میرے پیارے ابا۔۔۔!۔

222

مدیر اعلیٰ جسارت، سید اطہر علی ہاشمی کے ساتھ گزارے دنوں کی چند خوبصورت یادیں اور باتیں… بیٹی کے قلم سے!۔
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ صرف خونیں/ حقیقی رشتے ہی مضبوط اور پیارے ہوتے ہیں۔ منہ بولے رشتوں کی نہ تو کوئی حیثیت ہوتی ہے اور نہ ہی حقیقت و اہمیت۔ جبکہ میرے خیال میں رشتے ’’احساس‘‘ سے بنتے ہیں۔
محبت، شفقت، اخلاص، احساس، احترام اور مروت کی پاکیزہ خوشبوئوں سے مہکتا رشتہ کتنا مضبوط، انمول اور پیارا ہوتا ہے اس کا اندازہ کوئی عام انسان کبھی لگا ہی نہیں سکتا۔ میرا اور ابا کا رشتہ بھی ایسا ہی تھا۔ دل کے تاروں سے بندھا، روحوں میں بسا ایک بہت ہی خوبصورت تعلق۔
مئی 1998ء میں روزنامہ اردو نیوز جدہ کے ایک انعامی سلسلے میں شائع ہونے والی میری پہلی تحریر ابا سے تعارف کی وجہ بنی، اور انہوں نے مجھے مشورہ دیا… ’’بیٹا! اب لکھنا مت چھوڑنا‘‘۔
یوں میری ٹوٹی پھوٹی، اونگی بونگی تحریریں اردو نیوز میں چھپنے لگیں اور ہمارے درمیان تعلق کی نوعیت بھی وقت کے ساتھ بدلتی گئی… پہلے ہاشمی صاحب سے اطہر انکل بنے، اور پھر ایک دن کہنے لگے ’’بیٹا! بہت دن سے تم سے ایک بات کہنا چاہ رہا ہوں۔ بس یوں سمجھو اس میں میرے دل کی خوشی ہے۔ بڑی خواہش تھی کہ میری کوئی بیٹی ہوتی، اب تم سے مل کر یہ کمی پوری ہوتی محسوس ہورہی ہے… انکل کہنے میں کچھ خاص مزہ نہیں ہے۔ تم مجھے ابا کہا کرو‘‘۔
’’جی…!!!‘‘ میں تو نہال ہی ہوگئی۔ اتنے شفیق، نفیس اور مہربان انسان کے ساتھ ایسا پیارا تعلق بن جائے گا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ لیکن میری ’’جی‘‘ سے انہیں لگا کہ شاید میں نے مائنڈ کیا ہے، جلدی سے بولے:۔
’’دیکھو ناراض مت ہو، تمہارے ابا سے کوئی دوچار برس ہی تو چھوٹا بڑا ہوں گا ناں… تو تم مجھے ابا کہہ سکتی ہو… اگر کہنا چاہو تو…‘‘
’’نہیں ابا ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بس ڈن ہوگیا آج سے آپ میرے ابا ہیں اور میں آپ کی بیٹی… پر ایک مسئلہ ہے۔‘‘
بولے ’’وہ کیا؟‘‘
’’اوروں سے ایک ابا نہیں سنبھالے جاتے، میں دو دو کو کیسے بھگتوں گی؟‘‘
ہنس پڑے، کہا ’’ہاں بھئی یہ تو ہے۔ چلو اللہ مالک ہے جو ہوگا دیکھا جائے گا‘‘۔ اور پھر 22 سال 2 ماہ 6 دن کے اس تعلق میں انہوں نے مجھے وہی مان، اعتبار اور پیار دیا جو باپ بیٹی کے تعلق کو خوبصورت بناتا ہے۔ میرے لیے بھی وہ ہمیشہ بابا ہی کی طرح قابلِ احترام رہے (اور ہمیشہ رہیں گے)۔ میں اپنی ہر خوشی اور کامیابی دونوں (بابا اور ابا) سے ایک ہی دن شیئر کرتی، البتہ چھوٹی بڑی الجھنیں، پریشانیاں اور دفتری نوعیت کے مسائل صرف ابا ہی سے ڈسکس کرتی۔
