اللہ پر ایمان

500

کہو وہ اللہ ہے یکتا، اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا عقیدہ رکھنا، اسلام میں داخل ہونے، اور اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق جوڑنے کے لیے ضروری ہے۔ اسے ایمان لانا اور عقیدہ کہتے ہیں۔ عقیدہ کا لفظ ’عقد‘ (گرہ) لگانے اور تعلق جوڑنے کو کہتے ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا!آپ ؐ نے فرمایا: ’کہو کہ میں ایمان لایا اللہ پر، پھر اس پر جم جائو‘‘، یعنی اس پر یکسو ہو کر کھڑے ہو جائو اور دوسروں کی طرف نہ دیکھو۔
حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جس بندے نے بھی کہا کہ اللہ کے سوا دوسرا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے۔ پھر اس پر موت آنے تک قائم رہا، تو وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘(مسلم)۔یعنی اپنے اس اقرار اور عہد پر قائم رہا اور اللہ کی بندگی اور غلامی میں زندگی گزاردی تو وہ پکا مومن ہے اور آخرت میں جنت کا حق دار ہوگا۔توحید پر صحیح عقیدے کا اہم اور بڑا فائدہ آخرت میں اجر اور اللہ کی رضا اور رضا مندی سے جنّت میں داخل ہونا ہے۔ جس کی وجہ سے مومن اللہ کی ناراضی اوردوزخ سے بچ جائے گا۔ یہ دراصل بڑی کامیابی اور فلاح ہے، جو ایک مومن کو نصیب ہو گی۔
دنیا میں توحید اختیار کرنے اور صحیح عقیدے پر رہنے سے کئی فائدے اور بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں۔ اتنی بھلائیاں اور فائدے ملتے ہیں کہ بندہ ان کا شمار نہیں کر سکتا۔ایسی چند باتیں یہ ہیں:
٭ توحید فطری پکار: انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے توحید اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے۔ لہٰذا، جو شخص توحید اختیار کرتا ہے ، وہ اپنی فطرت کو اختیار کرتا ہے۔
٭ کامل شکر گزاری: قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں شکر کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور نا شکری کے بہت سے نقصانات بتائے گئے ہیں: اگر شکرگزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔
شکر کرنا صرف زبان سے شکر شکر کا اظہار نہیں ہے، بلکہ دل اور اپنے عمل سے شکر کرنا احسن تر ہے۔ انسان تھوڑا سا غور کرے تو اس کے وجود پر اللہ کے لاکھوں احسانات ہیں۔ ایک ایک عضو پر ایک ایک بال پر اللہ کے احسانات ہیں۔ بزرگ کہتے ہیں کہ انسان سانس لیتا ہے، اس کا سانس لینا بھی اللہ کا احسان ہے کہ وہ اسے سانس لینے کی توفیق اور سہولت دیتا ہے۔ اگر وہ سانس کو روک دے تو چند سیکنڈوں میں انسان کا دم گھٹ کر دمِ آخر ہو جائے۔
٭ اللہ کی نعمت کی قدرشناسی : تھوڑی دیر کے لیے غور کیجیے کہ کسی غریب آدمی سے کوئی مال دار آدمی کہے کہ: ’’اپنے ایک ہاتھ کی انگلی مجھے دے دو، میں اسے علیحدہ کرا کے اپنے بیٹے کے ہاتھ میں لگا لوں گا کیوںکہ میرے بیٹے کی ایک انگلی ضائع ہو گئی ہے‘‘، تو وہ کسی صورت میں بھی اسے بیچنے پر تیار نہیں ہو گا۔ اس کا مطلب یہ کہ انسان کا ہاتھ اَنمول ہے جسے روپوں میں نہیں تولا جاسکتا۔
کچھ باتیں ایسی ہیں جو اللہ نے اپنے اختیار اور علم میں رکھی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتاہے، وہی جانتا ہے کہ مائوں کے پیٹوں میں کیا پرورش پارہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے، اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کو موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔(لقمٰن ۳۱:۳۴)
قیامت کس وقت اور کب واقع ہوگی؟ جِنّ وانس کو خبر نہیں ہوتی کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ وہ پیدا ہونے والا عالم ہو گا یا جاہل ، سائنس دان ہو گا یا اَن پڑھ، کتنا وقت زندہ رہے گا یا پیدا ہوتے ہی مرجائے گا، بیمار ہوگا یا تندرست ہو گا؟ اسی طرح کسی کو خبر نہیں کہ اس کی موت کہاں آئے گی؟ یہ سب باتیں اللہ کے علم میں ہیں اور وہی ان کی پوری حقیقت کو جانتا ہے۔
