حصارانا

178

تمام عمر حصار انا نہیں ٹوٹا
کچھ ایسا زعم تھا خود پر کہ بندگی نہ رہی

دنیا کے ہر انسان کی زندگی بس ان ہی دو جذ بات سے عبارت ہے ۔ انسان ساری زندگی اپنی ذات سے باہر نہیں نکلتا اور اپنی انا کا قیدی بن جاتا ہے یا پھر اپنی ذات کو دوسروں کے لیے وقف کر کے بندگی کا حق ادا کر دیتا ہے ۔ لیکن انسان کا وہ روپ سب سے خطرناک ہوتا ہے جب وہ دنیا کے سامنے خود کو اپنی حرکات و سکنات سے انسانوں کا ہمدرد اور اچھا انسان بن کر دکھانے کی کوشش کرتا ہے ، اصل میں وہ خود اپنی انا کا قیدی ہو تا ہے اور اس کا ہر عمل د نیا دکھاوا اور ہمدردی سمیٹنے کا ایک حربہ ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے وزیر اعظم عمران خان صاحب بھی اسی طرح کی دورخی نفسیاتی کیفیات کا شکار ہیں ۔ اپنی باتوں اور تقریروں میں وہ اس ملک ، با لخصوص غریبوں کے سب سے بڑے ہمد ر د نظر آتے ہیں لیکن اصل میں وہ اپنی ذات کے بہت بڑے قیدی اور خود کو عقل کل سمجھنے والے ایک بہت بڑے خوش فہم دکھائی دیتے ہیں لیکن اس بات کی تعریف نہ کر نا ز یا دتی ہو گی کہ انہوں نے اپنے احکامات اور طرز حکومت سے نہ سہی لیکن بعض افعال سے ضرور سادہ لوح عوام کے دل جیتنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ کافی حد تک کا میاب بھی رہے ہیں ۔ جس کی سب بڑی مثال فٹ پاتھوں پر نماز کی ادائیگی اور مزاروں پر سجدہ ریز گی ہے ۔ اس امر میں کسی شے کی گنجائش نہیں کہ انھوں نے یہ کام اپنے پورے شعور اور سیاسی حکمت عملی کے تحت سر انجام دیا اور اس طرح معاشرے کے ایک ایسے طبقے کو اپنی طرف راغب کر لیا جس کا ان کی طرف مائل ہو نا بہت کم امکانات رکھتا تھا ۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے داغ دار ماضی کے انمٹ نقوش کو دھند لا چاہتے ہوں جو برسوں سے ایک بھیانک آسیب کی طرح کی ان کی شخصیت کے ساتھ چکے ہوئے ہیں ۔
اسی طرح مدینے کی ریاست کا راگ تو ان کی زبان پر اکثر ہی آ جا تا ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ نہ ان کی طرز حکومت سے ایسا کچھ آج تک نظر آیا اور نہ ان کی اپنی ذات اور ان کی بود و باش میں رتی برابر بھی اس کی جھلک نظر آتی ۔ جس دن جناب عمران خان نے پہلی بار یہ مژدہ سنایا تھا کہ میں پاکستان کو مدینے کی ریاست بناؤں گا تو اگلے دن ہی انہیں بنی گالا پر تعش فارم ہاؤس سے نکل کر لاہور کے بادامی باغ یا کراچی کی اورنگی ٹاؤن جیسی کسی کا لو نی میں 80 گز کے ایک کوارٹر میں رہائش اختیار کر لینی چاہیے تھی ۔ اپنی تنخواہ کو ایک عام مزدور کی تنخواہ کے برابر کر دینا چاہیے تھا۔ اپنے تن پر صرف ایک جوڑا رکھنا چاہیے تھا اور اسے ہی روزانہ دھو کر پہننا چاہیے تھا ۔ جب دنیا یہ منظر کھلی آنکھوں سے دیکھتی تو آنکھیں بند کر کے اس کی زبان کی صداقت اور نیت دونوں پر ایمان لے آتی ۔
غریب اور مزدور سے اپنی اسی ہمدردی کا اظہار انھوں نے حالیہ وبا کے دنوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف مختلف بیانات اور احکامات کے ذریعے کیا ۔ وہ دیہاڑی دار کیا کرے گا جو روز کما تا اور روز کھا تا ہے ، وہ تو بھوک سے مر جائے گا ۔ ہمارے ہاں تو ابھی توقع سے بہت کم لوگ مرے ہیں ۔ مدینے کی ریا ست سنبھالنے والے تو کہا کرتے تھے اگر میرے ملک میں کتنا بھی بھوکا مر گیا تو اس کا ذمہ دار وہ ہو گا ۔ اور اطلاعات یہ ہیں کہ اب تک کور و نا سے 6 ہزار کے قریب لوگ گزر چکے مگر بھوک سے ایک بھی غریب پاکستانی ہلاک نہیں ہوا۔
