سچ تو یہ ہے…..۔

328

یہ کتاب نہیں ایک زوردار طمانچہ ہے ایسے تمام خود ساختہ مؤرخین، محققین، کالم نگاران اور اینکر پرسنوں کے بے بنیاد اور بے دلیل ’’جہل‘‘ کے منہ پر، جسے پاکستان، قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ سے عقیدت و محبت کے جذبے سے سرشار ہوکر نہیں لکھا گیا، بلکہ دلائل و براہین اور شواہد کو اکٹھا کرنے کے بعد تحریر کیا گیا ہے۔ یہ اُن میڈیا شخصیات کے مسلسل جھوٹ کا حقائق کی بنیاد پر جواب ہے، جن کے ہاتھ میں قلم اورجن کی جہالت کے سامنے بدقسمتی سے کیمرہ آگیا ہے۔
ایک زمانے میں ایسے جھوٹ چند کتابوں تک محدود ہوتے تھے جنہیں نہ صرف تاریخ کے کوڑا دان میں موجود گندگی کے ڈھیر پر جگہ ملتی تھی بلکہ فٹ پاتھوں پر یہ کتابیں کباڑیوں کے ہاتھوں فروخت ہوتی تھیں۔ پاکستان کے جدید کالم نگاروں اور اینکر پرسنوں نے ان ڈھیروں سے وہ کتب اٹھائیں اور پاکستان کے اسلامی تشخص، قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیا۔ یہ کتاب دلائل و شواہد کا ایسا ذخیرہ ہے جو اس جھوٹ کا پردہ چاک کرتا ہے۔
کتاب کے مصنف کے تعارف کی ضرورت اس لیے نہیں کہ دنیا انہیں جانتی ہے ’’کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے‘‘۔ لیکن اپنے ساتھ تحریر کے رشتے کے علاوہ ایک نسبت کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ جب میں 2008ء میں حکومتِ پنجاب میں سیکرٹری اطلاعات و ثقافت تعینات ہوا تومجھ سے چند سال پہلے یہ عظیم شخصیت ’’ڈاکٹر صفدر محمود‘‘ اس عہدے کی عزت و توقیر میں اپنی تعیناتی کی وجہ سے اضافہ کرچکی تھی۔ ڈاکٹر صاحب علم و تحقیق اور نوکری کے معاملے میں نہ صرف میرے پیش رو ہیں بلکہ میرے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کالم لکھتے ہیں اور درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ کتاب کا نام ’’سچ تو یہ ہے‘‘ رکھا گیا ہے جسے میں ’’سچ تو یہی ہے‘‘ پڑھتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کی کتاب نے جس جھوٹ کا پردہ چاک کیا اُن میں چند ایک کا ذکر یوں ہے:
پاکستان کا سیکولر طبقہ ایک شخص کو بہت بڑا تاریخ دان بناکر پیش کرتا ہے جس کا نام ’’ڈاکٹر مبارک علی‘‘ ہے۔ اس شخص نے علامہ اقبال کے بجائے تقسیم ہند کے منصوبے کو انگریزوں اور قادیانی ظفر اللہ کے کھاتے میں ڈالنے کی بغیر ثبوت کوشش کی اور خطبۂ الٰہ آباد سے لے کر قراردادِ پاکستان تک‘ ہر چیز کا سہرا ان دونوں کے سر باندھ دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ان دس سال کے اخبارات اور اُس دور میں لکھی جانے والی کتابوں کا مطالعہ کیا اور پھر علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے درمیان ہونے والی گفتگو اور خط کتابت سے لے کر اُس دور کے افراد کے انٹرویوز تک کھنگالے، یہاں تک کہ ظفراللہ کا 1981ء کا اپنا انٹرویو جو ’’ڈان اخبار‘‘ میں شائع ہوا، جس میں اس نے کہا کہ میرا اس پورے معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یوں انہوں نے ثابت کیا کہ تخلیقِ پاکستان میں اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا کیا ربط تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے 23مارچ 1940ء کے دو دن بعد لاہور میں یومِ اقبال کی تقریب میں قائداعظمؒ کی تقریر کا یہ اقتباس درج کیا ہے:
’’اگر مسلمان ریاست معرضِ وجود میں آجائے اور مجھے اس ریاست کی حکمرانی اور کلامِ اقبال میں چوائس (Choice) دیا جائے تو میں کلام اقبالؒ کو ترجیح دوں گا۔‘‘
ایک ’’کالم نگار جمع اینکر پرسن‘‘ کو ہندوئوں سے نہ جانے کیا عقیدت تھی اور قائداعظمؒ کے اسلامی تشخص سے کیا نفرت تھی کہ انہوں نے پاکستان کے پہلے ترانے کا خالق جگن ناتھ آزاد کو قرار دے دیا اور ساتھ ترانے کے بول بھی سنا دیے۔ میں چوں کہ جگن ناتھ آزاد سے ملا بھی ہوا تھا اور ان کے والد آنجہانی تلوک چند کی شاعری کو پسند بھی کرتا تھا، تو پہلی نظر میں ہی مجھے وہ ترانہ ایک گھٹیا قسم کی شاعری لگی، اور اگر کوئی بھی ریڈیو پاکستان کا اسکرپٹ ایڈیٹر ہوتا تو اس ترانے کے پرزے کرکے گٹر میں پھینک دیتا۔ یہ ترانہ بجائے خود جگن ناتھ آزاد کی شاعری پر بھی ایک تہمت تھی۔ لیکن کمال ہے ڈاکٹر صفدر محمود کی تحقیق کا کہ انہوں نے قومی ترانے کی پوری تاریخ نکال کر ان جھوٹوں کے منہ پر دے ماری۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران ریڈیو پاکستان کے اسکرپٹ ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی تھے۔ 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب ان کا نغمہ ’’پاکستان بنانے والے، پاکستان مبارک ہو‘‘، اس کے اگلے دن 15 اگست کو مولانا ظفر علی خان کا ملّی نغمہ ’’توحید کے ترانے کی تانیں اُڑانے والے‘‘ مسلسل نشر ہوتا رہا۔
