سود

قسط (17)۔

سود کے متعلقات

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ربوا دراصل اُس زائد رقم یا فائدے کو کہتے ہیں جو قرض کے معاملے میں ایک دائن راس المال کے علاوہ شرط کے طور پر اپنے مدیون سے وصول کرتا ہے۔ اصطلاحِ شرح میں اس کو ’’رباالنسیۂ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ ربوا جو قرض کے معاملے میں لیا اور دیا جائے۔ قرآن مجید میں اسی کو حرام کیا گیا ہے۔ اس کی حرمت پر تمام امت کا اتفاق ہے۔ اس میں کبھی کسی شک و شبہ نے راہ نہیں پائی۔
لیکن شریعت اسلامی کے قواعد میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ جس چیز کو حرام کیا جاتا ہے اس کی طرف جانے کے جتنے رستے ممکن ہیں ان سب کو بند کر دیا جاتا ہے بلکہ اس کی طرف پیش قدمی کی ابتدا جس مقام سے ہوتی ہے وہیں روک لگا دی جاتی ہے تاکہ انسان اس کے قریب بھی نہ جانے پائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قاعدے کو ایک لطیف مثال میں بیان فرمایا ہے۔ عرب کی اصطلاح میں حمیٰ اُس چراگاہ کو کہتے ہیں جو کسی شخص نے اپنے جانوروں کے لیے مخصوص کر لی ہو اور جس میں دوسروں کے لیے اپنے جانور چرانا ممنوع ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ’’ہر بادشاہ کی ایک حمیٰ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی حمیٰ اس کی وہ حدود ہیں جن سے باہر قدم نکالنے کو اس نے حرام قرار دیا ہے۔ جو جانور حمیٰ کے اردگرد چرتا پھرتا ہے‘ بعید نہیں کہ کسی وقت چرتے چرتے وہ حمیٰ کے حدود میں بھی داخل ہو جائے۔ اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کی حمیٰ یعنی اس کے حدود کے اطراف میں چکر لگاتا رہتا ہے‘ اس کے لیے ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ کب اس کا پائوں پھسل جائے اور وہ حرام میں مبتلا ہو جائے۔ لہٰذا جو امور حلال و حرام کے درمیان واسطہ ہیں ان سے بھی پرہیز لازم آتا ہے تاکہ تمہارا دین محفوظ رہے۔
یہی مصلحت ہے جس کو مدنظر رکھ کر شارع حکیم نے ہر ممنوع چیز کے اطراف میں حرمت اور کراہیت کی ایک مضبوط باڑھ لگا دی ہے اور ارتکابِ ممنوعات کے ذرائع پر بھی ان کے قرب و بعد کے لحاظ سے سخت یا نرم پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
سود کے مسئلے میں ابتدائی حکم صرف یہ تھا کہ قرض کے معاملات میں جو سودی لین دین ہوتا ہے۔ وہ قطعاً حرام ہے۔ چنانچہ اسامہ بن زید سے جو حدیث مروی ہے اس میں حضورؐ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ ’’سود صرف قرض کے معاملات میںہے۔‘‘ لیکن بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی اس حمیٰ کے اردگرد بندشیں لگانا ضروری سمجھا تاکہ لوگ اس کے قریب بھی نہ پھٹک سکیں۔ اسی قبیل سے وہ فرمان نبویؐ ہے جس میں سود کھانے اور کھلانے کے ساتھ سود کی دستاویز لکھنے اور اس پر گواہی دینے کو بھی حرام کیا گیا ہے اور اسی قبیل سے وہ احادیث ہیں جن میں ربوالفضل کی تحریم کا حکم دیا گیا ہے۔

ربو ٰالفضل کا مفہوم

ربو ٰ الفضل اس زیادتی کو کہتے ہیں جو ایک ہی جنس کی دو چیزوں کی دست بہ دست لین دین میں ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حرام قرار دیا کیوں کہ اس سے زیادہ سِتانی کا دروازہ کھلتا ہے اور انسان میں وہ ذہنیت پرورش پاتی ہے جس کا آخری ثمرہ سود خواری ہے۔ چنانچہ حضورؐ نے خود ہی اس مصلحت کو اُس حدیث میں بیان فرما دیا ہے جس کو ابو سعید خدریؓ نے بدین الفاظ نقل کیا ہے کہ ’’ایک درہم کو دو درہموں کے عوض نہ فروخت کرو کیوں کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں تم سود خواری میں نہ مبتلا ہو جاؤ۔‘‘۔

