خواتین کی ورزش اور سوشل میڈیا

112

پاکستانی صحافت میں ایک معتبر نام انصار عباسی کا بھی شمار کیا جاتا ہے جو ملک کے ایک کثیر الاشاعت روزنامے بلکہ سب سے مشہور میڈیا گروپ سے بھی طویل عرصہ سے وابستہ ہیں۔انصار عباسی اکثر پاکستان میں میڈیا کے ذریعہ پھیلتی عریانی و فحاشی کے خلاف اپنے کالمز میں بھی، جہاں کہیں الیکٹرانک میڈیا پر بطور مہمان جائیںتو وہاں بھی اور سماجی میڈیا پر بھی اس پھیلتی خرابی پر تنقید بے باک انداز میں کرتے ہیں۔اس عمل پر اُنہیں خاصی تنقید سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔کراچی کی مروہ کے بعد موٹر وے واقعہ سے اب تک گذشتہ دو ہفتوں میں پاکستان میں تواتر سے بلکہ تواتر بھی ایسا کہ روزانہ ہی کوئی نہ کوئی خاتون سے آبرو ریزی کا واقعہ کسی نہ کسی شہر سے برآمد ہوتا نظر آیا۔کراچی میں اسی ہفتہ ایک گروہ پکڑا گیا جو نوکری کا جھانسہ دے کر زبردستی بدفعلی اور پھر ویڈیو بنا کر فروخت کرنے کا کریہہ کاروبار کر رہا تھا۔کراچی ہی میں ایک لڑکی کو اغوا کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر سڑک پر پھینک کر لوگ فرار ہو گئے۔ یہ دو واقعات تو خاصے خبروں میں رہے۔ اب بات یہی ہے کہ معاشرے میںفحاشی تک رسائی کو یا جنسی جذبات کو بھڑکادینے والے عوامل و مواد کو عام کردیا جائے گا تو اخلاقیات، مذہب، دین، ایمان سے خالی مادہ پرستی میںڈوبی انسانوں کی بھیڑسے آپ کیا توقع رکھیں گے؟اتفاق سے ہمارا الیکٹرانک میڈیا باوجود پیمرا کے موثر تحریری قوانین کے ہوتے ہوئے کئی حوالوں سے لاچار ہی دکھائی دیتا ہے۔مروہ واقعہ کے بعد اے آر وائی کے مارننگ شو میں بچی کے والدین کو مہمان بلا کر تاثرات پوچھنے کے نام پر جو کچھ کیا گیااُس پرسوشل میڈیا صارفین نےBanNidayasirShowکے نام پر خوب بھرکس نکالا۔مگراس ہفتہ توایک بالکل الٹ معاملہ ہوا، مطلب غیر متوقع کہہ لیں۔
انصار عباسی نے پاکستان بھر میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اپنے ایک کالم میں جب وزیر اعظم کی سنجیدگی کا حوالہ دیا تو ہمیں بھی خوشگوار حیرت ہوئی۔اس کے بعد عمران خان کو صرف متوجہ کرنے کے لیے انہوں نے ایک ٹوئیٹ کی بس پھر کیا تھا۔ یہ انصار عباسی کی زبانی جانتے ہیںکہ’’جس دن میرا گزشتہ کالم ’’عمران خان بڑھتی فحاشی سے پریشان‘‘ شائع ہوا اُسی شام (یعنی گزشتہ سوموار کی شام) مجھے ایک وفاقی وزیر کی طرف سے پی ٹی وی پر چلنے والا ایک کلپ موصول ہوا جس میں ایک خاتون کو چست مغربی لباس میں ایک ٹرینر ایکسر سائز کروا رہا تھا۔