اس گیت کے تمام محاسن ہیں لازوال

154

اپنے ماں باپ کا لاڈلا بچہ تھا وہ۔ ایک روز گلی میں فقیر نے صدا لگائی۔ بچے نے انکار کیا۔ شاید بابا سن نہ سکا تھا، اُس نے پھر آواز لگائی۔
اس بچے نے جھلاّ کے بابا کو جھڑک دیا۔ اس کے والد اس حرکت پہ تڑپ اٹھے، ان کے آنسو رواں ہوگئے۔
’’ارے یہ تم نے کیا کیا؟ بیٹا! میں حشر کے روز اللہ اور اس کے محبوبؐ کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ سرکار ہماری شفاعت کیسے کریں گے؟‘‘
وہ بچے کو شرمندہ کررہے تھے۔ پھر انہوں نے بابا سے معافی مانگ کے اس کو کچھ دے دیا، مگر بچے کو جو کچھ دیا اس کا کوئی مول نہیں۔ یہ عشقِ رسولؐ اور دردمندی کی دولت تھی، تربیت کا بہت پیارا انداز تھا۔ انسان دوستی کا مظاہرہ تھا۔
یہ سب انمول اس لیے تھا کہ بچے نے فرماں برداری کی ایک مثال قائم کرتے ہوئے اس بات کو ذہن نشین ہی نہیں، دل نشین بھی کرلیا، اور ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس کا فیضان جاری ہے۔ جی ہاں وہ بچہ حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال تھے۔
آگے چل کے انہوں نے خود ہی اس دردمندی کو متاعِ بے بہا قرار دیا۔ یعنی انمول دولت، جو بندگی کے ساتھ مشروط ہے۔
آج کی دنیا انفرادی سے اجتماعی تک، قومی سے بین الاقوامی سطح تک جس دہشت گردی اور کرپشن کا شکار ہے، اس کی تہ میں بے دردی ہے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، اس کے مظاہر ہر رنگ میں آپ کو دیکھنے کو ملیں گے۔ ہوش سنبھالتے ہی ان کی نسلیں یہ پڑھتے ہوئے گزرتی رہیں:


ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
باپ نے چھوٹے سے بچے کو دردمندی کی دولت عطا کی تھی تنبیہ کے ذریعے۔ اس بچے نے بڑے ہوکے دردمندی سے وہ کچھ تخلیق کیا کہ آج تک اس کا فیض جاری ہے۔
ایک ملک جو کلمے کے نام پر قائم ہوا، اس کی بڑی مثال ہے۔ پھر اس میں برپا ہونے والی اسلامی تحریکیں اسی کا تسلسل ہیں۔
امت کی زبوں حالی پہ دل کس درد کے ساتھ رویا ہوگا کہ ’’شکوہ‘‘ جیسی نظم تخلیق ہوئی، جس میں بڑی اپنائیت، محبت اور بڑی جرأت کے ساتھ بندے کا رب سے شکوہ ہے۔ یہ نظم آج تک تازہ ہے۔ اس پر جو کچھ ردعمل ہوا ، اس کے جواب میں ’’جوابِ شکوہ‘‘ لکھی، جس میں امید، درست لائحہ عمل اور رہنمائی کا سچ اپنی پوری جمالیات کے ساتھ رقم ہے۔ پھر ’’خضرِِراہ‘‘ کو لے لیں یا اردو شاعری کے تاج محل ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کو پڑھ جائیں۔ دردمندی، عزم و امیدکا ایک بحرِبے کراں موجزن ہے۔
عالمگیر سچائی اور فطری جمال کے امتزاج کے ساتھ مستقبل کی ایک پیش گوئی جو حرف بہ حرف پوری ہوئی، اور آج تک پوری ہوتی نظر آرہی ہے۔ انسانی عظمت کی اتنی بلند سطح اردو شاعری میں اتنے یقین کے ساتھ کہاں ہے! مگر تعلیمی اداروں سے غلام میڈیا تک سب ناقدری کا اظہار کرتے رہے اور نہ جانے کب تک کریں گے۔ ورنہ کٹھ پتلی رقص کے بند ہونے اور اس کے تماش بینوں کے ناپید ہونے کے بحران کا خدشہ ہے، اور کون یہ چاہے گا کہ ذہنی غلامی ختم ہوجائے اور جمہوریت کے دیس میں جمہور بیدار ہوجائیں اور ان کو پھر کوئی بے وقوف نہ بنا سکے!
مگر اہلِ ذوق یقینا اب بھی زندہ ہیں اور متحرک بھی۔ امید اور دردمندی پوری جمالیات کے ساتھ آج بھی تابندہ ہیں۔ کمزور اور قلیل لوگوں کی طاقت فتح یاب ہوکے رہے گی، ان شااللہ۔
سفینۂ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا
٭
دیارِ مغرب کے رہنے والو ! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہو گا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا
٭

حصہ