بارش تھم گئی، آنسو نہ تھمے

297

کراچی میں بادل کیا برسے، عوام کی آنکھوں سے آنسو برسنے لگے۔ ہر کوئی اپنے اپنے تئیں تباہی مچانے والی بارش کی روداد سنانے لگا… اور اب تک یہی چرچا عام ہے۔ کراچی میں ہونے والی بارش نے جو تباہی مچائی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اس کا اندازہ لگانے کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیان کو ہی لے لیجیے جس کے مطابق کراچی میں ہونے والی بارش کے دوران شہر میں کُل 41 ہلاکتیں ہوئیں… یہ سب ہلاکتیں چھتیں اور دیواریں گرنے، بجلی کا کرنٹ لگنے اور ڈوب جانے کے باعث ہوئی ہیں۔ شدید بارش کے باعث کراچی میں لاکھوں لوگ متاثر ہوئے، تمام نشیبی علاقے مکمل پانی میں ڈوب گئے، بلکہ ان علاقوں کے لوگ اب تک گھروں میں محصور ہیں۔ کئی علاقوں میں اب تک کھانا، پانی، بجلی، گیس نہیں ہے، اور لوگوں کی نقل و حرکت بھی محدود ہوچکی ہے۔
اسی قسم کا ایک بیان محکمہ پولیس کی جانب سے بھی نشر ہوا جس کے مطابق: شہر میں بارش کی وجہ سے تقریباً تمام بڑی شاہراہیں بند تھیں، جبکہ کلفٹن، پنجاب چورنگی، کے پی ٹی، مہران، ناظم آباد، لیاقت آباد اور ڈرگ روڈ سمیت تمام ہی انڈر پاسز میں پانی بھر چکا تھا، اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ان انڈر پاسز کو بند کردیا گیا تھا۔
عوامی حلقوں سے بھی اسی قسم کی آوازیں بلند ہوئیں اور اب تک ہورہی ہیں کہ بارش اتنی شدید تھی کہ اس سے شہر کا کوئی بھی علاقہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ شارع فیصل سے ملحق نرسری کے علاقے میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس کے مالک کا کہنا ہے کہ ’’نرسری کے علاقے میں 40 کے قریب گیسٹ ہاؤس ہیں،25 اگست کی بارش کے دوران دو گیسٹ ہاؤس ایسے تھے جہاں بارش کا پانی داخل نہیں ہوا تھا، مگر اس بارش نے تو وہاں بھی تباہی مچا دی ہے، اس مرتبہ تو فرنیچر مارکیٹ میں بھی پانی داخل ہوگیا ہے، ہمیں تو ہر طرف تباہی ہی تباہی نظر آرہی ہے، ان بدترین حالات میں ہماری مدد کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘
اسی طرح کراچی کے متمول علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں سڑکوں پر دو فٹ سے زیادہ پانی کھڑا تھا اور گھروں میں بھی داخل ہوچکا تھا جو اب تک موجود ہے، ’’ہم نے کراچی میں اتنی شدید بارش کبھی نہیں دیکھی، بارش کی تباہ کاریوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے علاقے کے لوگ کبھی بھی احتجاج کے لیے باہر نہیں نکلتے، لیکن اِس بارش میں یہاں کے رہائشی بھی سڑکوں پر تھے، ہم نے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے دفتر کے سامنے احتجاج بھی کیا ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اگر بارشوں کا سلسلہ آنے والے دنوں میں دوبارہ شروع ہوگیا تو کیا بنے گا!‘‘
یہی آہ و فغاں مضافاتی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کی بھی ہے۔ سرجانی ٹاؤن کے ایک رہائشی کہتے ہیں کہ ’’چند دن قبل ہونے والی بارش کے اثرات سے باہر نہیں نکلے تھے کہ ایک نیا اسپیل آگیا، اس بارش نے مزید تباہی مچا دی، جب سے بارش ہوئی ہے اُس دن سے ہمارے علاقے میں پانی، بجلی، گیس کچھ بھی نہیں ہے، اُس روز سے ہم مختلف امدادی تنظیموں سے ملنے والے کھانے پر ہی گزارہ کررہے ہیں، بارش کے آغاز کے بعد سے ہی شہر کا بڑا حصہ بجلی سے بھی محروم ہے۔‘‘
شدید بارش نے جہاں تمام ہی رہائشی علاقوں کو جل تھل کردیا، وہاں کراچی کے تاجر بھلا کیسے محفوظ رہ سکتے تھے! تاجر برادری کے بقول بارشوں سے اِس وقت سب سے زیادہ متاثر طبقہ کراچی کا تاجر ہے، ہماری 80 فیصد مارکیٹوں اور فیکٹریوں میں پانی نے تباہی مچا دی ہے، دکانیں ختم ہوچکی ہیں، مال پانی بہا کر لے جا چکا ہے، فیکٹریوں میں تیار مال تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ شہر میں اگست سے کاروبار بند ہے۔
سندھ میں بارشوں کے باعث ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے، صرف کراچی میں بارشوں کا 90 سال کا ریکارڈ ٹوٹا ہے۔ بارش ہوئی اور ریکارڈ بنا کر تھم گئی، لیکن بارش کا پانی علاقوں میں تاحال موجود ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