خصوصاً پاکستان مستقل شفٹ ہونے کے بعد شروع کا کچھ عرصہ بہت مشکل تھا۔ یہاں کا ماحول، لوگ اور رویّے سب میرے لیے نئے تھے، ایسے میں ابا کی وجہ سے ہی میرے لیے یہاں ایڈجسٹ ہونا ممکن ہوا تھا۔ اگر کبھی کسی بات سے زیادہ پریشان ہوکر رونے لگتی تو کہتے:۔
’’بیٹا گھبرائو مت، سب ٹھیک ہوجائے گا ان شاء اللہ۔ تم جدے میں پلی بڑھی ہو ناں، اس لیے عادی نہیں ہو، ورنہ یہاں تو یہ سب عام بات ہے۔‘‘
پھر دیر تک اونچ نیچ سمجھاتے اور آخر میں کہتے:
’’بیٹا! یوں رویا نہ کرو، دیکھو تم پریشان ہوتی ہو، روتی ہو تو مجھے تکلیف ہوتی ہے‘‘۔
انہوں نے کبھی میری کسی تحریر کو باقاعدہ سامنے رکھ کر اصلاح نہیں کی تھی، میری تربیت اور زبان و بیان کی اصلاح کا ان کا انداز بڑا الگ سا ہوتا…
یوں ہی اِدھر اُدھر کی باتوں اور مثالوں سے بہت کچھ سمجھا جاتے، اور مجھے اپنی تحریر کی خامیاں اور غلطیاں پتا چل جاتیں۔ کبھی دورانِ گفتگو ایک دم ہی پوچھتے ’’اُس لفظ کا مطلب جانتی ہو؟‘‘ یا ’’اس لفظ کا صحیح تلفظ کیا ہوگا؟‘‘
اکثر کہتے ’’تم اپنے خیالات اور جذبات و احساسات کا کھل کر اظہار کیوں نہیں کرتیں…؟ ماشاء اللہ قلم پر تمہاری گرفت مضبوط ہے، جم کر لکھا کرو‘‘۔
شروع دنوں میں ایک بار میں نے پوچھا: ’’ابا آپ اتنا اچھا کیسے لکھتے ہیں؟‘‘
ہنس کے بولے: ’’قلم سے‘‘۔
ان کے انداز میں چھپی شرارت بھانپ کر پوچھا: ’’اچھا پھر تو بڑا خاص قلم ہوگا وہ…؟‘‘
’’ارے نہیں بھئی ایسا کچھ خاص بھی نہیں ہے، جو مل جائے اسی سے کام چلا لیتے ہیں‘‘۔
’’تو پھر ٹھیک ہے، اپنے قلم کو میرے قلم سے رگڑ دیں تاکہ وہ بھی ایسا ہی لکھنے لگے‘‘۔ میری بات سن کر ہنسے اور دعائیں دینے لگے۔
ایک بار میں نے پوچھا: ’’ابا! میں اپنی اُردو کو کیسے بہتر بنائوں؟‘‘
’’بہتر سے کیا مراد ہے؟‘‘
’’مطلب اہلِ زبان کے جیسی‘‘۔
’’بھئی ہمارے نزدیک جسے بھی اردو زبان پر کچھ عبور ہے وہ اہلِ زبان ہی ہے، اور تمہاری اردو تو ماشاء اللہ بہت اچھی ہے، لہجہ بھی صاف ہے… کچھ زیادہ کرنا چاہو تو اچھے اور بڑے مصنفین کی کتب اور معیاری رسائل و جرائد کے مطالعے کو معمول بنالو، لُغت دیکھ لیا کرو کافی ہے۔‘‘
اگر کبھی کہتی: ’’ابا! آپ مجھے باقاعدہ طور پر اپنی شاگردی میں لے لیں‘‘… تو ہنس کے کہتے… ’’ابے یار چھوڑو، شاگرد بہت ہیں، تم جو ہو بس وہی رہو‘‘۔
یہ الگ بات ہے کہ میں انہیں اپنا استاد مانتی اور سب کو ان سے اپنے اسی تعلق کا بتاتی بھی ہوں، جس پر اکثر وہ ناراض ہوتے اور کہتے تھے ’’تم ہمارے ساتھ تعلق کو چھپاتی کیوں ہو؟ بھئی! ہم تو خوشی سے سب کو بتاتے ہیں کہ تم ہماری بچی ہو… لیکن تمہیں شاید اچھا نہیں لگتا؟‘‘
’’نہیں ابا! ایسی بات نہیں ہے، مجھے بس شرم آتی ہے کہ سب کہیں گے اتنے نفیس، قابل انسان کی بیٹی ایسی نالائق اور نکمی ہے‘‘۔
کہتے ’’نہیں بھئی یہ تم اب زیادتی کررہی ہو۔ تمہاری اس بات سے ہمیں کچھ اختلاف ہے‘‘۔
