سود

206

قسط نمبر 10

تم اس سود کا یہ فائدہ بتاتے ہوکہ اس کے دبائو کی وجہ سے کاروباری آدمی مجبور ہوتا ہے کہ سرمائے کے فضول استعمال سے بچے اور اس کو زیادہ سے زیادہ نفع بخش طریقے سے استعمال کرے۔ تم شرحِ سود کی یہ کرامت بیان کرتے ہو کہ وہ خاموشی کے ساتھ کاروبار کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی رہتی ہے اور یہ اسی کا فیضان ہے کہ سرمایہ اپنے بہائو کے لیے تمام ممکن راستوں میں سے اُس کاروباری راستے کو چھانٹ لیتا ہے جو سب سے زیادہ نافع ہوتا ہے۔ لیکن ذرا اپنی سخن سازی کے پردے کو ہٹا کر دیکھو کہ اس کے نیچے اصل حقیقت کیا چھپی ہوئی ہے۔ دراصل سود نے پہلی خدمت تو یہ انجام دی کہ ’’فائدے‘‘ اور ’’منفعت‘‘ کی تمام دوسری تفسیریں اس کے فیض سے متروک ہو گئیں اور ان الفاظ کا صرف ایک ہی مفہوم باقی رہ گیا یعنی ’’مالی فائدہ‘‘ اور ’’ مادی منفعت‘‘ اس طرح سرمائے کو بڑی یکسوئی حاصل ہوگئی۔ پہلے وہ ان راستوں کی طرف بھی چلا جایا کرتا تھا جن میں مالی فائدے کی سوا کسی اور قسم کا فائدہ ہوتا تھا۔ مگر اب وہ سیدھا اُن راستوں کا رُخ کرتا ہے جدھر مالی فائدے کا یقین ہوتا ہے۔ پھر دوسری خدمت وہ اپنی شرحِ خاص کے ذریعے سے یہ انجام دیتا ہے کہ سرمائے کے مفید استعمال کا معیار سوسائٹی کا فائدہ نہیں بلکہ صرف سرمایہ دار کا فائدہ بن جاتا ہے۔ شرح سود یہ طے کر دیتی ہے کہ سرمایہ اس کام میں صرف ہوگا جو مثلاً 6 فیصدی سالانہ یا اس سے زیادہ منافع سرمایہ دار کو دے سکتا ہو۔ اس سے کم نفع دینے والا کوئی کام اس قابل نہیں ہے کہ اس پر مال صرف کیا جائے۔ اب فرض کیجیے کہ ایک اسکیم سرمایہ کارکے سامنے یہ آتی ہے کہ ایسے مکانات تعمیر کیے جو آرام دہ بھی ہوں اور جنہیں غریب لوگ کم کرایہ پر لے سکیں اور دوسری اسکیم یہ آتی ہے کہ شان دار سنیما تعمیر کیا جائے۔ پہلی اسکیم 6 فیصد سے کم منافع کی امید دلاتی ہے اور دوسری اسکیم اس سے زیادہ نفع دیتی نظر آتی ہے۔ دوسرے حالات میں تو اس کا امکان تھا کہ سرمایہ نادانی کے ساتھ پہلی اسکیم کی طرف بہہ جاتا یا کم از کم ان دونوں کے درمیان متردد ہو کہ استخارہ کرنے کی ضرورت محسوس کرتا۔ مگر شرح سود کا فیض ہدایت ہے کہ وہ سرمایہ کو بلاتامل دوسری اسکیم کا راستہ دکھا دیتا ہے اور پہلی اسکیم کو اس طرح پیچھے پھینکتا ہے کہ سرمایہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیتا۔ اس پر مزید کرامت شرحِ سود میں یہ ہے کہ وہ کاروباری آدمی کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے ہاتھ پائوں مار کر اپنے منافع کو اس حد سے اوپر ہی رکھنے کی کوشش کرے جو سرمایہ دار نے کھینچ دی ہے‘ خواہ اس غرض کے لیے اس کو کیسے ہی غیر اخلاقی طریقے اختیار کرنے پڑیں۔ مثلاً اگر کسی شخص نے ایک فلم کمپنی قائم کی ہے اور جو سرمایہ اس میں لگا ہوا ہے اس کی شرح سود 6 فیصد سالانہ ہے تو اس کو لامحالہ وہ طریقے اختیار کرنے پڑیں گے جن سے اس کے کاروبار کا منافع ہر حال میں اس شرح سے زیادہ رہے۔ یہ بات اگر ایسے فلم تیار کرنے سے حاصل منہ ہو سکے جو اخلاقی حیثیت سے پاک اور علمی حیثیت سے مفید ہوں تو وہ مجبور ہوگا کہ عریاں اور فحش کھیل تیار کرے اور ایسے ایسے طریقوں سے ان کا اشتہار دے جن سے عوام کے جذبات بھڑکیں اور وہ شہوانیت کے طوفان میں بہہ کر اُس کے کھیل دیکھنے کے لیے جوق در جوق امنڈ آئیں۔
یہ ہے اُن فوائد کی حقیقت جو تمہارے نزدیک سود سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کے حصول کا کوئی ذریعہ سود کے سوا نہیں ہے۔ اب ذرا اس ضرورت کا جائزہ بھی لے لیجیے جو آپ کے نزدیک سود کے بغیر پوری نہیں ہوسکتی‘ بلا شبہ قرض انسانی زندگی کی ضروریات میں سے ہے۔ اس کی ضرورت افراد کو اپنی شخصی حاجات میں بھی پیش آتی ہے‘ صنعت اور تجارت اور زراعت وغیرہ معاشی کاموں میں بھی ہر وقت اس کی مانگ رہتی ہے اور حکومت سمیت تمام اجتماعی ادارے بھی اس کے حاجت مند رہتے ہیں لیکن یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ سود کے بغیر قرض کی بہم رسانی غیر ممکن ہے۔ دراصل یہ صورت حال کہ افراد سے لے کر قوم تک کسی کو بھی ایک پیسہ بلا سود قرض نہیں ملتا‘ اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ آپ نے سود کو قانوناً جائز رکھا ہے۔ اس کو حرام کیجیے اور معیشت کے ساتھ اخلاق کا بھی وہ نظام اختیار کیجیے جو اسلام نے تجویز کیا ہے‘ پھر آپ دیکھیں گے کہ شخصی حاجات کاروبار اور اجتماعی ضروریات‘ ہر چیز کے لیے قرض بلا سود ملنا شروع ہو جائے گا‘ بلکہ عطیے تک ملنے لگیں گے۔ اسلام عملاً اس کا ثبوت دے چکا ہے۔ صدیوں مسلمان سوسائٹی سود کے بغیر بہترین طریقہ پر اپنی معیشت کا سارا کام چلاتی رہی ہے۔ آپ کے اس منحوس دورِ سود خوری سے پہلے کبھی مسلمان سوسائٹی کا یہ حال نہیں رہا ہے کہ کسی مسلمان کاجنازہ اس لیے بے کفن پڑا رہ گیا ہو کہ اس کے وارث کو کہیں سے بلا سود قرض نہیں ملا یا مسلمانوں کی صنعت و تجارت اور زراعت اس لیے بیٹھ گئی ہو کہ کاروباری ضروریات کے مطابق قرضِ حَسَن بہم پہنچنا غیر ممکن ثابت ہوا یا مسلمان حکومتیں رفاہِ عام کے کاموں کے لیے اور جہاد کی لیے اس وجہ سے سرمایہ نہ پا سکی ہوں کہ ان کی قوم سود کے بغیر اپنی حکومت کو روپیہ دینے پر آمادہ نہ تھی۔ لہٰذا آپ کا یہ دعویٰ کہ قرضِ حسن ناقابل عمل ہے اور قرض و استقراض کی عمارت صرف سود ہی پر کھڑی ہو سکتی ہے‘ کسی منطقی تردید کا محتاج نہیں ہے۔ ہم اپنے صدیوں کے عمل سے اسے غلط ثابت کر چکے ہیں۔
یہ بحث کہ آج اس زمانے کی معاشی ضروریات کی لیے قرض بلاسود کی بہم رسانی عملاً کس طرح ہو سکتی ہے‘ ہمارے اس باب کے موضوع سے خارج ہے‘ اس پرہم بعد کے ایک باب میں گفتگو کریں گے۔

