سوچوں پر حملہ آور میڈیا کی کہانی

83

آج سے تقریباً پون صدی پہلے جب ٹی وی ایجاد ہوا تو یہ تفریح کا ایک ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بھی تھا اور معاشرے میں موجود برائیوں کو دور کرنے کے لیے اس پر پروگرام نشر کیے جاتے تھے۔ دوسروں تک اپنے خیالات منتقل کرنے کا عمل ریڈیو کی ایجاد سے شروع ہوچکا تھا، اس کو مزید تقویت ٹی وی کی ایجاد نے دی۔ اب اس جدید ٹیکنالوجی (کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل) کی ایجادات نے اس کو مزید پھیلایا۔ اب دنیا ایک گاؤں کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔
ٹیکنالوجی کی ایجادات نے جنگ کے طریقِ کار بدل کر رکھ دیے ہیں۔ شروع دنیا سے اب تک جنگ میں مخالف قوم کو شکست دینے کے لیے افواہوں کا سہارا لیا جاتا تھا تاکہ قوم کو ذہنی طور پر شکست دی جائے۔ اس سے ان کے حوصلے کمزور ہوجاتے تھے۔ دشمن کو اعصابی طور پر کمزور کرنے اور اپنے نظریات کی ترویج کے لیے شروع سے ہی کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔ اب جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے یہ کام میڈیا سے لیا جا رہا ہے۔ میڈیا وار کے ذریعے اپنے خیالات کو ڈراموں اور فلموں کے ذریعے بہترین اور پُرکشش شکل دے کر دوسروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ڈراموں کے ذریعے اپنی تاریخ اور مخالف قوم کی تاریخ دکھائی جارہی ہے، اور اس میں کرداروں کو مسخ کرکے دکھایا جاتا ہے اور تاریخ سے ناواقف لوگوں کو بآسانی بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ میڈیا وار کے ذریعے مخالف حکمرانوں کی ذاتی زندگی کے واقعات میں رنگ بھر کر اُن کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ فلموں اور ڈراموں کے ذریعے عوام کو دشمن کے خلاف کھڑا کرنے اور دشمن ممالک کو انسانیت کا دشمن ثابت کرنے کا کام بہت عرصے سے عروج پر ہے۔ امریکا سمیت یورپ کے اکثر ممالک، روس، انڈیا اور اب عرب ممالک بھی اس سائبر اور میڈیا وار میں تیزی لائے ہیں۔ حالیہ وقت میں بہت سے یورپی ممالک نے اپنے میڈیا اور فلم انڈسٹری کو اسلام کی مخالفت میں استعمال کیا ہے اور اسلامو فوبیا مہم کو اپنی پہلی ترجیح بنایا ہوا ہے۔ مسلمانوں کی کردارکشی اور مسلمانوں کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کارٹون مقابلے کروائے گئے اور سیریز بنائی گئی، جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی۔ پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑ گیا اور مسلمانوں کے اس احتجاج کو دہشت گردی کہا گیا، اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف گردانا گیا۔ اسی طرح انڈین میڈیا اور فلم انڈسٹری نے بھی اسلام و پاکستان کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔
انڈیا نے گزشتہ سال پانی پت کے نام پر فلم ریلیز کی ہے۔ پانی پت ایک تاریخی لڑائی ہے جو افغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کے خلاف لڑی تھی اور اس جنگ میں مرہٹوں کو شکست ہوئی تھی۔ اس متنازع فلم کو انڈیا نے بابری مسجد کی شہادت کے دن ریلیز کیا۔ اس میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ ادریس زمان نے انڈین سفارت کار کے سامنے اس معاملے کو اٹھایا تھا۔ میڈیا کے ذریعے اسلام دشمنی کے بعد، مسلمانوں نے بھی اس کے ازالے کی کوشش کی اور عمرؓ بن خطاب پر عمر سیریز بنائی لیکن علما نے اس کو دیکھنا حرام قرار دیا۔ اب موجودہ وقت میں ترکی سیریز ارطغرل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ دوسری طرف عرب میں ترک عثمانیہ سلطنت کے حوالے سے ڈرامہ بنایا گیا ہے جس کا نام ممالک النار یعنی آگ کی بادشاہت ہے۔ ڈرامے کو ارطغرل کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے کو مصری رائٹرنے لکھا، برطانوی ڈائریکٹر نے ڈائریکٹ کیا، تیونس میں شوٹ ہوا، متحدہ عرب امارات نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس میں سلطنتِ عثمانیہ کے مصر پر قبضے اور سلیم اول کے ہاتھوں مملوک سلطنت کے خاتمے کی منظرکشی کی گئی ہے۔
موجودہ دور میں دنیا کے بیشتر ممالک اسی طرح عوامی تاثر کو تبدیل کرنے اور اپنے نظریات کی منتقلی کے لیے میڈیا اور فلم انڈسٹری کا سہارا لیتے ہیں۔ تاریخ کو توڑ مروڑ کر، اور جھوٹ کو سچ کے ساتھ ملا کر کہانیاں بناکر ممالک اپنے مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں۔ فلموں اور ڈراموں کے ذریعے سوچوں پر یلغار کا یہ سلسلہ اس وقت مکمل عروج پر ہے۔ دنیا میں میڈیا جنگ کے ایک مہرے کے طور پر اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک اس کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

حصہ