’’تو آپ دُعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے اس قابل کردے کہ ایک دن میں فخر سے سر اُٹھا کے آپ دونوں کا ہاتھ پکڑ کر سب کو بتائوں کہ فوزیہ عباس جو کچھ ہے ان دونوں ’’ابائوں‘‘ کی وجہ سے ہے‘‘۔
’’ہاں بیٹا! اللہ تمہیں بہت سا عروج، کامیابی، ترقی اور خیرِ کثیر عطا کرے، تمہارے قلم اور تحریر میں تاثیر پیدا کرے‘‘۔ پھر ہنس کے کہتے ’’زیادہ شرم آتی ہو تو منہ پر نقاب ڈال کر بتادیا کرو، مگر بتایا کرو…‘‘
’’ابا… میرے پیارے ابا…!! آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں چیخ چیخ کر ساری دُنیا کو بتائوں کہ آپ میرے ابا ہیں… بابا ہی کی طرح قابلِ احترام اور عزیز ترین… آپ کی بے پناہ محبت، شفقت اور ڈھیروں دعائوں کا خزانہ جو آپ کھلے دل سے مجھ پر لٹاتے رہے، میری متاعِ حیات ہے… یہ آپ ہی تو ہیں (اللہ تعالیٰ کی توفیق اور والدین کی دعائوں کے بعد) جن کی مسلسل توجہ، رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے ایک عام سی کم علم لڑکی کو مدیرہ اور مصنفہ فوزیہ عباس بنایا۔ جسے قلم پکڑنے کا سلیقہ تک نہیں ہے آپ کی بے لوث، مقبول دعائوں کی بدولت اس کی تین کتابوں سے اسلام آباد کے ایک معروف، بڑے ہاسپٹل کے شعبہ نفسیاتی امراض میں استفادہ کیا جارہا ہے، اور بدلے میں آپ نے مجھ سے کبھی شکریہ تک قبول نہیں کیا تھا، کہتے: ۔
’’ارے بیٹا! جانے بھی دو، ہم نے کچھ نہیں کیا، یہ سب تو تمہاری اپنی محنت اور لگن ہے‘‘۔
ہاں میرے ابا ایسے ہی تھے… بے لوث، بے ریا، ہر قسم کی نمود و نمائش، تصنع و بناوٹ اور صلے و ستائش سے بے نیاز۔ Selfless، بہت سادہ اور معصوم، بردبار، باوقار، حلیم الطبع اور منکسر المزاج، خوش لباس و خوش گفتار، بڑے دل اور ظرف کے مالک۔ لفظوں، رشتوں اور جذبوں کا مان رکھنے والے۔ خود دار، حساس اور دلِ دردمند رکھنے والے… حرص و ہوس اور مادیت پرستی کی دوڑ میں ہانپتے لوگوں کے ہجوم میں وہ کامل یکسوئی، سکون و اطمینان اور مہربان دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ محبتیں، دعائیں اور علم بانٹتے رہے۔ جب دوسرے بڑے بڑے گھروں اور گاڑیوں کے حصول کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں وہ سب سے لاتعلق و بے نیاز اپنی محبت (اردو زبان) کی نوک پلک سنوارنے میں لگے رہے۔ جب ہر دوسرا شخص عہدے، اختیارات و تعلقات کے نشے میں مدہوش ہے وہ چپکے چپکے اپنی دائمی زندگی کی راہوں میں اعمالِ حسنہ کے پھول کھلانے اور چھوٹی بڑی نیکیوں کے چراغ جلانے میں مصروف رہے۔