رباالفضل کے احکام

سود کی اس قسم کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احکام منقول ہیں ان کو یہاں بیان کیا جاتا ہے:۔
’’عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سونے کا مبادلہ سونے سے اور چاندی کا مبادلہ چاندی سے اور گیہوں کا گیہوں سے اور جَو کا جَو سے اور کھجور کا کھجور سے اور نمک کا نمک سے اس طرح ہونا چاہیے کہ جیسے کا تیسا اور برابر اور دست بہ دست ہو۔ البتہ اگر مختلف اصناف کی چیزوں کا ایک دوسرے سے مبادلہ ہو تو پھر جس طرح چاہو بیچو بشرطیکہ طین دین دست بہ دست ہو جائے۔‘‘
۔(مسند احمد و صحیں مسلم یہی حدیث نسائی اور ابن ماہ اور ابو دائود میں بھی آئی ہے اور اس کے آخر میں اتنا اضافہ اور ہے) اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم گیہوں کا مبادلہ جَو سے اور جَو کا گیہوں سے دست بہ دست جس طرح چاہیں کریں۔
ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کا مبادلہ سونے سے‘ چاندی کا چاندی سے‘ گیہوںکا گیہوں سے‘ جَو کا جَو سے‘ کھجور کا کھجور سے‘ نمک کا نمک سے جیسے کا تیسا اور دست بہ دست ہونا چاہیے۔ جس نے زیادہ دیا یا لیا اس نے سودی معاملہ کیا‘ لینے والا اور دینے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔ (بخاری‘ احمد‘ مسلم اور ایک دوسری روایت میں ہے) سونے کو سونے کے عوض اور چاندی کو چاندی کے عوض فروخت نہ کرو مگر وزن میں مساوی‘ جو کا توں اور برابر برابر۔ (احمد و مسلم)۔
ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کو سونے کے عوض نہ بیچو مگر جوں کا توں۔ کوئی کسی کو زیادہ نہ ے اور نہ غائب کا تبادلہ حاضر سے کرو۔‘‘ (بخاری)۔
ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور کا مبادلہ کھجور سے‘ گیہوں کا گیہوں سے‘ جَو کا جَو سے اور نمک کا نمک سے جوں کا توں اور دست بہ دست ہونا چاہیے جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سودی معاملہ کیا۔ سوائے اُس صورت کے جب کہ ان اشیاء کے رنگ مختلف ہوں۔‘‘ (مسلم)۔
’’سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ خشک کھجور کا تر کھجور کے ساتھ مبادلہ کس طریقہ پر کیا جائے‘ آپؐ نے دریافت فرمایا کہ تر کھجور سوکھنے کے بعد کم ہو جاتی ہے؟ سائل نے عرض کیا ہاں۔ تب آپؐ نے سرے سے اس مبادلہ ہی کو منع فرما دیا۔‘‘ (مالک‘ ترمذی‘ ابودائود‘ نسائی‘ ابن ماجہ)۔۔
ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو بالعموم اجرتوں اور تنخواہوں میں مخلوط قسم کی کھجوریں ملا کرتی تھیں اور ہم دو‘ دو صاع مخلوط کھجوریں دے کر ایک صاع اچھی قسم کی کھجوریں لے لیا کرتے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ دو صاع کا مبادلہ ایک صاع سے کرواور نہ دو درہم کا ایک درہم سے۔ (بخاری)۔
ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسوِل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا تحصیل دار مقرر کرکے بھیجا اور وہاں سے (مال گزاری میں) عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر آیا۔ آنحضرتؐ نے پوچھا کیا خیبر کی ساری کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ‘ ہم جو ملی جلی کھجوریں وصول کرتے ہیں انہیں کبھی دو صاع کے بدلے ایک صاع کے حساب سے اور کبھی 3 صاع کے بدلے 2 صاع کے حساب سے ان اچھی کھجوروں سے بدل لیا کرتے ہیں۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا ایسا کرو‘ پہلے ان مخلوط کھجوروں کو درہموں کے عوض فروخت کر دو‘ پھر اچھی قسم کی کھجوریں درہموں کے عوض خرید لو۔ یہی بات آپ نے وزن کے حساب سے مبادلہ کرنے کی صورت میں بھی ارشاد فرمائی۔ (بخاری)۔
ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں ایک دفعہ حضرت بلالؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برنی کھجوریں لے کر ائے (جو کجھورکی ایک بہترین قسم ہوتی ہے) آپؐ نے پوچھا یہ کہاں سے لے آئے؟ انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس گھٹیا قسم کی کھجور تھی‘ میں نے وہ دو صاع دے کر یہ ایک صاع خرید لی۔ فرمایا ہائیں! قطعی سود! قطعی سود۔ ایسا ہرگز نہ کیا کرو۔ جب تمہیں اچھی کھجوریں خریدنی ہوں تو اپنی کھجوریں درہم یا کسی اور چیز کے عوض بیچ دو۔ پھر اس قیمت سے اچھی کھجوریں خرید لو۔ (بخاری و مسلم)۔
فضالہ بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے جنگ خیبر کے موقع پر ایک جڑائو ہار 12 دینار میں خریدا۔ پھر جو میں نے اس ہار کو توڑ کر نگ اور سونا الگ الگ کیا تو اس کے اندر 12 دینار سے زیادہ کا سونا نکلا۔ میںنے اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ نے فرمایا آئندہ سے سونے کا جڑائو زیور سونے کے عوض نہ بیچا جائے جب تک کہ نگ اور سونے کو الگ الگ نہ کر دیا جائے۔ (مسلم‘ نسائی‘ ابو دائود‘ ترمذی)۔
ابوبکر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ چاندی کا چاندی سے اور سونے کا سونے سے مبادلہ نہ کیا جائے مگر برابری کے ساتھ نیز آپؐ نے فرمایا کہ چاندی کو سونے سے اور سونے کو چاندی سے جس طرح چاہے بدل سکتے ہو۔ (بخاری و مسلم)۔

