پاکستان 50سال قبل

210

۔(فروری1971)۔

ملک کی سیاست میں فروری 1971ء کا مہینہ بہت اہمیت کا حامل ہے، دوماہ قبل یعنی 7دسمبر 1970ء کو پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات ہوئے تھے، جن میں عوامی لیگ نے 160 اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 80 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اس کے بعد ہی ملک میں بحران شروع ہوگیا اور جنوری میں اس حوالے سے بہت سے اہم واقعات ہوئے۔ صدر جنرل آغا محمد یحییٰ خان اور پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو نے ڈھاکہ کے دورے کیے اور مشرقی پاکستان میں اس طرح کا تاثر گیا کہ انہیں حقِ حکمرانی دینے سے گریز کیا جارہا ہے۔
’’جنوری 1971ء کے آخر تک عوامی لیگ کو معلوم ہوگیا تھا کہ وہ کہاں کھڑی ہے اور میرے خیال میں یحییٰ اور بھٹو کو بھی احساس ہوگیا تھا کہ وہ کہاں تک اپنے اپنے عزائم میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ مجیب کا اصرار تھا کہ زیادہ سے زیادہ 15 فروری تک قومی اسمبلی کا اجلاس ہوجانا چاہیے، جبکہ مسٹر بھٹو اسمبلی سے باہر کسی سمجھوتے کے لیے مزید وقت چاہتے تھے۔ یحییٰ خان اور اُن کے مشیر اپنا الگ لائحہ عمل بنائے بیٹھے تھے۔ سیاسی تکون… یعنی یحییٰ، مجیب، بھٹو… روز بروز پیچیدہ ہوتی جارہی تھی۔ روشنی کی کوئی کرن کہیں نظر نہ آتی تھی۔‘‘ (’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘۔ بریگیڈیر صدیق سالک۔ ص 46)
ان ہی تلخ حقائق کے ساتھ فروری 1971ء شروع ہوا۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے 9فروری کواعلان کیا کہ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، آئین 6 نکات پر ہی بنے گا۔ مغربی پاکستان کی بعض چھوٹی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی ڈھاکہ کے دورے کیے، بلوچستان کے رہنما نواب اکبربگٹی نے ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمٰن سے ملاقات کی اور 12فروری کو دونوں رہنماؤں میں 6 نکاتی آئین پر اتفاقِ رائے ہوا۔
بھٹو صاحب نے 11فروری کو راولپنڈی میں صدر یحییٰ سے طویل ملاقات کی۔ اس کے دو دن بعد ہی 13فروری کو سرکاری طور پر اعلان کیا گیا کہ صدر یحییٰ نے 3مارچ کو ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔
اس اعلان کے بعد ملکی سیاست میں تلاطم برپا ہوگیا۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو نے دو دن بعد ہی قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا اور واضح کردیا کہ پیپلزپارٹی چھ نکات میں تبدیلی اور مفاہمت کے بغیر اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوگی، اور اگر پیپلز پارٹی کو نظرانداز کیا گیا تو خیبر سے کراچی تک طوفان برپا کردوں گا۔ (روزنامہ ڈان کراچی۔ 16فروری 1971ء)۔
حالانکہ چند ہفتے قبل ہی بھٹو صاحب نے ڈھاکہ کے دورے میں واضح طور پر کہا تھا کہ چھ نکات جمہوریت کے قیام میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ بھٹو صاحب کے اس یوٹرن پر اکثریتی پارٹی کے لیڈر شیخ مجیب نے کہا کہ ہم سنگین تلے بھی چھ نکات سے ہٹ کر کوئی آئین قبول نہیں کریں گے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 23 فروری کو ایک اجلاس کے دوران کہا کہ چھ نکات غلط ہیں، مگر فیصلہ اسمبلی کے اندر ہونا چاہیے۔
اس کے بعد ہی پیپلزپارٹی نے کراچی اور دیگر شہروں میں مظاہرے شروع کردئیے۔ اسی دوران پاکستان پیپلز پارٹی کا کراچی میں کنونشن ہوا، جس کے دوران 20فروری کو اعلان کیا گیا کہ شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کے حوالے سے کوئی سمجھوتا نہ ہوا تو پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی مستعفی ہوجائیں گے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب عوامی لیگ نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرلی تھی تو پیپلز پارٹی کو واویلا مچانے کی کیا ضرورت تھی! اگر کوئی آئین بنتا تو اسمبلی میں بنتا، اور ملک کا آئین کوئی بھی جماعت یک طرفہ طور پر کیسے بنا سکتی تھی! اس حوالے سے اتفاقِ رائے کو مدنظر رکھا جاتا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد صدر یحییٰ نے 21فروری کو اپنی وفاقی کابینہ توڑ دی، اور اس کا جواز ملک کی سیاسی صورت حال کو بنایا گیا۔ چنانچہ ملک ایک بار پھر مکمل طور پر مارشل لا کے چنگل میں پھنس گیا۔ دو دن بعد صدر یحییٰ نے فوجی گورنروں اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹرز کا اجلاس طلب کرلیا۔ مشرقی پاکستان سے لیفٹیننٹ جنرل یعقوب علی خان اور وائس ایڈمرل احسن نے اجلاس میں شرکت کی۔ راولپنڈی روانگی سے قبل دونوں فوجی رہنماؤں نے شیخ مجیب الرحمٰن کو ملاقات کے لیے بلوایا۔ انہوں نے حالات کو دیکھتے ہوئے یقین دلایا کہ چھ نکات میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ یہ تھا اُس زمانے کے ایک شاطر سیاست دان کا ایک اور یوٹرن۔
اجلاس کے بعد ڈھاکہ میں ایڈمرل احسن نے شیخ مجیب سے ابتدائی مذاکرات شروع کیے، اور چھ نکات کو مغربی پاکستان کے لیے قابلِ قبول بنانے کے لیے ان میں ضروری ترمیم پر زور دیا۔ شیخ مجیب نے ترمیم والی بات تو نہیں مانی البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ بظاہر عوامی لیگ اپنے مؤقف پر قائم رہے گی، مگر چھ نکات کے ہر نکتے میں ایسی شق کا اضافہ کردے گی کہ اس کا قابلِ اعتراض حصہ بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔
فروری کے آخر تک یہ فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ 3مارچ کو ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلا س ملتوی کردیا جائے گا، مگر اس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ اُس دور کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالات کس طرف جارہے تھے، حکمران کسی قسم کی مفاہمت کے لیے تیار نہیں تھے اور اکثریتی پارٹی یعنی عوامی لیگ کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے محلاتی سازشوں کا جال بچھادیا گیا تھا، اگرچہ اس نے ملک کے پہلے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی تھی۔
اس سازش میں صرف حکمران طبقہ ہی شامل نہ تھا، بلکہ مغربی پاکستان کے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو بھی شریک تھے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں اکثریتی پارٹی کے لیڈر شیخ مجیب الرحمٰن بھی اہم کردار ادا کررہے تھے۔ لیکن وہ سب مہرے تھے، اصل کھیل تو عالمی طاقتیں کھیل رہی تھیں، جنہوں نے برسوں قبل قائداعظم کے پاکستان کے دوٹکڑے کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
چند روز بعد اسلام آباد میں صدر یحییٰ سے بھٹو صاحب اور مشرقی پاکستان کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل احسن سے شیخ مجیب الرحمٰن کے اہم مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کے بعد 27فروری کو بھٹو صاحب نے کہا کہ آئینی بحران فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، اس نازک مرحلے پر غلط فیصلے سے ملکی سالمیت خطرے میں پڑجائے گی۔ دوسری جانب شیخ مجیب الرحمٰن نے یہ اعلان کیا کہ پاکستان کے وجود کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہوا، کر گزروں گا۔ اور اگلے دن یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنی موجودہ سرحدوں کے ساتھ قائم رہے گا۔ یہ بات نصف صدی بعد بھی اب تک معمّا بنی ہوئی ہے کہ جب نومنتخب قومی اسمبلی کا اجلاس ہی نہیں ہوا تھا تو یہ باتیں کیوں کی جارہی تھیں کہ غلط فیصلے سے ملکی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی؟ یعنی اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کو اقتدار دینے سے گریز۔ جبکہ شیخ مجیب الرحمٰن یہ اعلان کررہے تھے کہ پاکستان اپنی موجودہ سرحدوں پر قائم رہے گا۔
اسی دن یعنی 28 فروری 1971ء کو بھٹو صاحب نے وہ بات کہہ دی جو تاریخ کا حصہ بن گئی، یعنی اگر پیپلز پارٹی کے بغیر قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو عوامی تحریک چلائی جائے گی، ہمارے کسی رکن نے شرکت کی تو اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔

حصہ