اپنے یا دشمن کے بچے؟۔

170

زوہیب اور صہیب دونوں آگے پیچھے بھاگتے ہوئے آئے اور کچن میں سالن بھونتی نایاب کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگے۔ دونوں کی خواہش تھی کہ وہ ماں کے آنچل میں سماکر ایک دوسرے سے چھپ جائیں۔
مگر ایسا بھلا کب ممکن تھا! دونوں ایک دوسرے کو دھکا دے کرنایاب سے جا ٹکرائے اور گرم گرم سالن کے چھینٹے اس کے بازو پر چھَلکے۔ ’’اُف، سی…ی ی ی‘‘۔ چمچہ ہانڈی میں پھینک کر نایاب نے سسکاری لی۔
دونوں بچے سہم کر ایک دم سے الگ ہوگئے ’’ماما چوٹ لگ گئی؟‘‘ زوہیب نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا۔
’’جی چوٹ لگی اور آپ دونوں کی وجہ سے لگی‘‘۔ نایاب جلدی سے سنک کے پاس ایمرجنسی کے لیے رکھا گیا ٹوتھ پیسٹ بازو پر لگانے لگی۔
’’سوری ماما! اصل میں صہیب مجھے مار رہا تھا، میں آپ کے پیچھے چھپنے آیا تھا‘‘۔ زوہیب نے شرمندگی سے کہا۔
’’جی، اور مارتے ہوئے بھی ماما کے پیچھے چھپنا ہے اور مار کھاتے ہوئے بھی پناہ گاہ وہی ہے، عجیب نظام ہے یہ بچوں کا بھی‘‘۔ کچن کے سامنے صوفے پر نیم دراز لیپ ٹاپ پر کام کرتے حسن صاحب نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔ وہ ان دونوں کے اندر آتے ہی ڈسٹرب ہوگئے تھے اور یہ ساری کارروائی دیکھ کر تبصرہ کیے بغیر نہ رہ سکے
نایاب بھی مسکرا کر دوبارہ ہانڈی کی طرف متوجہ ہوئی۔ ’’کیا کریں، لاک ڈاؤن میں تو سارا دن یہی تماشے ہیں، ہر گھر کی یہی کہانی ہے، کتنا اور کہاں تک انگیج کریں، ان بچوں میں بلا کا پوٹینشل ہے، دیا ہوا ٹاسک مکمل کرکے دوبارہ وہی اودھم بازی۔ ابھی گھنٹہ بھر پہلے ان دونوں کو کام دے کر آئی تھی کہ اپنا سائنس کا ایک ایک چیپٹر دونوں یاد کرکے ایک دوسرے کو سناؤ، پھر میں آکر گرینڈ ٹیسٹ لیتی ہوں‘‘۔ نایاب نے شکوہ کیا۔
’’جی ہم دونوں نے کرلیا، آپ کو یہی تو بتانے آئے تھے کہ گرینڈ ٹیسٹ لے لیں، مگر صہیب نے لڑنا شروع کردیا کہ پہلے میں بتاؤں گا اور مجھے مارنے لگا، میں اس سے بچنے کے لیے آپ کے پاس آیا تو یہ بھی آگیا اور آپ کے چوٹ لگ گئی… سوری ماما‘‘۔ زوہیب نے یہ کہتے ہی کان پکڑ لیے۔ پھر بھلا صہیب کیوں پیچھے رہتا، اس نے بھی اپنے کان پکڑ لیے سوری کرنے کے لیے۔
نایاب اور حسن صاحب مسکرا دیے ان دونوں کی پریشانی پر۔ ’’چلو ٹھیک ہے، تم دونوں کو اپنی غلطی کا احساس تو ہوا، جاؤ اب جاکر ایک دوسرے کو پڑھاؤ‘‘۔ حسن صاحب نے معاملہ رفع دفع کیا۔
’’ڈیڈی ایک اور بات، وہ 16 دسمبر آنے والی ہے، ایک چینل پر آرمی پبلک اسکول والوں کی یاد میں وہ والا سونگ لگا ہوا تھا ’’مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘ تو ڈیڈی جی! کیا دشمن کے بچوں کو اس کورونا میں بھی پڑھائیں گے؟ یا اِس مرتبہ اُن کو بھی چھٹی دے دیں گے؟‘‘صہیب ہمیشہ بڑی دور کی کوڑی لاتا تھا۔
’’ارے پاگل! لاک ڈاؤن میں ہم اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے، دشمن کے بچوں کو کہاں سے پڑھائیں گے؟‘‘
’’ویسے ڈیڈی اگر ان کے دور میں بھی لاک ڈاؤن ہوتا تو وہ بچے مرنے سے بچ جاتے، ہیں ناں…؟‘‘ زوہیب نے بڑا پن جھاڑا۔
’’ہاں بھائی صحیح کہہ رہے ہو آپ، لاک ڈاؤن سے جانیں بچ جاتی ہیں۔ 2014ء میں بھی لاک ڈاؤن ہوتا تو آرمی پبلک اسکول کے بچے بچ جاتے۔‘‘
اُف کیا کیا سوال تھے ان ننھے دماغوں میں، کیسی کیسی سوچیں تھیں جو ان کو تنگ کررہی تھیں۔ آج وہ ’’لاک ڈاؤن‘‘ کو مسیحا سمجھ رہے ہیں، اُن کی نظر میں نجات دہندہ ہی ’’لاک ڈاؤن‘‘ ہے۔ نایاب کو بے طرح ان کے ننھے دماغوں میں بنتی منفی سوچ پر خوف محسوس ہوا۔
