نبی رحمت ؐ کی صفاتِ حمیدہ

2068

دنیا میں لا تعداد مذاہب ہیں‘ اسلام ان تمام مذاہب میں سب سے کم عمر ہے۔ مگر یہ ایک زندہ اور فروغ پزیر مذہب ہے۔ ادیان کی تاریخِ عالم میں یہ کلیہ ہے کہ ہر شخص اپنے مذہب کے بانی کے بارے میں ان کی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں بہت کم جانتا ہے مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے بارے میں آنکھوں دیکھے احوال پر ہزارہا جلدیں موجود ہیں جن میں ان کی پوری زندگی کے ایک ایک لمحے کی تفصیل موجود ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ہی عظیم ترین کامیابی سے ہمکنار ہوئے‘ اس کامیابی کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جہاں تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا تعلق ہے قرآن حکیم لفظ بالفظ ہم تک پہنچا ہے۔ اس کی زبان وہی ہے جس میں وہ نازل ہوا تھا۔چودہ سو سال گزر گئے مگر کسی کی ہمت نہیں جو قرآن میں یا رسول اکرمؐ کی حیات طیبہ کے بارے میں کوئی تبدیلی کرسکے۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا فرماتے تھے‘ روزے کیسے رکھتے تھے‘ انہوں نے حج کیسے ادا فرمایا‘ ان کی خوراک و پوشاک کیسی تھی‘ ان کی پسند ناپسند کیا تھی۔ چنانچہ تمام مسلمان آج بھی ان روحانی فرائض کو عین اسی طرح انجام دینا اپنی سعادت سمجھتے ہیں جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیے تھے۔ اسلام کی تعلیمات آج بھی زندہ و متحرک ہیں اور ان میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں ہوئی۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن کے تراجم اور بانی ٔ اسلام پر ہزارہا کتب موجود ہیں۔ مستشرقین تعصب اور اسلام دشمنی کے باوجود اس بات پر متفق ہیں کہ ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم انسان تھے۔‘‘
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم اور جامع صفات قانون ساز تھے۔ وہ بہت بڑے منتظم تھے جنہوں نے مشتِ خاک سے ایک عظیم مملکت قائم کی۔ وہ خود اس کے منتظم اعلیٰ تھے۔ انہوں نے فوجوں کی کمان کی اور بسا اوقات اپنی رضا کار فوج سے تین سے پندرہ گنا بڑی فوج تک کو شکست دی۔ ان کی اخلاقی تعلیمات اصلاحات اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ ان کی مذہبی تعلیمات بندے کے خدا سے تعلق استوار کرتی ہیں کیوں کہ خدا اور بندے کے درمیان کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نسلِ انسانی کو اخلاق سکھایا اور خود مجسم اخلاق بن کر دکھایا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حمیدہ اور اسوہ حسنہ کی پیروی کرنا مسلمانوں کی سنت رہی ہے۔ آپؐ کی زندگی کا ہر لمحہ اطاعتِ الٰہی کا پابند تھا۔ سیرت پاکؐ مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے قرآن میں حکمِ ربانی ہے کہ ’’او رسول کی ذات میں تمہارے لیے نمونہ ہے۔‘‘ یہ فرمان الٰہی مسلمانوں کے لیے ہے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جس کی تعلیمات عالم گیریت کی حامل ہیں۔ مختلف روایات میں آپؐ کی عادات و خصائل کا تفصیل سے ذکر آیا ہے۔ ان روایات کے مطابق آپؐ سراپا سادگی تھے۔ اپنے جوتوں کی خود مرمت کرتے‘ اپنی بکریوں کا دودھ دوھ لیتے اور اس کام کے لیے اپنے خادم کو بھی تکلیف دینا گوارا نہ فرماتے۔ آپؐ کے خادمِ خاص حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں ’’میں نے دس سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں گزارے‘ انہوں نے مجھ سے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا یا کیوں کیا ہے‘ وہ ہمیشہ مجھ سے نہایت شفقت فرماتے تھے۔
