حالتِ جبر میں مزاحمتی شاعری جنم لیتی ہے

202

معروف شاعر فیاض علی فیاض سے جسارت میگزین کا مکالمہ

فیاض علی فیاض کراچی کے ادبی منظر کا اہم حصہ ہیں‘ کراچی کی ایک ادبی تنظیم بزم تقدس ادب پاکستان کے سینئر نائب صدر کی حیثیت سے اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں مصروفِ عمل ہیں۔ آپ نے مقامی اخبار اور میگزین میں طویل عرصے تک خوش نویسی کی۔ اپنے زمانے کے مانے ہوئے کاتب تھے‘ ان کا مجموعہ کلام ’’یہ کون مجھ میں غزل سرا ہے‘‘ 2015ء میں شائع ہوا، انہوں نے مختلف شعرائے کرام کی غزلوں پر مشتمل 5 کتابیں مرتب کی ہیں، اس کے علاوہ افسانے بھی لکھے، لیکن ان کا اصل میدان شاعری ہے جس میں نہایت کامیابی کے ساتھ دن بہ دن ترقی کر رہے ہیں۔ راقم الحروف نثار احمد نثار نے ان کے ساتھ مکالمہ کیا جس کی تفصیل قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

جسارت میگزین: خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں۔
فیاض علی: ہمارے خاندان کا تعلق بلند شہر بھارت سے ہے، تاہم میری پیدائش کراچی میں 1952ء کی ہے۔ اس وقت ہمارا خاندان پاکستان آچکا تھا۔ میری والدہ کا تعلق دہلی سے تھا، میرے نانا سید محمد مورخ انڈیا سے روزنامہ ’’مسلمان‘‘ نکالا کرتے تھے۔ بابا رفیق عزیزی میرے نانا کے پھوپھی زاد تھے۔ تمام خاندان پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل تھا۔ شاعری میرے خون میں شامل ہے۔ میں نے کسی کی شاگردی اختیار نہیں کی۔ میرے اندر شاعر موجود تھا لہٰذا میرے مصرعے بحر سے خارج نہیں ہوتے تھے۔ جب میں بارہ سال کا تھا تو میرے والد انتقال کر گئے جس کی وجہ سے مجھ پر کسبِ معاش کی ذمہ داریاں آن پڑیں اور میں اپنی تعلیم مکمل نہیں کرسکا۔ میرے والد مجھے خوش نویسی سکھا گئے تھے لہٰذا میں 1967ء میں اخبار جہاں میں کاتب ہوگیا، اس وقت میری عمر 15 سال تھی‘ میں وہاں کے اسٹاف میں سب سے کم عمر تھا لیکن فن کتابت میں ماہر تھا، لہٰذا میرا روزگار چل پڑا۔ اخبار جہاں میں جانا میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ اس ملازمت کے دوران میں نے ادب کے بڑے بڑے قلم کاروں سے ملاقاتیں کیں، ان میں مجیب الرحمن شامی‘ محمود شام، نیر علوی‘ نذیر ناجی شامل تھے۔ یہ تمام لوگ اخبار جہاں میں ملازمت کرتے تھے۔ عبدالحمید چھاپرا سے بھی میری ملاقاتیں رہی ہیں۔
جسارت میگزین: آپ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ آپ سادہ کاغذ پر اصلاح دیتے ہیں، اس سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
فیاض علی: میں کسی کو بھی اصلاح نہیں دیتا، نہ کسی سے اصلاح لیتا ہوں۔ میں نے اپنا کوئی شاگرد نہیں بنایا۔
جسارت میگزین: شاعری میں علم عروض کی کیا حیثیت ہے؟
فیاض علی: علم عروض تو شاعری کی ضرورت ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو علم عروض کی ضرورت نہیں ہوتی، شاعری ان کے خمیر میں ہوتی ہے، شاعری کے اوزان ان کے مزاج میں ہوتے ہیں۔ شاعری ایک ویژن ہے، صرف مصرع جوڑ لینا شاعری نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آپ شاعری میں کیا کہہ رہے ہیں۔ اگر آپ لمحۂ موجود سے جڑے ہوئے ہیں تو آپ کامیاب شاعر ہیں۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ علم عروض کے ماہر شعرائے کرام میں کوئی عروضی خامی نہیں ہوتی لیکن ان کا کلام کمزور ہوتا ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے، اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ شاعری کے لیے علم عروض جاننا ضروری نہیں ہے، بہت سے اساتذہ کرام علم عروض نہیں جانتے تھے لیکن ان کے کلام میں پختگی اور روانی پائی جاتی ہے۔ علم عروض شعر کی پیمائش کا طریقہ ہے، اس کے جاننے کے فوائد سے انکار ممکن نہیں۔ علم عروض کے حوالے سے مارکیٹ میں متعدد کتابیں موجود ہیں لیکن اس علم کے سیکھنے کے لیے ماہر علم عروض کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے۔ علم عروض کی ابتدا خلیل بن احمد نے مکہ میں کی تھی۔ اساتذہ کرام نے علم عروض کی پندرہ بحریں قرار دی ہیں لیکن آگے چل کر 19 بحریں علم عروض کا حصہ کہلائیں، اس کے علاوہ بھی 9 بحریں اور ہیں جو فارسی میں رائج ہیں، اس طرح 28 بحروں کے اوزان ہمارے سامنے موجود ہیں، اب آپ کی مرضی ہے کہ جس بحر میں بھی اشعار کہنا چاہیں، لیکن مترنم بحروں میں اشعار زیادہ پائے جاتے ہیں۔ رباعی کی دس بحریں مشہور ہیں، جب کہ مثنوی کی مشہور بحر‘ بحر متقارب مثمن مثمن محذوف الآخر‘ فعولن۔ فعولن۔ فعولن۔ فعل ہے اس کے علاوہ اور چھ‘ سات بحریں رائج الوقت ہیں۔