’’نہیں بیٹا! تقدیر کے لکھے کو لاک ڈاؤن سے نہیں بدلا جا سکتا، ہاں بری تقدیر اور برے انجام سے جو چیز بچا سکتی ہے وہ دعا ہے، اور دعا کے ساتھ صدقہ کرنا بری گھڑی کو، اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرنے کا باعث بنتا ہے۔‘‘
’’تو پھر ماما! آپ روز دعا پڑھ کر اور صدقہ دے کر ہمیں اسکول بھیج دیا کریں ناں، پھر آپ کیوں لاک ڈاؤن کے ذریعے ہمیں بچانے کی کوشش کررہی ہیں ؟‘‘ صہیب کو اسکول بند ہونے کا بہت ملال تھا۔
’’بیٹا یہ فیصلہ ہمارا نہیں بلکہ حکمرانوں کا ہے، ہمیں تو ہر صورت ماننا پڑتا ہے۔‘‘ حسن صاحب نے بھی حصہ لیا۔
’’تو ڈیڈی! یہ حکمران اتنے بڑے ہوگئے ہیں۔ میری اور صہیب کی سمجھ میں بھی آگیا ہے کہ لاک ڈائون سے نہیں بلکہ احتیاط، دعا اور صدقے سے حفاظت ہوتی ہے، مگر ان کو اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آرہی! اٹلی میں چاچو کے بچوں سے بات ہوئی تھی، اُن کے ہاں تو اِس مرتبہ اسکول بند نہیں ہوئے؟‘‘ زہیب بولا۔
’’ارے پاگل، سونگ میں یہی تو کہا گیا تھا کہ ’’مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘ اور قرآن میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ ’’یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے‘‘، تو جب وہ دوست نہیں تو دشمن ہوئے، اور ہم نے تو کہہ دیا تھا کہ ہمیں اپنوں کے نہیں بلکہ ’’دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘ صہیب نے ہنس ہنس کر بات کے پرخچے اڑائے اور ساتھ ہی نایاب کی سوچوں کے پرخچے بھی اڑا دیے۔
وہ دونوں تو دوبارہ آگے پیچھے بھاگتے ہوئے گاتے ہوئے چلے گئے ’’مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘۔ نایاب سالن بھون کر دم والی آنچ کرکے حسن صاحب کے پاس آبیٹھی ۔
’’نہ جانے مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ اس 16دسمبر کو ہم سقوطِ ڈھاکا کی یاد میں رونے کا حق تو عرصہ ہوا کھو چکے ہیں، اقبال کی قبر سے بھی ہماری شرمندگی چھپی نہیں رہ سکی۔ خونِ دل دے کر نکھارنے کی قسم کھا کر خونِ رگِ جاں بھی نکال کر ہم نے عہدِ نارسائی کو ہوا دی۔ اب تو آرمی پبلک اسکول کے بچوں کی یاد میں رونے کا حق بھی کھو چکے ہیں، وہ علم کی شمع پر قربان ہونے والے ننھے شہید اپنی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے سوال کررہے ہیں کہ ہماری یاد میں اب کون سی مشعل جلاؤ گے؟ علم کی مشعل کو تو لاک ڈاؤن کے ہچکولوں میں تم نے روند دیا ہے، اب تم دشمن کے بچوں کو تو پڑھنے دے رہے ہو، اپنے ہی بچوں کو پڑھائی سے دور کربیٹھے ہو، ہر طرح کا کاروبار، دکانیں، سنیما، تفریح گاہیں کھلی ہیں، بند ہیں تو صرف تعلیم کے دروازے۔‘‘حسن صاحب نے اس کی جھلملاتی آنکھوں میں موتی اپنی پور میں سمیٹ کر بڑی احتیاط سے اسے دیکھا۔
’’جب تک ہماری آنکھوں سے اپنے گناہوں کے کفارے کے لیے یہ موتی گرتے رہیں گے تب تک اللہ اپنے عذاب کو ہم سے روکے رکھے گا اِن شا اللہ۔ ہمیں پریشان نہیں ہونا اور نہ ہی محض تنقید میں اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔ ہمیں اپنے حصے کی شمع جلانا ہے، اپنے حصے کا کام کرتے رہنا ہے۔ چلیں میڈم کھانا کھاکر اپنے باصلاحیت سپوتوں کو خود پڑھائیں، اپنی ذمہ داری ادا کریں، ایسا نہ ہو کہ تاریخ ہمیں اس المیے پر رونے بھی نہ دے۔‘‘
حسن صاحب نے ہلکے پھلکے انداز میں اپنی شریکِ سفر کے دکھ کا مداوا کیا۔ اور نایاب بھی تازہ دم ہوکر اپنے حصے کا کام کرنے اٹھ کھڑی ہوئی۔

حصہ