پاکستانی سیاست کا نیرو

130

پاکستان کے نظریاتی وجود سے نفرت کرنے والے دانش ور، ادیب، صحافی، اور کمیونزم کے زوال کے بعد آنے والی امریکی برسات میں پھوٹ پڑنے والی سول سوسائٹی کے ارکان کا ایک عمومی رویہ یہ ہے کہ جیسے ہی پاکستان کے کسی صوبے یا علاقے میں ہنگامے پھوٹ پڑیں، ماحول کشیدہ ہوجائے اور ریاستی مداخلت کرنا پڑجائے تو ان کی زبان پر ایک فقرہ سج جاتا ہے ’’ہم نے 1971ء سے سبق نہیں سیکھا‘‘۔ اور ساتھ ہی سیاسی گفتگو میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملے سے بات شروع ہوگی، کہا جائے گا کہ ’’یہ ملک دراصل بنا ہی غلط تھا، بھلا مذہب کے نام پر بھی قومیں تخلیق ہوتی ہیں!‘‘ پھر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کی داستانیں بیان ہوں گی، اور آخرکار ساری برائی فوج اور مارشل لا پر ڈال کر ان کی تان اِس فقرے پر ٹوٹے گی کہ ’’یہ ملک قائم نہیں رہ سکتا‘‘۔ اس طرح کی گفتگو میں ہر وہ سیاست دان بھی شامل ہو جاتا ہے، جو زندگی بھر الیکشن نہ جیتا ہو، یا پھر وقتی طور پر ہار اس کا مقدر بن گئی ہو۔
اس خطرناک راستے پر نوازشریف بھی مدت سے روانہ تھے۔ وہ شروع دن سے ایک مطلق العنان ’’جمہوری ڈکٹیٹر‘‘ کا خواب دیکھتے چلے آئے تھے۔ ایک ایسا وزیراعظم جس کے سامنے کسی شخص، ادارے یا گروہ کی اہمیت بس اتنی سی ہو کہ آج ’’ظلِ الٰہی‘‘ خوش ہوا تو انعام سے نواز دیا اور کل ’’ظلِ الٰہی‘‘ ناراض ہوا تو گردن زدنی کا حکم صادر کردیا۔
اس ’’شہنشاہِ معظم‘‘ نے دو صدرِ مملکت، ایک چیف جسٹس اور ایک آرمی چیف کو آسانی سے پچھاڑ لیا تھا۔ یہ کامیابیاں ان کے اندر چھپے ہوئے ’’آمرانہ‘‘ نفس کو پالنے پوسنے اور موٹا کرنے کے لیے کافی تھیں:۔

خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ، مگر بنا نہ گیا

’’خدا‘‘ بننے کی اسی تگ و دو میں 12 اکتوبر 1999ء آگیا۔ جیل کی صعوبتیں ایسے نازک مزاج کہاں برداشت کرتے ہیں! سختی جھیلنا اور سختی میں ثابت قدم رہنا بڑے رہنمائوں کا خاصا ہوتا ہے۔ فرانس کا نپولین یاد آتا ہے۔ واٹرلو میں آخری ذلت آمیز شکست کے بعد جب وہ ’’سینٹ ہیلنا‘‘ کے جزیرے میں قید تھا، تو جیل خانے کے انچارج نے اس کی تکلیف دہ حالت دیکھ کرکہا ’’اگر تم مجھے ایک درخواست لکھ دو تو میں حکام بالا سے تمہارے لیے رعایت لے دوں گا۔‘‘
نپولین نے تاریخ ساز فقرہ کہا ’’حکمران درخواست نہیں دیتے، وہ حکم دیا کرتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں‘‘۔ 10 دسمبر 2000ء کو رات گیارہ بجے کے قریب پرویزمشرف کی خسروانہ اجازت سے نوازشریف سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ جلا وطنی میں مصلحت کی زبان بولتے رہے، لیکن کبھی کبھی زبان لڑکھڑا بھی جاتی، مگر یہ بہت نپی تلی ہوتی تھی۔ ایسے بولتے جیسے کوئی اپنوں سے ’’گلہ جفائے وفا نما‘‘ کررہا ہو۔
واپس لوٹے، بھائی کو پنجاب میں وزیراعلیٰ بنادیا گیا، خود سیاست کے مزے لیتے رہے اور اگلی دفعہ وزارتِ عظمیٰ کے تخت پر جلوہ افروز ہوگئے۔ قدرت بھی عجیب ہے، ہر ایسے شخص کو جس کے دماغ میں زمین پر بڑا بننے کا خبط ہو، آخری انجام سے پہلے وارننگ کے طور پر امتحان میں ضرور ڈالتی ہے۔ اب دوسری بار نکالے گئے۔ اپنے ہی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپنے ہی بھائی کی وزارتِ اعلیٰ کی سرپرستی میں، اسلام آباد سے لاہور تک کا پُرامن جلوس نکالا۔ لوگوں کو سامنے پاکر ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کا نعرہ بلند کرنے والے نوازشریف، ایک بار پھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے۔ لیکن اِس دفعہ بھی انہیں نپولین کی طرح باوقار جیل کاٹ کر تاریخ میں نام زندہ رکھنا نصیب نہ ہوسکا۔ ایسے بیمار ہوئے کہ پھر اجازت کی درخواست دی، اور منظوری کے بعد دوبارہ خودساختہ جلا وطن ہوگئے۔
اب نوازشریف کی عمر کا وہ وقت آن پہنچا ہے کہ جب کسی بھی دن اگر تقدیر کا بلاوا آجائے تو سب نفرت، غصہ اور انتقام ساتھ ہی دفن ہو جاتے ہیں۔ کل کون وزیراعظم بنتا ہے، دنیا چھوڑنے والے کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ لیکن نفرت اور انتقام کی آگ میں جلنے والا شخص یا تو جاتے جاتے اپنے اقتدارکی واپسی دیکھنا چاہتا ہے، یا پھر اپنے دشمن کی ذلت آمیز شکست۔ نفسیات دان اقتدار کی جنگ میں شریک لوگوں کی نفسیات میں مرنے کے بعد زندہ رہنے کی خواہش کی نفی کرتے ہیں۔ مرنے کے بعد زندہ جاوید رہنے کی خواہش صرف ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، فلسفیوں اور انسانیت کی فلاح کے لیے کام کرنے والوں کے دلوں میں زندہ ہوتی ہے۔ اقتدار کی جنگ کا شیدائی ’’نیرو‘‘ کی طرح ہوتا ہے کہ جب علم ہوجائے کہ اقتدار اب اس کے نصیب میں نہیں تو روم کو آگ لگاتا ہے اور جلتے ہوئے شہر کو دیکھ کر بانسری بجا رہا ہوتا ہے۔ یہی کیفیت آج نوازشریف کی سیاست میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے جان بوجھ کر ایک ایسے پہاڑ سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے جنگ پورے ملک کو خاکستر میں بدل سکتی ہے۔