ایجابی پہلو

پچھلے باب میں جو بحث ہم نے کی ہے اس سے تو صرف اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ سود نہ تو کوئی معقول چیز ہے‘ نہ وہ انصاف کا تقاضا ہے‘ نہ وہ کوئی معاشی ضرورت ہے اور نہ اس میں فی الحقیقت فائدے کا کوئی پہلو ہے۔ لیکن سود کی حرمت صرف ان منفی اسباب ہی پر مبنی نہیں ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ وہ قطعی طور پر ایک نقصان دہ چیز ہے اور بہت سے پہلوئوں سے بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔
اس باب میں ہم ایک ایک کرکے ان نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیں گے تاکہ کسی معقول آدمی کو اس ناپاک چیز کی حرمت میں ذرّہ برابر بھی شبہ باقی نہ رہ جائے۔

سود کے اخلاقی و روحانی نقصانات

سب سے پہلے اخلاق و روحانیت کے نقطۂ نظر سے دیکھیے‘ کیوں کہ اخلاق اور روح ہی اصل جوہر انسانیت ہے اور اگر کوئی چیز ہمارے اس جوہر کو نقصان پہنچانے والی ہو تو بہرحال وہ قابلِ ترک ہے‘ خواہ کسی دوسرے پہلو سے اس میں کتنے ہی فوائد ہوں۔ اب اگر آپ سود کا نفسیاتی تجزیہ کریں گے تو آپ کو بیک نظر معلوم ہو جائے گا کہ روپیہ جمع کرنے کی خواہش سے لے کر سودی کاروبار کے مختلف مرحلوں تک پورا ذہنی عمل خود غرضی‘ بخل‘ تنگ دلی‘ سنگ دلی اور زر پرستی جیسی صفات کے زیر اثر جاری رہتا ہے اور جتنا جتنا آدمی اس کاروبار میں آگے بڑھتا جاتا ہے‘ یہی صفات اس کے اندر نشوونما پاتی چلی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس زکوٰۃ و صدقات کی ابتدائی نیت لے کر اس کے عملی ظہور تک پورا ذہنی عمل فیاضی‘ ایثار‘ ہمدردی‘ فراخ دلی‘ عالی ظرفی اور خیر اندیشی جیسی صفات کے زیر اثر واقع ہوتا ہے اور اس طریق کار پر مسلسل عمل کرتے رہنے سے یہی صفات انسان کے اندر نشوونما پاتی ہیں۔ کیا کوئی انسان دنیا میں ایسا ہے جس کا دل شہادت نہ دیتا ہو کہ اخلاقی صفات کے ان دونوں مجموعوں میں سے پہلا مجموعہ بدترین اور دوسرا مجموعہ بہترین ہے؟

