سود

142

(گیارہواں حصہ)

اہلِ حاجت کے قرضے

دنیا میں سب سے بڑھ کر سود خواری اُس کاروبار میں ہوتی ہے جو مہاجنی کاروبار (Mony Lending Business) کہلاتا ہے۔ یہ بلا صرف برعظیم ہند تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ایک عالم گیر بلا ہے جس سے دنیا کا کوئی ملک بچا ہوا نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی یہ انتظام نہیں ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو اُن کی ہنگامی ضروریات کے لیے آسانی سے قرض مل جائے اور بلا سود نہیں تو کم از کم تجارتی شرحِ سود ہی پر نصیب ہو جائے۔ حکومت اسے اپنے فرائض سے خارج سمجھتی ہے۔ سوسائتی کو اس ضرورت کا احساس نہیں۔ بینک صرف اُن کاموں میں ہاتھ ڈالتے ہیں جن میں ہزاروں‘ لاکھوں کے وارے نیارے ہوتے ہیں اور ویسے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک قلیل المعاش آدمی کسی فوری ضرورت کے لیے بینک تک پہنچ سکے اور اس سے قرض حاصل کرسکے۔ ان وجوہ سے مزدور‘ کسان‘ چھوٹے کاروباری آدمی‘ کم تنخواہوںوالے ملازم اور عام غریب لوگ ہر ملک میں مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے برے وقت پر اُن مہاجنوں سے قرض لیں جو اپنی بستیوں کے قریب ہی ان کو گِدھ کی طرح شکار کی طرح تلاش میں منڈلاتے ہوئے مل جاتے ہیں۔ اس کاروبار میں اتنی بھاری شرحِ سود رائج ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ سودی قرض کے جال میں پھنس جاتا ہے وہ پھر اس سے نبیں نکل سکتا‘ بلکہ دادا کا لیا ہوا قرض پوتوں تک وراثت میں منتقل ہوتا چلا جاتا ہے اور اصل سے کئی گنا سود ادا کر چکنے پر بھی اصل قرض کی چٹان جوں کی توں آدمی کے سینے پر دھری رہتی ہے۔ پھر بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر قرض دار کچھ مدت تک سود ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتا تو چڑھے ہوئے سود کی رقم کو اصل میں شامل کرکے وہی مہاجن اپنا ہی قرض و سود وصول کرنے کے لیے اسی شخص کو ایک اور بڑا قرض زیادہ شرح سود پر دے دیتا ہے اور وہ غریب پہلے سے زیادہ زیر بار ہو جاتا ہے۔ انگلستان میں اس کاروبار کی کم سے کم شرح سود 48 فیصد سالانہ ہے۔ جو اَز روئے قانون دلوائی جاتی ہے۔ لیکن عام شرح جس پر وہاں یہ کاروبار چل رہا ہے 250 سے 400 فیصد سالانہ تک ہے اور ایسی مثالیں بھی پائی گئی ہیں جن میں بارہ‘ تیرہ سو فیصد سالانہ پر معاملہ ہوا ہے۔ امریکا میں مہاجنوں کے لیے قانونی شرح سود 30 سے 60 فیصدی سالانہ تک ہے‘ لیکن ان کا عام کاروبار 100 سے 260 فیصد تک سالانہ شرح پر ہو رہا ہے اور بارہا یہ شرح 80 فیصد تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ خود ہمارے اس برعظیم میں بڑا ہی نیک طبع ہے وہ مہاجن جو کسی غریب کو 48 فیصد سالانہ پر قرض سے دے‘ ورنہ عام شرح 75 فیصد سالانہ ہے جو بارہا 150 فیصد تک بھی پہنچ جاتی ہے‘ بلکہ 300 اور 350 فیصد سالانہ شرح کی مثالیں بھی پائی گئی ہیں۔