جسارت میگزین: آج کے زمانے میں تنقید کا معیار کیسا ہے‘ آپ اس سلسلے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
فیاض علی: تقسیم ہند سے پہلے ہماری شاعری بہت عروج پر تھی‘ ہماری تنقید کا معیار بہت اچھا تھا اور ہمارا افسانہ ترقی یافتہ تھا۔ ناول نگاری بھی قابل ذکر حد تک اچھی تھی۔ حالت ِ جبر میں بڑا ادب تخلیق پاتا ہے جس کو ہم مزاحمتی شاعری کہتے ہیں۔ جب ہم انگریزوں کے غلام تھے اور ہم نے آزادی کی تحریک شروع کی تو اس وقت کی شاعری اور آج کی شاعری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اسی طرح سے تنقید نگاری میں بھی بہت فرق آگیا ہے، تنقید کا مطلب ہے کسی چیز کو جانچنا‘ پرکھنا‘ تولنا۔ لیکن عام طور پر تنقید کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ کسی کے کلام میں کیڑے نکالنا۔ تنقید نگار کا کام ہے کہ وہ حق لگتی بات کہے، مگر اس وقت شہر میں یہ صورت حال ہے کہ کوئی بھی سچی بات کہنے پر تیار نہیں، وہ سمجھتا ہے کہ اس نے اگر سچائیاں بیان کیں تو بہت سے لوگ ناراض ہوجائیں گے۔ لہٰذا آج کل تنقید میں دوستی نبھائی جارہی ہے۔
جسارت میگزین: آج کے الیکٹرانک میڈیا کے اردو زبان پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
فیاض علی: الیکٹرانک میڈیا اردو زبان کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے‘ وہاں بہت سے ایسے اینکر پرسن بیٹھے ہوئے ہیں جو اردو صحیح نہیں بولتے، ان کا تلفظ بھی غلط ہوتا ہے اور بعض اوقات جو ٹکر ٹی وی پر چل رہے ہوتے ہیں ان میں املا کی غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ ٹی وی مالکان بھی اینکر پرسن کے تلفظ کی ادائیگی کے لیے کوئی اہتمام کرنے پر تیار نہیں، جب کہ ماضی میں پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا تھا کہ زبان میں تلفظ یا املا کی غلطی نہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ اب فیس بک پر ہم رومن انگلش میں اردو لکھ رہے ہیں، اس طرح ہم خود ہی اردو زبان کے قتل عام میں شریک ہیں، جب کہ اردو کا سافٹ ویئر موجود ہے لیکن ہم انگریزی سوفٹ ویئر استعمال کر کے خوش ہوتے ہیں۔ خدا کے وسطے اردو کے ساتھ یہ مذاق ختم کیا جائے۔
جسارت میگزین: کراچی میں مشاعروں اور تنقیدی نشستوں پر آپ کیا کہتے ہیں؟ نیز متشاعروں سے ادب پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
فیاض علی: کراچی میں تنقیدی نشستیں اور طرحی مشاعرے ختم ہورہے ہیں بلکہ ختم ہو چکے ہیں، اس وقت ایک یا دو تنظیموں کے سوا تنقیدی نشستوں کا چلن نہیں ہے۔ طرحی مشاعروں کے سلسلے میں طاہر سلطان اور قمر وارثی کا نام زندہ ہے کہ یہ دونوں حضرات حمد و نعت کے طرحی مشاعرے کرا رہے ہیں۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں تنقیدی نشستیں ہو اکرتی تھیں لیکن نقاش کاظمی کے بعد یہ سلسلہ اب بند ہوچکا ہے۔ جہاں تک کراچی میں مشاعروں کا سوال ہے تو کراچی میں جب سے امن وامان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے تب سے ادبی تقریبات ہورہی ہیں، بلکہ ایک ہی دن میں کئی کئی مشاعرے ہورہے ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں اردو زبان و ادب آگے بڑھ رہا ہے۔ اب بہت سے نوجوان شعرا بھی ادبی منظرنامے کا حصہ بن چکے ہیں اور یہ لوگ بھی بہت اچھا کہہ رہے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں متشاعروں سے ادب برباد ہو رہا ہے، جو لوگ دوسروں کو لکھ لکھ کر دے رہے ہیں وہ غیر اخلاقی کام کررہے ہیں، لیکن متشاعرو ں کا سلسلہ ختم نہیں ہوسکتا، یہ بڑا پرانا مرض ہے جس کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا ہے۔
جسارت میگزین: آپ کے نزدیک نثری نظم کی کیا حیثیت ہے؟
فیاض علی: نثری نظم ایک اچھی چیز ہے لیکن اس کو لکھنے کے لیے بہت بڑا ویژن چاہیے۔ اس وقت جو نثری نظم لکھ رہے ہیں ان کا کوئی ویژن نہیں ہے۔ نثری نظم کا رول ماڈل تو نہیں ہے لیکن میں ذاتی طور پر کہتا ہوں کہ اس وقت ڈاکٹر طاہر عباس بہت اچھی نثری نظم کہہ رہے ہیں لیکن وہ مشاعروں میں جانا پسند نہیں کرتے، ان کا قیام ہرون ویو پاور ہائوس چورنگی میں ہے، نورالہدیٰ سید نے بھی بہت اچھی نثری نظمیں لکھی ہیں۔
جسارت میگزین: نعت نگاری کے کیا تقاضے ہیں؟
فیاض علی: میرا شعر ہے:۔