ہماری دانست میں اس مسئلے سے نبٹنے کا سب سے آسان حل یہی تھا کہ جب بلوچستان میں کو رونا کے پہلے مریض کا پتا چلا تھا اور وہ بذریعہ تفتان ایران سے آیا تھا تو اسی وقت ایران کے بارڈر کے ساتھ کنٹینرز کی مدد سے ایک عارضی ہسپتال قائم کر دینا۔
چاہیے تھا اور آنے والے تمام افراد کو وہیں روک لیا جا تا ۔ جہاں تک رہی بات اس اسپتال کے قیام کی تو آخر ہماری فوج کی انجینئر نگ کور اور دیگر شعبہ جات کون سے ہنگامی حالات کے لیے مختص کیے گئے ہیں ۔ چین کے لوگ تو نہ جسمانی طاقت میں ہم سے زیادہ ہیں اور نہ ہی جذبہ ایمانی میں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ہنگامی بنیادوں پر ایک دو سو بستروں کا اسپتال نہ بنا سکیں ۔
اس حوالے سے ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی حکمت عملی بہتر نظر آتی ہے ، بھارت نے ایران سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ آپ کسی زائر کو ہمارےملک نہیں بھیجیں گے اگر آپ نے ایسا کیا تو ایک بھی ایرانی جہاز بھارت کی زمین پر نہیں اتر سکے گا ۔ بھارت نے اپنے ڈاکٹر ز کی ٹیم ایران بھی اور وہاں انھوں نے بھارت آنے والے ایک ایک فرد کا ٹمیٹ لیا اور جو لوگ کو رونا مثبت نہیں آئے صرف ان کو بھارت واپسی کی اجازت ملی ۔ مریضوں کا علاج ایران میں ہی کیا گیا۔
وزیر اعظم صاحب کی انا پرستی کا ایک اور معاملہ کراچی میں ہوائی جہاز کے حادثے میں بھی پیش آیا ، محترم وزیر اعظم صاحب شاید ابھی تک نہ اس محلے میں تشریف لائے ہیں اور نہ ہی انھوں نے اب تک مرنے والوں کے لواحقین سے ذاتی طور پر کسی تعزیت کی زحمت گوارا کی ہے ۔ مدینے کی ریاست کو اپنے پیش نظر رکھنے والے حکمران کو چاہیے تو یہ تھا کہ حادثے کے دن ہی ماڈل کالونی کراچی کی اسی گلی کے کونے پرکیمپ لگا کر بیٹھ جاتا اور تمام لاشوں کی شناخت ہونے ، ورثا کو معاوضہ ملنے اور تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو رقوم ملنے تک وہاں سے نہ ہوتا۔
عمران خان صاحب کے درج بالا اور اسی طرح کے دیگر بہت سارے دعوے اور بیانات مجھے قیام پاکستان کے سب سے روشن دریچے کی طرف لے جاتے ہیں ، جہاں سے پاکستان کے قیام کا سب سے بڑا سیاسی نعره طلوع ہوا تھا ۔ ایک قلعے کی بنیاد پر سادہ لوح عوام کو متحد کیا گیا ، یہاں اس امر کا پورا امکان موجود ہے کہ ہمارے اکابر ین نے یہ سب کچھ پوری نیک نیتی سے کیا ہو گا مگر پاکستان بننے کے بعد اس نعرے کی عملی تشکیل کو یہ قوم آج تک ترس رہی ہے ۔
ہمارے معاشرے میں انسانوں کی نفسیات کا ایک سیدھا سا پہلو ہے کہ مذہب کے نام پر لوگوں کو جمع کرنا اور اسی کے ذریعے ان کا استحصال کرنا بہت آسان ہے ۔ اور عمران خان صاحب نے یہ سب کچھ انتہا کی سوچ سمجھ کر با قا عدہ ایک حکمت عملی کے ساتھ کیاہے، دراصل عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی آئندہ الیکشن کے لیے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا تھا جس کی جھلکیاں قوم کو گذشته انتخابات سے قبل ہی نظر آنا شروع ہو گئیں تھیں ۔ اب آئندہ انتخابات میں شاید کچھ پڑھے لکھے لوگ تحر یک انصاف سے بد دل ہو جائیں لیکن اپنی کامیاب حکمت عملی کے نتیجے میں وہ ایک ایسے جم غفیر کی حمایت حاصل کر لیں گے جو اس اول الذکر افراد سے تعداد میں کہیں زیادہ اور شعور کی سیٹ پر کہیں پست ہے۔
