اردو کے سب سے بڑے نثر نگار سید مودودیؒ کا اسلوب

169

٭ اسلوب اس طرز تحریر اور طرز بیان کا نام ہے جس کے ذریعے ایک شخص اپنے خیالات اور جذبات کو بیان کرتا ہے۔ (ایلن وارنر)۔
٭اسلوب ایک صاحبِ قلم کی شخصیت کا نام ہے۔ جیسی شخصیت ویسا اسلوب، اسلوب سے مراد کسی لکھنے والے کی وہ انفرادی طرزِ نگارش ہے جس کی بنا پر وہ دوسرے لکھنے والوں سے ممیّز ہوتا ہے۔ (عابد علی عابد)۔
طرزِ نگارش، طرزِ بیان تحریری انفرادیت جس کے ذریعے ہی قلمکار اپنے خیالات اور جذبات بیان کرتا ہے اس کا اسلوب کہلاتا ہے۔ کسی بھی ادب پارے کو موثر اور دل پذیر ہونے کے لیے اس کے اسلوب کی انفرادیت لازمی ہے، جس کی تزئین کاری کے لیے اس میں دل کشی اور دل نشینی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلوب کی یہی خصوصیت ایک عام لکھنے والے اور صاحبِ طرز ادیب میں امتیاز قائم کرتی ہے۔

اردو کے نثری اسلوب کا ارتقا

صوفیائے کرام نے صدیوں پہلے اردو ادب میں شان دار روایات کی بنا ڈالی تھی۔ برعظیم ہندو و پاک میں عربی و فارسی پراکرتوں کے میل جول اور تال میل سے ایک نئی زبان کا خمیر اٹھ رہا تھا جس کی تشکیل میں شاہ ولی اللہ، تحریک مجاہدین کے شاہ اسمٰعیل شہید اور بعد میں سرسید، محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیر احمد، مولانا الطاف حسین حالی اور خاص کر مولانا شبلی نعمانی نے اردو کی سرمایہ نثر کو خوبصورت سانچے میں ڈھال کر دین اور علم و ادب کو ہم آہنگ کرنے، اردو کے بہترین نثری اسلوب کی آبیاری کی۔ بعد میں مولانا ابوالکلام آزاد نے اردو نثر کو شان و شوکت سے مزین کرکے کئی کامیاب اور خوبصورت تجربے کیے اور دینی نثر کو ترقی دی اور اردو کے دینی اور نثری اسلوب کو سنہری دور سے آشنا کیا اور نثری ادب کو ارتقا بخشا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریریں اس سنہری زنجیر کی آخری اور بے مثل کڑی ہے۔

