سود

216

قسط نمبر 2

نظامِ اشتراکی

سرمایہ داری کے عین مقابل ایک دوسرا نظامِ معیشت ہے جس کو اشتراکی نظام کہتے ہیں۔ اس کی بنیاد اس نظریہ پر ہے کہ تمام وسائل ثروت سوسائٹی کے درمیان مشترک ہیں‘ اس لیے افراد کو فرداً فرداً ان پر مالکانہ قبضہ کرنے اور اپنے حسبِ منشا ان میں تصرف کرنے اور ان کے منافع سے تنہا متمتع ہونے کا کوئی حق نہیں۔ اشخاص کو جو کچھ ملے گا وہ محض ان خدمات کا معاوضہ ہوگا جو سوسائٹی کے مشترک مفاد کے لیے وہ انجام دیں گے۔ سوسائٹی ان کے لیے ضروریاتِ زندگی فراہم کرے گی اور وہ اس کے بدلے میں کام کریں گے۔
یہ نظریہ ایک دوسرے ڈھنگ پر معیشت کی تنظیم کرتا ہے جو بنیادی طور پر نظام سرمایہ داری سے مختلف ہے۔ اس تنظیم میں سرے سے ملکیت شخصی ہی کا وجود نہیں پھر کہاں اس کی گنجائش کہ کوئی روپیہ جمع کرے اور اس کو بطور خود کاروبار میں لگائے۔ یہاں چونکہ نظریے اور اصول میں اختلاف ہوگیا ہے اس لیے مناہج بھی بدل گئے ہیں۔ نظام سرمایہ داری کا کارخانہ بینکنگ‘ انشورنس‘ شرکت ہائے اسہامی اور ایسے ہی دوسرے اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا‘ لیکن اشتراکیت کی ساخت اور اس کے معاشی معاملات میں نہ ان اداروں کی گنجائش ہے نہ ضرورت۔ سرمایہ داری کے مزاج سے سود کو جتنی گہری مناسبت ہے‘ اشتراکیت کے مزاج سے اس کو اتنی ہی زیادہ شدید ناموافقت ہے۔ اشتراکیت اس چیز کی بنیاد ہی مسمار کر دیتی ہے جس کی بنا پر ایک شخص سود لیتا اور دوسرا شخص سود دیتا ہے۔ اس کے اصول کسی شکل اور کسی حیثیت میں بھی سود کو جائز نہیں رکھتے اور جو شخص ان اصولوں پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے ممکن نہیں کہ بیک وقت اشتراکی بھی ہو اور سودی لین دین بھی کرے۔
اشتراکیت اور سرمایہ داری ایک دوسرے کے خلاف دو انتہائی نقطوں پر ہیں۔ سرمایہ داری افراد کو ان کے فطری حقوق ضرور دیتی ہے مگر اس کے اصول و نظریات میں کوئی ایسی چیز نہیںجو افراد کو جماعت کے مشترک مفاد کی خدمت کے لیے آمادہ کرنے والیاور تابحدِ ضرورت اس پر مجبور کرنے والی ہو‘ بلکہ درحقیقت وہ افراد میںایک ایسی خود غرضانہ ذہنیت پیدا کرتی ہے جس سے ہر شخص اپنے شخصی مفاد کے لیے جماعت کے خلاف عملاً جنگ کرتا ہے اور اس جنگ کی بدولت تقسیمِ ثروت مزید دولت کھینچتے چلے جاتے ہیں۔ دوسری طرف جمہور کی معاشی حالت خراب سے خراب تر ہوتی چلی جاتی ہے اور دولت کی تقسیم میں ان کا حصہ گھٹتے گھٹتے بِمنزلہ صفر رہ جاتا ہے۔ ابتدا میں سرمایہ داروں کی دولت اپنے شاندار مظاہر سے تمدن میں ایک دلفریب چمک دمک تو ضرور پیدا کر دیتی ہے‘ مگر دولت کی غیر متوازن تقسیم کا آخری انجام اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ معاشی دنیا کے جسم میں دوران خون بند ہو جاتا ہے‘ جسم کے اکثر حصیقلتِ خون کی وجہ سے سوکھ کر تباہ ہوتے ہیں اور اعضا رئیسہ کو خون کا غیر معمولی اجتماع تباہ کر دیتا ہے۔