غصہ و نفرت میں ڈوبے انسان سے گمراہ کن عقل بھی غلط فیصلے کرواتی ہے، اور یار لوگ بھی اُس کی اِس کیفیت سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان فائدہ اٹھانے والوں میں کچھ پاکستان کے وہ دانش ور اور سیاست دان شامل ہیں جن کے دماغوں میں ’’1971ء‘‘ گھسا ہوا ہے۔ وہ اس ملک میں ایک بار پھر وہی ’’تجربہ‘‘ دہرانا چاہتے ہیں اور واقعات کی ترتیب بھی ویسی ہی رکھی گئی ہے۔
شیخ مجیب اور عوامی لیگ نے بھی پہلے جرنیلوں کے خلاف بیان بازی شروع کی، اور حالات بگڑنے لگے تو پوری فوج کو نشانے پر لیا۔ دوسری بار یہ تجربہ ’’تحریک طالبان پاکستان‘‘ کے ذریعے دہرایا گیا۔ پہلے جرنیلوں کو مجرم ٹھیرایا گیا اور پھر پوری فوج کے خلاف فتویٰ بازی کی گئی۔ لیکن کوئی دانش ور نوازشریف کو یہ کیوں نہیں بتاتا کہ جب بنگلا دیش والا تجربہ وزیرستان میں دہرانے کی کوشش کی گئی تھی تو بے شک نعرہ ’’شریعت‘‘ کا تھا، ملک بھر سے خودکش بمبار بھی ’’جنت‘‘ کے حصول کے لیے میسر تھے، بھارت اور دیگر ممالک سے ’’سرمایہ‘‘ بھی ملتا تھا، افغانستان میں ’’پناہ گاہیں‘‘ بھی تھیں، لیکن ان سب کے باوجود یہاں ’’بنگلادیش ماڈل‘‘ کامیاب نہ ہوسکا۔ یہی ماڈل 2005ء میں نواب اکبر بگٹی کے سانحے کے بعد بلوچستان میں اپنایا گیا تھا، اور بلوچستان میں تو مزاحمت کی تاریخ بھی پچاس سال پرانی تھی، مگر وہاں بھی یہ ناکام ہوا۔
نوازشریف جس تصادم کی طرف پاکستان کے اس خطے کو لے جارہے ہیں، اس کے بارے میں جان لیں کہ جنرل ٹکا خان کو ’’مشرقی پاکستان کا قسائی‘‘ کہا جاتا تھا لیکن اسے بھٹو نے آرمی چیف لگایا، بلوچستان میں قتل و غارت کے لیے بھیجا، اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے اسے اپنا سیکرٹری جنرل بنایا اور گورنر پنجاب لگایا، لیکن کسی نے کوئی احتجاج نہ کیا۔ وہ جنرل اے کے نیازی، کہ جس کی ہتھیار ڈالنے کی تصویر دکھائی جاتی ہے، جب قید سے رہائی کے بعد لاہور واپس آیا تو اس کے قبیلے کے لوگ اسے لاہور ائرپورٹ سے ہار پہناکر جلوس کی صورت میانوالی لے کر گئے، اور جب 1977ء میں بھٹو کے خلاف مہم چلی تو وہ پی این اے کے جلسوں کا مقبول ترین مقرر تھا۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے دیہات ایسے ہیں جہاں آج بھی برطانیہ کے لیے لڑ کر ’’وکٹوریہ کراس‘‘ لینے والوں کا احترام کیا جاتا ہے، جہاں اپنے ملک میں ہی آپریشن کے دوران، وزیرستان اور بلوچستان میں جانیں دینے والے افسران اور سپاہیوں کا جنازہ لوگ جوق در جوق پڑھنے آتے ہوں، ایسے ملک میں نوازشریف کو حقیقت کا بالکل ادراک نہیں، یا پھر وہ جان بوجھ کر گھر پھونک کر تماشا دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ مشرقی پاکستان نہیں ہے جہاں پر تمام سپاہی اجنبی اور ایک ہزار میل دور سے آئے تھے۔ یہاں جو کوئی ہے وہ اور اس کا خاندان اسی سرزمین پر رہتا ہے۔ اس کو یہ زمین چھوڑ کر بحیرہ عرب میں چھلانگ نہیں لگانی۔ دوسری تلخ سچائی یہ ہے کہ نون لیگ میں کوئی سرفروش انقلابی ہے اور نہ ہی جنت کی آرزو والا مجاہد۔ تاریخ میں روم کو آگ لگا کر بانسری بجانے والے ’’نیرو‘‘ کو جب پکڑا گیا تو اس سے یہ فرمائش کی گئی تھی کہ اپنی قبر خود کھودے۔ پھر اسے کہا گیا اب اپنے ہی خنجر سے خود کو قتل کرو۔ اوراس کے بعد اس پر منوں مٹی ڈال دی گئی۔

حصہ