھی۔ واقعی آمنہ تو بہت بورنگ تھی۔

والدین کے لیے نصیحت

بچوں پر ہمیشہ اپنے بجٹ کے مطابق ہی خرچ کیجیے۔ اگر بجٹ ختم ہوجائے تو بچوں سے کہیے کہ یہ کھلونے یا کپڑے ہم اس مہینے نہیں لے سکتے، اگلے ماہ لے لیں گے۔

مذاق اور برے القابات کو برداشت کرنا

بچوں کو سکھایئے کہ جب بھی کوئی شخص انہیں برے القابات سے پکارے یا ان کا مذاق اڑائے تو انہیں اس کا جواب نہیں دینا بلکہ صبر کرنا ہے، اور خاموشی سے وہاں سے ہٹ جانا ہے۔ بچوں کو سکھایئے کہ ایسے لوگوں سے بھی اچھے طریقے سے پیش آئیں جو بظاہر انہیں برا بھلا کہتے ہوں۔ تھوڑے عرصے بعد وہ انہیں برا بھلا کہنا بند کردیں گے۔ گو یہ کام خاصا مشکل ہے، لیکن اگر بچے نے یہ صفت اپنا لی تو یہ صفت اسے زندگی میں کامیابی کی بلندیوں تک لے جائے گی۔
ذیل میں کچھ ایسی عملی سرگرمیوں کی فہرست دی گئی ہے جو بچوں میں صبر پیدا کرتی ہیں۔ یہ سرگرمیاں طویل وقت تو لیتی ہیں لیکن بچوں میں صبر کا جذبہ پیدا کرنے میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتی ہیں:۔
-1 باغ بانی کرنا۔-2 خطاطی کرنا۔
-3سفر کرنا۔-4 مصوری کرنا۔
-5 بلڈنگ بلاکس بنانا۔
-6 اُون بُننا۔-7 سلائی کڑھائی کرنا۔-8 کھانا بنانا۔
-9 مہمان نوازی کرنا۔-10 تقریب کا انعقاد کرنا۔
بے صبری ہمارے معاشرے کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ہمارے معاشرتی رویوں میں جھلکنے والی جلد بازی درحقیقت ہمارے گھریلو رویوں اور ان میں روا رکھی جانے والی بے صبری ہی کی آئینہ دار ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ درج بالا سرگرمیوں کی مدد سے خود بھی صبر کا عملی نمونہ پیش کریں اور اپنے بچوں کو بھی صبر و شکر کرنے والا بنائیں۔

حصہ