سود

180

۔(قسط نمبر4)۔
سرمایہ داری میں امداد باہمی کے معنی یہ ہیں کہ آپ انجمن امداد باہمی کو پہلے روپیہ دے کر اس کے رکن بنیے‘ پھر اگر کوئی ضرورت آپ کو پیش آئے گی تو انجمن آپ کو عام بازاری شرح سود سے کچھ کم پر قرض دے دے گی۔ اگر آپ کے پاس روپیہ نہیں ہے تو ’’امدادی باہمی‘‘ سے آپ کچھ بھی امداد حاصل نہیں کرسکتے۔ برعکس اس کے اسلام کے ذہن میں امداد باہمی کا تصور یہ ہے کہ جو لوگ ذی استطاعت ہوں وہ ضرورت کے وقت اپنے کم استطاعت بھائیوں کو نہ صرف قرض دیں بلکہ قرض ادا کرنے میں بھی حسبتاً اللہ ان کی امداد کریں۔ چنانچہ زکوٰۃ کے مصارف میں سے ایک مصرف الغارمین بھی ہے‘یعنی قرض داروں کے قرض ادا کرنا۔
سرمایہ دار اگر نیک کاموں میں خرچ کرتا ہے تو محض نمائش کے لیے‘ کیوں کہ اس کم نظر کے نزدیک اس خرچ کا کم سے کم یہ معاوضہ تو اس کو حاصل ہونا ہی چاہیے کہ اس کا نام ہو جائے‘ اسی کو مقبولیتِ عام حاصل ہو‘ اس کی دھاک اور ساکھ بیٹھ جائے مگر اسلام کہتا ہے کہ خرچ کرنے میں نمائش ہرگز نہ ہونی چاہیے۔ خفیہ یہ علانیہ جو کچھ بھی خرچ کرو اس میں یہ مقصد پیش نظر ہی نہ رکھو کہ فوراً اس کا بدل تم کو کسی نہ کسی شکل میں مل جائے۔ بلکہ مالِ کار پر نگاہ رکھو۔ اس دنیا سے لے کر آخرت تک جتنی دور تمہاری نظر جائے گی تم کو یہ خرچ پھلتا پھولتا اور منافع پر منافع پیدا کرتا ہی دکھائی دے گا۔ ’‘جو شخص اپنے مال کو نمائش کے لیے خرچ کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان پر مٹی پڑی تھی‘ اس نے اس مٹی پر بیج بویا‘ مگر پانی کا ایک ریلا آیا اور مٹی کو بہا لے گیا اور جو شخص اپنی نیت کو درست رکھ کر اللہ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک عمدہ زمین میں باغ لگایا‘ اگر بارش ہوگئی تو دگنا پھل لایا اور اگربارش نہ ہوئی محض ہلکی سی پھوار اس کے لیے کافی ہے۔ (سورۃ بقرہ‘ رکوع 36)۔
’’اگر صدقات علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے‘ لیکن اگر چھپا کر دو اور غریب لوگوں تک پہنچائو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔‘‘ (البقرہ: 271)۔
سرمایہ دار اگر نیک کام میں کچھ صرف بھی کرتا ہے تو بادل ناخواستہ بدتر سے بدتر مال دیتا ہے اور پھر جس کودیتا ہے اس کی آدھی جان اپنی زبان کے نشتروں سے نکال لیتا ہے۔ اسلام اس کے برعکس یہ سکھاتا ہے کہ اچھا مال خرچ کرو اور خرچ کرکے احسان نہ جتائو بلکہ اس کی خواہش بھی نہ رکھو کہ کوئی تمہارے سامنے احسان مندی کا اظہار کرے۔
’’تم نے جو کچھ کمایا ہے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے اس میں سے عمدہ اموال کو راہِ خدا میں صرف کرو نہ یہ کہ بدتر مال چھانٹ کر اس میں سے دینے لگو۔‘‘ (البقرہ: 267)۔
’’اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر ملیامیٹ نہ کرو۔‘‘ (البقرہ 264)
’’اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کے لیے تم کو کھلاتے ہیں‘ ہم تم سے کسی جزا اور شکریہ کے خواہش مند نہیں۔‘‘ (الدھر:9)۔
چھوڑیے اس سوال کو کہ اخلاقی نقطۂ نظر سے ان دونوں ذہنیتوں میں کتنا عظیم تفاوت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ خالص معاشی نقطۂ نظر ہی سے دیکھ لیجیے کہ فائدے اور نقصان کے ان دونوں نظریوں میں سے کون سا نظریہ زیادہ محکم اور دور رس نتائج کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے۔ پھر جب کہ منفعت و مضرت کے باب میں اسلام کا نظریہ وہ ہے جو آپ دیکھ چکے ہیں تو کیونکر ممکن ہے کہ اسلام کسی شکل میں بھی سودی کاروبار کو جائز رکھے۔