یہ وہ بلائے عظیم ہے جس میں ہرملک کے غریب اور متوسط الحال طبقوں کی بڑی اکثریت بری طرح پھنسی ہوئی ہے اس کی وجہ سے قلیلا لمعاش کارکنوں کی آمدنی کا بڑا حصہ مہاجن لے جاتا ہے۔ شب و روز کی اَن تھک محنت کے بعد جو تھوڑی سی تنخواہیں یا مزدوریاں ان کو ملتی ہیں‘ ان میں سے سود ادا کرنے کے بعد ان کے پاس اتنا بھی نہیں بچتا کہ دو وقت کی روٹی چلا سکیں۔ یہ چیز صرف یہی نہیں کہ ان کے اخلاق کو بگاڑتی اور انہیں جرائم کی طرف دھکیلتی ہے اور صرف یہی نہیں کہ ان کے معیارِ زندگی کو پست اور ان کی اولاد کے معیارِ تعلیم و تربیت کو پست تر کر دیتی ہے بلکہ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ دائمی فکر اور پریشانی ملک کے عام کارکنوں کی قابلیت کار کو بہت گھٹا دیتی ہے اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی محنت کا پھل دوسرا لے اُڑتا ہے تو اپنے کام سے ان کی دل چسپی ختم ہو جاتی ہے۔ اس لحاظ سے سودی کاروبارکی یہ قسم صرف ایک ظلم ہی نہیں ہے بلکہ اس میں اجتماعی معیشت کا بھی بڑا بھاری نقصان ہے۔ یہ کیسی عجیب حماقت ہے کہ جو لوگ ایک قوم کے اصل عالمین پیدائش ہیں اور جن کی محنتوں ہی سے وہ ساری دولت پیدا ہوتی ہے جس پر قوم کی اجتماعی خوش حالی کا مدار ہے‘ قوم ان پر بہت سی جونکیں مسلط کیے رکھتی ہے جو ان کا خون چوس چوس کر ان کو نڈھال کر دتی رہتی ہیں۔ تم حساب لگاتے ہو کہ ملیریا سے اتنے لاکھ عملی گھنٹوں کا نقصان ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ سے ملک کی معاشی پیداوار میں اتنی کمی واقع ہوتی ہے۔ اس بنا پر تم مچھروں پر پل پڑتے ہو اور ان کا قلع قمع کرنے کی کوشش کرتے ہو‘ لیکن تم اس کا حساب نہیں لگاتے کہ تمہارے سود خوار مہاجن ت ہمارے لاکھوں کارکنوں کو کتنا پریشان‘ کتنا بد دل اور کتنا افسردہ کرتے رہتے ہیں‘ کس قدر ان کے جذبۂ عمل کو سرد اور قوتِ کار کو کم کر دیتے ہیں اور اس کا کتنا برا اثر تمہاری معاشی پیداوار پر مرتب ہوتا ہے۔ اس معاملے میں تمہارے التفاتِ معکوس کا حال یہ ہے کہ تم مہاجنوں کا قلع قمع کرنے کے بجائے الٹا ان کے قرض داروں کو پکڑتے ہو اور جو خون مہاجن خود ان کے اندر سے نہیں چوس سکتا‘ اسے تمہاری عدالتیں نچوڑ کر مہاجن کے حوالے کر دیتی ہیں۔
اس کا دوسرا معاشی نقصان یہ ہے کہ اس طرح غریب طبقے کی رہی سہی قوتِ خریداری بھیسود خوار ساہوکار چھین لے جاتا ہے‘ لاکھوں آدمیوں کی بے روزگاری اور کروڑوں آدمیوں کی ناکافی آمدنی پہلے ہی تجارت و صنعت کے فروغ میں مانع تھی۔ اس پر تم نے اچھی آمدنیاں رکھنے والوں کو یہ راستہ دکھایا کہ وہ خرچ نہ کریں بلکہ زیادہ سے زیادہ رقم پس انداز کیا کریں‘ اس سے کاروبار کو ایک نقصان اور پہنچا۔ اب اس پر مستزاد یہ ہے کہ لاکھوں‘ کروڑوں غریب آدمیوں کو ناکافی تنخواہوں اور مزدوریوں کی شکل میں جو تھوڑی بہت قوتِ خریداری حاصل ہو جاتی ہے اس کو بھی وہ اپنی ضروریاتِ زندگی خریدنے میں استعمال نہیں کرنے پاتے بلکہ اس کا ایک بڑا حصہ ساہوکار ان سے چھین لیتا ہے اور اس کو اشیا اور خدمات کی خریداری پر صرف کرنے کے بجائے سوسائٹی کے سر پر مزید سود طلب قرض چڑھانی میں استعمال کرتا ہے۔ ذرا حساب لگا کر دیکھیے۔ اگر دنیا میں 5 کروڑ آدمی بھی ایسے مہاجنوں کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ اوسطاً دس روپے مہینہ سود ادا کر رہے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر مہینے 50 کروڑ روپے کا مال فروخت ہونے سے رہ جاتا ہے اور اتنی بھاری رقم معاشی پیداوار کی طرف پلٹنے کے بجائے مزید سودی قرضوں کی تخلیق میں ماہ بہ ماہ ہوتی رہتی ہے۔

