روحانیت کی قرآنی تعبیرات

349

یہ خطاب جناب سید امین الحسن ناظم شعبہ تربیت جماعت اسلامی ہند نے نماز جمعہ میں کیا تھا جو ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ میں نے اس کے موضوع کے نئے انداز اور اہم لوازمے کی وجہ سے کارکنان کی تربیت کے نکتۂ نظر سے تحریری شکل دی ہے معمولی سے حذف و اضافے کے ساتھ۔ امید ہے اللہ رب العالمین میری اس کوشش کو قبول کرے گا اور کارکنان کے لیے یہ تحریر فائدہ مند ہوگی۔

اللہ کی حمد و ثنا اور نبیؐ پاک پر درود کے بعد گزارش ہے کہ:۔
جیسے ہی ہم لفظ روحانیت سنتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں یہ سوال آتا ہے کہ کیا ہمیں دوبارہ وہیں لوٹایا نہیں جارہا ہے جہاں سے ہم نکل کر آئے ہیں، یا جن سے ہم بچنا چاہ رہے ہیں! یہ خیال بھی آتا ہے کہ روحانیت ایک ایسی بھول بھلیاں ہے جس میں داخل ہونا آسان ہے، لیکن نکلنا مشکل۔ اور یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ موضوع دعوتِ دین سے متعلق ہے یا نہیں؟
اس امرِ واقع سے کوئی فرد انکار نہیں کرسکتا کہ روح نام کی ایک شے ہمارے اندر ہے، اور اس کو بہتر سے بہتر بنانا ہماری تزکیے کا فوکس (مطمح نظر)ہے، اور اسے عام زبان میں روحانیت کہتے ہیں۔
یہ بات ایک عام آدمی بھی سمجھتا ہے کہ ایک غیر مسلم کے اندر بھی روحانیت (Spiratuloty)ہوتی ہے اوراس کا مطلب وہ سمجھتا ہے۔ اگرچہ اسلام ایک کُل اور ناقابلِ تقسیم وحدت ہے، مگر ہم سمجھنے اور سمجھانے کی خاطر اس کو مختلف شعبہ جات میں بیان کرتے ہیں، جیسے کہ اسلام کا معاشرتی نظام، اسلام کا سیاسی نظام وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح اسلام کا روحانی نظام بھی ہے۔ گو کہ قرآن میں یہ لفظ ’’روحانیت‘‘ بعینہٖ اس طرح نہیں آیا جیسے ہم لفظ ’’اجتماع‘‘، ’’اجتماعیت‘‘، ’’نماز‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، یہ بالکل اسی انداز میں قرآن میں نہیں آئے ہیں، لیکن ان کے استعمال کے ساتھ ان کے معنی اپنے پورے مفہوم کے ساتھ ہم سمجھ لیتے ہیں۔ یہ قرآن سے متغائر چیزیں نہیں ہیں، اسی طرح روحانیت کا مفہوم ہم سمجھتے ہیں لیکن اگر آپ یہ لفظ تلاش کرنا چاہیں گے تو یہ قرآن میں نہیں ملے گا۔
روحانیت جس چیز کا نام ہے اس پر ہم آج گفتگو کریں گے۔ لوگ یہ سمجھتے ہوںگے کہ شاید ہم نمازوں‘ نوافل‘ عبادات‘ ذکر اللہ کی کثرت پر گفتگو کریں گے۔ لیکن یہ تمام چیزیں روحانیت کو ارتقا پزیر کرنے کے عوامل ہیں۔ خود روحانیت کیا ہے، میرے مطالعے کے مطابق قرآن میں ’’روحانیت‘‘ جس چیز کا نام ہے قرآن میں اس کے لیے متعدد تعبیرات آئی ہے، ان میں سے صرف 6 تعبیرات کا تذکرہ کیا جائے گا، ممکن ہے کہ کسی اور کو مزید بھی مل جائیں۔
یہ چھ اصطلاحیں درج ذیل ہیں:
-1 نور‘ -2 سکینت‘ -3 فرقان‘ -4 حکمت ‘ -5 طمانیت ‘ -6 شرح صدر۔
اگر کوئی شخص ان چھ چیزوں کو اپنے اندر کسی درجے میں بھی محسوس کرتا ہے تو اس کے اندر اسی قدر روحانیت موجود ہے۔ یہ محسوس کرنے والی چیز ہے، یہ Quantiable نہیں ہے، اس کی مقدار کا تعین نہیں ہوسکتا۔ یہ ناپا نہیں جاسکتا کہ کس کے اندر کتنا نور ہے، یہ جو چھ اصطلاحات ہیں یہ انسان کے محسوسات ہیں‘ تجربات ہیں اور تاثرات کا اظہار ہے، ان کو تولا یا ناپا نہیں جاسکتا۔
پہلی چیز ہے نور:
انسان کے عمل کا دارومدارسوچ سے ہے‘ اور سوچنے کے لیے اگر ہال کے اندر نور موجود ہو تو اشیا کی ہیئت اور کیفیت سمجھ میں آجائے گی۔ بالکل اسی طرح جس طرح اگر ہم گھپ اندھیرے میں ٹارچ روشن کریں گے تو اشیا جو میز پر موجود ہوں گی ان کی ہیئت سمجھ میں آنے لگے گی۔
اسی طرح اگر اندھیرے میں کوئی رسّی پڑی ہوئی ہے تو ٹارچ یا موم بتی یا چاندکی روشنی میں آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ رسّی ہے یا سانپ ہے۔