٭ توحید باری تعالٰی پر غور: انسان اگر تھوڑا سا غور کرے تو ہزاروں اور لاکھوں نعمتیں اسے گھیرے ہوئے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات میں سے خاص طور پر تخلیق کو بیان کیا ہے۔ قرآن شریف میں تین سو کے قریب یہ کلمہ مختلف شکلوں میں اسم اور فعل کی صورتوں میں آیا ہے۔ پھر بہت سی نعمتیں گنا کر پوچھا گیا ہے اور انسان نے ہر نعمت کی تخلیق کے متعلق یہی بتایا ہے کہ اللہ نے پیدا کی ہیں۔پھر بغیر سوال کے کئی مقامات پر بتایا کہ اللہ نے یہ نعمتیں تمھارے اوردوسرے جان داروں کے لیے پیدا کی ہیں۔ اگر انسان سے پوچھا یا کہا جائے کہ زمین وآسمان اور جو کچھ ان میں ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ تو ضرور یہی جواب دے گا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اگر یہ پوچھا جائے کہ انسان کو کس نے پیدا کیا؟ تو ضرور یہی جواب دے گا اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ دن، رات، سورج اور چاند کس نے پیدا کیے؟ تو جواب یہی دے گا کہ اللہ نے یہ سب پیدا کیا ہے۔ اگر انسان سے پوچھا جائے کہ بارش کون برساتا ہے؟ اور اس سے یہ پوچھا جائے کہ کھیتیاں کون اُگاتا ہے؟ تو ضرور یہی جواب دے گا کہ اللہ تعالیٰ ۔
اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو ہزاروں لاکھوں برسوں سے انسانوں کو پیدا کیے جا رہی ہے۔ البتہ اس تناسب میں کبھی کبھار معمولی سی کمی کر دیتا ہے کہ کسی صدی میں لڑکیاں معمول سے زیادہ پیدا ہوجائیں ۔ یہ کون ہے جو انسانوں کے تناسب میں کمی بیشی کر رہا ہے؟ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے بس میں ہے جو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان سے یہ پوچھا جائے کہ موت اور حیات کس کے اختیار میں ہے؟تو یہی کہے گا کہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جب کائنات میں سب کچھ وہی پیدا کرتا ہے تو پھر حکم اور امر بھی اس کا چلنا چاہیے:
خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اُسی کا امر ہے۔ بڑا بابرکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار۔
یہ صفات رکھنے والا مالک الملک ہے، لہٰذا عبادت بھی اسی کی کرنی چاہیے۔اس بات کو قرآن مجید میں یوں فرمایا گیا ہے کہ: میں نے جِنّ اور انسانوں کو پیدا ہی اسی لیے کیا ہے کہ وہ میری (اللہ کی ) بندگی کریں ۔ میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ کہ وہ مجھے (اللہ کو ) کھلائیں پلائیں۔
٭ مومن کا اللہ سے تعلق:اللہ تعالیٰ سے ایک مومن کا جو تعلق ہونا چاہیے اس کے نکات ذیل میں دیے جا رہے ہیں:
٭ مو من اللہ کی ہی بندگی کرے ، اسی کو سجدہ کرے اور اسی کی پرستش کرے۔
٭ اللہ کو ہی غیب دان، نفع ونقصان پہنچانے والا سمجھے۔ اللہ کا دل میں خوف رکھے اور اس پر توکّل کرے۔ اس سے ہی دُعا مانگے، اس سے ہی پناہ مانگے، اور کسی کو اللہ کی باد شاہی میں دخل دینے والا نہ سمجھے کہ جس کی فرمایش اور سفارش سے کوئی حکم یا قضا ٹل سکتی ہو۔
٭ اللہ تعالیٰ ہی کو حقیقی باد شاہ ، ملک کا حقیقی مقتدر اعلیٰ سمجھے اور حقیقی حاکم صرف اللہ کو جانے۔
٭ اپنے حاکم کو کسی چیز کا حقیقی مالک اور مختار نہ سمجھے بلکہ ہر چیز، حتیٰ کہ جان ومال اور اپنی ذہنی وجسمانی صلاحیتوں کو اللہ کی امانت سمجھے۔
٭ اپنے نفس اور خواہشات کو چھوڑ کر صرف اللہ کا بندہ بن کر اپنی پسند اور ناپسند کا معیار اللہ کو سمجھے۔
٭ اللہ کی رضا ،خوشی اور اس کے قرب کو اپنی تمام کوششوں اور محنتوں کا مقصد بنائے۔
٭ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ اور ذمہ دار سمجھے اور ہر وقت یہ خیال رکھے کہ قیامت کے دن اللہ کو زندگی کے تمام معاملات کا حساب دینا ہے۔
٭ انسان اپنے اخلاق ،چال چلن، رہن سہن (تمدن )، روزی کمانے اور سیاست وغیرہ، الغرض زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کی ہدایت کو تسلیم کرے، اور اُس طریقے وضابطے کو رد کردے جو اللہ کی شریعت کے خلاف ہو۔
آئیے ! اللہ پر صحیح عقیدہ رکھیں اور اس سے تعلق جوڑیں تا کہ دونوں جہانوں کی خیر و بھلائی نصیب ہو، اور اللہ کے نیک بندوں کی طرح زندگی گزار کر اس جہان سے رخصت ہوں۔

حصہ