حقوق ’’کراچی‘‘ موضوعاتی مشاعرہ

62

۔24 ستمبر 2020ء کو جماعت اسلامی کراچی کے زیرِ اہتمام ادارے نور حق موضوعاتی مشاعرے کاانعقاد کیا گیا، مشاعرے کی صدارت انور شعور نے کی، جبکہ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن مہمان خصوصی تھے، عبدالرحمن مومن نے خوب صورتی سے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مشاعرے میں پچاس شعرا کے علاوہ کانفرنس روم کھچا کچھ بھرا ہوا تھا۔
اجمل سراج نے خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ کراچی کے ساتھ ہر زمانے میں زیادتی ہوئی ہے اس کا آغاز اس وقت ہوا جب کراچی سے دارالحکومت اسلام آباد شفٹ کیا گیا۔ کراچی منی پاکستان ہے ہم یہاں سے جو فنڈز وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو دیتے ہیں اس کا عشرِ عشیر بھی کراچی پر خرچ نہیں ہوتا۔
مہمان خصوصی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے بے شمار مسائل ہیں لیکن فی الحال ہم جماعت اسلامی کراچی کے تحت مارچ میں مردم شماری‘ با اختیار شہری حکومت‘ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ‘ کے الیکٹرک کی بدمعاشیاں‘ بے روزگاری اور اسٹڑیٹ کرائم پر بات کریں گے‘ ہم عوامی مارچ کے ذریعے اربابِ اقتدار کو بتانا چاہتے ہیں کہ کراچی کے لوگوں کو بے وقوف مت بنایئے‘ ہم کراچی میں رہنے والی تمام قومیتوں کے حقوق کے لیے میدانِ عمل میںآئے ہیں۔ اس وقت کراچی صوبہ بنائو کی آواز اس لیے اٹھائی جارہی ہے کہ سندھی اور مہاجروں میں لڑائی ہو۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب پرویز مشرف کی حکومت تھی اور ایم کیو ایم کے پاس وسیع اختیارات تھے تو آپ اس نے اس وقت کراچی کو صوبہ کیوں نہیں بنایا‘ آپ نے مشرقی پاکستان میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو پاکستان کیوں نہیں بلایا؟ آپ نے کوٹہ سسٹم کے خاتمے کے لیے کیا کیا؟ آج بھی آپ حکومت میں موجود ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان نے کوٹہ سسٹم میں توثیق کرکے ہم پر ظلم کی انتہا کر دی ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ تین کروڑ کے کراچی شہر میں ایمان داری کے ساتھ مردم شماری کرایئے تاکہ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں کراچی کی نشستوں کا تعین ہو سکے۔ ہم نے نعمت اللہ خان اور عبدالستار افغانی کی قیادت میں شہری حکومت کے زیر اہتمام ترقی منصوبے پایۂ تکمیل تک پہنچا کر کراچی میں خوش حالی کا آغاز کیا تھا‘ مقامِ افسوس کہ اب کراچی کا برا حال ہے‘ ہم کراچی کو لسانی اکائیوں میں تقسیم کرنا نہیں چاہتے‘ ہمارے نزدیک کراچی میں آباد تمام لوگ اس بات کے حق دار ہیں کہ انہیں بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شعرائے کرام ہمارے معاشرے کا خصوصی طبقہ ہے‘ آج کے مشاعرے میں کراچی کے مختلف مسائل سامنے آرہے ہیں‘ عوام الناس بیدار ہورہے ہیں ان شاء اللہ ہم کامیابی حاصل کریں گے۔
صاحب صدر انور شعور نے کہا کہ آج کے موضوعاتی مشاعرہ میں بہت عمدہ کلام پیش کیا گیا‘ شعرائے کرام نے اپنے اشعار کے ذریعے بیداری پیدا کی۔ موضوعاتی مشاعرے میں نظمیں اور غزلوں کے انداز میں کراچی پر بات ہوئی۔ آج کی محفل میں سامعین کی ایک بڑی تعداد دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کیوں کہ سامعین بھی مشاعرے کی ضرورت ہوتے ہیں آج کے پڑھے لکھے سامعین نے ہر شاعر کو داد و تحسین سے نوازا ہے امید ہے کہ جماعت اسلامی آئندہ بھی ادبی پروگرام منعقد کرتی رہے گی‘ ہم ان کی آواز میں اپنی آواز ملائیں گے۔ ہم بھی کراچی کے باشندے ہیں‘ ہمارے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں‘ قلم کاروں کے لیے حکومتی سطح پر کام ہونا چاہیے۔
میزبانِ مشاعرہ شعبہ تعمیر ادب جماعت اسلامی کے کنوینر نوید علی بیگ نے کلماتِ تشکر میں کہا کہ ہم شعرائے کرام کے ممنون و شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس مشاعرے کو کامیاب بنایا ہم قلم کاروں کی خدمت کے لیے تیار ہیں‘ ہم ہر محاذ پر قلم کاروں کی ساتھ ہیں ہمیں ان کی ضروریات کا علم ہے‘ ہم اپنے وسائل استعمال کریں گے تاکہ قلم کاروں کے مسائل حل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 27 ستمبر 2020ء کو حقوق کراچی مارچ ہوگا‘ آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ اس میں شریک ہوں تاکہ حکومتی اداروں کو پتا چل جائے کہ کراچی بیدار ہو چکا ہے‘ ہم چاہتے ہیں ہمارا کراچی ہمیں واپس کر دو۔ اس موقع پر کانفرنس ہال میں تقریباً 50 شعرائے کرام موجود تھے تاہم بہت سے شعرا نے کہا کہ ہم اپنی شرکت ضروری سمجھتے تھے‘ اس لیے ہم آئے ہیں‘ مشاعرے تو ہم پڑھتے رہتے ہیں۔ وقت کی تنگی کا ہمیں احساس ہے۔
مشاعرے میں صاحب صدر انور شعور‘ اختر سعیدی‘ ریحانہ روحی‘ آفتاب مضطر‘ خالد معین‘ اجمل سراج‘ رونق حیات‘ قیصر وجدی‘ حجاب عباسی‘ نزہت عباسی‘ سحرتاب رومانی‘ کامران نفیس‘ نظر فاطمی‘ ڈاکٹر سلمان ثروت‘ سعد الدین سعد‘ احمد سعید خان‘ فیاض علی فیاض‘ تنویر سخن‘ صاحبزادہ عتیق الرحمن‘ رفیق مغل ایڈووکیٹ‘ آفتاب عالم قریشی‘ عمران شمشاد‘ سخاوت علی نادر‘ احمد جہانگیر‘ فخر اللہ شاد‘ چاند علی چاند‘ نجیب ایوبی‘ عباس ممتاز‘ یاسر سعید صدیقی‘ شائق شہاب‘ زاہد عباس‘ پروفیسر ضیا شاہد‘ نعیم الدین نعیم‘ اورنگزیب رہبر‘ محمود غازی‘ عطا محمد تبسم‘ طارق رشید‘ حنیف عابد اور عبدالرحمن مومن نے کراچی کے بارے میں اپنے اشعار پیش کیے۔ مشاعرے کے بعد عشایئے کا اہتمام تھا۔

حصہ