ایسے ہی سوچ کے عمل میں جب نورِ الٰہی موجود ہوتا ہے تو حق و باطل کی تمیز‘ سچ اور جھوٹ کا فہم آسان ہوجاتا ہے۔ کون امت کا خیر خواہ ہے‘ کون منافق ہے‘ کون سچا اور جھوٹا ہے‘ یہ سب کام آسان ہوجاتا ہے اگر نور موجود ہو۔
قرآن میں ہے کہ وہ شخص جو شقاوتِ قلبی کا شکار ہو‘ اور وہ جسے ہم نے شرح صدر عطا کیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور کو لے کر چل رہا ہو‘ دونوں برابر نہیں ہوسکتے ہیں۔ تو جس کو رب کی طرف سے بصیرت مل جائے وہ شخص نور الٰہی کا حامل ہے۔ سورہ نور میں کہا گیا ہے اللہ نورالسموات والارض، اس کا درست مطلب ہے نور الٰہی کے بغیر کائنات کی درست تعبیر ممکن نہیں ہے‘ کوئی شخص نعوذ باللہ خدا کو خارج کرکے کائنات کی کوئی تعبیر کرے گا‘ وہ سراسر غلط ہوگی۔ اسی آیت میں اللہ فرماتا ہے نور علیٰ نور یعنی ہر انسان کے اندر خدا کی طرف سے نور ودیعت کیا ہوا ہوتا ہے اور باہر سے وحی کا اور شریعت کا نور اس سے مل جاتا ہے تو دونوں مل کر نور اعلیٰ نور بن جاتے ہیں۔ پھر اللہ رب العالمین فرماتا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے نور کے ذریعے ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے۔‘‘
کیا ہم نے کبھی یہ محسوس کیا کہ ہمارے پاس بھی نور موجود ہے۔ خاتم النبیین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ مومن کی فراست سے ڈرو اس لیے کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔ تو کیا ہم نے کبھی یہ محسوس کیا کہ کسی معاملے (Issue) کو ہم نے جب دیکھا تو خدا کے نور سے دیکھ لیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو اللہ سے قریب ہوجاتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ بندہ جب ایک بالشت میری طرف بڑھتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف جاتا ہوں‘ وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی جانب جاتا ہوں۔ میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے‘ میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے‘ میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے‘ میں اس کے پائوں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ (حدیث قدسی)۔
حضرات! کیا ہم نے کبھی محسوس کیا کہ ہماری آنکھ خدا کی آنکھ ہوگئی‘ کیا کبھی ہم نے نور طلب کیا اللہ رب العالمین سے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نے ہم کو دُعا سکھائی۔ جب آپؐ نمازِ فجر کے لیے گھر سے باہر جاتے تو یہ دعا فرماتے ’’اے اللہ مجھے قلب میں نور عطا فرما‘ میری سماعت میں نور عطا فرما‘ میری بصارت میں نور عطا فرما‘ میرے اوپر‘ میرے نیچے‘ میرے دائیں اور میرے بائیں نور عطا فرما‘ نور ہی نور عطا فرما۔‘‘
ایک حدیث میں ہے کہ اے اللہ! میرے بالوں‘ میرے گوشت میں‘ میری ہڈیوں میں نور عطا فرما۔
یہی وہ اصل دعا ہے کہ اے اللہ میرے اندر روحانیت عطا کر دے‘ میں لوگوں کے لیے نور بن جائوں۔ معاشرے میں نور بن جائوں۔ اب تک کی گفتگو میں مَیں نے تین اصطلاحوں کو سمیٹا ہے: -1 نور، -2 فراست، -3 بصیرت۔
1947ء میں مولانا مودودیؒ نے اپنی بصیرت سے یہ دیکھا کہ تقسیم ہند کے بعد کیا ہوگا اور خطبہ مدراس میں جو گفتگو کی وہ ایک مومنانہ فراست کی بات ہے۔ خدا کے نور سے انہوں نے دیکھا کہ ہندوستان سے جب انگریز چلے جائیں گے اور باقی ماندہ مسلمان جو ہند میں رہ جائیں گے ان پر کیا کیا آفتیں آئیں گی۔ یہاں انتہا پسند لوگوں کی طرف سے کیسی کیسی مصبیتیں ان پر آئیں گی‘ اس وقت مسلمان کہاں کہاں ٹامک ٹوئیاں ماریں گے اور کرنے کا کام کیا ہوگا‘ گن کر انہوں نے بتا دیا۔ یہ اللہ کا نور ہے‘ یہ بصیرت ہے‘ یہ فراست ہے‘ یہ روحانیت ہے جس کو ہمیں اپنے اندر پروان چڑھانا چاہیے۔ کیسے پیدا ہو‘ یہ اس وقت ہمارا موضوع نہیں۔