تمدنی و اجتماعی نقصانات

اب تمدنی حیثیت سے دیکھیے۔ ایک ذرا سے غور و خوض سے یہ بات ہر شخص کی سمجھ میں با آسانی آسکتی ہے کہ جس معاشرے میں افراد ایک دوسرے کے ساتھ خود غرضی کا معاملہ کریں‘ کوئی اپنی ذاتی غرض اور اپنے ذاتی فائدے کے بغیر کسی کے کام نہ آئے‘ ایک کی حاجت مندی دوسرے کے لیے نفع اندوزی کا موقع بن جائے اور مال دار طبقوںکا مفاد نادار طبقوں کے مفاد کی ضد ہو جائے ایسا معاشرہ کبھی مستحکم نہیں ہو سکتا۔ اس کے اجزا ہمیشہ انتشار و پراگندگی ہی کی طرف مائل رہیں گے اور اگر دوسرے اسباب بھی اس صورت حال کے لیے مددگار بن جائیں تو ایسے معاشرے کے اجزا کا باہم متصادم ہو جانا بھی کچھ مشکل نہیں ہے۔ اس کے برعکس جس معاشرے کا اجتماعی نظام آپس کی ہمدردی پر مبنی ہو‘ جس کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کریں‘ جس میں ہر شخص دوسرے کی احتیاج کے موقع پر فراخ دلی کے ساتھ مدد کا ہاتھ بڑھائے اور جس میں مال دار لوگ نادار لوگوں کے ساتھ ہمدردانہ اعانت یا کم از کم منصفانہ تعاون کا طریقہ برتیں‘ ایسے معاشرے میں آپ کی محبت اور خیر خواہی اور دل چسپی نشوونما پائے گی۔ اس کے اجزا ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ اور ایک دوسرے کے پشتیبان ہوں گے۔ اس میں اندرونی نزاع و تصادم کو راہ پانے کا موقع نہ مل سکے گا۔ اس میں باہمی تصادم اور خیر خواہی کی وجہ سے ترقی کی رفتار پہلے معاشرے کی بہ نسبت بہت زیادہ تیز ہوگی۔
ایسا ہی حال بین الاقوامی تعلقات کا بھی ہے۔ ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ فیاضی و ہمدردی کا معاملہ کرے اور اس کی مصیبت کے وقت کھلے دل سے مدد کا ہاتھ بڑھائے‘ ممکن نہیں ہے کہ دوسری طرف سے اس کا جواب محبت اور شکر گزاری اور مخلصانہ خیر خواہی کے سوا کسی اور صورت میں ملے۔ اس کے برعکس وہی قوم اگر اپنی ہمسایہ قوم کے ساتھ خود غرضی و تنگ دلی کا برتائو کرے اور اس کی مشکلات کا ناجائز فائدہ اٹھائے‘ تو ہو سکتا ہے کہ مال کی صورت میں وہ بہت کچھ نفع اس سے حاصل کرے‘ لیکن یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ پھر اپنے اس چالاک قسم کے ہمسایہ کے لیے اس قوم کے دل میں کوئی اخلاص اور محبت اور خیر خواہی باقی رہ جائے‘ ابھی کچھ زیادہ مدت نہیں گزری ہے‘ پچھلی جنگ عظیم کے زمانہ کی بات ہے کہ انگلستان نے امریکا سے ایک بھاری قرض کا معاملہ طے کیا جو Brelton wood Agreement کے نام سے مشہور ہے۔ انگلستان چاہتا تھا کہ اس کا خوش حال دوست‘ جو اس لڑائی میں اس کا رفیق تھا‘ اسے بلا سود قرض دے دے‘ لیکن امریکا سود چھوڑنے پر راضی نہ ہوا اور انگلستان اپنی مشکلات کی وجہ سے مجبور ہو گیا کہ سود دینا قبول کرے‘ اس کا جو اثر انگریزی قوم پر مرتب ہوا وہ ان تحریروں سے معلوم ہو سکتا ہے جو اس زمانے میں انگلستان کے مدبرین اور اخبار نویسوں کی زبان اور قلم سے نکلیں۔ مشہور ماہر معاشیات لارڈ کینز آنجہانی‘ جنہوں نے انگلستان کی طرف سے یہ معاملہ طے کیا تھا‘ جب اپنے مشن کو پورا کرکے پلٹے تو انہوں نے برطانوی دارالامرا میں اس پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام عمر اس رنج کو نہ بھولوں گا جو مجھے اس بات سے ہو کہ امریکا نے ہم کو بلا سود قرض دینا گوارا نہ کیا۔‘‘ مسٹر چرچل جیسے زبردست امریکا پسند شخص نے کہا کہ ’‘یہ بنیے پن کا چنائو جو ہمارے ساتھ ہوا ہے‘ مجھے اس کی گہرائی میں بڑے خطرات نظر آتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس کا ہمارے باہمی تعلقات پر بہت ہی برا اثر پڑاہے۔‘‘ اس وقت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر ڈالٹن نے پارلیمنٹ میں اس معاملے کو منظوری کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بھاری بوجھ جسے لادے ہوئے ہم جنگ سے نکل رہے ہیں‘ ہماری ان قربانیوں اور جفاکشیوں کا بڑا ہی عجیب صلہ ہے جو ہم نے مشترک مقصد کے لیے برداشت کیں۔ اس نرالے ستم ظریفانہ انعام پر آئندہ زمانے کے مؤرخین ہی کچھ بہتر رائے زنی کرسکیں گے۔ ہم نے درخواست کی تھی کہ ہم کو قرض حسن دیا جائے‘ مگر جواب میں ہم سے کہا گیا کہ یہ عملی سیاست نہیںہے۔‘‘
یہ سود کا فطری اثر اور اس کا لازمی نفسیاتی ردعمل ہے جو ہمیشہ ہر حال میں رونما ہوگا ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ یہ معاملہ کرے یا ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ۔ انگلستان کے لوگ یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے اور آج بھی وہ اسے نہیں مانتے کہ انفرادی معاملات میں سودی لین دین کوئی بری چیز ہے۔ آپ کسی انگریز سے بلا سودی قرض کی بات کریں وہ فوراً آپ کو جواب دے گا کہ جناب یہ ’’عملی کاروباری‘‘ (PraeticalBusiness) کا طریقہ نہیں ہے۔ لیکن جب اس کی قومی مصیبت کے موقع پر اس کی ہمسایہ قوم نے اس کے ساتھ یہ ’’عملی کاروبار‘‘ کا طریقہ برتا تو ہر انگریز چیخ اٹھا اور اس نے تمام دنیا کے سامنے اس حقیقت پر گواہی دی کہ سود دلوں کو پھاڑنے والی اور تعلقات کو خراب کرنے والی چیز ہے۔