یہ کلپ بھیجنے والے وزیر کے ساتھ ساتھ میرا بھی یہ خیال تھا کہ سرکاری ٹی وی کے لئے ایسا کلپ چلانا غیرمناسب ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب وزیراعظم عمران خان ہماری دینی و معاشرتی اقدار کو مغربی اور بھارتی ثقافت کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے فلم اور ٹی وی خصوصاً پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو سدھارنے کے لیے جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کو ہدایات دے چکے ہیں۔سرکاری ٹی وی چینل کو تو پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق ہی ہر قسم کا مواد نشر کرنا چاہیے کجا یہ ہے وہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی نقالی میں وہ کچھ دکھائے جو معاشرہ کی بگاڑ کے ساتھ ساتھ عورت کا استحصال بھی ہو۔ میں نے اس وڈیو کو ٹویٹ کر کے صرف اتنا لکھا کہ وزیراعظم صاحب یہ پروگرام پی ٹی وی پر چلا ہے۔اس ٹویٹ کے ساتھ ہی ایسا لگا جیسے ہمارے دیسی لبرلز اور سیکولرز کے ایک طبقے کو آگ لگ گئی ہو۔ یہ لبرلز مجھ پر جیسے حملہ آور ہو گئے، مجھ پر ذاتی حملے شروع کر دیے، گالیاں بکنے لگے، طعنے دینے لگا۔ نجانے میں نے ایسا کیا جرم کیا کہ ایک وزیر صاحب بھی آگ بگولہ ہو گئے اور مجھے جنسی حوالہ سے ایک طعنہ دے کر نفسیاتی علاج کا مشورہ دے ڈالا۔‘‘انصار عباسی کا کہنا ہے کہ ’’پاکستانی معاشرہ میں کسی غیراسلامی اقدام کی مخالفت پر اگر ساری دنیا بھی میرے خلاف ہو جائے تو مجھے اس کی ایک لمحہ کے لئے بھی کوئی فکر نہیں بلکہ میں اپنے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھ جیسے گنہگار سے یہ کام لیا، جو میرے لئے بہت فخر کی بات ہے۔‘‘ WestandwithAnsarAbbasi کے ہیش ٹیگ تلے ایک جانب دائیں بازو و اسلام پسند سورۃ نور کی واضح قرآنی آیات کا حوالہ دیتے نظر آئے تودوسری جانب دیسی لبرلز کا اخلاقی دیوالیہ پن ٹوئٹر کی زینت بنا رہا۔اس میں سب سے بڑھ کر خواتین ہی تھیں جو یہ بتانا چاہ رہی تھیں کہ ہم اب ورزش بھی انصار عباسی سے پوچھ کر کریں گے؟اور یہ کہ انصار عباسی کی ذہنیت ایسی ہے ویسی ہے، یہاں تک کہ بی بی سی نے بھی اپنی ویب سائٹ پر اِس کو رپورٹ کیا۔ ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے سے وابستہ سے پاکستانی نژاد صحافی حسن عبد اللہ نے استنبول سے اس پروی لاگ بھی بنا یااور اس کیفیت کو بتایا کہ یہ ’’اسٹرا مین فیلسی ہے‘‘ مطلب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ تمباکو نوشی صحت کے لی مضر ہے تو اس کا اسٹرا مین یوں بنایا جائے گا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ کیاسگریٹ کی فیکٹری میں کام کرنے والوں کو قتل کر دیا جائے۔ انصار عباسی کے مختصر ترین ٹوئیٹ کے ساتھ یہی کام کیا گیا، بغیر صحیح غلط کے پیمانے کو جانچے، از خود اصطلاحات کے معنی اور دلیل کے بغیر دوسرے کے سر پر تھوپ دینے سے کام نہیں بنتا۔بنیادی طور پر یہ اسلامی نقطہ نظر اور کلاسیکل لبرل نقطہ نظر کے درمیان جنگ کا ہے جس کے اثرات پاکستانی معاشرے پرانتہائی گہرے پڑ چکے ہیں۔اس لیے یہ موضوع میرے نزدیک اہم تھا کہ یہ بات جن کے نزدیک معمول کی بات تھی وہ تو ڈٹ کر دفاع کرتے رہے تاہم اس ایشو پر دینی جماعتوں کا جو کہ ہمیشہ سے ایک ہی موقف رہا ہے کہ میڈیا معاشرے میں فحش پھیلانے کا بنیادی سبب ہے وہ سب کی سب نامعلوم وجوہات کی بناء پر ہمیشہ کی طرح خاموش ہی نظر آئیں۔
