اب گھر بیٹھے کمانا مشکل نہیں

168

’’کماتے کماتے میں کہاں رہ گئی‘ یاد نہیں…‘‘
یہ الفاظ لاہور کی بے مثال خاتون ارم زاہد کے ہیں۔ نامساعد حالات، رکاوٹوں اور مشکلات نے ان میں کچھ کرنے اور سوچنے کی امنگ پیدا کی۔ ارم زاہد کا تعلق متوسط گھرانے سے ہے۔ شادی اور بچوں کے بعد مالی تنگی نے ذہنی کرب میں مبتلا کر رکھا تھا‘ چھوٹی چھوٹی ضرورتیں پوری نہ ہو پاتیں۔ بڑھتے اخراجات اور مسائل کے پیش نظر انہوں نے گھر اور بچوں کو سپورٹ کرنے کا عہد کیا۔ یہ سوچ کر ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا جو ان کی محنت اور لگن کے باعث کچھ ہی برسوں میں منی اکیڈمی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
گفتگو کے دوران ارم زاہد کا کہنا تھا کہ ابتدا میں شعبے کا انتخاب کرنا ہی مشکل امر تھا۔کم عمری میں شادی کے باعث تعلیم جاری نہ رکھ سکی، کوئی ہنر سیکھنے کا بھی موقع نہ ملا نہ ہی کوئی سرمایہ تھا۔ کام کے لیے باہر نکلتی تو گھر متاثر ہوتا جو کہ ناقابل قبول تھا۔ پھر یہی سوچا کہ کچھ ایسا کام کیا جائے جس کے لیے باہر نہ جانا پڑے۔
کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی کامیابی کٹھن مراحل کے بغیر ممکن نہیں۔ ارم زاہد نے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ آغاز میں کافی مشکلات کا سامنا رہا، مگر ہمت پست نہیں ہونے دی۔ بچوں کو مناسب تعلیم و ماحول فراہم کرنا اُن کا اوّلین مشن تھا۔ ان کے نزدیک کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی تکلیف سے بہتر خود تکلیف دہ مراحل سے گزر جانا ہے۔ کچھ توقف کے بعد پھر گویا ہوئیں کہ ان سب مراحل میں صحت، ذاتی زندگی حتیٰ کہ ذاتی خواہشات کو مارنا پڑا۔ مگر آٹھ‘ نو برس کی جدوجہد کے بعد آج مطمئن ہیں۔ یہ ان کی کامیابی اور پختہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ محض چند بچوں کو پڑھانے والا سلسلہ اب تقریباً 70 بچوں کے منی اکیڈمی میں بدل چکا ہے۔
ٹیوشن کے دوران مسائل کے تذکرے پر نہایت دل چسپ بات بیان کی چونکہ ان کی تعلیم زیادہ نہیں، جب لوگوں کا ان پر اعتبار بڑھنے لگا تو انہوں نے ہائی کلاسز بھی لینا شروع کر دیں۔ اس موقع پر ان کی بیٹیاں مددگار اور معاون بنیں۔ یہ جان کر خوش کن طور پر حیرت ہوئی کہ اُس وقت بڑی بیٹی ساتویں جماعت میں زیر تعلیم تھی اور آج وہ بی اے کی طالبہ ہے۔ ارم زاہد کا یقین ہے کہ جب انسان خود پر بھروسہ کر لے تو حالات خود بہ خود سازگار ہوتے چلے جاتے ہیں۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ان کو ریاضی پڑھانے میں ہمیشہ مشکل رہی۔ پڑھانے کے دوران یہ مسئلہ درپیش ہوا تو اچانک چھوٹی بیٹی کا خیال آیا‘ جو کہ ریاضی میں کافی تیز ہے‘ اسی طرح راہیں نکلتی چلی گئیں اور اب نہ صرف معاشی بہتری بلکہ بحیثیت مخلص استاد اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔
دن بھر کی مصروفیات کے سوال پر ذرا آبدیدہ بھی ہوگئیں ان کا خیال ہے کہ معاش کی دوڑ نے شاید ان سے اپنا آپ چھین لیا ہے۔ علی الصبح بچوں اور گھر کو نمٹاتے نمٹاتے ٹیوشن کا کمرہ کب بھر جاتا ہے، اندازہ ہی نہیں ہوتا اور پھر شام ڈھلے جاری رہتا ہے جس سے فراغت کے بعد دوبارہ گھر ہوتا ہے۔ دن کے اختتام پر بہ مشکل ہی اپنے لیے کچھ لمحے میسر آتے ہیں جس میں ضروری فون کالز کرنا، ٹی وی دیکھنا مشاغل میں شامل ہیں۔
آنکھوں کی چمک سے واضح تھا کہ آپ نے مسائل کو خود پر کبھی حاوی نہیں کیا۔ یہ سنتے ہی مسکراہٹ ان کے چہرے پر پھیل گئی۔ ان کے مطابق مسائل کا سامنا تو ہر لمحہ ہی رہتا ہے۔ سماجی زندگی بالکل محدود ہوگئی‘ کوئی دعوت ہو یا شادی، بازار جانا ہو یا سیر و تفریح کرنے معذرت کر لیتی ہیں یہ سب سے زندگی سے بالکل ختم ہو کر رہ گیا ہے۔
’’کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔‘‘ ان کا ادا کیا گیا یہ جملہ بلند حوصلہ و ارادے کی نشاندہی کر رہا تھا اور بہت سی گھریلو خواتین کے لیے رہنمائی کا نمونہ بھی۔

حصہ