کاروباری قرض

اب دیکھیے جو قرض تجارت و صنعت اور دوسری کاروباری اغراض کے لیے لیا جاتا ہے اُس پر سود کو جائز قرار دینے کے معاشی نقصانات کیا ہیں۔ صنعت‘ تجارت‘ زراعت اور دوسرے تمام معاشی کاموں کی بہتری یہ چاہتی ہے کہ جتنے لوگ بھی کسی کاروبار کو چلانے میں کسی طور پر حصہ لے رہے ہوں‘ ان سب کے مفاد‘ اغراض اور دل چسپیاں اُس کام کے فروغ سے وابستہ ہوں۔ اس کا نقصان سب کا نقصان ہو تاکہ وہ اس کے خطرے سے بچنے کی مشترک سعی کریں اور اس کا فائدہ سب کا ہو تاکہ وہ اس کو بڑھانےمیں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں۔ اس لحاظ سے معاشی مفاد کا تقاضا یہ تھا کہ جو لوگ کاروبار میں دماغی یا جسمانی کارکن کی حیثیت سے نہیں بلکہ صرف سرمایہ فراہم کرنے والے فریق کی حیثیت سے شریک ہوں‘ ان کی شرکت بھی اسی نوعت کی ہو تاکہ وہ کاروبار کی بھلائی برائی سے وابستہ ہوں اور وہ اس کے فروغ میںاور اس کو نقصان سے بچانے میں پوری دل چسپی لیں۔ مگر جب قانون نے سود کو جائز کر دیا تو صاحبِ سرمایہ لوگوں کے لیے یہ راستہ کھل گیا کہ وہ اپنا سرمایہ شریک اور حصہ دار کی حیثیت سے کاروبار میں لگانے کے بجائے دائن کی حیثیت سے بصورت قرض دیں اور اس پر ایک مقرر شرح کے مطابق اپنا منافع وصول کرتے رہیں۔ اس طرح سوسائٹی کے معاشی عمل میں ایک ایسا نرالا غیر فطری عامل آکر مل جاتا ہے جو تمام عالمین پیدائش کے برعکس اس پورے عمل کی بھلائی برائی سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتا۔ اس عمل میں نقصان آرہا ہو تو سب کے لیے خطرہ ہے مگر اس کے لیے نفع کی گارنٹی ہے اس لیے سب تو نقصان کو روکنے کی کوشش کریں گے‘ مگریہ اس وقت تک فکر مند نہ ہوگا جب تک کہ کاروبار کا بالکل ہی دیوالیہ نہ نکلنے لگے۔نقصان کے موقع پر یہ کاروبار کو بچانے کے لیے مدد کو نہیں دوڑے گا بلکہ اپنے مالی مفاد کو بچانے کے لیے اپنا دیا ہوا روپیہ بھی کھینچ لینا چاہے گا۔ اسی طرح معاشی پیداوار کے عمل کو فروغ دینے سے بھی براہ راست اسے کوئی دل چسپی نہ ہوگی کیوں کہ اس کا نفع تو بہر حال مقرر ہے‘ پھرآخر وہ کیوں اس کام کی ترقی و کامیابی کے لیے اپنا سر کھپائے غرض سوسائٹی کے نفع اور نقصان سے بے تعلق ہو کر یہ عجیب قسم کا معاشی عامل الگ بیٹھا ہوا صرف اپنے سرمایہ کو ’’کرایہ‘‘ پر چلاتا رہتا ہے اور بے کھٹکے اپنا مقرر کرایہ وصول کرتا رہتا ہے۔
اس غلط طریقہ نے سرمایہ اور کاروبار کے درمیان رفاقت اور ہمدردانہ تعاون کے بجائے ایک بہت ہی بری طرح کا خود غرضانہ تعلق قائم کردیا ہے جو لوگ بھی روپیہ جمع کرنے اور معاشی پیداوار کے کام پر لگانی کے مواقع رکھتے ہیں وہ اس روپے سے نہ خود کوئی کاروبار کرتے ہیں نہ کاروبار کرنے والوںکے ساتھ شریک ہوتے ہیں‘ بلکہ ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کا روپیہ ایک مقرر منافع کی ضمانت کے ساتھ قرض کے طور پر کام میں لگے اور پھر وہ مقرر منافع بھی زیادہ سے زیادہ شرح پر ہو۔ اس کے بے شمار نقصانات میں سے چند نمایاں ترین یہ ہیں:
