ایف اے ٹی ایف اور سوشل میڈیا

116

ایسا نہیں ہوا کہ ہمارے معاشرے سے ’ خیر‘بالکل ہی ختم ہو گیا ہو ، بظاہردن رات جن خبروںمیں ہم گھرے رہتے ہیںاُن سے تو ہمیں ہر گزرتے دن اپنے اطراف شر، بدی، جرائم ، بے حسی ہی پھیلی محسوس ہوتی ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ وہ صرف چندہی خبریں ہوتی ہیں جنہیں ایک پالیسی کے تحت یا سوشل میڈیا پر نادانی میں نمایاں کیا جاتا ہے، چاہے وہ موٹر وے والا معاملہ ہو، زینب کیس یا مروہ ،اسی طرح اس ہفتہ جہاں موٹر وے کیس کا مجرم عابد اپنی عدم گرفتاری پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ خبروںکی ہیڈ لائن دیکھنے کے دوران بچہ نے سوال کر لیا کہ یہ عابد کون ہے ؟ اس نے کیا زیادتی کی؟اب بھلا اُس وقت میں کیسے اور کیاسمجھاتا اپنے بچے کوکہ اتنی دیر میں مروہ کے کیس میں پڑوسی کے پکڑے جانے کی ہیڈ لائن اسکرین پر اُمڈ آئی ۔اب بتائیں کس پہلو پر کیا بات کریں۔پھر اگلی ہیڈ لائن میں وزیراطلاعات پنجاب فخریہ انداز سے بتا رہے تھے کہ ا بشام اور اسکا باپ پنجاب پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔ مذکورہ 16سالہ لڑکابنیادی طور پرتو ایک امیر باپ کی بگڑی اولادتھا جس کی رسائی جدید ترین اسلحہ تک تھی جوکہ اُس نے لڑکی کو دھمکانے کے لیے بنائی گئی ویڈیو میں دکھایا۔صرف دکھایا ہی نہیں بلکہ لڑکی کو اُس کے گھر والوں کوبری طرح دھمکا یا کہ بیان کرنا محال ہے۔فاطمہ نامی یہ لڑکی اپنا مدعا سوشل میڈیا کی عدالت میں لے آئی جہاں فوراً ہی دو عدد ٹرینڈ بنے اور اگلے دن گرفتاری ہوگئی ۔
بہر حال اس طرح کی خبروںمیں جب ہم گھرے ہوتے ہیں توہمیں معاشرہ نہایت تنزلی کی جانب محسوس ہوتا ہے۔ میںسمجھتا ہوںکہ یہ اسلام کی ہی برکت ہے کہ ہمیں اپنے اطراف میں کئی برائیوں کے پنپنے کے باوجود خیر بھی نظر آ جاتا ہے ۔ انفاق فی سبیل اللہ معمولی بات نہیں ہے ۔ہم نے خود دیکھاکہ کراچی میںحالیہ برسات اس سے قبل لاک ڈاؤن کورونا، سیلاب، زلزلہ، ہر ہر موقع پر آگے بڑھ کر اپنے متاثرہ بھائیوں کی خدمت میںخاموش اہل خیر افراد کی کثرت دیکھی ۔لوگ حسب استطاعت مگر آگے بڑھ کر ہر ہر دائرے میں لوگوں کی مدد کر رہے تھے اس کے پیچھے سوائے اللہ کی رضا کے اور کوئی جذبہ نہیں نظر آیا۔اسی طرح حالیہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں مساجد میں نماز کی پابندی کی خاطر بھی عوام کا رجوع دیدنی تھا۔پچھلے رمضان میں روزہ افطار و کھانا کھلانے کا ایک ایسا کلچر تھا کراچی میں جو اس سے قبل کسی آنکھ نے نہیں دیکھا تھا۔آپ آج بھی سڑک پر اگر موٹر سائیکل پیٹرول ختم ہونے پر گھسیٹتے جا رہے ہوں خواہ دن ہو یا رات لازما ً کوئی نہ کوئی فرد رُکتا ہے پیٹرول یا پیروں سے دھکا دے کر ( ٹو) کرکے قریبی پیٹرول پمپ تک لازمی چھوڑ ہی دیتا ہے ۔
