بچوں کی تربیت مشکل کیوں؟۔

162

شعبۂ تدریس سے تعلق رکھنے والے افراد یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اکثر و بیشتر والدین ٹیچرز سے براہِ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ مجھ سے بھی ایک طالب علم کی والدہ نے ملنے کی خواہش کی۔ فون پر تو اکثر اُن سے رابطہ رہتا لیکن اِس بار وہ کچھ پریشان دکھائی دیں۔ ملاقات کے روز سرسری سی سلام دعا کے بعد وہ مدعا کی جانب بڑھیں اور کہنے لگیں کہ میٹرک تک تو ان کا بیٹا (جو کہ میرا طالب علم تھا) ہر بات ان سے شیئر کرتا تھا، مگر اب جیسے جیسے بڑا ہوتا جا رہا ہے، ان کے درمیان خلیج قائم ہورہی ہے۔ بات بات پہ الجھتا اور سنی اَن سنی کیے نکل جاتا ہے۔
چوں کہ میرے ساتھ اُس کا رویہ قدرے مختلف تھا تو میرے لیے یہ سب حیران کن اور افسوس ناک بھی تھا۔ یہ بات تو صاف ظاہر تھی کہ وہ گھریلو سطح پر عجیب رویّے کا شکار ہورہا ہے۔ اس کی والدہ کا اصرار تھا کہ میں بحیثیت استاد اس سے وجوہات معلوم کرنے میں مدد دوں۔ ابھی میں وجوہات کو جانچنے کی کوشش میں تھی کہ اس کی والدہ کے کہے الفاظ میرے دماغ میں اٹک گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کے بدلتے رویّے کی وجہ سے ان کے شوہر سے جھگڑے دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں اور وہ اس رویّے کا ذمے دار انہیں ٹھیراتے ہیں۔
آنکھوں کے گوشے صاف کرتے ہوئے مزید کہنے لگیں کہ پہلے جب کبھی شوہر اور ان کے درمیان تناؤ ہوتا تو وہ اپنا دکھڑا بیٹے سے کہہ سن لیتی تھیں۔ وہ اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھیں لیکن میں جان چکی تھی کہ آخر وہ کیوں گھر سے متنفر ہورہا ہے؟
ابراہم لنکن کا مقولہ ہے’’مجھے چھ گھنٹے اگر درخت کاٹنے کو ملیں تو میں پانچ گھنٹے تلوار تیز کرنے پر لگاؤں۔‘‘ اس بات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کام کردینا یا ہوجانا اہم نہیں، بلکہ اس کے لیے مطلوبہ محنت اورنتائج سے آشنائی بے حد ضروری ہے۔ محنت بغیر ہدف کے محض کولہو کے بیل سے زیادہ کچھ نہیں، صرف مشقت بن کر تکلیف کا باعث بنتی ہے۔
بچوں کی تربیت میں سب سے اہم کردار والدین کا ہوتا ہے۔ والدین کے اعلیٰ اخلاق عمومی طور پر بچے کے عمدہ اخلاق کی ضمانت ہوا کرتے ہیں۔ جہاں ماں کی گود بچے کے لیے اوّل درس گاہ ہے، وہیں گھر کا ماحول شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کے ساتھ روا رکھا گیا برتاؤ ہی شخصیت میں جھلکتا ہے۔ والدین بچوں کی تربیت کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں، مگر وہ یہ بات اکثر بھول جاتے ہیں کہ اُن کے آپس میں برتے گئے کرخت رویّے لاشعوری طور پر بچوں کی زندگی پر بھی اثرانداز ہورہے ہیں۔ محققین کے مطابق اگر والدین آپس میں خوش نہ ہوں تو اس کا اثر براہِ راست گھٹنوں چلنے والے بچوں کی نیند پر ہوتا ہے۔
بچوں کے ماہر ڈاکٹر نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ماں باپ کو خاص خیال رکھنا چاہیے، کیوں کہ اُن کے کسی بھی غلط رویّے کا نہ صرف پچپن بلکہ ساری زندگی پر اثر رہتا ہے۔ آج کل سنِ بلوغت کو پہنچتے بچوں کی تربیت کے حوالے سے ہر شخص فکر میں ڈوبا نظر آتا ہے۔ چاہے اپنی زندگی میں کامیاب لوگ ہوں یا ماہر اسکالرز… والدین بچوں کے غیر معمولی رویّے سے بے حد مضطرب اور فکرمند دکھائی دیتے ہیں۔ تیرہ یا چودہ سال کی عمر میں جسمانی تبدیلیاں بھی بدلتے رویّے کی بڑی وجہ ہوتی ہیں جس کے باعث نفسیاتی تبدیلیوں کا ایک نمایاں اثر الجھنے، والدین سے دور ہوجانے یا گفتگو کم کردینے کا آتا ہے۔ نتیجتاً والدین روک ٹوک، کڑی تنقید اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگتے ہیں، اس طرح بچہ والدین سے دور ہوکر اپنے خول میں سمٹنے لگتا ہے، اور اکثر اوقات بری رفاقت اولاد سے محرومی کا باعث بنتی ہے۔ والدین کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ اس عمر میں بچوں کو سب سے زیادہ ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جو والدین بچوں کے ساتھ دوستی کا تعلق استوار کرتے ہیں، وہ تربیت کے مطلوبہ نتائج تک بآسانی پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ عمر دنیا کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی ابتدا ہوتی ہے، ایسے میں والدین کے سخت رویّے یا ڈانٹ کے خوف کے باعث وہ ان سے پوچھنے کے بجائے دوستوں سے غلط مشورے لینے لگتے ہیں۔ یہی دور بچے کی شخصیت اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے اس عمر میں ان کے ساتھ سمجھ داری، حوصلے، پیار اور تحمل و برداشت سے کام لینا والدین کے لیے انتہائی ضروری ہوجاتا ہے۔
تربیت مشق نہیں جسے آپ جلدی جلدی نمٹا دیں، نہ ہی کوئی پراجیکٹ ہے جسے بہترین انداز میں مکمل کرنا لازمی ہو۔ یہ تو کُل وقتی ذمے داری ہے۔ ایسا نہیں کہ اس طویل المدت مرحلے میں غلطیوں کی گنجائش نہیں، لیکن ان سے صرفِ نظر کرنا بڑے خسارے کا باعث بن سکتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بچے میں کوئی برائی ہے تو سب سے پہلے اس کے جذبات کو سننا ہوگا۔ درست نہ لگیں، تب بھی انہیں قبول کرنا ہوگا تاکہ وہ آپ کے سامنے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرسکے۔ باہمی اعتماد کا قائم ہونا ہی آپ کی پہلی کامیابی ہے۔ تربیت کے حوالے سے والدین حدود کے تعین کی ایک بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ آزادی کی حد پر بحث ہمارے معاشرے کا عمومی حصہ بن گیا ہے۔ اس معاملے میں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ آزادی دینا اور کچھ حدود متعین کرنا دونوں مختلف عنصر ہیں۔ سب سے پہلے تو والدین کو بچوں پر اپنا کردار واضح کرنا ہوگا۔ کیا بہتر ہے، یا ہم اجازت نہیں دے سکتے، آزادی اور حدود کی دو شدتیں ہیں۔ حدود کے ساتھ اپنی ذمے داری اور کردار کو بار بار واضح کرنا والدین کے فرائض میں شامل ہے، جس سے بالکل بھی غفلت نہیں برتی جاسکتی۔
یہ حقیقت ہے کہ مسلسل تناؤ اور ڈپریشن شخصیت کو مسمار کرنے کے اہم اوزار ہیں، خاص طور پر جب والدین چپقلش، رنجش اور تناؤ کا شکار ہوتے ہیں تو سب سے زیادہ تکلیف بچے کو اٹھانی پڑتی ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ آپس کے تنازعات بچوں سے ڈسکس کرنے لگتے ہیں۔ متواتر اس طرح کے رویّے سے بچے بالآخر اکتاہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں اور بغاوت سر اٹھانے لگتی ہے۔ اس ضمن میں ایک خاتون نے اپنا تجربہ بیان کیا کہ ان کے والدین ہمیشہ آپس کے معاملات علیحدہ کمرے میں حل کرتے، یہاں تک کہ عزیزوں سے ہونے والے دیگر مسائل بھی کبھی ان کے سامنے نہ لاتے، یہی وجہ ہے کہ رشتوں میں محبت و الفت اور عزت و تکریم آج بھی قائم و دائم ہے۔
انہوں نے گفتگو کو جوڑتے ہوئے مزید بتایا کہ انہوں نے بھی یہ اصول پوری زندگی اپنائے رکھا اور آج ان کی اولاد کے اخلاق کی تعریف سب کرتے ہیں۔ تربیت کرنا بلاشبہ جان جوکھوں کا کام ہے۔ والدین کی نیت پر قطعی شک نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کی تربیت و پرورش میں والدین بہترین وسائل بروئے کار لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ پھر بھی بے بس اور متفکر دکھائی دیتے ہیں۔ تراشنے والے کو یہی پتا نہ ہو کہ وہ کس شے کا متلاشی ہے، تو سوائے پتھر کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح بغیر آشنائی کے تربیت ہیرے کے بجائے پتھر تراشنے کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین تربیت کرتے ہوئے اعلیٰ خطوط سے آگاہی اور اس کا ادراک ضرور رکھیں، کیونکہ ’’بہترین بیج ہی پھل دار درخت پروان چڑھاتے ہیں۔‘‘

حصہ