’’کالم نگار جمع اینکر پرسن‘‘ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جگن ناتھ آزاد کا ترانہ 18ماہ بجتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس دوران ریڈیو کے پروگراموں کے چارٹوں کا مطالعہ کیا اور بتایا کہ ان میں اس ترانے کا کوئی ذکر نہ تھا۔
قائداعظمؒ کے آخری ایام کے بارے میں لیاقت علی خانؒ اور دیگر لوگوں کی کش مکش کے جو افسانے تراشے گئے، اُنہیں اس کتاب میں شواہد کی بنیاد پر رد کیا گیا۔ یہاں تک ثبوت دیے گئے کہ جب قائداعظمؒ کی ایمبولینس خراب ہوئی تو ان کے پیچھے وزیراعظم لیاقت علی خانؒ کی گاڑی موجود تھی، جو اُس وقت تک خود اتر کر وہاں کھڑے رہے جب تک دوسری ایمبولینس نہ آئی۔
قائداعظمؒ کے بارے میں ایک اور جھوٹ یہ گھڑا جاتا ہے کہ وہ جب ڈھاکا یونیورسٹی گئے تو ان کی تقریر کے دوران زبان کے مسئلے پر ہنگامہ ہوا۔ ڈاکٹر صاحب ڈھاکا گئے اور اس تقریب کے بزرگ شرکا سے ملے اور پھر پولیس انسپکٹر ہنسوٹیا کے اس انٹرویو کی شہادت بھی لائے جس نے کہا تھا کہ ’’اس تقریر کے دوران کسی کے کھانسنے کی آواز تک نہ آئی‘‘۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ 25 فروری 1946ء کو دستور ساز اسمبلی میں اردو کو قومی زبان بنانے کی جو قرارداد منظور ہوئی تھی، اس میں سوائے چند بنگالی ہندو اراکین کے تمام بنگالیوں نے بھی ووٹ دیا تھا۔ انہی چند ہندوئوں اور قوم پرستوں کی سازش تھی کہ زبان کا معاملہ اٹھایا گیا اور اس پر علیحدگی کی تحریک چلائی گئی۔
حالانکہ 19 اپریل 1954ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی بنگالی کو قومی زبان کا درجہ دے چکی تھی۔ ایوب خان کے زمانے میں تو خبروں کے بنگالی بلیٹن، نوٹ پر بنگالی زبان اور ڈاک کے ٹکٹوں پر بنگالی میں نے خود دیکھی ہے۔ لیکن وہ جن کو پاکستان کی اساس سے نفرت ہے، وہ اس موضوع کو آج بھی زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ کتاب کی سب سے اہم تحقیق یہ ہے کہ قائداعظمؒ کو فرقہ بندی میں تقسیم کرکے متنازع بنانے کے لیے ایک کہانی گھڑی گئی کہ ان کی ایک اور نمازِ جنازہ اثنا عشریہ مکتب فکر کے تحت گھر کے اندر ہوئی تھی۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے حیران کردینے والے شواہد پیش کیے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ قائداعظمؒ کو فرقہ بندی سے شدید نفرت تھی۔ اُن کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر ’’نورحسن‘‘ کی گواہی سے بتایا ہے کہ وہ اس روز رات بھر جاگتے رہے اور قائداعظمؒ کا کوئی ایسا جنازہ نہ ہوا۔ پھر انہوں نے خود ہی بتایا کہ ان کے ایک اے ڈی سی نے قائداعظمؒ کو ایک چٹ دی جس پر لکھا تھا ’’کراچی کی فلاں جگہ پر کل شام ’’مجلس‘‘ پر آپ کا انتظار رہے گا‘‘۔ قائداعظمؒ نے چٹ پڑھتے ہی حکم دیا کہ ’’اس اے ڈی سی کو پہلی دستیاب ٹرین سے راولپنڈی جی ایچ کیو بھجوا دیا جائے۔‘‘
قائداعظمؒ کو سیکولر ثابت کرنے کے جواب میں اس کتاب کا باب ’’قائداعظمؒ اور سیکولرازم‘‘ خصوصاً، اور پوری کتاب عموماً لاجواب ہے۔ کتاب میں قائداعظمؒ کی تقریر کا یہ اقتباس آنکھوں کو تر کردیتا ہے۔ یہ تقریر 1939ء کی ہے۔ قائداعظمؒ نے فرمایا:
’’میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا دل، ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح! تم نے مدافعتِ اسلام کا حق ادا کردیا۔ جناح! تم مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں اسلام کو سر بلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔‘‘
یہ 63 سالہ قائداعظمؒ کے الفاظ ہیں جو آخرت کی جواب دہی، اسلام کے جذبے اور سربلندی کے تصور سے معمور ہیں۔ یہ کتاب نہیں، ایک دستاویز ہے، ایک حقائق نامہ ہے، سچ کا ایک سفر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کتاب کے بعد کون کون ہے جو اپنے جھوٹ پر شرمسار ہوتا ہے، معذرت کرتا ہے۔ لیکن کوئی نہیں کرے گا، کیوں کہ پاکستان کے میڈیا پر قابض یہ ٹولہ معذرت کا عادی ہی نہیں ہے۔

حصہ