جو نعت لکھو تو یاد رکھنا
نبی‘ نبی ہے خدا‘ خدا ہے

نعت نگاری کا سلسلہ آنحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے شروع ہوا تھا اور قیامت تک نعتیں لکھی جاتی رہیں گی۔ نعت ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس میں جھوٹ اور غلو کا شائبہ نہیں ہے، نعت کے معاملات میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے، عبد اور معبود کا فرق رکھنا چاہیے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسلامی تعلیمات کو نعت کا موضوع ہونا چاہیے۔ تاہم اب نعت میں ذاتی احوال اور امتِ محمدی کے مسائل کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بہتری کے اسباب بھی لکھے جارہے ہیں۔ جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ نعت خوانوں کو پیسے دیے جاتے ہیں اور نعت گو شعرا کو آمد و رفت کا خرچ بھی نہیں دیا جاتا، اس سلسلے میں عرض ہے کہ ہم جب تک ایک نہیں ہو جاتے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
جسارت میگزین: کچھ ادبی تنظیمیں نظریۂ ضرورت کے تحت پیسے لیے کر لوگوں کو اسٹیج کی زینت بنا رہی ہیں‘ آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟
فیاض علی: میں سمجھتا ہوں کہ بغیر فنڈنگ کے کوئی ادبی پروگرام نہیں ہوسکتا، لہٰذا جو تنظیمیں نظریۂ ضرورت کے تحت اسٹیج پر لوگوں کو بٹھا رہی ہیں تو یہ غلط بھی نہیں ہے، لیکن مشاعرے کی صدارت میں شاعر کا ہونا اور سینئر ہونا ضروری ہے۔ سرمایہ داروں کا فرض ہے کہ وہ ادبی پروگراموں کے لیے بھی کچھ فنڈز مختص کیا کریں۔ ایک زمانے میں اشتہارات اور بینرز وغیرہ مل جایا کرتے تھے جس سے ادبی تقریب کے اخراجات نکل آتے تھے‘ اب یہ سلسلہ تقریباً ختم ہوچکا ہے۔

غزل

فیاض علی فیاض

ہونٹوں پہ اقرار سجانا پڑتا ہے
اُس کی طلب میں سر کو جھکانا پڑتا ہے
اسی لیے میں ملنے سے کتراتا ہوں
لوگوں کو احوال سنانا پڑتا ہے
آندھی میں بھی دیپ فروزاں ہوتے ہیں
لیکن اپنا خون جلانا پڑتا ہے
گھر والوں کے پاس اب اتنا وقت نہیں
دیواروں کو حال سنانا پڑتا ہے
رشتوں کے آداب لہو میں شامل ہیں
مجھ کو سب کا ساتھ نبھانا پڑتا ہے
کون خوشی سے جاگا ہے فیاضؔ یہاں
لوگوں کو ہر روز جگانا پڑتا ہے

حصہ