دوسری اہم بات اس ہفتہ آٹھ سال کے طویل عرصہ کے بعد بلدیہ کراچی فیکٹری کیس کا انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیصلہ سنایا۔کراچی کے علاقے بلدیہ میں واقعہ مشہور جینز کی فیکٹری علی انٹر پرائز کو2012میں آگ لگا کر وہاں موجود 264 ملازمین کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ ابتداء میں 3سال تک مقدمہ کو فیکٹری مالکان کی غفلت کے طور پر چلایا جاتا رہا مگر اتفاق سے ایم کیو ایم کے ایک گرفتار کارکن کی جے آئی ٹی میںیہ بات سامنے آئی کہ یہ سارا کیس ایم کیو ایم کو مطلوبہ بھتہ نہ دینے پر ہوا تھا۔ یہاں سے حالات تبدیل ہوئے اور کیس کی تفتیش نئے رخ پر کی گئی تب جا کر4مجرموں کو عمر قید 2 کو پھانسی ‘2 کو مفرور جبکہ باقی سب کو چھوڑ دیا گیا، یعنی صرف پتلی گردن والوں کو دبوچا گیا۔ ایک نام کے بھولے کو تو پولیس سنگا پور سے پکڑ کر لائی مگر کو اس کیس میں حماد صدیقی، رؤف صدیقی، انیس قائم خانی اور دیگر ملوث کئی ایم کیو ایم رہنما ؤں کو نکال لیا گیا۔ اس پر میرے حساب سے خوب بات ہونی چاہیے تھی مگر حیران کن بات یہی ہے کہ چند گھنٹوں سے زیادہ ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا وہ بھی صرف 10ہزار ٹوئیٹس پر جبکہ پشتون کلچر ڈے اور آئی ایم ریجیکٹر آف نواز شریف اس سے کہیں زیادہ ٹوئیٹس کے ساتھ رہا۔لوگ کہتے رہے کہ ’ رحمان بھولا تھا جبکہ زبیر چریا تھا اس لیے نفیس لوگوں کو بچا لیا گیا۔‘ اسی طرح یہ سوال بہت اٹھایا گیا کہ ’جب یہ ثابت ہو گیا کہ فیکٹری کو آگ بھتہ کی خاطر لگائی گئی تو یہ کون معلوم کرے گا کہ بھتہ کس نے کیوں کس کی سپورٹ پر مانگا تھا۔ یہ بھتہ کس کے پاس جانا تھا؟‘ ایک اور ٹوئیٹ بہت وائرل رہا کہ،’ ایک تھا بھولا ایک تھا چریا باقی تھے کچھ سیانے … بھولا چریا چڑھ گئے پھانسی زندہ بچ گئے سیانے ‘۔ چریا اتنے کہ کسی کے کہنے پر ڈھائی سو افراد زندہ جلا دیے اور بھولے اتنے کہ اکیلے ہی پھانسی چڑھ گئے۔‘‘
مشہور آسٹریلوی کرکٹر ڈین جونز کی ہارٹ اٹیک سے موت پر بھی شائقین کرکٹ نے ہیش ٹیگ کوٹرینڈ بنایا۔ اس کے علاوہ اس ہفتہ عالم اسلام کی ایک عظیم شخصیت، مفکر، مدبر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی علیہ رحمہ کا یوم وفات 22 اور اور یوم پیدائش 25ستمبر بھی آیا۔ دُنیا بھر میں موجود سید مودودی ؒ کی فکر سے پروان چڑھنے والوں نے اپنے اپنے احساسات کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے ایک ہیش ٹیگ متعارف کرایاگیا۔ جماعت اسلامی کی حقوق کراچی مہم کے حوالے سے بھی اس ہفتہ کئی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کی صورت لسٹ میں ابھرتے رہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن مستقل 7سال سے کراچی کے تمام اہم شہری مسائل کو ہر پلیٹ فارم پر نمایاں کرنے کی جد و جہد کر رہے ہیں۔اسی ہفتہ کے الیکٹرک کے مسئلہ پر نیپرا کی عوامی سماعت بھی ہوئی جس میں حافظ نعیم الرحمن نے اہل کراچی کے ساتھ کے الیکٹرک کے ظلم اور اس کے پشت پناہ حکومتی و سیاسی جماعتوں کے مکروہ کردار کو چاک کیا۔اس کے ساتھ ہی کراچی کے اہم مسائل کو لیکر حقوق کراچی مارچ بھی آج منعقد کیا جارہا ہے۔کراچی میں حالیہ برسات کے بعد ہونے والی شہر کی تباہی بھی سب نے دیکھی اور اتفاق سے شہر کی بلدیہ کا دورانیہ بھی مکمل ہوا، ایسے میں متبادل سیاسی قیادت کے طور پر جماعت اسلامی نے سماجی میڈیا پر ہر لحاظ سے بھر پور مہم چلا کر عوام کے اذہان میں میئر کراچی کے طور پر حافظ نعیم الرحمٰن کو نمایاں کیا۔کئی سوشل میڈیا پولز میں حافظ نعیم نے بطور میئر کراچی کے عوامی حمایت حاصل کی۔میئر کے اس بیانیے کو سوشل میڈیا پر مزید تقویت یوں بھی ملی جب اس ہفتہ حکومت کیخلاف تمام اپوزیشن جماعتوں نے ایک کثیر الجماعتی کانفرنس اسلام آباد میں بلائی، اس اجلاس میں جماعت اِسلامی اور تحریک لبیک کے علاوہ تمام نمایاں جماعتوں نے شرکت کی۔ جماعت اسلامی نے بہت واضح موقف دیا کہ یہ اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہے ہی نہیں کیونکہ یہ سب جماعتیں حکومت کے کئی ملک دشمن اقدامات بشمول ایف اے ٹی ایف، ناموس رسالت، سینیٹ چیئرمین سمیت دیگر معاملات پرحکومت کے ساتھ ہی کھڑی ہوتی ہیں اس لیے یہ سب ڈراما اپنے خلاف نیب کیسز سے بچنے کے لیے رچا جا رہا ہے۔ کراچی میں مارچ کا خوب ماحول بنایا گیا،ا س دوران انہی ایشوز کے ساتھ ایم کیو ایم لگاتار10سالہ ( مصطفی کمال، وسیم اختر) میئر کا دور گزار کر خوب ڈھٹائی کے ساتھ اچانک سے میدان میں اتر گئی اور اُس نے بھی حقوق کراچی مارچ کا اعلان کر دیا، صرف اعلان ہی نہیں بلکہ پہلے جماعت اسلامی کے مارچ و مطالبات کی حمایت بھی کی۔بہت عرصے بعد گو کہ بلدیہ کیس میں MQMکو گالیاں پڑ رہی تھیں مگر سب سے کمزور سوشل میڈیا سیٹ اپ رکھنے والی ایم کیو ایم کی جانب سے بھی اس بار #MQMMarchForKarachiکے عنوان سے ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ لسٹ میں نظر آ ہی گیا۔اس میں پوری کوشش یہ کی گئی تھی کہ شرکاء کی زیادہ سے زیادہ حاضری والی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کی جا سکیں اور ایم کیو ایم کے مردہ ہوجانے یا ختم ہو جانے کے تاثر کو زائل کیا جا سکے۔

حصہ