ربّ تعالیٰ کے ان چنیدہ و پسندیدہ بندوں میں سے تھے جو خالق کی ’’چاہ‘‘ میں اس کی مخلوق کو ’’چاہتے‘‘ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں دینے والا بنایا تھا۔ سو وہ بے حد و بے حساب اور بلاتخصیص دیتے رہے، کسی کو شفقت تو کسی کو دعائیں… کسی کو علم تو کسی کو حوصلہ… غرض جو کوئی جس نیت، ارادے، طلب یا خواہش کے ساتھ ان کے پاس آیا، کچھ نہ کچھ لے کر ہی لوٹا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات کسی کو دائیں ہاتھ سے یوں دیا کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی… انہوں نے قوم کو بھی زبان کی اصلاح کے لیے ’’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘ جیسے مضامین کا خوبصورت تحفہ دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انگریزی کی ماری، رومن اُردو کی پروردہ نئی نسل پر ان کا یہ احسانِ عظیم ہے… اگر کوئی سمجھے، کوئی جانے تو… انہوں نے اپنے بچوں کے لیے تو شاید کوئی بڑا بینک بیلنس اور جائداد نہیں چھوڑی لیکن قوم کے بچوں کے لیے بہت کچھ چھوڑا ہے (جسے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے)۔
وہ علم کا سمندر تھے، جس سے ہر کوئی اپنے اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق سیراب ہوتا رہا۔
کون کہتا ہے منہ بولے رشتے کچھ نہیں ہوتے! ابا کے اور میرے تعلق میں تو ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔ اس سارے عرصے میں ایک بات مجھے ہمیشہ بہت حیران کرتی تھی۔ میں جب بھی (اور اکثر بلا ارادہ ہی) فون کرتی، میری آواز سنتے ہی کھل اُٹھتے… ’’ارے بیٹا کیسی ہو؟ میں ابھی تمہارے بارے میں ہی سوچ رہا تھا‘‘ یا ’’میں ابھی تمہیں ہی فون کرنے والا تھا‘‘۔ کبھی کہتے ’’بھئی کچھ دنوں سے تم یاد آرہی تھیں‘‘۔
میں کہتی ’’دیکھ لیں مجھے پتا چل جاتا ہے کہ آپ مجھے یاد کررہے ہیں۔ مگر جب میں یاد کرتی ہوں تب آپ تو مجھے فون نہیں کرتے؟‘‘
ہنس کے کہتے ’’تم ہماری طرح دل سے یاد نہیں کرتیں ناں…‘‘
کبھی زیادہ دن گزر جاتے تو اچانک فون آجاتا ’’بھئی کافی دنوں سے تمہاری آواز نہیں سنی تھی۔ میں نے سوچا اس سے پہلے کہ تم فون کرکے لڑو میں خود ہی اپنی خیریت بتادوں‘‘۔
شہر کے حالات کشیدہ ہوں، کوئی آندھی، طوفان یا زلزلہ آئے، یا بارشیں زیادہ ہوں، فون کرتے ’’بیٹا! ٹھیک ہو ناں؟ خبر سنتے ہی تمہارا خیال آیا۔ اللہ تمہیں سب گھر والوں سمیت اپنی امان میں رکھے‘‘۔ کبھی ملکی یا عالمی حالات پر بات ہوتی تو کہتے ’’بھئی ہم تو اُس وقت تک نکل لیں گے، تم بچوں کی فکر ہوتی ہے۔ اللہ تم سب کی حفاظت فرمائے‘‘۔ اکثر کہا کرتے تھے ’’جب بھی ان تینوں (اپنے بچوں) کے لیے دعا کرتا ہوں تو تمہارے لیے بھی کرتا ہوں، اور تمہاری وجہ سے تمہارے سب گھر والوں کو بھی ساتھ ہی لپیٹ لیتا ہوں‘‘۔
جب بھی دفتر کی طرف سے اسلام آباد آتے، گھر ضرور آتے، اور اکثر بغیر اطلاع کے آتے، اور پھر اچانک آکر میری حیرت اور خوشی سے دیر تک محظوظ ہوتے۔ کبھی ایک دو دن ٹھیر بھی جاتے۔ کہتے تھے ’’اسلام آباد آتے ہوئے ہمیں تو بس تم سے ملنے، تمہیں دیکھنے کی خوشی ہوتی ہے‘‘۔