اشتراکیت اس خرابی کا علاج کرنا چاہتی ہے‘ مگر وہ ایک صحیح مقصد کے لیے غلط راستہ اختیار کرتی ہے۔ اس کا مقصد تقسیمِ ثروت میں توازن قائم کرنا ہے اور یہ بلاشبہ صحیح مقصد ہے‘ مگر اس کے لیے وہ ذریعہ ایسا اختیار کرتی ہے جو درحقیقت انسانی فطرت سے جنگ ہے۔ افراد کو شخصی ملکیت سے محروم کرکے بالکل جماعت کا خادم بنا دینا نہ صرف معیشت کے لیے تباہ کن ہے بلکہ زیادہ وسیع پیمانے پر انسان کی پوری تمدنی زندگی کے لیے مہلک ہے کیوں کہ یہ چیز معاشی کاروبار اور نظام تمدن سے اس کی روحِ رواں‘ اس کی اصل قوتِ محرکہ کو نکال دیتی ہے۔ تمدن و معیشت میں انسان کو جو چیز اپنی انتہائی قوت کے ساتھ سعی و عمل کرنے پر ابھارتی ہے‘ وہ دراصل اس کا ذاتی مفاد ہے۔ یہ انسان کی فطری خود غرضی ہے جس کو کوئی منطق اس کے دل و دماغ کے ریشوں سے نہیں نکال سکتی۔ غیر معمولی (Abnormal) افراد کو چھوڑ کر ایک اوسط درجہ کا آدمی اپنے دل اور دماغ اور دست و بازو کی تمام طاقتیں صرف اسی کام میں خرچ کرتا ہے اور کر سکتا ہے جس سے اس کو خود اپنے مفاد کے لیے ذاتی دل چسی ہوتی ہے۔ اگر سرے سے ی دلچسپی ہی باقی نہ رہے اور اس کو معلوم ہو کہ اس کے لیے فوائد و منافع کی جو حد مقرر کر دی گئی ہے اس سے بڑھ کر وہ اپنی جدوجہد سے کچھ بھی حاصل نہ کرسکے گا‘ تو اس کے قوائے فکر و عمل ٹھٹھر کر رہ جائیں گے اور وہ محض ایک مزدور کی طرح کام کرے گا جس کو اپنے کام سے بقدر اجرت ہی دلچسپی ہوتی ہے۔
یہ تو اشٹراکی نظام کا باطنی پہلو ہے‘ اس کا خارجی اور عملی پہلو یہ ہے کہ وہ سرمایہ دار افراد کا خاتمہ کرکے ایک بہت بڑے سرِمایہ دار کو وجود میں لاتا ہے یعنی اشتراکی حکومت۔ یہ بڑا سرمایہ دار لطیف انسانی جذبات کی اس اقلِ قلیل مقدار سے بھی خالی ہوتا ہے جو سرمایہ دار افراد میں پائی جاتی ہے۔ وہ بالکل ایک مشین کی طرح پورے استبداد کے ساتھ ان کے درمیان اسباب حیات تقسیم کرتا ہے‘ اس کے پاس نہ ہمدردی ہے نہ قدر و اعتراف۔ وہ انسانوں سے انسانوں کی طرح کام نہیں لیتا بلکہ مشین کے کُل پرزوں کی طرح کام لیتا ہے اور ان سے فکر و رائے اور عمل کی آزادی بالکل سلپ کر لیتا ہے۔ اس شدید استبداد کے بغیر نظامِ اشتراکی نہ قائم ہو سکتا ہے نہ قائم رہ سکتا ہے کیوں کہ افراد کی فطرت اس نظام کے خلاف ہر وقت آمادۂ بغاوت رہتی ہے۔ اگر ان کو دائماً استبداد کے آہنی پنجہ میں جکڑ کر نہ رکھا جائے تو وہ اشتراکی نظم کو دیکھتے دیکھتے منتشر کر دیں یہی وجہ ہے کہ آج روس کی سوویت گورنمنٹ دنیا کی حکومتوں میں سب سے زیادہ مستبد اور جابر حکومت ہے۔ اپنی رعیت کو اس نے ایسے سخت آہنی شکنجہ میں جکڑ رکھا ہے جس کی مثال دنیا کی کسی شخصی یا جمہوری حکومت میں نہیں چلتی۔ اس کا یہ جبر و استبداد کچھ اس وجہ سے نہیں ہے کہ محض بخت و اتفاق نے اسٹالین جیسے ڈکیٹر کو پیدا کر دیا ہے بلکہ درحقیقت اشتراکیت کا مزاج ہی ایک شدید ترین ڈکٹیٹر شپ کا متقاضی ہے۔