معاشی نقصانات

اب اس کے معاشی پہلو پر نگاہ ڈالیے۔ سود کا تعلق معاشی زندگی کے ان معاملات سے ہے جن میں کسی نہ کسی طور پر قرض کا لین دین ہوتا ہے۔ قرض مختلف اقسام کے ہوتے ہیں:
ایک قسم کے قرضے وہ ہیں جو حاجت مند لوگ اپنی ذاتی ضروریات کے لیے لیتے ہیں۔
دوسر قسم کے قرضے وہ ہیں جو تاجر اور صناع اور زمیندار اپنے نفع آور کاموں میں استعمال کرنے کے لیے لیتے ہیں۔
تیسری قسم اُن قرضوں کی ہے جو حکومتیں اپنے اہل ملک سے لیتی ہیں اور ان کی نوعیتیں بھی مختلف ہوتی ہیں‘ ان میں سے بعض قرضے غیر نفع آور اغراض کے لیے ہوتے ہیں مثلاً وہ جو نہریں اور ریلیں اور برقِ آبی کی اسکیمیں جاری کرنے کے لیے حاصل کیے جاتے ہیں۔
چوتھی قسم ان قرضوں کی ہے جو حکومتیں اپنی ضروریات کی خاطر غیر ممالک کے بازارِ زر سے لیتی ہیں۔
ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ لے کر ہم دیکھیں گے کہ اس پر سود عائد ہونے کے نقصانات کیا ہیں۔
(جاری ہے)

حصہ