جنوری 2016ء میں، میں شدید بیمار ہوگئی تھی تو سن کر بہت بے چین اور پریشان ہوئے، جلدی جلدی فون کرتے اور تفصیل سے سب پوچھتے۔ ایک بار کہنے لگے ’’بیٹا! خیال کرنا اب ہم بوڑھے ہوگئے ہیں، کچھ ایسا ویسا سہنا ذرا مشکل ہوجائے گا‘‘۔
۔2016ء ہی میں شاید آخری مرتبہ آئے تھے۔ شام کا وقت تھا، جیسے ہی میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی ایک دم اُٹھ کر تیزی سے میری طرف بڑھے، سر پر ہاتھ رکھا، پھر دونوں کندھوں سے تھام کر دیر تک کھڑے دعائیں دیتے رہے۔ میں آج تک ان کی اس حالت و کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی۔ وہ بہت گہرے، کمپوزڈ اور مضبوط شخصیت کے حامل انسان تھے، انہیں خود پر مکمل کنٹرول حاصل تھا، کمالِ خوبی کے ساتھ اپنی اندرونی کیفیات کو چھپا لیتے تھے… مگر میرے لیے وہ ایسے ہی تھے مجسم پیار، سراپا شفقت و محبت۔ اس سب کے باوجود اپنے اور میرے تعلق کے بیچ موجود شرعی حدود و قیود کا بھی انہوں نے ہمیشہ بہت خیال رکھا۔ سچ تو یہ ہے کہ لوگوں سے حقیقی/ خونیں رشتے نہیں نبھائے جاتے لیکن انہوں نے ایک منہ بولے رشتے کو برسوں یوں نبھایا کہ حقیقی رشتے بھی اس پر رشک کرتے ہیں، اور یہ صرف انہی کا کمال تھا۔ اس سب کے لیے میں اپنے رب کی بے انتہا احسان مند بھی ہوں اور شکر گزار بھی کہ اس نے مجھے وقت کے ایک عظیم انسان کی بے پناہ محبت و شفقت اور دعائوں سے نوازا۔
ابا… آپ کے ساتھ تعلق پر مجھے فخر تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ پہلی بار جب ایک معروف ادارے کی جانب سے ایک موضوع پر کتاب لکھنے کی بات چلی تو سن کر بہت خوش ہوئے… ’’بس بیٹا! اب یہ کام بھی کر ہی ڈالو‘‘۔
’’مگر میں ایسا نہیں کرنا چاہتی‘‘۔
۔بولے ’’کیوں بھئی کیا مسئلہ ہے؟‘‘؟
’’آپ میرے ابا ہیں، استاد ہیں، آپ کا علم، تجربہ اور قابلیت مجھ سے کہیں زیادہ ہے، آپ کی تو کوئی کتاب نہیں ہے اور میں کم علم، طفلِ مکتب، جسے قلم پکڑنا بھی نہیں آتا، کتاب چھپوا لوں… ابا مجھے شرم آتی ہے‘‘۔
’’ارے بیٹا! یہ تو تمہاری سعادت مندی ہے جو ایسا سوچ رہی ہو، ورنہ ایسی کوئی بات ہے نہیں۔ اور عام طور پر بچے والدین اور اساتذہ سے آگے نکل ہی جاتے ہیں۔ تمہاری کامیابی اور ترقی میری خواہش بھی ہے، دُعا اور خوشی بھی… انکار مت کرنا… شاباش‘‘۔
اور پھر ہر کتاب کی اشاعت پر دل سے خوش ہوتے اور دعائوں سے نوازتے (وہ دعائیں دینے اور علم بانٹنے کے معاملے میں کبھی بُخل سے کام نہیں لیتے تھے)۔
کچھ عرصے سے جب بھی بات ہوتی میری آنے والی کتاب کے بارے میں ضرور پوچھتے ’’کب تک آئے گی؟ کتنا کام ہوگیا ہے؟ رکاوٹ کیا ہے؟ پبلشر کون ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
