سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ مجدد دوراں

130

آخری قسط
تفصیل یہ ہے کہ غلام احمد پرویز نے نیا شوشا چھوڑا کہ ’’احادیث‘ قرآن کے خلاف عجمی سازش ہیں، اور یہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو سو سال بعد مرتب ہوئی ہیں، لہٰذا یہ ناقابلِِ اعتبار ہیں۔‘‘ ابتدا میں وہ خود کو قائداعظم اور علامہ اقبال کا شیدائی اور ان کے طریق پر کاربند ظاہر کرتے ہوئے اپنے گرد معتقدین کا حلقہ قائم کرچکا تھا، اس لیے اس فتنے کو فوری طور پر پہچاننا مشکل ہوا، مگر جب غلام احمد پرویز نے اپنے آپ کو اہلِ قرآن کہنا شروع کیا اور کھل کر اپنے عقائد کا پرچار کیا، تو معلوم ہوا کہ وہ نہ صرف منکرِ حدیث ہے بلکہ منکرِ قرآن بھی ہے، کیوں کہ اس نے قرآنی آیات کے معانی و مفاہیم کو اصل سے ہٹاکر اپنی مرضی کا مفہوم پہنایا۔
فتنہ انکارِ حدیث کی بنیاد اور ڈانڈے ’’فرقہ معتزلہ‘‘ سے ملتے ہیں۔ اس فرقے نے عقل کو شریعت کے تابع کرنے کے بجائے شریعت اور امورِِ شرعیہ کو عقل کے تابع کردیا۔ اس فرقے کے ظہور سے قبل پہلی صدی تک امت احادیثِ صحیحہ کو قابلِ حجت سمجھتی تھی، فتنہ انکارِ حدیث پہلی صدی کے بعد کی پیداوار ہے۔
یہ فتنہ ایک بار پھر شدت کے ساتھ تیرہویں صدی ہجری میں اٹھایا گیا، مگر اِس بار سلوگن اور انداز جدا تھا۔ یہ فتنہ اِس بار دین کو عقل کے تابع کرنے کی اساس پر ظہور پذیر ہوا۔ اس طرح تیرہویں صدی میں’’نیچری‘‘ تحریک کا آغاز دراصل معتزلہ کی نشاۃ ثانیہ تھی۔ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں یہ فتنہ برصغیر ہند و پاک میں سر اٹھا چکا تھا۔ مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کے مطابق ’’بیسویں صدی کے آغاز میں جب مسلمانوں پر مغربی اقوام کا سیاسی و نظریاتی تسلط بڑھا تو کم علم مسلمانوں کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آیا جو مغربی افکار سے بے حد مرعوب تھا اور سمجھتا تھا کہ مغرب کی تقلید کے بغیر دنیا میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ لیکن اسلام کے بہت سے احکام اُس کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اس لیے اُس نے اسلام میں تحریف کا سلسلہ شروع کیا تاکہ اسے مغربی افکار کے مطابق بنایا جاسکے، اسی لیے اس طبقے کو ’’اہلِ تجدد‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں سرسید احمد خان، مصر میں طہٰ حسین، ترکی میں ضیا گوک اس طبقے کے بانی تھے۔ اس طبقے کے مقاصد اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے تھے جب تک کہ حدیث کو راستے سے نہ ہٹایا جائے۔
اسکندر مرزا کے دورِ حکومت میں 1958ء میں انٹرنیشنل تعلیمی سیمینار لاہور میں منعقد ہوا تھا جس میں تمام اسلامی ملکوں کے اربابِِ علم موجود تھے۔ اس سیمینار میں غلام احمد پرویز کے مقالات سامنے آئے تو مصری، شامی اور مغرب کے تمام اہلِ علم نے ان کے خلاف متفقہ آواز اٹھائی کہ یہ صریح کفر ہے اور اسلام کے نام پر یہ صریح کفر قابلِ برداشت نہیں۔ اس موقع پر غلام احمد پرویز کی جو رسوائی ہوئی وہ بھی اپنی نظیر آپ تھی، جس کی وجہ سے اسکندر مرزا کا سارا کھیل ناکام رہا اور اس طرح پاکستان کے لاکھوں روپے غارت ہوگئے۔ اس ناکامی کے بعد امریکن فاؤنڈیشن کمیٹی نے فوراً دوسرا تعلیمی سیمینار کراچی میں منعقد کرایا، لیکن اسے بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ یعنی انگریز سازشیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ پرویزی خیالات کو پاکستان میں قبولِ عام مل سکے، مگر الحمدللہ ایسا نہ ہوسکا۔ منکرینِ حدیث کے فتنے کے سلسلے میں جہاں دیگر علمائے کرام کی کوششیں قابلِ قدر ہیں، وہیں مولانا مودودیؒ کی کوششیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ اس فتنے کی بیخ کنی میں مولانا مودودیؒ کی کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ اور ’’رسائل و مسائل‘‘ (5جلدیں) میں مولانا مودودیؒ نے منکرینِ حدیث کے اعتراضات کے علمی و عقلی جواب دیے ہیں۔ حدیث وسنت کی قانونی اور شرعی حیثیت کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی لکھتے ہیں:
’’مولانا مودودیؒ نے منکرینِ حدیث کے دلائل کے جواب میں ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ نامی کتاب لکھی جس میں نظامِ دین میں حدیث اور سنت کی حیثیت اور مقام، اور منکرینِ حدیث کے دلائل کا بھرپور جواب دیا ہے۔ اسی طرح ترجمان القرآن کے ’’منصب رسالتؐ نمبر‘‘ کی اشاعت کروائی گئی۔‘‘ (سید مودودی کا علمی ذخیرہ۔ تحقیق: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی)
چوں کہ احادیث میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ایسی مفصل ہدایات موجود ہیں جو مغربی افکار سے صریحاً متصادم ہیں، اس لیے اس طبقے کے بعض افراد نے حدیث کو حجت ماننے سے انکار کیا۔ یہ آواز ہندوستان میں سب سے پہلے سرسید احمد خان اور اُن کے رفیق مولوی چراغ علی نے بلند کی، لیکن انہوں نے انکارِ حدیث کے نظریے کو علی الاعلان اور وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کے بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ جہاں کوئی حدیث اپنے مدعا کے خلاف نظر آئی اُس کی صحت سے انکار کردیا خواہ اس کی سند کتنی ہی قوی کیوں نہ ہو، اور ساتھ ہی کہیں کہیں اس بات کا بھی اظہار کیا جاتا رہا کہ یہ حدیث موجودہ دور میں حجت نہیں ہونی چاہیے، اور اس کے ساتھ بعض مقامات پر مفید مطلب احادیث سے استدلال بھی کیا جاتا رہا۔ اس ذریعے سے تجارتی سود کو حلال کیا گیا، معجزات کا انکار کیا گیا اور بہت سے مغربی نظریات کو سندِ جواز دی گئی۔
مولوی عبدالحق چکڑالوی، اسلم جیراج پوری، نیاز فتح پوری اور بالآخر غلام احمد پرویز نے بھی اس فتنے کو مستقل تحریک اور مکتبِ فکر کی شکل دے دی۔ انہوں نے اپنے کئی خیالات کی اشاعت کے لیے پاکستان میں اپنے سرکاری اثر رسوخ کا خوب استعمال کیا۔ جدید تعلیم یافتہ لوگ کسی درجے میں ان کے اردگرد جمع ہوگئے۔ پرویز نے اپنے اس مؤقف پر ادبی انداز میں خاصا لٹریچر مہیا کیا۔ پہلے اس خیال کے لوگوں کو چکڑالوی کہا جاتا تھا، اب انھیں پرویزی کہتے ہیں۔ (حوالہ مضمون: ’’ایک خطرناک فتنہ‘‘۔ مضمون نگار سید احمد، ہندوستان)۔
مولانا مودودیؒ اور امام ابن تیمیہؒ کے دور میں فتنوں کی نوعیت ایک جیسی ہی تھی؟ یا پھر ان میں کچھ فرق بھی موجود تھا؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے مولانا خلیل الرحمن چشتی صاحب نے بہت احسن انداز میں رہنمائی کی ہے۔ ملاحظہ کیجیے