احکام بالاکا ماحصل

مذکورہ بالا احادیث کے الفاظ اور معانی پر اور اُن حالات پر جن میں یہ احادیث ارشاد ہوئی ہیں‘ غور کرنے سے حسب ذیل اصول اور احکام حاصل ہوتے ہیں:۔
-1 یہ ظاہر ہے کہ ایک ہی جنس کی دو چیزوں کو بدلنے کی ضرورت صرف اسی صورت میں پیش آتی ہے جب کہ اتحاد جنس کے باوجود ان کی نوعیتیں مختلف ہوں۔ مثلاً چاول اور گیہوں کی ایک قسم اور دوسری قسم‘ عمدہ سونا اور گھٹیا سونا‘ یا معدنی نمک اور سمندری نمک وغیرہ۔ ان مختلف اقسام کی ہم جنس چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بدلنا اگرچہ بازار کے نرخ ہی کو ملحوظ رکھ کر ہو‘ بہرحال ان میں کمی بیشی کے ساتھ مبادلہ کرنے سے اس ذہنیت کے پرورش پانے کا اندیشہ ہے جو بالاآخر سود خواری اور ناجائز نفع اندوزی تک جا پہنچتی ہے۔ اس لیے شریعت نے قاعدہ مقرر کر دیا کہ ہم جنس اشیا کے مبادلہ کی اگر ضرورت پیش ائے تو لازماً حسبِ ذیل دو شکلوں میں سے ہی کوئی ایک شکل اختیار کرنی ہوگی۔ ایک یہ کہ ان کے درمیان قدر و قیمت کا جو تھوڑا سا فرق ہو اسے نظر انداز کرکے برابر سرابر مبادلہ کر لیا جائے۔ دوسرے یہ کہ چیز کا چیز سے براہِ راست مبادلہ کرنے کے بجائے ایک شخص اپنی چیز روپے کے عوض بازار کے بھائو بیچ دے اور دوسرے شخص سے اس کی چیز روپے کے عوض بازار کے بھائو خرید لے۔
-2 جیساکہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ‘ قدیم زمانے میں تمام سکے خالص چاندی سونے کے ہوتے تھے اور ان کی قیمت دراصل ان کی چاندی اور ان کے سونے کی قیمت ہوتی تھی۔ اس زمانے میں درہم کو درہم سے اور دینار کو دینار سے بدلنے کی ضرورت ایسے مواقع پر پیش آتی تھی جب کہ مثلاً کسی شخص کو عراقی درہم کے عوض رومی درہم درکار ہوتے یا رومی دینار کی حاجت ہوتی۔ ایسی ضرورتوں کے مواقع پر یہودی ساہوکار اور دوسرے ناجائز کمانے والے لوگ کچھ اسی طرح کا ناجائز منافع وصول کرتے تھے جیسا موجودہ زمانے میں بیرونی سکوں کے بادلہ پر بٹاون لی جاتی ہے یا اندرون ملک میں روپیہ کی ریزگاری مانگنے والوں یا دس اور پانچ روپے کے نوٹ بھنانے والوں سے کچھ پیسے یا آنے وصول کر لیے جاتے ہیں۔ یہ چیز بھی چونکہ سود خورانہ ذہنیت کی طرف لے جانے والی ہے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ نہ تو چاندی کا مبادلہ چاندی سے اور سونے کا مبادلہ سے کمی بیشی کے ساتھ کرنا جائز ہے اور نہ ایک درہم کو دو درہم کے عوض بیچنا درست ہے۔
-3 ہم جنس اشیا کے درمیان مبادلہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک شخص کے پاس ایک چیز خام شکل میں ہو اور دوسرے کے پاس اسی جنس سے بنی ہوئی کوئی شے ہو اور دونوں آپس میں ان کا مبادلہ کرنا چاہیں۔ اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ آیا صنعت نے شے کی ماہیت بالکل ہی تبدیل کر دی ہے یا اس کے اندر صنعت کے تصرف کے باوجود ابتدائی خام صورت کی بہ نسبت کوئی بڑا فرق واقع نہیں ہوا ہے۔ پہلی صورت میں تو کمی بیشی کے ساتھ مبادلہ ہو سکتا ہے لیکن دوسری صورت میں شریعت کا منشا یہ ہے کہ یا تو سرے سے مبادلہ ہی نہ ہو یا اگر ہو تو برابری کے ساتھ ہو تاکہ زیادہ ستانی کے مرض کو غذا نہ مل سکے۔ مثال کے طور پر ایک تو وہ عظیم الشان تغیرات ہیں جو روئی سے کپڑا اور لوہے سے انجن بننے کی صورت میں رونما ہوتے ہیں اور دوسرے وہ خفیف تغیرات ہیں جو سونے سے ایک چوڑی یا ایک کنگن بنائے جانے کی صورت میں ہوتے ہیں‘ ان میں سے پہلی صورت میں تو کوئی مضائقہ نہیں‘ اگر ہم زیادہ مقدار روئی دے کر کم مقدار میں کپڑا اور بہت سے وزن کا خام لوہادے کر تھوڑے سے وزن کا ایک انجن خرید لیں۔ لیکن دوسری صورت میں یا تو سونے کے کنگن کا مبادلہ ہم وزن سونے ہی سے کرنا ہوگا۔ پھر سو نے کو بازار میں بیچ کر اس کی قیمت کے کنگن خریدنے پڑیں گے۔
-4 مختلف اجناس کی چیزوں کا باہم مبادلہ کمی بیشی کے ساتھ ہو سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ معاملہ دست بہ دست ہو جائے‘ اسی شرط کی وجہ یہ ہے کہ دست بہ دست جو لین دین ہوگا وہ تو لامحالہ بازار کے نرخوں ہی پر ہوگا۔ مثلاً جو شخص چاندی دے کر سونا لے گا وہ نقد سودے کی صورت میں سونے کے بالمقابل اتنی ہی چاندی دے گا جتنی اسے بازار کے بھائو کے لحاظ سے دینی چاہیے۔ لیکن ارض کی صورت میں کمی بیشی کا معاملہ اس اندیشہ سے خالی نہیں ہو سکتا کہ اس کے اندر سود کا غبار شامل ہو جائے۔ مثال کے طور پر جو شخص آج 80 تولہ چاندی دے کر یہ طے کرتا ہے کہ ایک مہینہ بعد وہ 80 تولہ چاندی کے بجائے 2 تولہ سونے لے گا‘ اس کے پاس درحقیقت یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ایک مہینہ بعد 40 تولہ چاندی ایک تولہ سونے کے برابر ہوگی۔ لہٰذا اس نے چاندی اور سونے کے درمیان مبادلے کی اس نسبت کو جو پیشگی تعین کر لیا یہ بہرحال ایک طرح کی سود خوارانہ اور قمار بازانہ ذہنیت کا نتیجہ ہے اور قرض لینے والے نے جو اسے قبول کیا تو اس نے بھی گویا جوا کھیلا کہ شاید ایک مہینہ بعد سونے اور چاندی کی باہمی نسبت 140 کے بجائے 135 ہو۔ اسی بنا پر شارع نے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ مختلف اجناس کا مبادلہ کمی بیشی کے ساتھ کرنا ہو تو وہ صرف دست بہ دست ہی ہو سکتا ہے۔ رہا قرض تو وہ لازماً دو طریقوں میںسے کسی ایک طریقہ پر ہونا چاہیے یا تو وہ چیز جتنی مقدار میں قرض دی گئی ہے وہی چیز اسی مقدار میں واپس قبول کی جائے یا پھر معاملہ اجناس اور اشیا کی شکل میں طے کرنے کے بجائے روپے کی شکل میں طے کیا جائے۔ مثلاً یہ کہ آج زید نے بکر سے 80 روپے یا 80 روپے کے گیہوں قرض لیے اور ایک مہینہ بعد وہ بکر کو 80 روپے یا 80 روپے کے جو واپس کر دے گا۔ اس قانون کوابو دائود کی اس روایت میں بالکل واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
’’اور کوئی مضائقہ نہیں اگر سونے کو چاندی کے عوض بیچا جائے اور چاندی زیادہ ہو بشرطیکہ معاملہ دست بہ دست ہو جائے۔ رہا قرض تو وہ جائز نہیں ہے اور کوئی مضائقہ نہیں اگرگیہوں کو جَو کے عوض بیچا جائے اور جَو زیادہ ہوں بشرطیکہ معاملہ دست بہ دست ہو جائے۔ رہا قرض تو وہ جائز نہیں ہے۔‘‘

(جاری ہے)