اس ہفتہ میرے ساتھ بھی ایک ایسی نیکی کو جاننے کا یا’ خیر ‘کو جاننے کا واقعہ پیش آیاکہ میرا موبائل موٹر سائیکل پر سفر کے دوران پینٹ کی جیب سے بازار میں کہیں گر گیا۔مجھے اس بات کا اندازہ خاصی دیر بعد ہوا، تلاش میں روانہ ہوا اُمید تھی کہ شاید سڑک پر مل جائے مگر نہیں ملا۔قریبی دکانداروں سے درخواست کر کے اُن کے موبائل سے کال ملائی مگر فون نمبر بند ملا۔سب نے یہی کہا کہ اگر فون بند ہو گیا ہے تو سمجھ جاؤ کہ اب معاملہ ختم۔میں نے تلاش جاری رکھی ہر ہر دکان جہاں سے میں گزرا تھا اُن سب سے معلوم کرتا رہا وہ فون بھی کرواتے مگر فون بدستور بند ہی آتا رہا۔ہمیشہ کی طرح کسی چیز کے کھو جانے پر پڑھنے والے اذکار کا اثر تھا کہ میرا دل کہہ رہا تھاضرور مل جائے گا۔میں جانتا تھا کہ فون کی بیٹری اتنی کم نہیں تھی کہ اتنا جلد فون بند ہو جائے ، لازمی کسی نے بند کیا ہوگا۔اس کے بعد چونکہ فون کوڈ اُسے معلوم نہیں ہوگا تو وہ اُسے بغیر کوڈ کھول مطلب اینڈرائڈ سے بھی نہیںتعلق جوڑ سکے گا یعنی میں جتنی کال کروں فون بند ہی ملتا۔اس دوران مجھے پتا چلا کہ میری اہلیہ نے اُسی وقت جب فون گرا تھا تو مجھے کسی کام سے فون کیا تو کسی شخص نے فون ریسیو کیا اور کہا کہ فون اُس کے پاس محفوظ ہے مگر وہ اپنی کوئی معلومات نہ دے سکا ماسوائے ایک نارتھ کراچی کے سیکٹر کے نام کے ۔اس کے بعد سے اُس کو جتنے فون کیے گئے فون بند ہی رہا، میرے فون میں دو سم تھیں دونوں پر ہی تواتر سے کال کرتے رہے۔ اب فون بند ہونے کے بعد تو اُمیدیں دم توڑتی محسوس ہوئیں۔ سب نے کہہ دیا کہ سم بند کرادو ، دوسرا فون لے لو، آئندہ احتیاط کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اب معاملہ یہ ہے کہ فون کی تو خیر کیا قیمت کی اہمیت ہوگی جتنا اہم فون کا ڈیٹا ہوتا ہے ہمارے لیے تو وہی قیمتی ہوتا ہے ۔ کسی زمانے میں فون نمبرز کی اہمیت ہوتی تھی بعد ازاں گوگل اکاؤنٹ کی وجہ سے وہ تو پھر بھی حل ہو گئی اب معاملہ تھا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تو اُن کے پاس ورڈ تبدیل کر لیے لیکن واٹس ایپ ڈیٹا ، گفتگو، میسیجز ، فوٹوگیلری میںکئی اہم دستاویز کی تصاویر ، گھر کی تصاویر موجود تھیں، ان کا خیال آ رہا تھا۔اس دوران نہ ہی اذکار کا دامن چھوڑا نہ ہی تلاش کا ۔ دن 12بجے کا واقعہ تھا اب دوبارہ عصر کے وقت نکلا دکان دکان پوچھتا رہا ،گھر سے ایک دوسرا فون کاسادہ والا سیٹ لے کر اُس سے کال کرتا رہا ۔ بس وقت گزرتا گیا اور صبر آتا چلا گیا ۔عشاء کی نماز تک نئے موبائل کے لیے ذہن بنا لیا ، متعلقہ جاننے والے ایک دکاندار سے رابطہ بھی کر لیا۔ سارا دن جو لوگ مجھ سے رابطہ کر رہے ہونگے تو سب کونمبر بند ہی مل رہا ہوگا جوکہ اس سے قبل کبھی نہیں ہواتھا۔رات کوئی گیارہ بجے کے قریب میں نے دوبارہ فون ملایا توپہلی سم بند ہی ملی پھردوسری پر کوشش کی تو بیل چلی گئی ، میری زبان سے شکر الحمدللہ جاری ہوا ۔فون اٹھایا گیا میں نے تعارف کرایا اور اپنی اہلیہ والی گفتگو کا حوالہ دیا ، دوسری جانب شخص نے مجھے جگہ بتائی اور ایک گھنٹہ بعد آنے کا کہا۔میں گھنٹہ بھر بعد ایک مٹھائی کا ڈبہ لیکر اُس کے پاس بتائی ہوئی جگہ بہر حال پہنچ گیا ۔ اب اُس کی تو تصدیق کرنی تھی کہ فون میرا ہی ہے یا نہیں تو جب میں نے اُس کو کوڈ کھول کر دکھایا تو اُس نوجوان کو بھی یقین آگیا۔ کوئی 25-30سال کایہ عامراحمد نامی نوجوان ہے ، نارتھ کراچی سیکٹر فائیو سی ون کا رہائشی ، ایک فارما کمپنی میں ملازم ہے۔ اُس کو میرا فون سڑک پر ملاتھا اُس نے بتایا کہ ایک اور رکشہ والا آگیا اور اُس سے مانگنے لگا کہ مجھے دے دو میں واپس سے دونگا مگر عامر نے مشکوک جان کر انکار کر دیا ۔ شاید اُسی وقت میری اہلیہ کی کال آئی ہوگی جو اُس نے ریسیو کی تھی۔میں نے اُسکاتہہ دل سے شکریہ ادا کیا ،ڈھیروں دُعائیں دی اور احساس دلایا کہ فی زمانہ ایسی نیکی یقینابڑے اجر کا بھی باعث ہوگی۔اُس نے بتایا کہ اُس کا موبائل بھی اس سے قبل تین بار گر چکا ہے مگر اسی طرح 2بار واپس مل گیا، اس لیے اُسے بھی احساس ہے موبائل گم ہوجانے پر پیدا ہونے والی کیفیت کا۔رات کوئی ڈیڑھ بج رہا تھا، گلی میں خاصا اندھیرا تھا میں نے اُس کی تصویر چاہی تو فیس بک اکاؤنٹ سے لینے کی بات ہوئی مگربعد ازاں میرے کال کرنے پر بھی اُس عظیم انسان نے نامعلوم وجہ سے گمنامی ہی کو ترجیح دی۔
جی 7ممالک نے ایف اے ٹی ایف مطلب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس بنائی جس کے اب 39ممبران ہیں۔ 9-11کے بعد سے مغربی تسلط نے دُنیا پراپنا مزید دائرہ کار بڑھاتے ہوئے دُنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں کو کنٹرول و مانیٹر کرناضروری سمجھا۔ یہ سرگرمیاں بظاہر تومنی لانڈرنگ یعنی بینکوں کے علاوہ کرنسی منتقلی کے طریقے پرشروع ہوئیں، ساتھ ہی ٹیکس کی معافیہ بھی کنٹرول کرنا تھا، لیکن درحقیقت تو وہ اسکے ذریعہ اسلحہ کی خریداری پر نظر رکھنا چاہتے ہیں۔اسلحہ بھی وہ جو اُن کے خلاف استعمال ہو۔9-11کے بعد ’دہشت گردی ‘ اور اسکے خلاف جنگ کا نیا لیبل لگا کر جو اکھاڑ پچھاڑ مچائی گئی وہ سب کے سامنے ہے۔ان ’دہشتگردوں‘ کی مالی معاونت اور ان کو مضبوط ہونے سے روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف ہتھیار کی مانند ہے۔یاد رہے کہ ’دہشت گرد‘ صرف وہی ہے جسے ’امریکہ‘ دہشت گرد قرار دے ، اسکی تعریف خوداُس کی اپنی پیدا کردہ ہے جو وقت حالات ،موڈ ، مفادات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔اس ٹاسک فورس نے سرمائے کی نقل و حرکت پر کنٹرول کی خاطر 40سفارشات بنائیں،جسے طاقتور مغربی اقوام کمزور ممالک پر نافذ کرتی ہیں۔اب نوٹ کریں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے کہیں بھی اسلحہ کی نقل و حمل کے کاروبارپر کہیں کوئی پابندی نہیں کیونکہ دُنیا بھر کو چلانے و الوں کے پیچھے اسلحہ ساز ادارے ہی بیٹھے ہیں۔کرنسی، ہیرے، سونے یہاں تک کہ منشیات کے بدلے بھی یہ کاروبار چمکایا گیا ، اب جدید دور میں’ ڈارک ویب ‘میں’ کرپٹو کرنسی‘ پر یہ کام چلتا ہے۔جان لیں کہ دُنیا بھر میں اس وقت ناجائز اسلحہ کے ڈیلر موجود ہیں جو دنیا بھر میں جاری علاقائی جنگوں کے لیے اسلحہ آپ کی مطلوبہ جگہ پر فراہم کرتے ہیں چاہے وہ افریقہ کے جنگلات ہی کیوںنہ ہوں۔اسلیے پاکستان کو قابو کرنے کے لیے باوجود پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی حصہ لینے کے باوجود اُسے دوبارہ2018میں امریکہ، فرانس و انڈیا کی سفارش پر گرے لسٹ ( مشکوک ملک) میں ڈال دیا گیاجس کو ختم نہ کیا گیا توپاکستان کی حکومت کو ملک میں مہنگائی ، بے روزگاری و معاشی بدحالی کا شدید خطرہ ہے۔حکومت نے اس کی خاطر ہی آسیہ ملعونہ کو رہا کیا ، باقی اجلاسوں میں حکومت نے تمام پیش کردہ مجوزہ اصلاحات کو قانون سازی کے ذریعہ کرنے کا اعلان کیا۔حکومت کو 11بلوںپر قانون سازی درکار ہے ، اسکے لیے وہ سب کو اُن کے مفادات کی روشنی میںساتھ ملانا چاہتی ہے ۔