دوسری اصطلاح ہے سکینت:
انسان کے سوچنے کے مرحلے ہیں‘ بسا اوقات کچھ چیزوں کا غلبہ ہونے لگتا ہے جس کو ہم جذبات (Emotion) کہتے ہیں۔ غصہ ہوتا‘ خوف ہوتا‘ لالچ ہوتا ہے‘ گھبراہٹ ہوتی ہے۔ فیصلے سے قبل معاملات کو درست نگاہ سے دیکھنے کے بجائے جو جذبات اس پر غالب ہوتے ہیں اس کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو جذبات پر جن کو کنٹرول نصیب ہو ان کو روحانیت مل گئی۔ بالخصوص جب حالات ایسے ہوں کہ خوف کے ماحول نے گھیر رکھا ہو‘ ہر طرف سے نظریاتی‘ مالی اور جسمانی حملوں کا خدشہ ہو ایسے میں جب دشمنوں کی کارستانیاں بڑھ رہی ہوں۔ آپ کے علم میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں موجود تھے اور دشمن اتنا قریب آچکا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ان کے پائوں دیکھ رہے تھے ایسے شدید مشکل وقت میں قرآن نے کہا :
’’جب دو میں سے (وہ دو تھے) ایک نے کہا ڈرو نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے اور اس وقت اللہ نے ان پر سکینت نازل کر دی۔ جذبات میں آدمی غلط فیصلہ لے سکتا ہے۔‘‘
لیکن اگر سکینت، ٹھنڈک چھا جائے تو آدمی درست فیصلے تک بآسانی پہنچ جاتا ہے، اور یہ اس وقت ممکن ہے جب انسان اللہ پر بھروسہ کرنا‘ توکل کرنا سیکھے۔ کیا کبھی ہم نے اپنے اوپر سکینت کو نازل ہوتے ہوئے محسوس کیا ہے؟ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ ہم Back foot پر جا رہے ہیں۔ حالات ہمیں کنٹرول کررہے ہیں… نہیں‘ بلکہ کبھی کبھی اللہ کی مشیت ہوتی ہے، اس کے مطابق ہمیں اپنامؤقف بدلنا پڑتا ہے اور فیصلہ بھی تبدیل کرنا پڑتا ہے۔
ہمارے علم میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 1,400 صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ عمرہ کے لیے تشریف لے گئے اور مکہ کے باہر حدیبیہ کے مقام پر روک دیے گئے۔ قبائلی زندگی میں یہ ہتک عزت ہے، ایسے موقع پر جذبات کا قابو سے باہر ہوجانا ایک فطری بات ہے، لیکن ایسے موقع پر آپؐ خود اور صحابہ کرامؓ کنٹرول میں رہے۔ آپؐ نے حکم دیا کہ رکے رہو۔ ایک آدمی کو ہم سفیر کے طور پر بھیجتے ہیں۔ ایک کو بھیجا‘ دوسرے کو بھیجا، وہ دونوں ناکام واپس آئے‘ تیسرے کو جب بھیجا تو نہایت دیر ہوگئی ان کی واپسی میں۔ یہ حضرت عثمان بن عفانؓ تھے‘ جب وہ بہت دیر تک واپس نہ آئے اور ان کے قتل کی افواہ پھیل گئی تب صحابہؓ نے فیصلہ کیا کہ اگر ہمارے سفیر کو قتل کردیا جاتا ہے تو جہاد اور قتلِ عثمانؓ کا بدلہ لازمی ہے۔ ایسے شدید دبائو کے موقع پر ان لوگوں کے قدم جمے رہے‘ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوئے‘ اشتعال میں نہیں آئے۔ جو اس طرح کے مواقع پر مشتعل نہ ہوں‘ مرعوب نہ ہوں‘مایوس نہ ہوں… یہی دراصل سکینت ہے۔ اس موقع پر قرآن کہتا ہے کہ ’’ہم نے تمہیںکھلی اور بین فتح عطا کردی۔‘‘
اس کے بعد اللہ نے فرمایا ’’اپنے رسولؐ اور اس کے صحابہؓ کے دلوں میں سکینت بھر دی۔‘‘ ذرا ہم غور کریں کہ ہماری اہلیہ یا ہماری اولاد نے کبھی کوئی شدید غلطی کردی ہے اور ہمارا غصہ آسمان کی بلندیوں پر جا پہنچا‘ ہم نے ان کے خوب لتے لیے، اچھی طرح لتاڑا، لیکن اگر ہم اس طرح کے نازک حالات میں اپنے آپ پر کنٹرول نہ کرسکیں تو آپ کی پوری شخصیت زمیں بوس ہوجاتی ہے، اور اگر آپ نے غصے کے باوجود ٹھنڈے دل و دماغ سے یہ رویہ رکھا ہے کہ ٹھیک ہے اب کوئی دوسرا حل سوچتے ہیں تو جان لیں کہ اللہ نے آپ پر سکینت نازل کردی۔ اگر شدید اور ناموزوں ردعمل دیا تو جان لیں کہ روحانیت نہیں ہے۔
(جاری ہے)

حصہ