ٹوینٹی ٹوینٹی

98

سال دو ہزار بیس اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور دو ہزار اکیس کا آغاز ہوچکا ہے۔ گزشتہ سال نے بالخصوص زندگی کی بے ثباتی کا نقشہ جس طرح ہمارے سامنے رکھا، عقل و بصیرت کا تقاضا ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں۔
دو ہزار بیس جسے ابتداء میں دوستوں نے ’’ٹوینٹی ٹوینٹی،، کا دلچسپ عنوان دیا اور سنسنی خیز کرکٹ میچ سے تشبیہ دیُ لیکن وہ ثابت پانچ روزہ طویل ٹیسٹ میچ ہوا، جس کا آغاز بھی غیر دلچسپ، اکتاہٹ بھرا اور انجام بھی بے نتیجہ۔
اگرچہ ابتدائی ڈیڑھ ماہ کا سفر تو عام ہی تھا، لیکن جیسے جیسے اس کا سفر آگے بڑھتا گیا، اس نے اپنے خونیں پنجے دنیا بھر میں گاڑنے شروع کیے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہماری زندگیوں کا ناقابلِ یقین دور شروع ہوا۔ ایک، دو، تین… ایک ایک کرکے دنیا کے تمام ممالک اس آدم خور برس میں پھیلی وبا کا شکار ہوتے چلے گئے۔ اس نے نہ صرف لاکھوں زندگیوں کو نگل لیا بلکہ دنیا بھر کی رونقوں کو بھی معدوم کردیا۔
یہ سال جسے کہنے والوں نے خونیں سال قرار دیا، دوسرے ممالک کو تو چھوڑیں ہم صرف وطنِ عزیز کی بات کریں تو صرف اس وبا سے ہی نہیں بلکہ طبعی طور پر بھی ہر شعبۂ زندگی سے قیمتی لعل و گوہر کو پیوندِ خاک کردیا۔ کیا علمی، ادبی، مذہبی اورسیاسی، کیسے کیسے انمول ہیرے اور نامور شخصیات اجل کو لبیک کہہ گئیں۔
نایاب جواہر جیسے علماء نے زمین کو تاریکی دی اور زیر زمین اجالا پھیلا دیا۔ ہر گزرتا دن اور طلوع ہوتا آفتاب ایک نئے اندیشے سے وابستہ ہوتا ہے کہ اب کون…؟
سال دو ہزار بیس میں آئی یہ وبا، وبا نہیں بلا تھی یا عفریت… جس نے لاکھوں زندگیوں کے چراغ گل کردیے، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
اگرچہ اس وبا نے ہمیں سادگی کی طرف مائل کیا اور بے جا خریداری، سیر وتفریح اور بازاری کھانوں سے اجتناب کا سبق بھی پڑھایا، جس کا خاطر خواہ اثر بھی معاشرے پر نظر آیا۔
کورونا کی نئی لہر نے ایک دفعہ پھر سب کو خبردار کردیا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کی ویکسین کی تیاری کی خوش کن خبریں بھی سنائی دے رہی ہیں اور کچھ پیش رفت بھی ہوچکی ہے۔ لیکن ساتھ بہت سے تحفظات بھی وابستہ ہیں اور کچھ تفکرات بھی۔
کہتے ہیں مایوسی کفر ہے اور امید پر دنیا قائم ہے، اِن شاء اللہ دو ہزار اکیس کا خورشید اپنی نارنجی شعاعیں اس یقین کے ساتھ پھیلائے گا کہ ہمارے سائنس دانوں نے اس جراثیم کا توڑ مکمل طور پرنکال لیا اور اس پر قابو پانے میں کامیاب اور شکست دینے پر قادر ہوگئے۔
ایک شعر شاعر سے معذرت کے ساتھ

کوئی ہار گیا زندگی تو کوئی جیت گیا موت سے
یہ سال بھی آخر بیت گیا خوف سے

حصہ