-1 سرمایہ کا ایک معتدبہ حصہ اور بسا اوقات بڑا حصہ محض شرحِ سود چڑھنے کے انتظار میں رکا پڑا رہتا ہے اور کسی مفید کام میں نہیں لگتا باوجود یہ کہ قابل استعمال وسائل بھی دنیا میں موجود ہوتے ہیں۔ روزگار کے طالب آدمی بھی کثرت سے مارے پھر رہے ہوتے ہیں اور اشیا ضرورت کی مانگ بھی موجود ہوتی ہے لیکن یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی نہ وسائل استعمال ہوتے ہیں نہ آدمی کام پر لگتے ہیں اور نہ منڈیوں میں حقیقی طلب کے مطابق مال کی کھپت ہوتی ہے‘ صرف اس لیے کہ سرمایہ دار جس شرح سے فائدہ لینا چاہتا ہے‘ اس کے ملنے کی اسے توقع نہیں ہوتی اور اس بن اپر وہ کام میں لگانے کے لیے روپیہ نہیں دیتا۔
-2 زیادہ شرح سود کا لالچ وہ چیز ہے جس کی بنا ر سرمایہ دار طبقہ کاروبار کی طرف سے سرمایہ کے بہائو کو خود کاروبار کی حقیقی ضرورت اور طبعی مانگ کے مطابق نہیں بلکہ اپنے مفاد کے لحاظ سے روکتا اور کھولتا رہتا ہے۔ اس کا نقصان کچھ اسطرح کا ہے جیسے کوئی نہر کا مالک کھیتوں اور باغوں کی مانگ اور ضرورت کے مطابق پانی نہ کھولے اور نہ بند کرے‘ بلکہ اپنے پانی کے کھولنے اور بند کرنے کا ضابطہ یہ بنا لے کہ جب پانی کی ضرورت نہ ہو تو وہ بے تحاشا پانی بڑے سستے داموں چھوڑنے کے لیے تیار ہو جائے اور جوں ہی پانی کی مانگ بڑھنی شروع ہو‘ وہ اس کے ساتھ ساتھ پانی کی قیمت پر چڑھاتا چلا جائے یہاں تک کہ اس قیمت پر پانی لے کر کھیتوں اور باغوں میں لگانا کچھ بھی نفع بخش نہ رہے۔
-3 سود اور اس کی شرح ہی وہ چیز ہے جس کی بہ دولت تجارت و صنعت کا نظام ایک ہموار طریقہ سے چلنے کے بجائے تجارتی چکر (Trade Crcle) کی اس بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جس میں اس پر بار بار کساد بازاری کے دورے پڑتے ہیں۔ اس کی تشریح ہم پہلے کر چکے ہیں اس لیے یہاں اس کے اعادے کی ضرورت نہیں۔
-4 پھر یہ بھی اسی کا کرشمہ ہے کہ سرمایہ ان کاموں کی طرف جانے کے لیے راضی نہیں ہوتا جو مصالح عامہ کے لیے مفید اور ضروری ہیں مگر مالی لحاظ سے اتنے نفع بخش نہیں ہیں کہ بازار کی شرح سود کے مطابق فائدہ دے سکیں۔ اس کے برعکس وہ غیر ضروری مگر زیادہ نفع آور کاموں کی طرف بہہ نکلتا ہے اور اُدھر بھی وہ کارکنوں کو مجبور کرتا ہے کہ شرح سود سے زیادہ کمانے کے لیے ہر طرح کے بھلے اور برے اور صحیح و غلط طریقے استعمال کریں۔ اس نقصان کی تشریح بھی ہم پہلے کر آئے ہیں اس لیے اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔
-5 سرمایہ دار لمبی مدت کے لیے سرمایہ دینے سے پہلو تہی کرتے ہیں کیوں کہ ایک طرف وہ سٹہ بازی کے لیے اچھا خاصا سرمایہ ہر وقت اپنے پاس قابل استعمال کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف انہیں یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ اگر آئندہ کبھی شرح سود زیادہ چڑھی تو ہم اس وقت کم سود پر زیادہ سرمایہ پھنسا دینے سے نقصان میں رہیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہلِ صنعت و حرفت بھی اپنے سارے کاروبار میں تنگ نظری و کم حوصلگی کا طریقہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور مستقل بہتری کے لیے کچھ کرنے کے بجائے بس چلتا کام کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ مثلاً ایسے قلیل المدت سرمایہ کو لے کر ان کے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ اپنی صنعت کے لیے جدید ترین آلات اور مشینیں خریدنے پر کوئی بڑی رقم خرچ کر دیں بلکہ وہ پرانی مشینوں ہی کو گھِس گھِس کر بھلا برا مال مارکیٹ میں پھینکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تاکہ قرض و سود ادا کرسکیں اور کچھ اپنا منافع بھی پیدا کر لیں۔ اسی طرح یہ بھی ان قلیل المدت قرضوں ہی برکت ہے کہ منڈی سے مال کی مانگ کام آتے دیکھ کر فوراً ہی کارخانہ دار مال کی پیداوار گھٹا دیتا ہے اور ذرا سی دیر کے لیے بھی پیداوار کی رفتار کو برقرار رکھنے کی ہمت نہیں کرسکتا کیوں کہ اسے خطرہ ہوتا ہے کہ اگر بازار میں مال کی قیمت گر گئی تو وہ پھر بالکل دیوالیہ کی سرحد پر ہوگا۔
-6 پھر جو سرمایہ بڑی صنعتی و تجارتی اسکیموں کے لیے لمبی مدت کے واسطے ملتا ہے اس پر بھی ایک خاص شرح کے مطابق سود عائد ہونا بڑے نقصانات کا موجب ہوتا ہے۔ اس طرح کے قرضے بالعموم دس‘ بیس یا تیس سال کے لیے حاصل کیے جاتے ہیں اور اس پر مدت کے لیے ابتدا ہی میں ایک خاص فیصدی سالانہ شرح سود طے ہو جاتی ہے۔ اس شرح کا تعین کرتے وقت کوئی لحاظ اس امر کا نہیں کیا جاتا اور جب تک فریقین کو علم غیب نہ ہو کہ آئندہ دس‘ بیس‘ یا تیس سال کے دوران میں قیمتوں کا اتار چڑھائو کیا شکل اختیار کرے گا اور قرض لینے والے کے لیے نفع کے امکانات کس حد تک کم یا زیادہ ہوں گے یا بالکل نہ رہیں گے۔ فرض کیجیے کہ 1949ء میں ایک شخص نے بیس سال کے لیے 7 فیصدی شرح سود پر ایک بھاری قرض حاصل کیا اور اس سے کوئی بڑا کام شروع کردیا۔ اب وہ مجبور ہے کہ 69ء تک ہر سال باقاعدگی کے ساتھ اس حساب سے اصل کی اقساط اور سود ادا کرتا رہے جو 49ء میں طے ہوا تھا لیکن اگر 55ء تک پہنچتے پہنچتے قیمتیں گر کر اس وقت کے نرخ سے آدھی رہ گئی ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ شخص جب تک آغازِِ معاہدہ کے زمانے کی بہ نسبت اُس وقت دو گنا مال نہ بیچے وہ نہ اس رقم کا سود ادا کر سکتا ہے اور نہ قسط اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس ارزانی کے دور میں یا تو اس قسم کے اکثر قرض داروں کے دیوالیے نکل جائیں یا وہ دلوالیے سے بچنے کے لیے معاشی نظام کو خراب کرنے والی ناجائز حرکات میںسے کوئی حرکت کرے۔ اس معاملے پر اگر غور کیا جائے تو کسی معقول آدمی کو اس امر میں کوئی شک نہ رہے گا کہ مختلف زمانوں میں چڑھتی اور گرتی ہوئی قیمتوں کے درمیان قرض دینے والے سرمایہ دار کا وہ منافع جو تمام زمانوں میں یکساں رہے نہ انصاف ہے اور نہ معاشیات کے اصولوں کےلحاظ سے اس کو کسی طرح درست اور اجتماعی خوش حالی میں مددگار ثابت کیا جاسکتا ہے۔ کیا دنیا مین کہیں آپ نے یہ سنا ہے کہ کوئی کمپنی جو اشیائے ضرورت میں سے کسی چیز کی فراہمی کا ٹھیکہ لے رہی ہو‘ یہ معاہدہ کرے کی وہ آئندہ تیس سال یا بیس سال تک یہ چیز اس قیمت پر خریدار کو مہیا کرتی رہے گی؟ اگر یہ کسی لمبی مدت کے سودے میں ممکن نہیں ہے تو آخر صرف سودی قرض دینے والا سرمایہ داری ہی وہ انوکھا سودا گر کیوبں ہو جو برس ہا برس کی مدت کے لیے اپنے قرض کی قیمت پیشگی طے کر لے اور وہی وصول کرتا چلا جائے۔
(جاری ہے)

حصہ