اکثر کہتے ’’بھئی آج کل ہم تمہارے لیے ایک ہی دعا کثرت سے کرتے ہیں، اللہ تمہاری تحریر میں اثر پیدا کرے‘‘۔
جب میں نائب مدیرہ سے مدیرہ بنی تو انہوں نے مجھے ایک طویل خط لکھا جس میں تفصیل سے بہت کچھ سمجھانے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی تاکید کی کہ پرچے میں زبان کی صحت کا بطور خاص خیال رکھوں ،کیونکہ بچپن میں راسخ ہوجانے والی غلطیاں پھر عمر بھر ساتھ چلتی ہیں۔
کچھ عرصے قبل جب وہ بیمار ہوئے مجھے کوئی اطلاع نہیں تھی مگر کچھ بے چینی سی تھی، بار بار خیال آتا۔ دو تین بار فون کیا مگر رابطہ نہیں ہوسکا۔ ایک دن خود ان ہی کا فون آگیا ’’ہم نے سوچا تمہیں اپنی خیریت بتادیں‘‘۔
ان کی تکلیف کی تفصیل سن کر میں رو پڑی تو دیر تک سمجھاتے رہے۔ ’’ابا پلیز اپنا خیال رکھیں۔ جانی کو، بھائیوں کو آپ کی ضرورت ہے، اور مجھے بھی تو آپ کی شفقت اور دعائوں کی ابھی بہت ضرورت ہے‘‘۔
دعائیں دے کر بولے ’’فکر نہ کرو تمہیں تو ہم وہاں سے بھی دعائیں بھیجتے رہیں گے‘‘۔
’’ابا…!!!!‘‘۔
’’ارے بھئی جانا تو ایک نہ ایک دن سب کو ہے ناں۔ دُعا یہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ چلتے ہاتھ پائوں کے ساتھ اُٹھالے، کسی کا محتاج نہ کرے‘‘۔
بہت عرصے سے ان کا معمول تھا عیدین کے موقع پر صبح نماز پڑھ کر آتے تو فون کرتے تھے، اِس مرتبہ خلافِ معمول فون نہیں آیا۔ 4اگست کی رات میں نے فون کیا: ’’ابا کیسے ہیں؟‘‘
’’بس بیٹا زیادہ نہیں تھوڑی سی طبیعت خراب ہے، لیکن تم پریشان نہ ہو، اِن شاء اللہ ٹھیک ہوجائوں گا‘‘۔
’’کیا ہوا ہے؟‘‘
’’کچھ کمزوری محسوس ہورہی ہے، کل تو دفتر چلا گیا تھا مگر آج گھر پر ہی ہوں‘‘۔
میں دیر تک ان کی طبیعت کا پوچھتی رہی، پھر موضوع بدل کر بولے: ’’پریشان نہ ہو بیٹا، بس دعا کرو، دیکھو پہلے بھی تو ٹھیک ہوگیا تھا ناں۔ سنائو عید کیسی گزری۔ سنا ہے خوب بارشیں برس رہی ہیں؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ایک لمحے کے لیے بھی اپنی کسی تکلیف کا احساس نہیں ہونے دیا۔ کسے خبر تھی کہ یہ کمزوری بے سبب نہیں، مسافر رختِ سفر باندھ کر کوچ کی تیاری میں ہے۔ وہ مردِ درویش کہ جس نے اپنی پوری زندگی ہر طرح کی دنیاوی ترغیبات اور آلائشوں سے دامن بچاکر بہت عزت، وقار اور شان سے گزاری تھی، بالآخر 6 اگست 2020ء بروز جمعرات، صبح 5 بجے اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا اور دلی خواہش (جس کا اظہار وہ اکثر ہی کرنے لگے تھے) کچھ یوں پوری کی کہ پاس لیٹے صارم کو بھی پتا نہیں چلا اور فرشتۂ اجل بہت پیار اور آرام کے ساتھ ہاتھ تھام کر اس ’’سعید روح‘‘ کو ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ جنت میں بسانے کے لیے لے گیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
