فلسطین اور ہمارا طرزِ عمل

38

عزیز ساتھیو! کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ کس قدر پُرفتن دور ہے! مسلمان کس قدر نسل کشی کا شکار ہیں۔ فلسطین وہ ملک ہے جہاں ہمارا قبلۂ اوّل بیت المقدس موجود ہے۔ وہ بہت مشکل دور سے گزر رہا ہے اور طویل عرصے سے یہودیوں کے ناپاک عزائم کا نشانہ بن رہا ہے۔
بیت المقدس وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیائے کرام کی امامت کی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے ساڑھے چودہ سال تک اسی طرف رخ کرکے نماز ادا کی۔ آج وہ وقت ہے کہ یہ نہایت عظمت و احترام والی جگہ ہمارے ہاتھوں سے نکل رہی ہے اور ہم خاموش تماشائی بنے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔
یہ مسئلہ آج کا نہیں ہے، یہ ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے، جو صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہودی فلسطین کے اصلی باشندے نہیں ہیں، یہ تیرہ سو برس قبل مسیح میں اس علاقے میں داخل ہوئے اور دو صدیوں کی مسلسل کوشش کی وجہ سے یہاں قابض ہوگئے۔ پھر ایسا وقت بھی آیا کہ یہودیوں کا فلسطین میں داخلہ بھی ممنوع تھا اور اسلام کی آمد سے قبل یہاں عرب نسل آباد تھی۔ لیکن آج بھی یہودیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ فلسطین ان کے باپ دادا کی زمین ہے جو خدا نے انہیں عطا فرمائی ہے۔ اسی طرح یہودی کے بچے بچے کے دماغ میں یہ بات بیس صدیوں سے بٹھائی جارہی ہے کہ فلسطین تمہارا ہے اور ان کا نصب العین اسے واپس لینا اور بیت المقدس میں ہیکلِ سلیمانی تعمیر کرنا ہے۔
یہودیوں نے فلسطین میں باقاعدہ ظلم کا آغاز ایسے کیا کہ انہوں نے عربوں کو نسل کُشی کا نشانہ بنانا شروع کیا، عربوں کو بے گھر کردیا گیا اور یہودیوں کو پوری دنیا سے فلسطین بھجوا دیا گیا۔ ان سب معاملات میں مغربی ممالک نے یہودیوں کی مدد کی۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم یہ کی کہ فلسطین کا 55 فیصد رقبہ 33 فیصد یہودی آبادی کو دیا گیا، اور 45 فیصد رقبہ 67 فیصد عرب آبادی کو دیا گیا۔ یہ تھا اقوام متحدہ کا انصاف! حالانکہ اُس وقت تک فلسطین کی زمین کا صرف 6 فیصد حصہ یہودیوں کے قبضے میں تھا اور یہودیوں کا یہ کہنا تھاکہ فلسطین کو اسرائیلیوں کا ملک تسلیم کرلیا جائے۔
یہودیوں کاThe Greater Israel بنانے کا خواب آج تک پورا نہ ہوسکا، لیکن وہ اس کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے تیزی سے اس پر کام کررہے ہیں۔ وہ اپنے مسیح کا انتظار کررہے ہیں کہ جب وہ آئے گا تو مسجد اقصیٰ کو شہید کرکے اس کی جگہ ہیکلِ سلیمانی تعمیر کریں گے۔ واضح رہے کہ مسلمان اور عیسائی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا مسیح مانتے ہیں لیکن یہودی ان کا انکار کرتے ہیں۔
وہ ابھی تک اپنے مسیح موعود کا انتظار کررہے ہیں، یہ وہی ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح دجال قرار دیا ہے۔ آج ہم دیکھیں تو ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی پوری ہوتی نظر آرہی ہے،Greater Israel تیزی سے بن رہا ہے۔ ہمارے اسلامی ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب نے اسرائیل سے بائیکاٹ کا قانون ختم کردیا ہے۔ اب ذرا غور کریں کہ ماضی میں یہودیوں نے عربوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اور آج وہ ان کی حمایت کررہے ہیں! شاید وہ اپنے ساتھ کی گئی تمام زیادتیوں کو بھلا چکے ہیں یا پھر ان میں غیرت بالکل ہی باقی نہیں رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارک کا مفہوم ہے کہ ’’مجھے عرب سے کوئی امید نہیں، مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں محسوس ہورہی ہیں‘‘۔ اور مشرق میں پاکستان، بھارت اور افغانستان آتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ یہ تو ہمارے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے، یعنی ان شاء اللہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم تو اس سارے معاملے سے بالکل لاعلم بنے بیٹھے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل ان سب باتوں میں دل چسپی ہی نہیں لیتی۔ اب سوچ لیں کہ ہمیں کھڑے ہونا ہے اپنے دین کے لیے،کیوں کہ جو ہونا ہے وہ تو ہوکر رہے گا، لیکن ان سب معاملات میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے، یہ بات قابلِ غور ہے۔ اگر ہم خاموش تماشائی بنے رہے تو ہم میں اور کسی یہودی نصرانی میں کوئی فرق باقی نہ رہے گا۔
بقول قائد اعظم محمد علی جناح ’’اسرائیل مسلم دنیا کے سینے میں گھونپا ہوا ایک خنجر ہے۔‘‘

حصہ