ایک جہاں کا وہ عزیز تھا

222

امتِ مسلمہ کا ایک دھڑکتا دل خاموش ہوگیا ہے۔۔ وہ قلبِ منیب رکھتے تھے اور نفسِ مطمئنہ لے کر حاضر ہوگئے ہیں ان شاءاللہ۔۔ معاملہ تو دل ہی کا ہے۔ انہوں نے سب کشتیاں جلا کر، یقین سے سرشار جب چپو سنبھالے تو تمام جوار بھاٹوں سے گزر کر منزل پر جاکر ہی دم لیا۔ ایک ساتھی بولیں: انھیں تو اہل وع یال کے لیے گھر تک بنانے کی فرصت نہ مل سکی کہ نگر نگر کے باسی، امت کا دردِ دل لیے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ امت کے غم سے نکلتے، کہیں ٹک کر بیٹھتے تو یہ سب سوچتے۔ ہم لاکھوں کروڑوں کر کیا رہے ہیں؟ بچوں کے لیے گھر، ان کا مستقبل، ان کی اعلیٰ تعلیم، عمدہ رہائش۔۔۔ اور یوں عمر کی نقدی ختم ہوجاتی ہے۔۔۔ ہم جیون ہار دیتے ہیں دنیا سمیٹتے سمیٹتے۔۔۔ دنیا ہمارے حصے میں آنی ہی کتنی ہے! آج عبدالغفار بھائی کا جسدِ خاکی ہم سے کہہ رہا ہے کہ دل بس وہی دل ہے جو امہ کے درد سے معمور ہو۔ ہم میں سے کچھ کے لیے تو امہ کا تصور ہی ”دِلّی دور است“ کے مصداق ہوگیا ہے۔ وہ امت کا سرمایہ تھے۔ ابھی سمیحہ راحیل قاضی نے آڈیوز شیئر کی ہیں خواتین کے ایک بین الاقوامی گروپ کی۔ عرب خواتین بچوں کی طرح رو رہی ہیں کہ ہمارا بھائی، ہمارا قائد ہم سے بچھڑ گیا۔ ہم اس صدمے کو کیسے برداشت کریں گے! آج ہر وال پر، ہر گروپ میں ان کا تذکرہ۔۔۔ لوگوں نے ڈی پی پر ان کی تصویر لگائی ہوئی ہے۔ کچھ تو کرکے گئے ہیں وہ۔ صبح ٹی وی کھولا۔۔۔ یہ چینلز جو اداکاروں کی رحلت کی خبر سارا دن چلاتے ہیں ان بے چاروں کو پتا نہیں کہ یہ صرف جماعت اسلامی کا نقصان نہیں ہے، امت اپنے ایک گراں قدر سپوت سے محروم ہوئی ہے۔ ہر ایک کی زندگی کا ایک استعارہ ہوتا ہے، اُن کی زندگی کا استعارہ امت ِ مسلمہ تھی۔ مرکزی شوراؤں میں کبھی وہ حماس کی باتیں کرتے، کبھی حزب المجاہدین کی۔ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں سے ان کے قریبی روابط رہے، مسلم دنیا کے بعض حکمرانوں سے بھی دوستانہ مراسم تھے۔ وہ کبھی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال بتاتے، تو کبھی حماس کی کامیابی یا ناکامی پر تبصرہ کرتے۔ مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں میں ہم سب مسلم امہ کی صورتِ حال اُن کی زبانی جاننے کے لیے بے چین ہوتے۔ کئی زبانوں پر عبور رکھنے والے عبدالغفار عزیز بھائی سالہاسال سے جماعت اسلامی کے شعبہ امور خارجہ کے نگران تھے۔ اسلامی ملکوں، بین الاقوامی کانفرنسوں اور مذاکرات میں جاتے۔۔۔ چشم دید احوال جو ہم شوریٰ کے اجلاسوں میں اُن سے سنتے۔ اُن کو یہ سعادت بھی حاصل رہی کہ ہر سال خطبہ حج کا انگریزی اور اردو رواں ترجمہ پیش کرتے۔ ان کی تلاوت اور عربی تلفظ قابلِ رشک تھا۔ ان کے الفاظ میں سچے جذبے شامل ہوتے۔ کسی نے کہا: ہم ان ہی کو امت ِ مسلمہ سمجھتے تھے۔ باخبر دانا و بینا فرد، جو سرتاپا تحریک تھا۔ اللہ رب کریم ان کی لحد کو ماں کی گود جیسا بنادے۔ ان کی تحریریں، ان کی تقریریں جذبہ جہاد سے سرشار۔۔۔ ہم پڑھتے رہیں گے، سنتے رہیں گے اِن شاء اللہ۔ اب وہ نمازِ جمعہ کی صفِ اوّل میں نظر آئیں گے نہ منبر پر۔ ان کی موت ایک زندہ پیغامِ ہے کہ اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں، آؤ امہ کا غم دل میں بسا لو۔ وہ دل ہی کیا جو امہ کے درد سے بے نیاز ہو۔ اب کوئی تو ہو جس کے روز و شب، دعائے نیم شبی جس کے آنسو، جس کی آہیں، امت کے لیے ہوں۔

