سیانا ببلو

117

جنگل کا شیر تھوڑا غصے والا تھا سارے جانوروں کو بلاوجہ ڈانٹتا رہتا تھا اور سب سے بہت زیادہ کام کرواتا سارے جانور اس کے اس رویے سے پریشان رہتے تھے ایک دن جنگل میں شیر بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا بادشاہ جانوروں کے مسائل سن رہا تھااور سب سے برے طریقے سے پیش آ رہا تھا ۔کسی کی بات سنتا اور کسی کو لات مار کر چلتا کر دیتا، سب جانور ڈرے سہمے اس کے آس پاس بیٹھے ہوئے ۔سب سے آخر میں جب چیونٹی کی باری آئی تو اس نے ڈرتے ڈرتے عرض کی “بادشاہ سلامت میرا چھوٹا بیٹاتھوڑا بدتمیز ہے آپ اسے ادب سے پیش آنا سکھا دیجیے کیوں کہ آپ جنگل کے بادشاہ ہیں تو آپ سے بہتر یہ کام کوئی اور نہیں کرسکتا میں کل صبح اسے آپ کے پاس بھیج دوں گی”، یہ کہہ کر چیونٹی خاموش ہوگئی ۔شیر نے دل ہى دل میں سوچا کہ وہ تو جنگل میں سب سے بڑا ہے ليکن پھر بھی اس نے کبھی کسی کا ادب کیا ہی نہیں، اسے تو ادب کرنا نہیں آتا۔ اسے فکر ہوئى کہ بھلا وہ کيسے چیونٹی کے چھوٹے بیٹے کو ادب کرنا سکھائے گا۔ سب جانوروں کے سامنے میری بےعزتی کے ڈر سے شیر نے چیونٹی سے حامی بھر لی۔
اگلے دن صبح چیونٹی کا چھوٹا بیٹا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا ۔اپنی عادت کے مطابق شیر بادشاہ نے اس سے زوردار آواز میں کہا”تم اتنی دیر سے کیوں آئے ہو اور تمہارا نام کیا ہے؟”،وہ شیر کی غصیلی آواز سے نہ ڈرا نہ سہما اور کہا”السلام علیکم بادشاہ سلامت! میرا نام بیلو ہے در اصل مجھے دیر اس لیے ہوگئى کہ آپ کے گھر کے راستے میں بہت سارے سوکھے پتے اور کچھ جنگلی پھل گرے پڑے تھے میں انہیں راستے سے ہٹا رہا تھا” شیر نے پھر گرجدار آواز میں پوچھا” تم کیوں ہٹا رہے تھے ؟”
” بادشاہ سلامت اس لیےکہ اگر جنگل میں کسی جانور کے ساتھ کوئی مشکل پیش آ جائے اور اسے آپ کی ضرورت ہو تو آپ کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور وقت ضائع کیے بغیر آپ جلد از جلد اس کی مدد کو پہنچ جائیں”
غصیلہ بادشاہ بیلو کی بات سن کر کچھ نرم پڑ گیا۔
بیلو نے اچانک بادشاہ کو بتايا”جنگل میں ایک طوطا آیا ہے..بہت مزے کی باتیں کرتا ہے اور نظمیں بھی پڑھتا ہے سارے جنگل میں اس کی دھوم ہے”
بیلو کے ذہن میں اچھوتاخيال آيا _اس نے شیر سے فورا مشاعرے کى اجازت لى۔ جس میں سارے جانوروں کو اپنی شاعرى سنانے کى دعوت دى گئى۔
اگلے دن تمام جانور اور پرندے مشاعرے میں موجود تھے ۔سب سے پہلے اُلو نے اپنی شاعری پیش کی، وہ کچھ سنجیدہ تھی۔ اس کے بعد بندر آیا اس نے شعر سنانے کے ساتھ اپنی حرکات سے محفل کو محظوظ کرديا، شیر سمیت سارے جانور ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے، پھر تو ہنسی کا یہ طوفان رکا ہی نہیں۔ کوے کے بعد چڑیاں، لومڑی اور آخر میں طوطے کی باری آئی … طوطے نے تو بادشاہ سلامت کی شان میں قصیدے پڑھنا شروع کر دیے مگر طوطا بھی سيانا تھا ایک شعر بادشاہ کی تعریف میں ہوتا تو دوسرا شعر کسى دوسرے جانور کا قصيدہ پڑھ رہا ہوتا ۔اس طرح اس نے بادشاہ سمیت سارے جانوروں کی تعریف کر ڈالی مگر شیر تو آج بہت خوش تھا بس اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ،بیلو نے یہ اعلان کر دیا کہ کل پارٹی ہے سب اپنا اپنا کھانا لے کر یہاں آ جائیں اور بادشاہ سلامت کے ساتھ کھانا کھائیں۔ شیر بادشاہ بھی اس بات پر راضی ہو گیا ۔
اگلے دن تمام جانور اور پرندے ،اپنا اپنا کھانا لے کر پارٹی میں آ چکے تھے ۔شیر باری باری سب کے پاس جا رہا تھا اور سب کا کھانا تھوڑا تھوڑا چکھ رہا تھا ۔وہ سارے جانوروں کے ساتھ گھل مل چکا تھا۔ سب جانور بھی آپس میں مل جل کر ایک دوسرے کا کھانا کھانے لگے ۔شیر اور سارے جانور بہت خوش نظر آ رہے تھے مگر ان سب سے زیادہ خوش تو بیلواور اس کی چیونٹی امی تھے ۔

حصہ