بتانا یہ ہے

53

”ندیم چریا، کیا باتیں ہورہی ہیں!“
”کچھ نہیں، ویسے ہی گپ شپ لگا رہا ہوں۔“
””ایسی کون سی خاص بات ہےجو ان بچوں سے کی جارہی ہے؟“
”عمران بھائی، بچے بڑے ہوگئے ہیں، ان کی محفل میں بیٹھ جانے سے کچھ ان کی سننے اور کچھ اپنی سنانے کا موقع مل جاتا ہے۔“
”تو ہمیں بھی اس مذاکرے میں شامل کرلو۔“
”ہاں بالکل، کیوں نہیں، آئیں بیٹھیں۔“
”یہ تو بتادو کس موضوع پر گفتگو ہورہی تھی؟“
”کوئی خاص نہیں، میں انہیں بتا رہا تھا کہ کراچی کے ساتھ ہمیشہ ناانصافی اور ظلم ہوتا رہا ہے، اس کے حقوق غصب کیے جاتے رہے۔ وفاق ہو یا صوبائی حکومت… اس شہر سے اربوں روپے اکٹھا کرتے ہیں لیکن اس کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کوئی بھی کردار ادا نہیں کرتے۔“
”ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے، واقعی اس شہر کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔“
”میں ان سے کہہ رہا تھا کہ اس مسئلے پر ہمیں کسی ایسی جماعت کو سپورٹ کرنا چاہیے جو کراچی کو حقوق دلانے کے لیے برسوں سے سرگرم ہے۔“
”کیا تمہارا اشارہ اُس جماعت کی جانب ہے جو گزشتہ تین دہائیوں سے اس شہر پر حکومت کررہی ہے؟“
”ہاں عمران بھائی آپ بالکل ٹھیک سمجھے، جس جماعت کی بنیاد ہی کراچی کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر رکھی گئی ہو، کراچی کا مقدمہ اُس سے بہتر کون لڑ سکتا ہے! اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہی وہ جماعت ہے جو اپنے قیام سے لے کر آج تک کراچی والوں کے حقوق کی بات کرتی چلی آرہی ہے۔“
”تم اس جماعت کا نام کیوں نہیں لیتے؟ کیوں گول مول باتیں کررہے ہو؟ کھل کر کہو، بتاؤ کہ تم اپنی اُس لسانی جماعت کا ذکر کررہے ہو جس سے تم گزشتہ دو دہائیوں سے وابستہ ہو۔“
”ہاں تو میں نے کون سی غلط بات کی ہے! میری پارٹی ہی شہر کے مسائل کو جانتی ہے، اور یہاں رہنے والوں کو اُن کے حقوق دلا سکتی ہے۔“
”خواب دیکھنا چھوڑ دو اور بچوں کے سامنے ایسی باتیں نہ کرو۔ یہ حقوق حقوق کا نعرہ بہت پرانا ہوگیا ہے۔ تمہیں پہلے کسی کے حقوق کا خیال تھا جو اب کسی کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر کوئی اقدام اٹھانے چلے ہو! ندیم چریا تمہاری زبان سے نکلنے والے جملے فراڈ کے سوا کچھ نہیں۔“
”عمران بھائی ایسی باتیں نہ کریں، جو کچھ بھی میں کہہ رہا ہوں یہی حقیقت ہے۔ ہمارے سوا کسی نے کراچی کے حقوق کے لیے کبھی بھی کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ اگر تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے تو ضرور بتاؤ۔“
”اچھا، تو پھر تفصیل سے سنو۔ تمہارے سامنے ایسے ثبوت پیش کرتا ہوں جس سے تمہاری بولتی بند ہوجائے گی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب غوث علی شاہ حکومت نے بلدیہ سے وہیکل ٹیکس لینے کا اعلان کیا تو 3 فروری 1987ء کو بلدیہ کراچی نے اسے مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا، اور اسی احتجاج کے دوران اُس وقت کے میئر کراچی عبدالستار افغانی نے کہا تھا کہ میں کراچی کے حقوق کے لیے اپنی جان تک دے دوں گا۔ جس کے بعد عبدالستار افغانی کو مدت پوری کیے بغیر اُن کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا اور کونسل توڑ دی گئی تھی۔ یہ تھی کراچی کے حقوق کی اصل جنگ… اور یہی کراچی کے اصل وارث تھے۔ اور پھر یہ بات بھلا کون نہیں جانتا کہ عہدوں سے جبری طور پر انہیں ہی ہٹایا جاتا ہے جو عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں، اور اپنے مؤقف پرقائم رہتے ہیں۔ جن کے دلوں میں عوام کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہوتا ہے، وہی لوگ عوام کے خدمت گزار ہوتے ہیں۔ بے لوث خدمت کرنا ایسے لوگوں کا ہی شیوہ ہے۔ مجھے وہ دور بھی یاد ہے جب عبدالستار افغانی پہلی مرتبہ میئر منتخب ہوئے تو اُس وقت کراچی کا انفرااسٹرکچر تھا نہ ہی سڑکیں۔ کچی گلیاں تھیں اور سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے انسانی فضلہ میدانوں میں پھینکا جاتا تھا۔ جو میدان خشک تھے وہاں بھینسوں کے باڑے ہوا کرتے تھے۔ پبلک ٹرانسپورٹ نام کی کوئی چیز تھی اور نہ ہی بنیادی صحت کی سہولیات۔ گھروں میں پانی کے کنکشن نہ ہونے کی وجہ سے عوام میلوں دور سے پانی بھر کر لایا کرتے تھے۔ اگر یوں کہا جائے کہ اُس وقت کراچی بے یارومددگار اور لاوارث تھا تو غلط نہ ہوگا۔1979ءکے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد عبدالستار افغانی نے رات دن محنت کرکے جس طرح کراچی کا انفرااسٹرکچر بنایا، پبلک ٹرانسپورٹ اور صحت کے مراکز قائم کیے، تعلیمی میدان میں جنگی بنیادوں پر کام کیا، شہر بھر میں بلا تفریق پینے کا صاف پانی فراہم کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ میئر عبدالستار افغانی اور اُن کی جماعت کو عوام کے حقوق کا خیال تھا اسی لیے اُس دور میں نہ صرف بلدیاتی اداروں کے تحت کام کیے گئے بلکہ جماعت اسلامی کراچی نے اپنی ذیلی تنظیموں کے ذریعے بھی عوام کی بھلائی کے لیے خاصا کام کیا جن میں سے ایک الخدمت بھی ہے، جس کے تحت چلائے جانے والے گشتی شفاخانے اپنی مثال آپ تھے۔ یہی وہ بے لوث خدمت ہے جسے غریبوں کے حقوق کہا جاتا ہے، جن کے لیے جماعت اسلامی اور اُس کے رہنماؤں نے پہلے دن سے کام کیا۔ میئر عبدالستار افغانی نے اپنے پہلے دور میں جس تیزی سے کراچی کے لیے کام کیا اسی بنیاد پر کراچی والوں نے ایک مرتبہ پھر کراچی بلدیہ جماعت اسلامی کے حوالے کردی۔ یوں 1983ء میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی ایک مرتبہ پھر سرخرو ہوئی اور ایک مرتبہ پھر سے کراچی کی کنجیاں عبدالستار افغانی کے سپرد کردی گئی.1983ء میں ایک مرتبہ پھر بابائے کراچی منتخب ہونے کے بعد عبدالستار افغانی اور اُن کی جماعت نے پھر سے کراچی والوں کے لیے جدوجہد شروع کردی۔ عبدالستار افغانی کے دوسرے دور میں بھی خاصے ترقیاتی کام ہوئے جس نے شہر کراچی کا نقشہ بدل کر رکھ دیا، جس کی گواہی تو مخالفین بھی دیتے ہیں۔ اُس دور میں کرپشن تھی اور نہ ہی اقربا پروری… یہاں تک کہ جماعت اسلامی کی جانب سے بھی کسی قسم کی کوئی سیاسی مداخلت نہ کی گئی، بلکہ جماعت اسلامی اور عبدالستار افغانی نے کراچی کے حقوق کے لیے مل کر کام کیا، یا یوں کہیے کہ میئر عبدالستار افغانی نے جتنا کام کیا وہ جماعت اسلامی کا ہی ایجنڈا تھا۔ پھر ترقی کرتے شہر کے ساتھ جو ہوا، کس طرح شب خون مارا گیا، کراچی والے اچھی طرح جانتے ہیں۔ چونکہ اس کا ذکر میں کرچکا ہوں لہٰذا دہرانے کی ضرورت نہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جس نے ہمیشہ کراچی کے حقوق کی بات کی ہے، سبز باغ دکھانے کے بجائے عملی مظاہرہ کیا ہے۔ندیم چریا خدا کا خوف کرو، تم ایک ایسی جماعت کا موازنہ اپنی جماعت سے کررہے ہو جس نے کبھی حقوق کے نام پر لوگوں سے ووٹ لیے اور نہ ہی کسی کی جان لی، بلکہ اس جماعت سے منسلک افراد نے شہریوں کے تحفظ اور ان کے جائز حقوق کے حصول کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، ہر قسم کی قربانیاں دیں۔ ان بدترین حالات میں بھی انہی کی جانب سے مظلوموں اور محکوموں کے لیے آواز بلند کی جاتی رہی ہے۔بات یہاں ختم نہیں ہوتی، جب جب کراچی والوں نے اس جماعت کو خدمت کا موقع دیا، اس نے عوام کو مایوس نہیں کیا۔ کشادہ سڑکیں،تعلیم،صحت سمیت کئی میگا پراجیکٹ دیے۔ نعمت اللہ خان کے دور کو ہی دیکھ لو، اس زمانے میں شہر کی تقدیر بدل دی گئی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ جیسا نظام متعارف کرایا گیا جس کی بدولت کئی انڈرپاس اور پل تعمیر کیے گئے، مختلف انڈسٹریز کی مالی مدد سے اہم شاہراہوں اور گزرگاہوں کی مرمت کی گئی، بلدیاتی اداروں کی آمدن بڑھانے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ کراچی شہر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ”کے فور“ جیسا عظیم منصوبہ شروع کیا گیا۔ ٹاؤن کی سطح پر کارڈیو ایمرجنسی سینٹر قائم کیے گئے۔ یہ سب کراچی کے حقوق نہیں تو اور کیا ہیں! اگر میں نعمت اللہ خان کی جانب سے کراچی کو دیے جانے والے منصوبوں کا ذکر کرتا رہوں تو گھنٹوں لگ جائیں گے۔ عوامی خدمت اور کراچی سے پیار و محبت کا یہ جذبہ صرف عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ جماعت اسلامی کی تربیت ہے جس نے ایسے ہیرے تراشے جن کی چمک سے پورا ملک روشن ہے، ان میں ایک نام امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن کا ہے، جنہوں نے کے الیکٹرک اور نادرا کے شکنجے میں جکڑے شہریوں کو آزادی دلائی۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کے الیکٹرک کی جانب سے کی جانے والی لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ پر آواز اٹھانے اور کئی دہائیوں سے کراچی میں رہنے کے باوجود شناختی کارڈ سے محروم افراد کو پاکستانی شہریت دلانے والی شخصیت کا نام حافظ نعیم الرحمٰن ہے۔ پریشان حال لوگوں کے مسائل کے حل کے سلسلے میں ادارہ نورحق میں باقاعدہ طور پر پبلک ایڈ کمیٹی سرگرم ہے۔ غیر قانونی طور پر لگایا جانے والا کوٹہ سسٹم ہو، یا مردم شماری میں کراچی کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی… ہر زیادتی پر احتجاج کرنا حقوقِ کراچی تو ہے۔
ندیم چریا، تم کوئی سی بھی عینک لگا کر دیکھ لو، جماعت اسلامی کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدام عوامی فلاح و بہبود اور انسانیت دوست ہیں، اسی کو تو عوام کے حقوق کہا جاتا ہے۔“
”عمران بھائی، کراچی والوں کو ان کا حق دلانے کے لیے ہم نے بھی تو خاصا کام کیا ہے، وہ آپ کی نظر میں نہیں؟“
”چھوڑو ان باتوں کو، تم نے کراچی والوں کو جو حقوق دلائے میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تمہارے نزدیک حقوق کس چڑیا کا نام تھا اس کی ذرا سی تفصیل سن لو:
چہار سو لوٹ مار، لوٹ کھسوٹ، پانی نایاب، بجلی غائب، بے روزگاری، مفلسی، جرائم کے انبار، پبلک ٹرانسپورٹ ناپید، سرکاری تعلیمی ادارے غائب، امن عامہ کی صورتِ حال خراب، سیوریج سسٹم تباہ… ہاں حقوق ملے ضرور، لیکن چند لوگوں کو… انہیں جنہوں نے پارکوں پر قبضہ کرکے شادی ہال تعمیر کیے، انہیں جنہوں نے کھیل کے میدانوں پر چائنا کٹنگ کی، انہیں جنہوں نے چھوٹے دکان داروں، بڑے تاجروں سمیت غریب شہریوں سے بھتے وصول کیے، انہیں جنہوں نے سرکاری نوکریاں فروخت کرکے غریبوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا، انہیں جنہوں نے ترقیاتی فنڈز اپنی جیبوں میں ڈالے یا بیرونِ ملک بھجوائے۔ حقوق انہیں ملے جنہوں نے اپنے رہنماؤں کو خوش کرنے کے لیے قصیدہ گوئی کی۔ اگر میری باتوں میں سچائی نہیں تو ایک ایسا منصوبہ، کوئی ایسا کام یا کسی ایسے کارنامے کا ذکر کرو جو شہر کراچی کے لیے راحت کا باعث ہو۔ شہر تو ایک طرف، کوئی ایک ایسی بستی کا نام بتادو جہاں تمہاری جماعت نے پانی، بجلی اور صحت جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی ہوں۔ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی تمہیں کوئی ایسی بستی تو کجا، ایک محلہ بھی نہیں ملے گا۔ لہٰذا اس حقیقت کو تسلیم کرلو کہ ماضی، حال اور مستقبل میں اگر کسی جماعت نے اس شہر کے حقوق کے لیے آواز بلند کی تو وہ صرف اور صرف جماعت اسلامی ہے۔“

حصہ