’’دونوں مجدد ہیں۔ ایک نے حنبلی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ دوسرے نے حنفی ماحول میں۔ دونوں نے اپنے پس منظر سے اوپر اٹھنے اور اٹھانے کی کوشش کی۔ تفردات دونوں کے ہاں ہیں۔ دونوں نقاد ہیں۔ دونوں کی کتابیں پڑھ کر آدمی اپنے آپ کو اور دنیا کو بدلنے کا عزم پیدا کرلیتا ہے۔ امام کے زمانے کے فتنے اور تھے، مولانا کے زمانے کے اور۔ مولانا نے دین کو ایک نظام کے طور پر پیش کیا۔
امام کے زمانے میں تاتاری فتنہ تھا، تصوف اور تشیع کی نیرنگیاں تھیں، حشاشین تھے، یونانی فلسفہ تھا، تقلیدِ جامد تھی۔ امام کے سامنے متشدد حنفی، بریلوی، نیشنلسٹ، دیوبندی اور متشدد اہلِ حدیث نہیں تھے۔
مولانا کے زمانے میں پرویزیت تھی، قادیانیت تھی، قومیت تھی، کمیونزم تھا، کیپٹلزم تھا، جدید معاشی نظریات تھے، استعمار تھا، انگریزوں کی حکومت اور دو بڑی عالمی جنگیں مولانا نے دیکھیں۔ ہر شخص اپنے زمانے سے الگ نہیں ہوسکتا۔ غرض بعض اعتبارات سے وہ ایک دوسرے سے کم تر اور بعض اعتبارات سے ایک دوسرے پر فائق تھے۔ البتہ ایک تحریک برپا کرنا یہ الگ کارنامہ ہے۔‘‘
مولانا کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’خلافت وملوکیت‘‘ پر بہت تنقید ہوئی۔ اس تنقید پر محمد انس فلاحی سنبھلی صاحب رقم طرا ز ہیں ’’وقفے وقفے سے ’’خلافت و ملوکیت‘‘ نامی تصنیف پر بحث چھڑ جاتی ہے۔ بحث نئی ہوتی ہے نہ دلائل نئے ہوتے ہیں، البتہ لوگ ضرور نئے آجاتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے افکار و نظریات پر نقد وتنقید اس سے قبل بارہا ہوچکی ہے، اس کے لیے باقاعدہ شعبے قائم کیے گئے،کتابیں لکھی گئیں، پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔ علمی نقد جس کی ضرورت تھی، وہ خوب ہوا۔بہرحال اس کی ضرورت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ علمی نقد ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے اپنی کتاب ’’تحریک جماعتِ اسلامی… ایک تحقیقی مطالعہ‘‘، مولانا علی میاں ندوی ؒ نے ’’عصرِ حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح‘‘، مولانا منظور نعمانیؒ نے ’’مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت‘‘، اور مولانا وحید الدین خان نے’’تعبیر کی غلطی‘‘ میں کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تنقیدیں باوزن سمجھی گئیں۔
مولانا مودودیؒ کے دفاع میں بھی بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سب سے اہم مولانا عامر عثمانیؒ کی کتابیں ’’جماعتِ اسلامی کا جائزہ‘‘، ’’تجلیاتِ صحابہ‘‘ (خلافت و ملوکیت کے اعتراضات کے جواب میں)،’’تفہیم القرآن پر اعتراضات کی علمی کمزوریاں‘‘(مرتب سید مطہر نقوی امروہوی) ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا ملک غلام علیؒ کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ‘‘، مولانا مفتی محمد یوسف کی ’’مولانا مودودیؒ پر اعتراضات کا علمی جائزہ‘‘ (دو جلدیں)، اور مولانا سید حامد علی ؒ کی کتاب ’’قرآنی اصطلاحات اور علمائے سلف وخلف‘‘۔ یہ کتابیں فکرِ مودودی ؒ کی وضاحت کے لیے علمی انداز میں لکھی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مولانا مودودیؒ کی شخصیت پر بھی بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مولانا یوسف بھٹہ کی ’’مولانا مودودیؒ اپنی اور دوسروں کی نظر میں‘‘، ’’تذکرہ سید مودودی ؒ‘‘ (مرتب: مولانا خلیل احمد حامدی)، ’’ابوالاعلیٰ مودودیؒ… علمی و فکری مطالعہ‘‘ (مرتبین رفیع الدین ہاشمی، سلیم منصور خالد)، سید حمیرہ مودودی کی ’’شجر ہائے سایہ دار‘‘، ترجمان القرآن کے دو خصوصی شمارے (مطبوعہ: نومبر2003ء، مئی2004ء)، اور علامہ یوسف القرضاوی کی کتاب’’نظرات فی فکر الإمام المودودی ؒ‘‘ ترجمہ: ’’امام مودودیؒ ایک مصلح، ایک مفکر، ایک مجدد‘‘ (مترجم: ابوالاعلیٰ سید سبحانی) مولانا مودودیؒ کی شخصیت اور کردار کو جاننے اور سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔
خود صاحبِ تصنیف مولانا مودودیؒ اس کتاب کی وجہِ تصنیف اور موضوعِ تصنیف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں’’آج جو لوگ بھی علمِ سیاست کے سلسلے میں اسلامی نظریۂ سیاست کا مطالعہ کرتے ہیں، ان کے سامنے ایک طرف تو وہ نظامِ حکومت آتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں قائم تھا، اور دوسری طرف وہ بادشاہی نظام آتا ہے جو بعد کے ادوار میں ہمارے ہاں چلتا رہا۔ وہ دونوں کے درمیان اصول، مقاصد، طریقِ کار اور روح ومزاج کا نمایاں فرق محسوس کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ان دونوں کی یکساں اطاعت کی ہے، دونوں کے تحت جہاد ہوتا رہا ہے، قاضی احکامِ شریعت نافذکرتے رہے ہیں، اور مذہبی وتمدنی زندگی کے سارے شعبے اپنی ڈگر پر چلتے رہے ہیں۔ اس سے لازماً سیاست کے ہر طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصل اسلامی نظریۂ سیاست کیا ہے؟ کیا یہ دونوں بیک وقت اور یکساں اسلامی نظام ہیں؟ یا اسلامی نقطۂ نظر سے ان کے درمیان کوئی فرق ہے؟ اور اگر فرق ہے تو ان دونوں کے تحت مسلمانوں نے جو بظاہر ایک سا طرزعمل اختیار کیا ہے اس کی کیا توجیہ ہے؟ میں سمجھتا کہ دماغوں کو ان سوالات پر سوچنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے، اور ان کا جواب آخر کیوں نہ دیا جائے۔‘‘
’’خلافت و ملوکیت‘‘کے تعلق سے مدیرِ ’’تجلّی‘‘ مولانا عامر عثمانی ؒ کی رائے کا تذکرہ بے سود نہیں ہوگا۔ مولانا عامر عثمانی ؒ اس طرح روشنی ڈالتے ہیں:
’’میں نے بیشتر لوگوں کو دیکھا، وہ مولانا مودودیؒ کی کتاب ’’خلافت وملوکیت‘‘ کی آڑ میں ان پر اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں انہوں نے اس کتاب میں صحابہؓ کی توہین کی ہے۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کتاب آپ نے پڑھی ہے؟ پتا چلتا ہے کہ کتاب پڑھنا تو دور، دیکھی بھی نہیں ہے، صرف سنی سنائی باتوں کو ہی کسی شخصیت کو مجروح یا مقبول کرنے کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔‘‘
بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے آتے آتے مولانا مودودیؒ اسلامی دنیا کے متفق علیہ مفکر، قائد، مربی اور بلند کردار انسان کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ مولانا زندگی کے طویل سفر سے تھک چکے تھے، اپنے ایک ایک لمحے کو دین کی ترویج کے کاموں کے انجام دینے میں اور اپنے آپ کو مستقل مصروف رکھنے کے سبب سارے اعضا جواب دیتے جارہے تھے۔ آپ خرابیِ صحت کی بنا پر 31 سال 2 ماہ اور 8 دن کی طویل امارت کے بعد 4 نومبر 1972ء کو جماعت کی امارت سے علیحدہ ہوگئے اور اب اپنی تمام تر توجہ تصنیف و تالیف پر مرکوز کردی۔ تیس سال کی شبانہ روز محنت کے بعد اپنی عالمگیر شہرت کی حامل تفسیر تفہیم القرآن مکمل کی۔
1979ء آپ کی زندگی کا آخری سال تھا، اُس وقت شاہ خالد نے شاہ فیصل فائونڈیشن کا سب سے پہلا ایوارڈ مولانا کو دینے کا فیصلہ کیا۔ آپ صاحبِ فراش تھے، آپ کی جگہ مولانا خلیل الحامدی اور صاحبزادے حسین فاروق مودودی نے سعودی دارالحکومت ریاض میں 28 فروری 1979ء کو یہ ایوارڈ وصول کیا۔ اور خطیر رقم (دو لاکھ سعودی ریال) جو اس ایوارڈ کے سلسلے میں دی گئی، وہ تمام کی تمام آپ نے ادارہ معارف اسلامی کو وقف فرمادی۔
اس تقریب میں شاہ خالد نے اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا’’مولانا وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے آغازِ شباب سے اب تک ایک طویل جہاد کیا ہے، پوری دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص اسلامی قوانین کے غلبہ و نفاذ کے لیے کامیاب کوششیں کی ہیں، انہوں نے ایک ہمہ گیر تحریک کی بنا ڈالی جو ان کے پروگرام کو لے کر چل اٹھی ہے۔ ان کا لٹریچر پوری دنیا میں پھیل رہا ہے، احیائے اسلام کی تحریک پوری دنیا میں اٹھ کھڑی ہوئی ہے جو بڑی حد تک مولانا مودودی کے ہی کام کا نتیجہ ہے‘‘… مزید یہ کہ ’’مولانا کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ تنہا شاہ فیصل فائونڈیشن نے نہیں کیا، بلکہ ایوارڈ کمیٹی نے دنیا بھر سے 500 سے زائد مسلم تنظیموں اور شخصیا ت کو ایک سوالنامہ ارسال کیا اور رائے طلب کی تھی کہ پہلا شاہ فیصل ایوارڈ کسے دیا جائے؟ 90 فیصد اداروں اور شخصیات کا ایک ہی جواب تھا کہ صرف اور صرف سید ابوالاعلیٰ مودودی ہی اس کے حق دار ہیں۔‘‘
(حوالہ: عبدالحفیظ رحمانی۔ ’’سید مودودی ایک جامع تعارف‘‘۔ دارالعرفان۔ تامل ناڈو۔ صفحہ نمبر 79)
یہ سال آپ کی زندگی کا آخری سال ثابت ہوا۔ 1979ء میں سید مودودیؒ کے گردے اور قلب میں تکلیف ہوئی، آپ کے بڑے صاحب زادے نے جو امریکا میں بطور معالج ملازمت کررہے تھے، آپ کو امریکا بغرضِ علاج بلوایا۔ وہاں آپ کے دو ایک آپریشن بھی ہو ئے، مگر طبیعت سنبھل نہ سکی۔ 76 برس کی عمر میں 22 ستمبر 1979ء کو آپ اس دارِ فا نی سے کوچ فرماگئے۔
آپ کا پہلا جنازہ بفیلو، ریاست نیویارک میں پڑھا گیا، اور پھر آپ کا جسدِ خاکی پاکستان لایا گیا اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں آپ کا جنازہ قطر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، سابق صدر اخوان المسلمون شام علامہ یوسف القرضاوی نے پڑھایا۔
مولانا بلاشبہ بیسویں صدی کے مؤثر ترین اسلامی مفکرین میں سے ایک تھے۔ ان کی فکر، سوچ اور ان کی تصانیف نے پوری دنیا کی اسلامی تحاریک کے ارتقا میں گہرا اثر ڈالا اور بیسویں صدی کے مجددِ اسلام ثابت ہوئے۔

حصہ