-4 زکوٰۃ

جیسا کہ اوپر بیان ہوا معاشیات میں اسلام جس مطمح نظر کو سامنے رکھتا ہے وہ یہ کہ دولت کسی جگہ جمع نہ ہونے پائے۔ وہ چاہتا ہے کہ جماعت کے جن افراد کو اپنی بہتر قابلیت یا خوش قسمتی کی بنا پر ان کی ضرورت سے زیادہ دولت میسر آگئی ہو‘ وہاس کو سمیت کر نہ رکھیں بلکہ خرچ کریں اور ایسے مصارف میں خرچ کریں جن سے دولت کی گردش میں سوسائٹی کے کم نصیب افراد کو بھی کافی حصہ مل جائے۔ اس غرض کے لیے اسلام ایک طرف اپنی بلند اخلاقی تعلیم اور ترغیب و ترہیب کے نہایت مؤثر طریقوںسے فیاضی اور حقیقی امداد باہمی کی اسپرٹ پیدا کرتا ہے تاکہ لوگ خود اپنے میلان طبع ہی سے دولت جمع کرنے کو برا سمجھیں اور اسے خرچ کر دینے کی طرف راغب ہوں۔ دوسری طرف وہ ایسا قانون بناتا ہے کہ جو لوگ فیاضی کی اس تعلیم کے باوجود اپنی افتاد طبع کی وجہ سے روپیہ جوڑنے اور مال سمیٹنے کے خوگر ہو یا جن کے پاس کسی نہ کسی طور پر مال جمع ہو جائے‘ ان کے مال میں سے بھی کم از کم ایک حصہ سوسائٹی کی فلاح و بہبود کے لیے ضرور نکلوا لیا جائے اسی چیز کا نام زکوٰۃ ہے اور اسلام کے معاشی نظام میں اس کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ اس کو ارکانِ اسلام میں شامل کر دیا گیا ہے۔ نماز کے بعد سب سے زیادہ اسی کی تاکید کی گئی اور صاف صاف کہہ دیا گیا ہے کہ جو شخص دولت جمع کرتا ہے اس کی دولت اس کے لیے حلال ہی نہیں ہو سکتی تاوقتیکہ وہ زکوٰۃ نہ ادا کرے۔
’’اے نبیؐ ان کے اموال مین سے ایک صدقہ وصول کرو جو ان کو پاک کر دے اور ان کا تزکیہ کرے۔‘‘ (التوبہ: 103)۔
آیت کے آخری الفاظ سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ مال دار آدمی کے پاس جو دولت جمع ہوتی ہے وہ اسلام کی نگاہ میں ایک نجاست ہے‘ ایک ناپاکی ہے اور وہ پاک نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کا مالک اس میں سے ہر سال کم ازکم ایک مقرر مقدار راہِ خدا میں نہ خرچ کر دے۔ ’’راہِ خدا‘‘ کیا ہے؟ خدا کی ذات تو بے نیاز ہے‘ اس کو نہ تمہارا مال پہنچتا ہے نہ وہ اس کا حاجت مندہے‘ اس کی راہ بس یہی ہے کہ تم خود اپنی قوم کے تنگ حال لوگوں کو خوش حال بنانے کی کوشش کرو‘ اور اسے مفید کاموں کو ترقی دو جن کا فائدہ ساری قوم کو حاصل ہوتا ہے۔
’’صدقات تو دراصل فقراء اور مساکین کے لیے ہیں اور اُن کارکنوں کے لیے جو صدقات کی تحصیل پر مقرر ہوں اور ان لوگوں کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو۔ اور لوگوں کی گردنیں بند اسیری سے چھڑانے کے لیے اور قرض داروں کے قرض ادا کرنے کے لیے اور فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے لیے اور مسافروں کے لیے۔‘‘ (التوبۃ:60)۔
یہ مسلمانوں کی کو آپریٹو سوسائٹی ہے۔ یہ ان کی انشورنس کمپنی ہے۔ یہ ان کا پراویڈنٹ فنڈ ہے۔ یہ ان کے بے کاروں کا سرمایۂ اعانت ہے۔ یہ ان کے معذوروں‘ اپاہجوں‘ بیماروں‘ یتیموں‘ بیوائوں اور بے روزگاروں کا ذریعۂ معاش ہے اور ان سب سے بڑھ کر یہ وہ چیز ہے جو مسلمانوں کو فکرِ فردا سے بالکل بے نیاز کر دیتی ہے اس کا سیدھا سادا اصول یہ ہے کہ آج تم مال دار ہو تو دوسروں کی مدد کرو۔ کل تم نادار ہو گئے تو دوسرے تمہاری مدد کریں گے۔ تمہیں یہ فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ مفلس ہو گئے تو کیا بنے گا؟ مر گئے تو بیوی بچوں کا کیا حشر ہوگا؟ کوئی آفتِ ناگہانی آ پری‘ بیمار ہوگئی‘ گھر میں آگ لگ گئی‘ سیلاب آگیا‘ دیوالیہ نکل گیا تو ان مصیبتوں سے مخلصی کی کیا سبیل ہوگی؟ سفر میں پیسہ پاس نہ رہا تو کیونکر گزر بسر ہوگی؟ ان سب فکروں سے زکوٰۃ تم کو ہمیشہ کے لیے بے فکر کر دیتی ہے‘ تمہارا کام بس اتنا ہے کہ اپنی پس انداز کی ہوئی دولت میں سے ایک حصہ دے کر اللہ کی انشورنس کمپنی میں اپنا بیمہ کرا لو۔ اس وقت تم کو اس دولت کی ضرورت نہیں ہے‘ یہ ان کے کام آئے گی جو اس کے ضرورت مند ہیں۔ کل جب تم ضرورت مند ہو گے یا تمہاری اولاد ضرورت مند ہوگی‘ تو نہ صرف تمہارا اپنا دیا ہوا مال بلکہ اس سے بھی زیادہ تم کو واپس مل جائے گا۔
یہاں پھر سرمایہ داری اور اسلام کے اصول و مناہج میں کلّی تضاد نظر آتا ہے۔ سرمایہ داری کا اقتضا یہ ہے کہ روپیہ جمع کیا جائے اور اس کے بڑھانے کے لیے سود لیا جائے تاکہ ان نالیوں کے ذریعے سے آس پاس کے لوگوں کا روپیہ بھی سمٹ کر اس جھیل میں جمع ہو جائے۔ اسلام اس کے بالکل خلاف یہ حکم دیتا ہے کہ روپیہ اوّل تو روک کر نہ رکھا جائے‘ اور اگر رک گیا ہو تو اس تالاب میں سے زکوٰۃ کی نہریں نکال دی جائیں تاکہ جو کھیت سوکھے ہیں ان کو پانی پہنچے اور گردوپیش کی ساری زمین شاداب ہو جائے۔ سرمایہ داری کے نظام میں دولت کا مبادلہ مقید ہے اور اسلام میں آزاد سرمایہ داری کے تالاب سے پانی لینے کے لیے ناگزیر ہے کہ خاص آپ کا پانی پہلے سے وہاں موجود ہو‘ ورنہ آپ ایک قطرۂ آب بھی وہاں سے نہیں لے سکتے۔ اس کے مقابلے میں اسلام کے خزانۂ آب کا قاعدہ یہ ہے کہ جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو وہ اس میں لا کر ڈال دے اور جس کو پانی کی ضرورت ہو وہ اس میں سے لے لے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں طریقے اپنی اصل اور طبیعت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی پوری پوری ضد ہیں اور ایک نظمِ معیشت میں ان دونوں کو جمع کرنا درحقیقت اضداد کو جمع کرنا ہے جس کا تصور بھی کوئی عاقل نہیں کر سکتا۔