آپؐ جسم اور لباس کی طہارت و صفائی کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ آپؐ نے داڑھی رکھی ہوئی تھی کبھی کبھار بال بڑھا بھی لیتے تھے مگر وہ بالوں کو نہایت صاف ستھرا اور کنگھی سے سنوار کر رکھتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیز رفتار تھے حتیٰ کہ ان کے صحابہؓ کو ان کے ساتھ قدم ملانے میں دقت پیش آتی تھی مگر وہ گفتگو آہستہ آہستہ کرتے تھے۔ ایک راوی کے مطابق ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ٹھہر ٹھہر کر بولتے تھے کہ ان کے ہر لفظ کا ایک ایک حرف باآسانی گنا جا سکتا تھا چونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون تھا لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ آپؐ جو کچھ فرمائیں سننے والے اسے اچھی طرح سمجھ لیں۔ وہ سادہ اور شستہ زبان استعمال کرتے تھے خواہ کسی ایک فرد سے مخاطب ہوں یا مسلمانوں کے اجتماع سے خطاب فرما رہے ہوں‘ آپ کا طرزِ تکلم ہر طرح کے تصنع سے پاک تھا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ ننھے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور جہاں کہیں بھی بچوں کو دیکھتے خوش ہو جاتے۔ بچوں کو ہنسانے کے لیے ان سے مذاق بھی فرماتے۔ فطری طور پر وہ اپنے نواسوں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ بسا اوقات وہ نماز کے دوران بھی ان میں سے ایک کو بازوئوں سے اٹھا لیتے جب وہ سجدے میں جاتے تو نواسے کو پاس کھڑا کر لیتے اور سجدے سے اٹھ کر پھر گود میں لے لیتے۔ جب دونوں بچے ذرا سیانے ہوئے تو وہ مسجد نبویؐ میں اِدھر اُدھر دوڑتے پھرتے۔ نماز باجماعت کے دوران کبھی کبھی وہ رسول اللہؐ کی ٹانگوں میں سے گزر جاتے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کچھ نہ کہتے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں سے بھی نہایت شفقت فرماتے تھے۔ ایک روز فوجی دستے کی معیت میں جا رہے تھے کہ ایک صحابیؓ حضورؐ کے پاس کسی پرندے کے چند چھوٹے چھوٹے بچوں کو لائے۔ ان بچوں کی ماں بھی ساتھ تھی۔ آپؐ نے صحابیؓ کو حکم دیا کہ بچوں کو ماں سمیت گھونسلے میں چھوڑ کر آئیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ فوج کے ہمراہ جاتے ہوئے ایک کتیا کو دیکھا جس کے بچے ماں کا دودھ پی رہے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ نے ایک سپاہی کو کتیا کے پاس کھڑا کر دیا اسے حکم دیا کہ وہ ساری فوج گزرنے تک کتیا کے پاس کھڑا رہے تاکہ کوئی سپاہی اس کتیا کو پریشان نہ کرے اور بچے اطمینان سے دودھ پی لیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ سے مذاق بھی فرمایا کرتے تھے۔ حضورؐ کاایک سادہ لوح ساتھی جو کم رو تھا‘ اسے ایک دن مدینے کے بازار میں جاتے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دبے پائوں جا کر اپنے بازوئوں میں جکڑ لیا اور بولے ’’کیا کوئی غلام خریدنا چاہتا ہے؟‘‘ صحابیؓ نے گردن موڑ کر دیکھا کہ کس نے اسے جکڑ لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس نے اپنی پشت حضورؐ کے سینے کے ساتھ لگا دی اور کہا ’’یا رسول اللہ اس غلام کی فروخت سے آپؐ کو کچھ زیادہ دام نہیں ملیں گے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا ’’مگر خدا کی نظر میں تمہاری قیمت بہت زیادہ ہے۔‘‘
ایک روز مسجد نبویؐ میں رسولؐ خدا نے ایک شخص کو دیکھا جس کی داڑھی الجھی ہوئی تھی اور سر کے بالوں میں کنگھی تک نہیں کی گئی تھی۔ رسول اللہؐ نے اسے مسجد سے باہر جا کر ہاتھ منہ دھونے اور بالوں میں کنگھی کرنے کو کہا۔ جلد ہی وہ حجام کی دکان سے واپس آیا تو رسول پاکؐ نے فرمایا ’’کسی خوفناک شیطان کی مانند نظر آنے سے کیا یہ بہتر نہیں ہے۔‘‘ ایک اور موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کو نہایت خستہ حالت میں دیکھا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور بدن پر جھول رہے تھے۔ جب رسولؐ نے اس سے ایسی حالت کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا ’’یا رسول اللہ میں کوئی غریب شخص نہیں‘ اللہ نے مجھے کافی دولت دی ہے مگر میں سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا دیتا ہوں اور خود موٹے جھوٹے پہن کر گزارا کرتا ہوں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے اللہ نے اپنے بندے کو جن نعمتوں سے نوازا ہے وہ بندے کو ان نعمتوں سے مستفید ہوتے دیکھنا بھی پسند کرتا ہے۔‘‘