اس صورتحال میںجماعت اسلامی اتفاق سے وہ واحد جماعت سامنے آئی ہے جو اسکی مخصوص قانون سازی پر مدلل انداز سے احتجاج کر رہی ہے اور مستقل کر رہی ہے۔سینیٹر مشتاق احمد خان اس حوالے سے خاصے ووکل رہے ہیں، انکا سوشل میڈیا مستقل اس پر موثر کام کر رہا ہے لاکھوں کی تعداد میں اُنکی تقاریرکے کلپس شیئر اور دیکھے گئے ہیں۔مگر اتفاق یا کسی کی منصوبہ بندی کہیے کہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ بنانے کے لیے جو ہیش ٹیگ چلے اُن میں ایک جاب مسلم لیگ ن ، عوام کو گمراہ کرتی رہی تو دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے چلائے گئے اپوزیشن مخالف ٹرینڈ بھی ماسوائے عوام کو گمراہ کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے نظر آئے۔ سینیٹ و قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران سینیٹر مشتاق احمد خان نے صاف کہاکہ اُنہیں یقین ہے کہ اس بل کی حمایت کرنے والے سینیٹرز نے بل کوسمجھنا تو دور کی بات پڑھا تک نہیںہے۔‘اُنکے مطابق بغیر پڑھے صرف پارٹی سربراہان کے حکم پر ایسا کرنا آئین ودستور کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
رکن کے پی اسمبلی عنایت اللہ خان نے سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ ،’ایف اے ٹی ایف جن قوانین کا مطالبہ پاکستان سے کر رہا ہے کیا وہ قوانین ان کے ممبر ممالک میں بھی لاگوہیں؟مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اراکین کل کیوں پارلیمان سے غائب تھے، ذاتی مفادات کے لیے قومی مفادات کو بلڈوز کرنا قوم سے نا انصافی ہے؟‘‘میں نے اس سلسلے میں امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا و سینیٹر مشتاق احمدخان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس کے اہم نکات اس طرح بیان کیے کہ یہ قانون سازی ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر کی جا رہی ہے، جبکہ پارلیمان دستور ی طور پر مجاز ہے قانون سازی کے لیے ۔ اس کے علاوہ اس بل میں خلاف دستور دفعات ہیں اور اس میں پارلیمنٹ کے مروجہ طریقے کو پامال کیا گیا ہے۔ صرف ایک وقف بورڈ کے بل میںکئی چیزیں ایسی ہیں جو کہ آئین کے خلاف ہیں جس میں یہ بات کہ ’ایڈمنسٹریٹر اوقاف کے کسی حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ یہ نکتہ سراسرآئین کے آرٹیکل 199 کے خلاف ہے۔ دوسرا یہ کہ ’اوقاف کی رقم سے ایڈمنسٹریٹر سکول اور سڑکیں بنا سکتا ہے جبکہ اوقاف کی رقم صرف اس مقصد کیلئے ہوتی ہے جس کیلئے اُس کو وقف کیا گیاہو ، اپنی مرضی یا فرد واحد کی مرضی سے اسکول یا سڑک بنانا کسی طور درست نہیں ہو سکتا ۔اسی طرح یہ بھی بل میں کہا گیا ہے کہ اوقاف کے مدرسوں اور مسجدوں میں سیاسی خطبوں پر پابندی ہوگیجو کہ آرٹیکل 19 میں فریڈم آف ا سپیچ کی خلاف ورزی ہے ۔اسی طرح اگر اپنے مدرسے یا مسجد میں پانی و گیس بل کیلئے جو چندہ بکس رکھتے ہیں اس کو بھی حکومت نے اپنے اختیار میں کرلیا۔ اب وہ پیسے بھی حکومت لے گی۔ یہ تو چند ہی تازہ نکات ہیں جن کو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا گیا۔ مزید چیزیں ہم کوشش کریں گے کہ اگلے مضمون میں تفصیل سے ڈالیں۔

حصہ