-5 قانون وراثت

اپنی ضروریات پر خرچ کرنے اور راہِ خدا میںدینے اور زکوٰۃ ادا کرنے کے بعدبھی جو دولت کسی ایک جگہ سمٹ کر رہ گئی ہو‘ اس کو پھیلانے کے لیے پھر ایک تدبیر اسلام نے اختیار کی ہے اور وہ اس کا قانونِ وراثت ہے۔ اس قانون کا منشا یہ ہے کہ جو شخص مال چھوڑ کر مر جائے‘ خواہ وہ زیادہ ہو یا کم‘ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے نزدیک و دور کے تمام رشتے داروں میں درجہ بہ درجہ پھیلا دیا جائے اور اگر کسی کا کوئی وارث نہ ہو یا نہ ملے تو بجائے اس کے کہ اسے متبنی بنانے کا حق دیا جائے‘ اس کے مال کو مسلمانوں کے بیت المال میں داخل کر دینا چاہیے تاکہ اس سے پوری قوم فائدہ اٹھائے‘ تقسیم وراثت کا یہ قانون جیسا اسلام میں پایا جاتا ہے‘ کسی اور معاشی نظام میں نہیں پایا جاتا۔ دوسرے معاشی نظاموںکا میلان اسطرف ہے کہ جو دولت ایک شخص نے سمیٹ کر جمع کی ہے وہ اس کے بعد بھیایک یا چند خاص اشخاص کے پاس مستی رہے۔ مگر اسلام دولت کے سمٹنے کو پسند ہی نہیں کرتا۔ وہ اس کو پھیلانا چاہتا ہے تاکہ دولت کی گردش میں آسانی ہو۔

حصہ