کسی شخص کی سیرت و کردار کو جانچنے کے لیے بہترین کسوٹی اس کی خانگی اور گھریلو زندگی ہوتی ہے کیوں کہ وہی زندگی دراصل اس کا آئینہ ہوتی ہے۔
دنیا میں دوسروں کی بیویاں ان کی گھریلو زندگی کے رازوں کی امین ہوتی ہیں لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات عوامی نمائندے کی حیثیت سے آپؐ کی گھریلو زندگی کی ایک ایک ادا کو محفوظ رکھتی تھیں اور پوری دیانت و امانت کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت و جلوت کی زندگی کا ہر ہر لمحہ ہمارے سامنے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیاکے لیے ہادی مرشد اور پیغمبر و امام کی حیثیت سے بھیجا تھا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کا درجہ بھی تمام امت کے مردوں اور عورتوں کے لیے امہات کا رکھا تاکہ سب لوگ ان کو اپنے لیے نمونہ سمجھیں اور ان سے زندگی کے وہ طریقے سیکھیں جو ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوئے۔جس طرح ان تعلیماتِ قرآن پر سب سے زیادہ اہتمام سے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمل فرماتے تھے اسی طرح ازواج مطہرات اور اہلِ بیت نبوت پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی تھی کہ وہ اپنے گھر سے پھیلنے والے چشمہ نور سے پہلے خود اچھی طرح منور ہوں۔ پھر اس روشنی سے دوسروں کو منور کریں۔ اندر اور باہر دونوں جگہ کامل یکسانیت تھی۔ جس اعلیٰ مقصد کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دن اور رات ایک کر رکھے تھے اسی مقصد میں آپؐ کی ازواج بھی دل و جان سے منہمک تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہرات کی ان ذمے داریوں کے احساس سے ہمیشہ گرانبار رہتے تھے اور ان کو آخرت کی کامیابی کا احساس دلاتے رہتے تھے۔ آپؐ فرمایا کرتے ’’اپنی آخرت کے لیے جو کچھ کرسکتی ہو کر لو میں وہاں تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گھریلو زندگی میں عورت کو عزت و تکریم کے اعلیٰ مراتب سے ہم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کی محبت اور احترام کی بار بار تاکید فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں سے بہتر سلوک کرتے ہیں۔ ایک اور جگہ آپؐ نے فرمایا ’’ایک مسلمان اپنی بیوی کے حق میں جتنا رحم دل اور مہذب ہوگا اتنا ہی وہ اپنے ایمان میں کامل ہوگا۔‘‘
خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا ’’اپنی بیویوں سے شفقت اور محبت کا سلوک کرو‘ تم نے اللہ کی ضمانت پر ان کو اپنے لیے حلال کیا ہے‘ ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور ان سے بہتر سلوک کرو۔‘‘ بیٹیوں سے ترجیحی سلوک کی ہدایت فرمائی ’’جب تم اپنے بچوں میں تقسیم کرنے کے لیے کچھ لائو تو بیٹیوں سے شروع کرو کیوں کہ بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیاں اپنے والدین سے زیادہ محبت کرتی ہیں۔
بعض اوقات ازواجِ مطہرات اِدھر اُدھر کے قصے یا گزرے ہوئے واقعات بیان کرتیں تو آپؐ برابر سنتے رہتے اور خود بھی کبھی اپنے گزشتہ واقعات سناتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں اس طرح ہنستے بولتے‘ بیٹھے رہتے کہ معلوم ہی نہ ہوتا تھا کہ کوئی الولوالعزم نبی ہیں۔ لیکن جب کوئی دینی بات ہوتی یا نماز کا وقت آجاتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپؐ وہ آدمی ہی نہیں ہیں۔ کھانے پینے میں ازواج مطہرات کو کوئی روک ٹوک نہیں تھی جو چاہتیں کھاتیں جو چاہتیں پہنتیں۔ ہر چند عسرت کی وجہ سے اچھا کھنا میسر نہ تھا۔ سونے چاندی کے زیورات پسند نہ فرماتے۔ اس زمانے میں ہاتھی دانت کے زیور کا رواج تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کے زیور پہننے کا حکم دیتے۔ گھر میں داخل ہوتے تو نہایت خندہ پیشانی سے مسکراتے ہوئے اندر تشریف لاتے تھے۔ بیویوں پر کبھی لعن طعن نہ فرماتے نہ درشت اور سخت لہجے میں گفتگو فرماتے اور اگر کوئی بات ناگوار خاطر ہوتی تو التفات میں کمی کر دیتے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی اور نجی زندگی آپؐ کی سیرت کی طرح بے داغ‘ پاک اور صاف ہے۔