جنت کے پھول

314

یہ سانحہ مجھے بھلائے نہیں بھولتا جو میری دیرینہ سہیلی کے ساتھ پیش آیا۔ ان ہی کی زبانی سنیے:۔
’’یہ21 دسمبر 2018ء کی بات ہے، دوپہر کے وقت کچھ تھکن محسوس ہورہی تھی، میں نے سوچا چار بجے تک کمر سیدھی کرلوں۔
ابھی لیٹے ہوئے آدھا گھنٹہ ہوا تھا کہ اسید نے کچھ ناراض انداز سے مجھے موبائل لاکر دیا کہ نانو بیل بج رہی ہے دیکھیں کس کا فون ہے۔ ناراض اس لیے کہ موبائل میں پاس ورڈ لگا رکھا تھا کہ اسید صاحب اس میں گیم نہ کھیلیں۔ اگر یہ حد مقرر نہ کی جائے تو بچوں کی نیند اور بھوک ختم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ فون ریسیو کرتے ہی میں اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ بات ہی ایسی تھی، میری بڑی نند کا فون تھا، اُن سے بات نہیں کی جارہی تھی، روئے جارہی تھیں۔ میں نے کہا باجی کیا بات ہوگئی کچھ بتائیے تو۔
جو کچھ انہوں نے بتایا وہ سن کر تو میرے پیروں تلے زمین نکل گئی، بمشکل خود کو سنبھال پائی۔ باجی کہنے لگیں: ’’زید اور ناہل سوئمنگ پول میں گرگئے ہیں، بہت بری حالت ہے، اسپتال لے جا رہے ہیں، بھیا کے ساتھ آجاؤ۔‘‘
خیر، پانچ بجے تک یہ بھی آگئے۔ ہم لوگ سیدھے اسپتال پہنچ گئے۔ دونوں بچے یعنی تین سالہ نواسا اور دو سالہ پوتا زید وینٹی لیٹر پر تھے۔ ڈاکٹر نے کہا آپ لوگ دعا کریں۔
میں نے باجی سے پوچھا: ’’کیا ہوا تھا، ہنستے بستے گھر میں یکدم کیا ہوگیا؟‘‘ کہنے لگیں: ’’دو بجے سب بچوں کو کھانا وغیرہ کھلا کر سونے کے لیے لٹا دیا تھا، سردی زیادہ تھی، یہ دونوں چھوٹے شرارتیں کرتے پھر رہے تھے، بیٹی بھی آئی ہوئی تھی۔ کام والی ماسی دونوں کو لے کر لان میں دھوپ میں چلی گئی۔ تھوڑی دیر تک تو بچوں کی آوازیں آتی رہیں، سائیکل چلا رہے تھے۔ میں، بہو اور بیٹی اندر اپنے کاموں میں لگ گئے۔ خاصی دیر بعد خیال آیا کہ بچے کہاں ہیں؟ آواز بھی نہیں آرہی۔ سب ڈھونڈنے میں لگ گئے۔ ماسی کا بھی پتا نہیں تھا۔ گھر میں پچھلی طرف سوئمنگ پول بنا ہوا ہے، وہاں جاکر دیکھا تو دونوں بچے بے حس و حرکت پول میں پڑے تھے۔ زید کی ماں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، بھاگتی ہوئی سوئمنگ پول میں اتر گئی اور دونوں کو بمشکل باہر نکالا۔ بچے نیلے پڑگئے تھے۔ گھر میں چیخ پکار مچ گئی۔ سب افراد اپنے کاموں پر گئے ہوئے تھے، فون کرکے سب کو بلایا اور یہاں لے کر آگئے۔‘‘
باجی کے پوتے زید کی حالت زیادہ خراب تھی، دونوں ٹھنڈے پانی میں پڑے رہنے کی وجہ سے اکڑ گئے تھے، چھ گھنٹے بعد پوتے کا انتقال ہوگیا۔ نواسا چھ دن وینٹ پہ رہا، پھر ڈاکٹروں نے کنڈیشن دیکھ کر وارڈ میں شفٹ کردیا۔
15 دن وہ بچہ اسپتال میں رہا لیکن اس حالت میں کہ بس سانس آ جا رہی تھی، باقی تمام حسیں بے کار ہوچکی تھیں۔ پندرہ دن بعد ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کو گھر لے جائیں، لوگوں میں رہ کر شاید حالت میں کچھ بہتری آجائے۔ پوتا تو اللہ کو پیارا ہوگیا تھا، اب یہ اکلوتا بیٹا موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہے، گھر کا ایک کمرہ اسپتال بنا ہوا ہے۔ بیڈ پہ وہ بچہ بے حس و حرکت لیٹا ہوا ہے جیسے اپنے پرائے سب سے ناراض ہے کہ ہماری طرف سے اتنی لا پروائی کیوں ہوئی؟ ہم نے کیا کیا تھا؟ اس کا اکڑا ہوا جسم، ناک میں نلکی لگی ہوئی ہے جس کے ذریعے لیکویڈ غذا دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر کہتے ہیں اس کی کوئی دوا نہیں ہے، آہستہ آہستہ ان شاء اللہ نارمل ہوجائے گا۔ کب ہوگا؟ یہ کسی کو نہیں معلوم۔
ماں باپ اسی پر خوش ہیں کہ بچہ زندہ تو ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اب کس کو دوش دیں! ماسی بچوں کو چھوڑ کر واش روم چلی گئی تھی، پھر بھول گئی۔ بچے کتنی دیر پول میں پڑے رہے کسی کو نہیں پتا۔ اسے گھر والوں کی لاپروائی کہا جائے؟
مگر اللہ کی مرضی کے آگے ہم سب بے بس ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اللہ کی رضا میں راضی ہیں۔
زید کے بابا نے اپنے بچے کی میت کو غسل دیا تھا۔ معصوم سا مسکراتا ہوا فرشتہ لگ رہا تھا، جیسے ابھی اٹھ کر دادی کہہ کر گلے لگ جائے گا اور کہے گا چلیے مجھے کہانی سنائیے۔
یہ دونوں بچے جنت کے پھول تھے، اللہ میاں نے جنت کا ایک پھول جنت کے باغ میں لگا دیا، دوسرا پھول یہاں دنیا میں اپنے ماما بابا کے پاس ہے۔
ہمیں اللہ پر بھرپور یقین اور بھروسا ہے کہ ان شاء اللہ دنیاسے بے خبر اس بچے پر اپنا رحم و کرم فرمائیں گے۔ بچہ اپنے تمام متعلقین کے لیے خوشیاں لائے گا، اپنے آنگن میں خوشیاں بکھیرتا اٹھ کھڑا ہو گا، آمین۔‘‘

حصہ