بظاہر علم و ادب اور صحافت کے اُفق کا آفتاب اپنا سفرِ حیات تمام کرکے رضائے الٰہی سے غروب ہوگیا ہے۔ تہذیب، شائستگی اور بلند اخلاق و کردار کا حامل پیکر، لاکھوں ذہنوں کی آبیاری کرنے والا استاد، حق گوئی و بے باکی کا علَم بردار صحافی، اسلام اور پاکستان سے سچی محبت کرنے اور 44 سال تک جہاد بالقلم کا حق ادا کرنے والا جری مجاہد آسودۂ خاک ہوگیا ہے۔ ایک عہد، کتابِ زیست کا ایک زریں باب اختتام پذیر ہوگیا… مگر وہ ہم سب کے دلوں اور دُعائوں میں زندہ رہیں گے۔ ان کا نام اور کام اردو ادب و صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا اور بارگاہِ خداوندی سے بھی سندِ قبولیت پائے گا (ان شاء اللہ)۔
فرخ آنٹی کہتی ہیں: اطہر بھائی کے دوست، کولیگ اور شاگرد بچوں سے کہتے ہیں ’’یہ آپ کا نہیں ہمارا نقصان ہے‘‘۔
ان سب کی محبتیں اور جذبات قابلِ قدر ہیں، مگر جلد یا بدیر نئے دوست، کولیگ اور استاد بن جائیں گے۔ مدیر اعلیٰ کی کرسی بھی کسی کو مل ہی جائے گی کہ یہی دستورِ دنیا اور قانونِ قدرت ہے۔
لیکن جو کمی جانی کی زندگی میں آگئی ہے… جو محرومی صارم کو عمر بھر تڑپائے گی… حماد اور فواد اب دل کی بات کس سے کریں گے؟ اسمارا اور عارب کو اب کبھی دادا کی شفقت نہیں مل سکے گی، اس سب کا کیا…؟
اور جو میں نے کھویا ہے اس کا بدل بھی بھلا کب ممکن ہے…!
ابا…! آج میرے گرد بندھا آپ کی دعائوں کا مضبوط حصار ٹوٹ گیا ہے۔ میں اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کو آج صحیح الفاظ میں بیان نہیں کر پارہی۔ قلم پر میری گرفت کمزور پڑگئی ہے۔ ایک جملہ تک درست نہیں لکھ پارہی، اور ذہن مائوف، خیالات منتشر، الفاظ گم اور قلم لکھنے سے انکاری ہے۔ لکھ لکھ کر پھاڑتی ہوں۔ کچھ بھی آپ کے شایانِ شان نہیں لگ رہا۔
ابا…!! میں نے قلم کے تقدس اور لفظوں کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھنا آپ ہی سے سیکھا ہے۔ میں آپ کی دعائوں، محبتوں اور شفقتوں کا قرض تو نہیں چکا سکتی، ہاں مگر اتنا ضرور ہے کہ آج سے میرے قلم سے لکھا جانے والا ایک ایک حرف آپ کے نام ہوگا ان شاء اللہ۔
اللہ مجھے اور میرے قلم کو آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
ابا…!!! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر۔ میری دعا ہے کہ وہ ربّ رحیم و کریم آپ کی ابدی آرام گاہ کو جنت کے باغوں میں سے ایک وسیع مہکتا ہوا باغ بنادے۔ جیسی باوقار اور کامیاب زندگی آپ نے یہاں گزاری ہے اس سے بڑھ کر اعلیٰ و ارفع مقام، قرب ِخداوندی اور جنت کی نعمتیں وہاں آپ کا مقدر ہوں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو۔ آمین ثم آمین۔

حصہ