نظامِ اسلامی

اسلام ان دو متقاضی معاشی نظاموں کے درمیان ایک معتدل نظام قائم کرتا ہے جس کا اصل الاصول یہ ہے کہ فرد کو اس کے پورے پورے شخصی و فطری حقوق بھی دیے جائیں اور اس کے ساتھ تقسیم ثروت کا توازن بھی نہ بگڑنے دیا جائے۔ ایک طرف وہ فرد کو شخصی ملکیت کا حق اور اپنے مال میں تصرف کرنے کے اختیارات دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ ان سب حقوق اور اختیارات پر باطن کی راہ سے کچھ اخلاقی پابندیاں اور ظاہرکی راہ سے کچھ ایسی قانونی پابندیاں عائد کر دیتا ہے جن کا مقصد یہ ہے کہ کسی جگہ وسائل ثروت کا غیر معمولی اجتماع نہ ہو سکے‘ ثروت اور اس کے وسائل ہمیشہ گردش کرتے رہیں اور گردش ایسی ہو کہ جماعت کے ہر فرد کو اس کا متناسب حصہ مل سکے۔ اس مقصد کے لیے اس نے معیشت کی تنظیم ایک اور ڈھنگ پرکی ہے جو اپنی روح‘ اپنے اصول اور اپنے طریق کار کے اعتبار سے سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوںسے مختلف ہے۔
اسلام کا معاشی نظریہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ معاشی زندگی میں ہر ہر فرد کا شخصی مفاد اور تمام افراد کا اجتماعی مفاد ایک دوسرے کے ساتھ گہرا ربط رکھتا ہے‘ اس لیے دونوں میں مزاحمت کے بجائے موافقت اور معاونت ہونی چاہیے۔ فرد اگر اجتماعی مفاد کے خلاف جدوجہد کرکے جماعت کی دولت اپنے پاس سمیٹ لے اور اس کو جمع رکھنے یا خرچ کرنے میں محض اپنے ذاتی مفاد کو ملحوظ رکھے تو یہ صرف جماعت ہی کے لیے نقصان دہ نہیں ہے بلکہ آل کار میں اس کے نقصانات خود اس شخص کی اپنی ذات کی طرف بھی عود کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر جماعت کا نظام ایسا ہو کہ وہ اجتماعی مفاد کے لیے افراد کے شخصی مفاد کو قربان کر دے تو اس میں صرف افراد ہی کا نقصان نہیں بلکہ مآل کار میں جماعت کا بھی نقصان ہے۔ پس فرد کی بہتری اس میں ہے کہ جماعت خوش حال ہو اور جماعت کی بہتری اس میں ہے کہ افراد خوش حال ہوں اور دونوں کی خوش حالی اس پر موقوف ہے کہ افراد میں خود غرضی اور ہمدردی کا صحیح تناسب قائم ہو۔ ہر شخص اپنے ذاتی فائدے کے لیے جدوجہد کرے مگر اس طرح کہ اس میں دوسروں کا نقصان نہ ہو۔ ہر شخص جتنا کما سکے کمائے مگر اس کی کمائی میں دوسروں کا حق بھی ہو‘ ہر شخص دوسروں سے خود بھی نفع حاصل کرے اور دوسروں کو نفع پہنچائے بھی۔ منافع کی اس تقسیم اور دولت کی اس گردش کو جاری رکھنے کے لیے محض افراد کے باطن میں چند اخلاقی اوصاف پیدا کر دینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ جماعت کا قانون بھی ایسا ہونا چاہیے جو مال کے اکتساب اور خرچ دونوں کی صحیح تنظیم کر دے۔ اس کے ماتحت کسی کو مضرت رساں طریقوں سے دولت کمانے کا حق نہ ہو اور جو دولت جائز ذرائع سے کمائی جائے وہ ایک جگہ سمٹ کر نہ رہ جائے‘ بلکہ صرف ہو اور زیادہ سے زیادہ گردش کرے۔
اس نظریے پر جس نظم معیشت کی بنیاد رکھی گئی ہے اس کا مقصد نہ تو یہ ہے کہ چند افراد کروڑ پتی بن جائیں اور باقی تمام لوگ فاقے کرین‘ اور نہ اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی کروڑ پتی نہ بن سکے اور جبراً سب کو ان کے فطری تفاوت کے باوجود ایک حال میں کر دیا جائے۔ ان دونوں انتہائوں کے بین بین اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جماعت کے تمام افراد کی معاشی ضروریات پوری ہوں۔ اگر ہر شخص دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی فطری حد کے اندر رہ کر اکتساب مال کی کوشش کرے اور پھر اپنے کمائے ہوئے مال کو خرچ کرنی میں کفایت شعاری اور امداد باہمی کو ملحوظ رکھے تو سوسائٹی میں وہ معاشی ناہمواری پیدا نہیں ہو سکتی جو سرمایہ داری کے نظام میں پائی جاتی ہے کیوں اس قسم کاطرز معیشت اگرچہ کسی کو کروڑ پتی بننے سے نہیں روکتا مگر اس کے ماتحت یہ بھی ناممکن ہے کہ کسی کروڑ پتی کی دولت اس کے ہزاروں ابنائے نوع کی فاقہ کشی کا نتیجہ ہو۔ دوسری طرف یہ طرز معیشت تمام افراد کو خدا کی پیدا کی ہوئی دولت میں سے حصہ ضرور دلانا چاہتا ہے‘ مگر ایسی مصنوعی بندشیں لگانا جائز نہیں رکھتا جن کی وجہ سے کوئی شخص اپنی قوت اور قابلیت کے مطابق اکتساب مال نہ کر سکتا ہو۔ (جاری ہے)۔

حصہ