تحفظ ناموسِ رسالت

371

گستاخانہ خاکے کی اشاعت اور فرانس کی عمارتوں پر آویزاں کرنے پر عالم اسلام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ہر فورم اور ہر جگہ یہی موضوع زیر بحث ہے۔23اکتوبر جمعہ کے روز فرانس کی کئی عمارتوں پر گستاخانہ خاکوں کی نمائش سے قبل فرانس کے میگزین چارلی ہیبڈو میں گستاخانہ خاکے شائع کیے گئے اس سے قبل 2015 میں بھی گستاخانہ خاکے اسی میگزین میں شائع کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں ملعون کارٹونسٹ سمیت 12 افراد جہنم واصل ہوئے تھے۔اس بار بھی فرانس میں جوابی ردعمل کا اظہار دیکھنے میں آیا۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے فورا بعد جوابی ردعمل میں دفتر پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں پولیس نے کئی افراد کو حراست میں لیا۔پیرس کے ایک اسکول میں ایک استاد نے آزادی اظہار رائے کے لیکچر کے دوران بچوں کو گستاخانہ خاکے دکھائے جو 2015 میں شائع ہوئے تھے۔جس پر کلاس میں موجود مسلم اور غیر مسلم بچوں نے احتجاج کیا۔ بچوں کے ماں باپ نے بھی اسکول آفس میں شکایت درج کروائی اور بالآخر ایک مسلم طالب علم عبداللہ نے طیش میں آکر استاد کا قتل کر دیا۔جس پر پیرس پولیس نے اس طالبعلم کو گولیاں مار کر شہید کردیا۔جب یہ واقعات منظر عام پر آئے تو فرانسیسی حکومت کی جانب سے مسلمانوں پر سختیاں بڑھا دی گئیں۔ حکومتی سرپرستی میں پولیس کے ذریعے مساجد کو بند کیا جانے لگا فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروںنے ملک میں خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی کو نجی شعبے میں بھی لاگو کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہا کہ اسلام ایک مذہب کے طور پر دنیا میں بحران کا شکار ہے۔ وہ فرانس کی سیکولر ریاست کو سخت گیر اسلام سے محفوظ بنائیں گے۔اسی کے جواب میں ترکی کے صدر طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کو آئینہ دکھایا کہ وہ مسلم دشمنی کے باعث دوبارہ اقتدار میں نہ آسکیں گے اور فرانسیسی صدر کو دماغی مریض قرار دیا اور یہ کہ اسلام دشمنی میں فرانس ہی نہیں یورپ بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔فرانسیسی صدر کو ان کے ہم منصب ترکی کے صدر کی جانب سے دماغی مریض کہے جانے کے ردعمل پر فرانس نے اپنا سفیر ترکی سے واپس بلا لیا۔ اگر ایک ملک کے صدر کو دوسرے ملک کے صدر کو دماغی مریض کہنا غلط تھا تو کیا فرانس حق بجانب ہے کہ وہ پونے دو ارب مسلمانوں کے رہنما اور تا قیامت انسانیت کے محسن کی شان میں گستاخی کرے اور مسلمانوں کی دل آزاری کرے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ ہر دور میں امت نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی عشق سے بڑھکر نبھایا ہے۔ کویت، قطر اور اردن میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔ ترکی کے صدر نے تمام مسلم ممالک سے اپیل کی ہے کہ تمام مسلمان فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔سپر مارٹ کےایک سیکشن پر لگی یہ عبارت دل کو چھو گی کہ ” اپنے نبی کی مدد کے لیے فرانسیسی پروڈکٹ کا بائیکاٹ”قرآن پاک کی آیات بھی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور نصرت کا تقاضا کرتی ہیں ہم کس طرح اور کن محاذوں پر نبی کی مدد کرکے دشمنان دین اور گستاخ رسول کو شکست دے سکتے ہیں۔ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا، معاشی طور پر مستحکم ہونا اور مسلمان ممالک کا آپس میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مسلم ممالک ایک بلاک کی صورت اختیار کریں اسی صورت ہم مسلمان اپنی شناخت کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں اور اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کی بھی۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر

حصہ