انتظامی معاملات کے حوالے سے دیکھیں تو خیبر پختونخوا میں کئی منصوبے صرف اس لیے تاخیر کا شکار ہیں کہ ان کی منظوری وزیر اعظم عمران خان صاحب نے نہیں دی ہے، اور یہی صورت حال پنجاب کی بھی ہے ۔ لیکن دونوں صوبوں کے وزرائے اعلی ربر اسٹیمپ کے سوا کچھ بھی نہیں اور یہ بھی ان کی اسی انا پرست طبیعت کا شاخسانہ ہے کہ نمایاں پوزیشنز پر جو لوگ بٹھائے جائیں وہ اہلیت اور فیصلہ سازی کے معاملات میں کمزور ہوں اور ہر معاملے میں وزیر اعظم صاحب کی عقل کل کے بغیر کو کئی کام نہ ہو سکے ۔
کراچی سے منتخب ہونے والے بیشتر ممبران اسمبلی نا اہلی کی چلتی پھرتی تصویر میں ہیں ، جن میں مشہور شعبدے باز عامر لیاقت، فیصل واوڈا اور عالمگیر خان قابل ذکر ہیں ۔
شوگر ملز کرپشن کیس کے معاملے میں ان کا اپنا رفیق کار جہانگیر ترین چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ سبسڈی کی سمری پر دستخط تو وزیر اعظم نے کیے ہیں ، اس میں ہم شوگر مل مالکان کا کیا قصور ہے ۔ اصولی طور پر تو اس سارے معاملے میں سب سے بڑے فریق وزیر اعظم صاحب خود ہیں ۔ لیکن کوئی کچھ بولنے والا نہیں اور ایسی ہی صورت حال آ ٹے کی بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے بنائے گئے کمیشن کے ساتھ بھی پیش آنے والی ہے۔
دراصل یہ سارا ڈرامہ بھی ایک اور حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں ان کے سیاسی بیانات اور بلند و بانگ دعووں کا بڑا اعمل دخل ہے ۔ ہماری حکومت میں کرپشن کرنے والوں کو جگہ نہیں ملے گی ، پارٹی میں کسی کر پٹ کی گنجائش نہیں ، شوگر ملز اور فلور ملز دونوں ناٹک ان ہی بیانات کو سچا ثابت کرنے کے لیے اچائے گئے ہیں ۔ عوام کی جیبوں سے جو کھربوں روپے نکل کر ان سا ہو کا روں کی تجوریوں تک پہنچے ہیں وہ کسی کمیشن اور کسی عدالت کے ذریعے عوام کو واپس نہیں ملیں گے ، کیوں کہ مقصد بالکل واضح اور شفاف ہے، یعنی غریب کو اپنا ہمدرد او رمخلص جتایا یا جا ئے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا کو ئی بھی موقع ہاتھ سے جانا نہ دیا جائے ۔ اگر موقع نہیں مل رہا ہو تو مصنوعی طریقے سے پیدا کیا جائے ۔
وزیر اعظم صاحب کاش آپ ان نام نہا د کیشنز بنانے کے بجائے صرف ایک اعلان کر دیتے کہ کل سے چینی 55 روپے اور آٹا 40 روپے کلو فروخت کیا جائے گا۔ لیکن سلام ہے آپ کی غربت نوازی کو جن مستحق غریبوں کو آپ نے احسان جتا کر12,000 روپے فی خاندان تقسیم کیے عین انہی دنوں میں کمال فن کا ری سے آئے اور چینی جیسی بنیادی اجناس کو مہنگا کر کے سارے پیسے اپنے دوست یا روں کے ذریعے واپس ہتھیا لیے۔

دامن میں کو ئی چھینٹ
نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو
کہ کرامات کرو ہو

سلام امام عالی مقام جناب حسینؓ

نظر فاطمی

جس دن سے غم حسین کا مجھ کو عطا ہوا
آئینہ کربلا کا ہوں میں بھی بنا ہوا
دنیا کے سیم و زر میری نظروں میں ہیچ ہیں
صدقے میں اُن کے مجھ کو ہے سب کچھ ملا ہوا
یارو غمِ حسینؓ کی طاقت تو دیکھیے
اک ایک اشک ہے مرا دریا بنا ہوا
ہوتا ہے کربلا کا شب و روز تذکرہ
رہتا ہے گھر میں فرشِ عزا ہی بچھا ہوا
روشن چراغِ فکر میں خونِ حسینؓ سے
اُن سے ہی زندگی کو اجالا عطا ہوا
لب پہ ہمارے ذکر شہ مشرقین ہے
ہم کو نہ چھیڑ دل ہے ہمارا دکھا ہوا
میرے نظرؔ قریب نہ آئے گی تیرگی
نامِ حسینؓ ہے مرے دل پہ لکھا ہوا

حصہ