سید مودودیؒ کی قلمی زندگی کا آغاز

بیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں سید مودودیؒ کی قلمی اور تصنیفی زندگی کا آغاز ۱۹۱۸ء کے لگ بھگ ہوا جب ان کے بڑھے بھائی سید ابوالخیر مودودیؒ اخبار مدینہ بجنور کے مدیر مقرر ہوئے، سید مودودیؒ بطور معاون مدیر ان کے ہمراہ تھے۔ ان کا پہلا مضمون ’’برق یا کہربا‘‘ ۱۹۱۸ء میں معارف اعظم گڑھ کے اکتوبر کے شمارے میں شائع ہوا۔ انہوں نے ۱۹۱۹ء میں تحریک خلافت میں حصہ لیا۔ ۱۹۲۰ء میں تاج نکلا۔ ۱۹۲۲ء سے ۱۹۲۳ء تک جمعیت علمائے ہند کے روزنامے ’’مسلم‘‘ کے مدیر رہے۔ ان کے مضامین تاج جبل پور، الجمعیت دہلی (ان دونوں رسالوں کے وہ مدیر بھی رہے) ساقی، ہمایوں صدق، رہبر کے علاوہ معارف، نگار، مخزن اور دیگر علمی و ادبی پرچوںمیں شائع ہوتے تھے۔ تحریک خلافت کے دورِ شباب میں انہوں نے انگریزی کی تین کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جن میں ترکی میں عیسائیوں کی حالت، سمرنا میں یونانی مظالم اور مسئلہ خلافت شامل ہیں۔ یہ تینوں کتابیں دہلی سے ۱۹۲۳ء میں شائع ہوئیں۔ نگار بھوپال میں جون ۱۹۲۴ء میں مصطفی کامل پاشا کی سوانح پر ان کا ایک طویل مقالہ شائع ہوا۔ اس سال بعد میں ’’ہندوستان کے صنعتی زوال‘‘ کے موضوع پر ان کا ایک اور طویل مقالہ نگار میں دو قسطوں میں شائع ہوا۔ ۱۹۲۵ء میں وہ جمعیت علمائے ہند کے پرچے الجمعیت کے مدیر ہوگئے تھے جس میں ان کے مضامین شائع ہونے لگے (ان مضامین کا ایک مجموعہ بعد میں اسلام کا سرچشمہ قوت کے نام سے شائع ہوا تھا)۔ الجمعیت میں دور خلافت کے دور میں مولانا محمد علی جوہر کے خطاب سے متاثر ہوکر انہوں نے جہاد کے بارے میں اسلام کے موقف پر مضامین کا سلسلہ شروع کیا جو ۱۹۲۸ء میں ان کی معرکۃ الآراء کتاب ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ صلح و جنگ کے بارے میں اسلام کے موقف کی بہترین غماز تھی۔ علامہ اقبال نے بھی جو ترجمان القرآن کے مستقل قاری تھے اس کتاب کی تحسین کی۔ سید مودودیؒ نے اسی سال انہوں نے الجمعیت کی ادارت سے استعفیٰ دے دیا۔ ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۲ تک مولانا نے کئی کتابوں کے ترجمے کیے جن میں اسفار اربعہ، ٹیگور کی گیتا انجلی اور ’مونٹے کارلو کا جوئے خانہ‘ شامل ہیں۔ ’دکن کی سیاسی تاریخ‘، دولت آصفہ اور برطانیہ کے سیاسی تعلقات کے اہم تاریخی موضوعات پر کئی کتابیں لکھیں۔ ۱۹۲۸ء میں انہوں نے الجمعیت کی ادارت سے استعفیٰ دے دیا اور خود کو زیادہ تر قرآن کے مطالعے اور تشریح کے لیے وقف کردیا جس کا ذکر انہوں نے اپنے مضمون ’’میری محسن کتاب‘‘ میں کیا ہے۔

ترجمان القرآن کا اجراء

۱۹۳۲ء میں سید مودودیؒ نے ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ کی ادارت سنبھالی، اس کے بعد سے ان کی بیشتر تحریریں اسی رسالے میں شائع ہوئیں جس میں انہوں نے ہر موضوع پر قلم اٹھایا۔ ۱۹۳۳ء میں انہوں نے مولانا ابومحمد مصلح سے ترجمان القرآن خرید لیا۔
اس دور میں سید مودودیؒ اپنے افکار کی نمائندہ نگارشات ترجمان القرآن کے صفحات میں پیش کرتے رہے۔ جماعت اسلامی کی دعوت کا بنیادی لٹریچر اس دور میں تیار ہوا۔ اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی، مسئلہ جبر و قدر، مسئلہ قومیت، تنقیحات اور تفہیمات کے کچھ مضامین، حقوق الزوجین، اسلام اور مسئلہ ولادت، دینیات اور سود اس دور میں تصنیف ہوئیں۔ ۱۹۳۸ء میں سیاسی کشمکش حصہ اول، دوم اور سوم کے مضامین ترجمان القرآن میں شائع ہوتے رہے۔ ایک صالح جماعت کی ضرورت اور جماعت اسلامی کی تاسیس اور تشکیل کے بارے میں برصغیر کے کونے کونے سے لوگوں کو دعوت شرکت ترجمان القرآن کے ذریعے ہی دی گئی یہ ماہانہ رسالہ جس کا اجرا مولانا کی ادارت میں ۱۹۳۳ء میںہوا آج تک جاری و ساری ہے اور سید مودودیؒ تاحیات اس کے مدیر رہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد اور سید مودودیؒ

