آگہی

34

’’یا اللہ میری قسمت کب بدلے گی، میری زندگی میں خوشیاں آئیں گی بھی یا نہیں؟ میری بہنیں، سہیلیاں سب اپنے گھروں میں خوش ہیں، میری بہنوں کے شوہر انہیں اتنا چاہتے ہیں، اور میرے شوہر! وہ ہنسنا تو دور کی بات، کبھی مسکرا کر بھی بات نہیں کرتے۔‘‘ وہ اکثر اللہ سے اپنی قسمت کا شکوہ کرتی۔
’’پاگل عورت یہ کیا کردیا، میری اتنی پسندیدہ شرٹ جلا دی، کہاں رہتا ہے دماغ تمہارا؟ کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا تم سے۔‘‘ جمال نے اقراء کو قہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے اچھی خاصی باتیں سنا ڈالیں۔
’’میں دوسری شرٹ استری کردیتی ہوں۔‘‘ وہ روہانسی ہوکر بولی۔
’’ہاں تاکہ اس کا بھی یہی حشر کرو۔ رہنے دو، تم میری جان جلانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتیں، میں انہی کپڑوں میں اپنے دوست کے گھر چلا جائوں گا۔‘‘ جمال غصے میں پیر پٹختا ہوا گھر سے نکل گیا۔
زبیدہ خاتون کی تین بیٹیاں تھیں۔ دونوں بڑی بیٹیوں کی شادی ہوچکی تھی اور اقراء اپنی دونوں بہنوں سے عمر میں خاصی چھوٹی تھی اور شکل صورت بھی واجبی سی تھی۔ والد کی اچانک وفات کے بعد اس کی والدہ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں رہتی تھی، جس کی وجہ سے وہ اس پر زیادہ توجہ نہیں دے سکیں۔ ان حالات میں وہ میٹرک تک ہی پڑھ سکی۔ زبیدہ خاتون کی بڑی بہن نے یہ سب حالات دیکھتے ہوئے اقراء کو اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ جمال اور اقراء کی عمر میں بہت فرق تھا اور جمال غصے اور مزاج کا بھی تیز تھا۔ وہ اپنی پسند سے خاندان سے باہر شادی کرنا چاہتا تھا لیکن والدہ کی منت سماجت اور اصرار پر مجبوراً راضی ہوگیا۔ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد اقراء کی والدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ کافی دن تک اسے غم کے دورے پڑتے رہے۔ بہنیں بھی گھر بار والی تھیں، کبھی کبھار دل جوئی کے لیے آجاتی تھیں۔ کچھ دن تک تو جمال نے برداشت کیا، پھر اس نے برہمی سے کہا ’’بس بہت ہوگیا، اب یہ رونا دھونا بند کرو، میری ماں کب تک تمہارے نخرے اٹھائے گی!‘‘ اقراء بے چاری تو پہلے ہی غم سے نڈھال تھی، اوپر سے جمال کی تلخ باتوں نے اسے مزید دکھی کردیا۔ اسے جمال سے اچھے رویّے کی امید بھی نہیں تھی۔ آہستہ آہستہ اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔
’’اقراء بیٹی! آج کل میرا بلڈ پریشر بہت ہائی رہتا ہے، کھانے میں نمک اور تیل ذرا کم رکھا کرو۔‘‘ اس کی ساس نے سبزی کاٹ کر اسے دیتے ہوئے کہا۔
’’جی خالہ! میں خیال رکھوں گی۔‘‘ اقراء نے سعادت مندی سے جواب دیا۔
’’یہ کیا پکا کر رکھا ہے، اتنا بدمزا کھانا بنایا ہے، پھوڑ عورت۔‘‘ جمال نے غصے میں سالن کی پلیٹ پٹخ دی۔
’’ارے بیٹا! میں نے ہی نمک مرچ ہلکا رکھنے کے لیے کہا تھا، اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔‘‘ خالہ نے اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا۔