یادوں کے دریچوں سے

پچھلے برس جامعات المحصنات کے پرنسپل کنونشن میں ان کا پروگرام ہم نے طے کیا۔ میں نے وقت لینے کے لیے انھیں فون کیا، بتایا کہ اس تاریخ کو پروگرام کا وقت دس بجے صبح ہے۔ ”اور دن کیا ہے؟“ سوال پوچھا گیا۔ جواب دیا ”جمعہ کا دن۔۔“ ”نہیں میں جمعہ کے دن دس بجے نہیں آسکتا، بہن اس وقت میں نمازِ جمعہ کی تیاری میں مصروف ہوتا ہوں“۔ ہم حیران کہ دس بجے سے نمازِ جمعہ کی تیاری!!! بولے ”آپ نمازِ جمعہ کے بعد کا وقت رکھ لیں۔“ میں نے معذرت کی کہ بیرونِ شہر سے کچھ مہمان مقررین آئیں گے اُس وقت۔۔ بولے ”اچھا ٹھیک ہے، میں جمعہ کے دن کا یہ وقت کسی کو دیتا نہیں ہوں، لیکن آپ وقت کی پابندی کا خیال رکھیے گا۔“ امت ِمسلمہ کے حالات پر جب پروگرام رکھنے کا خیال آئے ذہن میں انہی کا نام آتا ہے۔ اب جمعہ کو خیال آتا ہے کہ وہ مردِ مومن جو صبح سے جمعہ کی تیاری میں مصروف ہوتا تھا۔ ہماری ایک عزیزہ کے شوہر کا انتقال ہوا، ہم تعزیت کو گئے تو بولیں ”بس جمعہ کا دن دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، وہ گیارہ بجے سے مسجد چلے جاتے تھے، اپنے مرحوم والدین کے لیے سورہ بقرہ پڑھتے، پھر ذکر اور درود میں مصروف رہتے، اور نمازِ جمعہ پڑھ کر دیر تک لوگوں سے ملتے، ان کے حالات جانتے، جمعہ کے دن ان کی خوشی اور تیاری دیدنی ہوتی، وہ جمعرات کی رات سے ہی جمعہ کی تیاری شروع کردیتے اور جمعرات کی رات کو خاص نوافل اور تلاوت کا اہتمام کرتے کہ غروبِ آفتاب کے بعد سے جمعہ شروع ہوچکا ہے۔“ جمعہ بھی ہر ایک کا الگ ہی ہوتا ہے۔۔۔ اس کی ایمانی کیفیت سے جڑا۔۔۔