مختلف اسالیبِ بیان کے درمیان مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے اسلوب کی سب سے زیادہ مشابہت شبلی نعمانی اور مولانا ابوالکلام آزاد کے انداز میں ہے۔ عصر حاضر کی اردو نثر میں دانش وری کی روایت کے سب سے مضبوط اور قد آور ستون مولانا شبلی، مولانا ابوالکلام اور سید مودودیؒ ہی ہیں ان کے رشحاتِ قلم نے اردو نثر کو ادب کے جواہر پاروں سے مالا مال کردیا ہے۔ خصوصاً مولانا ابوالکلام اور سید مودودیؒ یہ دو ایسے نام ہیں جو نہ صرف مذہبی عالم ہیں بلکہ ان کی ادبی حیثیت بھی مسلّم ہے۔ دونوں نے مختلف مذہبی اور دینی موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے۔ دونوں قرآن پاک کے مفسر اور مترجم ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ صاحبِ طرز ادیب اور دانشور بھی ہیں۔ دونوں نے ملت اسلامیہ اور نسل انسانی سے خطاب کیا ہے۔ دونوں صاحبِ طرز ادیب ہیں لیکن ان کے اسالیب میں نمایاں فرق ہے۔ مولانا آزاد میں گھن گرج، پرشکوہ عبارت اور طوفان کی جلالی کیفیت ہے تو سید مودودیؒ کا کلام پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صبا کے نرم جھونکے، پھولوں کی شبنم کو چھوتے ہوئے دبے پائوں گزر رہے ہیں۔ مولانا ابوالکلام کی تحریروں میں خطیبانہ وقار اور جوش ہے تو سید مودودیؒ کی نثری نگارشات میں حسنِ خطابت کے ساتھ ساتھ ندرت استدلال اور ولولہ ایمانی، نرمی، ملائمت کے ساتھ بدرجہ اتم موجود ہے۔
تفہیم القرآن کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مولانا نے قرآن کے تقریری انداز کو کس خوبصورتی سے تفہیمی انداز میں تبدیل کرکے اپنی تحریروں کو انتہائی دل آویز بنادیا ہے اور صاحبِ تفہیم القرآن کا تصور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی شفیق بزرگ انتہائی دل سوزی اور محبت کے ساتھ ہم سے مخاطب ہیں اور ان جانے لمحوں میں ان کی تحریریں ہمارے دل میں اتر جاتی ہیں۔ مولانا ادیب بھی ہیں، مترجم بھی، مورّخ بھی ہیں، مفسر بھی ہیں، انشا پرداز بھی ہیں۔ انہوں نے اسلام کا علم اور ادب کا اسلوب کو اس خوبصورتی سے یکجا کردیا ہے کہ اسلامی افکار اور اردو ادب کی نثری خوبیوں کے مابین ایک خوبصورت امتزاج پیدا ہوگیا ہے اور دونوں کے درمیان امتیاز اور فرق کی نشاندہی تقریباً ناممکن ہے۔ وہ بیک وقت مفسر قرآن بھی ہیں اور ادیب بھی ہیں، اعلیٰ پائے کے انشا پرداز بھی ہیں اور مستند عالم دین بھی ہیں۔

سید مودودیؒ کے اسلوب کی خصوصیات

۱۔ مصنف کی شخصیت کا اسلوب پر اثر

مولانا مودودیؒ کی تحریریں ان کی شخصیت کی آئینہ دار ہیں۔ مولانا بنیادی طور پہ ایک سنجیدہ علمی و تحریکی اور انقلاب آفریں رہنما تھے، اس لیے ان کی تمام تحریروں میں ایک ہمہ جہت شخصیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ ایک قائد ہونے کی حیثیت سے انہیں عوام سے بے پایاں ہمدردی اور بے لوث محبت تھی اور اس لیے انہوں نے ملک و ملت کے سر پر منڈلاتے ہوئے طوفانی حوادث اور فکری و نظریاتی یلغاروں سے نبرد آزمائی کی ہے، اس لیے ان کی تحریروں میں خلوص، دردمندی اور شفقت و رحمت پائی جاتی ہے۔ دوسری قابل توجہ بات یہ کہ ان کی فکر کا ماخذ قرآن و حدیث کی آفاقی و انسانی تعلیمات ہیں اور انہوں نے اپنی تمام علمی و ادبی کاوشوں میں اس مخزن علم کا ساتھ کہیں نہیں چھوڑا ہے، اس لیے ان کی تحریریں حکمت و دانش اور تدبر و فکر کی داعی بھی ہیں۔ قرآن و حدیث سے اسی والہانہ وابستگی اور فکرِ قرآن کی علم برداری نے ان کے اسلوب میں وہ خاص کیفیت پیدا کردی ہے جس سے ان کا اسلوب دوسرے لکھنے والوں سے منفرد ہوگیا ہے۔ قرآن و سنت، جدید علوم و فنون اور تاریخ کے عمیق مطالعے اور مشاہدے نے ان کی تحریروں کو معتبر اور معیاری بنادیا ہے۔ (جاری ہے)

حصہ