’’تو آپ کے لیے الگ نہیں بنا سکتی تھی! اس کے ہاتھ ٹوٹ جاتے اگر دو سالن بنا لیتی!‘‘ جمال غصے میں جانے لگا تو خالہ نے آواز لگائی ’’بیٹا کچھ اور کھا لو‘‘۔
’’میں باہر جاکر کھا لوں گا، آپ اپنی بھانجی کو کھلائیں یہ کھانا۔‘‘
اقراء نے آنسو اپنے دوپٹے میں جذب کرلیے۔ جمال کبھی نرمی سے بات نہیں کرتا تھا، وہ اتنا غصہ کرتا تھا کہ اچھے خاصے کام بھی اقراء سے گھبراہٹ میں بگڑ جاتے۔
اگلے دن ناشتے پر جمال نے کہا ’’امی میرا دوست امریکا میں رہتا ہے، وہ میرا ویزا بھجوائے گا اور وہیں میری نوکری کا بھی انتظام کرے گا، جیسے ہی میرا کام ہوگیا میں یہاں سے چلا جائوں گا۔‘‘ جمال نے اقراء کی طرف دیکھے بغیر اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔
’’نہیں بیٹا، ایسا مت کرو، ہم دونوں تو بالکل اکیلے رہ جائیں گے۔‘‘ خالہ نے التجا کی۔
’’آپ بہت شوق سے اپنی بھانجی کو بیاہ کر لائی تھیں ناں، رکھیں اپنے پاس، میں خرچا بھیج دیا کروںگا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تو آفس چلا گیا اور دونوں خالہ بھانجی ایک دوسرے کو بے بسی سے دیکھتی رہ گئیں۔
اقراء امید سے تھی، وہ سوچتی تھی کہ شاید اب جمال کا رویہ اس کے ساتھ اچھا ہوجائے گا، لیکن اس کا بھی جمال پر اثر نہ ہوا بلکہ اور دور جانے کا پروگرام بنا رہا تھا۔ کاموں سے فارغ ہوکر اقراء تھوڑی دیر کے لیے لیٹی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے نادیہ کھڑی تھی جو کہ پڑوس میں رہتی تھی۔ اس کی ہم عمر اور واحد سہیلی تھی۔
’’اچھا ہوا تم آگئیں، میرا دل بہت اداس ہو رہا تھا۔‘‘ اقراء نے نادیہ کے گلے لگتے ہوئے کہا۔
’’ابھی میں بیٹھنے کے لیے نہیں آئی بلکہ تمہیں اپنے ساتھ درسِ قرآن میں لے جانے کے لیے آئی ہوں، میں تو وہاں باقاعدگی سے جاتی ہوں، یقین کرو قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے، ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔ آج تم بھی میرے ساتھ چلو۔‘‘ نادیہ کے اصرار پر اس نے خالہ سے اجازت لی اور جانے کے لیے تیار ہونے لگی۔
درسِ قرآن کی بابرکت محفل میں جاکر اسے واقعی بہت اچھا لگا۔ وہ خوش گواری کے احساس کے ساتھ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی جمال کی لعن طعن نے اس کا استقبال کیا۔
’’میری اجازت کے بغیر کیوں گئی تھیں؟ ٹانگیں توڑ کے ڈال دوں گا اگر آئندہ گھر سے باہر قدم نکالا تو۔‘‘ جمال غصے سے اس کی طرف بڑھا۔
’’وہ میں خالہ سے پوچھ کر نادیہ کے ساتھ …‘‘ ابھی اس کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ پھر چیخنے لگا ’’میں سب سمجھتا ہوں، گھر سے باہر جانے کے بہانے ہیں یہ سب، اور یہ نادیہ کون ہوتی ہے تمہیں لے جانے والی! آئندہ یہاں نہ آئے۔‘‘
خالہ نے جمال کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ ’’ایسی محفلوں سے دل و دماغ پر اچھا اثر پڑتا ہے، سارا دن کام میں لگی رہتی ہے، چلی گئی تو کیا ہوا؟‘‘
’’بس امی! رہنے دیں، آپ اس کی زیادہ طرف داری نہ کیا کریں۔‘‘
…………