تعزیتی ریفرنس

شعبہ امورِ خارجہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے تحت عبدالغفار عزیز بھائی کی یاد میں زوم پر تعزیتی ریفرنس ہوا۔
دنیا کے کونے کونے سے خواتین شریک تھیں۔ عرب دنیا کی خواتین کے پیغامات بھی سنائے گئے۔ ہاں اُس وقت کوئی اپنے آنسو روک نہ پا رہا تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ ایسا کیا رشتہ ہے کہ ہر ایک لواحقین میں شامل ہے! یہ عقیدے اور نظریے کا رشتہ ہے جو اسلام سے جڑا ہے۔ ایک ساتھی نے کہا: اُن کی بیرونی دنیا بالخصوص عرب دنیا میں جو عزت تھی اُس سے پاکستان کے لوگ واقف ہی نہیں ہیں۔ بولیں: ہمیں سوڈان میں کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا، کانفرنس ہال کے باہر کمپیئر کی آوازیں گونج رہی تھیں، ہم کہنے لگے اس عرب کا کتنا پُراثر لہجہ ہے۔ اندر گئے تو دیکھا عبدالغفار عزیز بھائی پروگرام کے اناؤنسر تھے۔ ایک خاتون نے کہا کہ ہمیں جب بھی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا تو ان کی عزت و تکریم دیکھ کر ہمارا دل بڑھ جاتا تھا کہ ان کی عزت پاکستان کی عزت ہے، وہ دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت تھے۔ ایک ساتھی نے کہا کہ ایک بار امریکا ایک کانفرنس میں جانا تھا، ہمیں سفارت خانے پر ویزے کے سلسلے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ فلاں صاحب کو میرا کارڈ دکھا دیں۔ اور پھر اسی سفارت خانے میں جہاں کوئی ہماری بات سننے والا نہ تھا اُن کی وجہ سے ہمیں وی آئی پی پروٹوکول ملا۔ اللہ نے ان کے نصیب میں کتنا اکرام لکھا تھا۔ کل ٹی وی پر ایک میزبان کہہ رہے تھے کہ جب ہمیں مسلم امہ کے موجودہ حالات پر پروگرام کرنا ہوتا تو ان کی مدد لیتے۔ یہ بھی کیسا متعصبانہ رویہ ہے کہ ہمارا میڈیا ایسی شخصیات سے فیض تو اٹھاتا ہے مگر انھیں متعارف کرانے میں بخل سے کام لیتا ہے۔ آج تعزیتی ریفرنس میں سمیحہ راحیل قاضی نے بتایا کہ دنیا کے پانچویں براعظموں سے ان کی تعزیت کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ آغا جان اور سید منور حسن مرحوم کی رحلت پر اسی طرح پیغامات موصول ہوئے تھے۔ بلاشبہ وہ آغا جان کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کے والد نے نوعمری میں ان کا ہاتھ قاضی صاحب کے ہاتھ میں دیا تو انھوں نے والد کی اطاعت میں سر جھکا کر زندگی مشن کے نام وقف کردی، دنیا سے اپنا حصہ تک نہ مانگا اور سنت ِ ابراہیمی زندہ کر گئے۔ ہم کسے کامیابی سمجھتے ہیں، اللہ کسے اکرام سے نوازتا ہے۔۔ جو دنیا طلب نہیں کرتا دنیا اُسی کے گیت گاتی ہے۔ جو دنیا کی طلب میں جیتے ہیں وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہوتے جنھیں یاد رکھا جائے۔ ان کی بہن نے گلوگیر لہجے میں بتایا کہ ”امیر جماعت کی ہمارے بھائی کے جنازے پر یہ گواہی ہماری سکینت کا باعث بنی کہ ہم نے تمام عمر اُن کی زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ سنا جس سے کسی کی دل شکنی ہو۔ نہ وہ غیبت کرتے، نہ سنتے۔ اگر ان کے سامنے کسی کا نامناسب ذکر ہوتا تو تڑپ جاتے کہ اس فرد سے معافی مانگو جس کی غیبت کی ہے، فوراً استغفار کرو۔“ ایک خاتون نے کہا: وہ ایک پروگرام میں بولے ”قرآن کو تنہائی کا رفیق بنالو۔ اگر کسی دن قرآن نہ پڑھ سکو تو دوست کی طرح اس پر ہاتھ رکھ دو کہ کل اچھی طرح ملیں گے، بہت سا وقت اکٹھے گزاریں گے“۔ جن ساتھیوں کو اُن کے ساتھ کسی اجتماعی سفر کا موقع ملا انھوں نے بتایا کہ دورانِ سفر وہ کس طرح دوسروں کی خدمت کرتے۔ کئی گھنٹوں کے سفر میں کوئی ضخیم کتاب اُن کی ہمراہی میں ہوتی۔ وہ اطراف سے بے گانہ اتنے منہمک ہوکر مطالعہ کرتے کہ رشک آتا اُن کی مطالعے کی عادت پر۔ کل تعزیتی ریفرنس میں ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر حبیب الرحمٰن عاصم نے کہا ”انھوں نے اخوان المسلمون سے دو چیزیں سیکھی تھیں، ایک قرآن سے ہمہ وقت تعلق، دوسرے وظائف۔ گھر کے بچے بچے کو موقع بہ موقع دعائیں یاد کراتے۔ انھوں نے شعوری زندگی گزاری۔ یہ شعور جماعت اسلامی کا عطا کردہ تھا“۔ اس ریفرنس میں دنیا بھر کی خواتین کئی گھنٹے اپنے جذبات کا اظہار کرتی رہیں۔ قیّمہ پاکستان دردانہ صدیقی بھی اسی طرح غمگین اپنے جذبات کا اظہار کررہی تھیں جیسے اُن کی حقیقی بہنیں۔۔۔ دین کا رشتہ کتنا قیمتی رشتہ ہے۔ اس سے بڑی کیا دولت ہوگی کہ دنیا کے کونے کونے میں، جانے والے کی مغفرت کی دعائیں کی جائیں۔ ان کے لیے گواہیاں پیش کی جائیں۔

حصہ