اصل بادشاہ

202

ایک گھنے جنگل میں بہت سے جانور ہنسی خوشی مل جل کر رہتے تھے۔ جنگل کے ایک جانب بڑا سا دریا بہتا تھا۔ پانی کی ضرورت تمام جانوراسی دریاسے پوری کرتے تھے ۔دریا میں بہت سے موٹے تازے مگرمچھ آباد تھے۔ ایک دن بندربھائی درختوں پر ڈالی ڈالی جھولتے ہوئے دریا کے کنارے پہنچے ۔ دریا کا ٹھنڈا ٹھار پانی پینے کے لیے جیسے ہی انہوں نے اپنا سر جھکا یا گھات لگائے مگرمچھ نے انکا سر دبوچ لیا ۔
اس واقعے سے ڈر کر تمام جانور تالاب کا رخ کرنے لگے اگرچہ تالاب تھوڑا دور تھا مگر جانوروں کو اپنی جان بھی تو پیاری تھی _۔ایک دن بھوک کی شدت سے بے حال ایک مگرمچھ دریا سے باہر نکل آیا اور اس نے ایک زیبرے پر حملہ کردیا ،اب تو یہ اسکا معمول بن گیا ،جس کی وجہ سے تمام جانور اس سے خوف کا شکار رہنے لگے۔
ایک صبح جب شیر سو کر اٹھا تو وہ بہت پریشان تھا وہ سوچ رہا تھا کہ میرے رعب سے زیادہ جانوروں پر اس مگرمچھ کی دہشت سوار ہوگئی ہے۔ ابھی وہ سوچ رہا تھا کہ سانپ غار میں داخل ہوا اور بولا” شیرو سلامت! شیرو سلامت ! تمام جانور بہت پریشان ہیں اور تالاب کے کنارے اکھٹے ہوئے ہیں ۔ جنگل میں ایک طرف سے کچھ شکاری داخل ہوئے ہیں تو دوسری طرف سے مگرمچھ بھی شکار کی تلاش میں نکل آیا ہے ” ۔سانپ کی بات سن کر شیر سوچ میں پڑ گیا ۔شير کو جانوروں کے دل میں پھر سے جگہ بنانے کا اچھا موقع لگا اس نے سوچا کہ جانوروں کو اس مصیبت سے نجات دلا کر وہ پھر سے اصل معنوں میں بادشاہ بن سکتا ہے،دلوں کابادشاہ اس نے سانپ سے تمام جانوروں کو دربار میں اکھٹا کرنے کو کہا۔ جب سانپ نے تمام جانوروں کو اکھٹا کر لیا تو شیر نے ایک بڑا پتھر غار کے آگے رکھا اور خود غار کے پیچھے چھپ کر دیکھنے لگا۔
شکاری جب جنگل میں داخل ہوئے تو ادھرادھر جانوروں کو ڈھونڈنے لگے مگر جانور جنگل میں ہوتے تو ملتے ۔شکاری مایوس واپس پلٹنے لگے تو راستے میں ایک ہٹاکٹا مگرمچھ ان کا منتظر تھا ڈر کے مارے انہوں نے اس مگرمچھ کو گولیوں سے چھلنی کردیا اور وہ سوچنے لگے کہ یہ تو جانوروں کے بجائے مگرمچھوں کا جنگل ہے اب جاکر اپنی پوری برادری کو بھی یہاں آنے سے منع کر دیں گے کہ کہیں ہمارے ساتھی یہاں پر آکر مگرمچھوں کا کھانا نہ بن جائیں ۔
جب جنگل سے شکاری چلے گئے تو شیر نے بڑا سا پتھر ہٹا کر جانوروں کو سارا ماجرا سنایا، جسے جان کر تمام جانور خوشی سے جھومنے اور ناچتے گانے لگے،ان کے دلوں میں شير نے دوبارہ سے اہمیت حاصل کرلی تھی۔

حصہ