’’اٹھو میرے لیے ناشتا بنائو، مجھے آفس کے لیے دیر ہورہی ہے۔‘‘ جمال کے جھنجھوڑنے پر وہ بوکھلا کر اٹھ بیٹھی۔
’’میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، چکر بھی آرہے ہیں۔‘‘ اقراء نے اپنا سر دباتے ہوئے بتایا۔
’’کاہلی اور سستی میں تو تمہارا جواب ہی نہیں ہے، سب کام نہ کرنے کے بہانے ہیں۔‘‘ جمال کی ہر صبح اسی شور شرابے سے شروع ہوتی تھی۔ اس کے جانے کے بعد اقراء نے خالہ کو ناشتا دیا اور دوبارہ بستر پر لیٹ گئی۔ آج اس کی طبیعت بہت بوجھل ہورہی تھی۔ خالہ نے بھی اسے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ اقراء کی ذہنی و جسمانی تکلیف کو اچھی طرح سمجھتی تھیں اور کسی حد تک اپنے بیٹے کی زیادتیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد فون کی گھنٹی سے اس کی آنکھ کھلی۔ کسی اسپتال سے فون تھا، اور جو اطلاع انہوں نے دی اس نے اقراء کے اوسان خطا کردیے۔ وہ ہذیانی انداز میں چیخنے لگی۔ خالہ گھبرا کر اس کے پاس آئیں، ان کے تسلی دینے پر اس نے بتایا کہ جمال کی ایکسیڈنٹ میں موت واقع ہوگئی ہے۔ یہ خبر سن کر خالہ اپنا دل تھام کے رہ گئیں۔ دل کا دورہ اتنا شدید تھا کہ وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ گھر سے دو جنازے ایک ساتھ اٹھے تو ہر آنکھ اشک بار تھی۔ رشتے دار، محلے دار سب غمگین تھے۔ اقراء پر افسوس کررہے تھے کہ بھری جوانی میں بیوہ ہوگئی۔
دن اسی سوگواری میں گزر رہے تھے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اقراء اکیلی کس طرح رہے گی جب کہ اس کی ڈیلیوری کے دن بھی قریب تھے۔ ایک بہن تو سسرال والوں کے ساتھ رہتی تھی، جب کہ بڑی بہن الگ رہتی تھیں۔ ان کے شوہر خدا ترس انسان تھے، انہیں اقراء کو ساتھ رکھنے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ ’’میری بہن بہت صبر اور ہمت والی ہے، ان شاء اللہ اس آزمائش میں بھی پوری اترے گی۔‘‘ اقراء کی بہن نے اپنے شوہر کے سامنے اس کی تعریف کی۔
اقراء کی طبیعت میں بہتری آئی تو اس نے محلے کے بچوں کو قرآن پاک پڑھانا شروع کردیا۔ نادیہ بھی اکثر اس کے پاس آجاتی تھی اور اسے سمجھاتی تھی کہ ’’میری بہن صبر اور نماز سے مدد مانگو۔ ہرحال میں اللہ کا شکر ادا کرو، اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔‘‘
اس نے ترجمے سے قرآن پاک پڑھنا شروع کیا۔ دینی کتابیں پڑھنی شروع کیں تو اسے آگاہی ملی کہ اس پر تو کوئی بڑی آزمائش آئی ہی نہیں۔ معاشرے میں کتنی عورتیں ہیں جو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں، کوئی شوہر کے ہاتھوں، کوئی بھائی اور کوئی تو بیٹوں کے ہاتھوں۔ اسے احساس ہواکہ جمال نے کبھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا، گھر کا تحفظ نہیں چھینا تھا، خالہ نے ہمیشہ اس کا ساتھ دیا تھا، اس کی دل جوئی کی تھی، بہنوں کا پیار ملا اور اب اولاد جیسی نعمت ملنے والی تھی۔ اس نے بے اختیار اللہ کا شکر ادا کیا، اس سے مدد اور رہنمائی طلب کی اور نئی سوچ اور عزم کے ساتھ بچوں کو قرآن پاک پڑھانے کے لیے اٹھ گئی۔

حصہ