ریکارڈ بنانے والی بارش نے سندھ بھر میں جو تباہی مچائی ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ حکومتِ سندھ نے سندھ نیشنل کلامیٹیس (پروینشن اینڈ ریلیف) ایکٹ 1958 کے سیکشن 3 کے تحت کراچی ساؤتھ، کراچی ویسٹ، کراچی ایسٹ، کراچی سینٹرل، کورنگی، ملیر… جبکہ حیدرآباد ڈویژن کے علاقوں حیدرآباد، بدین، ٹھٹہ، سجاول، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الٰہیار، مٹیاری، دادو اور میرپورخاص کے علاقے میرپور، عمرکوٹ اور تھرپارکر کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ شہید بے نظیر آباد، سانگھڑ کو بھی آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔
سندھ میں ہونے والی بارش نے اپنا، جبکہ حکومتِ سندھ نے مختلف اضلاع کو آفت زدہ قرار دے کر اپنا قانونی کام کردیا ہے… لیکن اس ساری صورتِ حال میں جب ہر طرف پانی ہی پانی ہو، یا ایسے علاقے جہاں کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت محلوں اور گلیوں سے پانی کا نکاس کردیا ہے وہاں کیچڑ اورگارے کے درمیان بسنے والے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ آفت زدہ علاقوں میں آنے والے بجلی وگیس کے بلوں سمیت دیگر ٹیکسوں کی وصولی کے لیے کیا طریقہ کار بنایا گیا ہے؟ ظاہر ہے کسی بھی علاقے کو جب قدرتی آفات یا بدترین حالات کے باعث آفت زدہ قرار دے دیا جائے تو حکومت کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ قدم صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان علاقوں کے لیے نہ صرف خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جاتا ہے بلکہ وہاں کے مکینوں سے کسی بھی قسم کے ٹیکس، یہاں تک کہ پانی، بجلی،گیس کے بلوں کی وصولی کے لیے بھی نرمی برتی جاتی ہے، ایسے علاقوں میں رہنے والوں اور کاروبار کرنے والوں کو آسان قرضے دیے جاتے ہیں۔
سوال تو یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ شہر بھر کی کھلی جگہوں اور کھیل کے میدانوں پر چائنا کٹنگ کرکے پانی کے نکاس پر روک لگانے والوں کے ساتھ ساتھ پوش علاقوں میں قائم پانی کی گزرگاہوں اور نالوں کو بند کرکے اربوں روپے کمانے والے اداروں اور ان محکموں میں تعینات افراد کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟ کون نہیں جانتا کہ مینگروز یا تمر کے درخت اور جنگلات بہت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مینگروز کا درخت سمندر اور ساحل کے درمیان دونوں کے لیے محافظ کا کام کرتا ہے، اس درخت کی جڑیں ساحل کی قدرے دلدلی زمین میں ہوتی ہیں، یہ جڑیں نرم یا دلدلی مٹی میں آکسیجن خارج کرتی ہیں۔ مینگروز کی یہی جڑیں سمندر اور ساحل کے درمیان ایک مضبوط جالی کی دیوار کی حیثیت رکھتی ہیں کہ یہ سمندر کو ساحل کی طرف، اور ساحل کو سمندرکی جانب بڑھنے سے روکتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر زلزلوں، سمندری طوفانوں اور سونامیوں کا سینہ سپر ہوکر مقابلہ کرتی ہیں۔ ایسے محافظ جنگلات کو کاٹ کاٹ کر ساحلِ سمندر پر بستیاں بسانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کون کھڑا کرے گا؟
سوال تو یہ بھی جائز ہے کہ بلدیہ کراچی کو گزشتہ چار سال میں دیے جانے والے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈ کا حساب کون لے گا؟ تمام یونین کونسلوں کو فی کس دیے جانے والے ماہانہ پانچ لاکھ روپے کی تفصیلات کون پوچھے گا؟
سوال تو یہ بھی حقائق پر مبنی ہے کہ بلدیہ کراچی اور سندھ حکومت نے کے پی ٹی،کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ سمیت ایسی شاہراہوں اور رہائشی علاقوں میں جو وفاقی اور خودمختار اداروں کے کنٹرول میں ہیں اور جہاں سے وزارتِ بلدیات سندھ یا بلدیہ عظمیٰ کراچی کو کسی بھی قسم کا کوئی ٹیکس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہے، اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈ کس کے کہنے پر لگائے جس کی ایک مثال شارع فیصل کی صورت ہمارے سامنے ہے۔ اور تو اور، حالیہ بارشوں میں جب مضافاتی آبادیوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا تھا بلدیاتی اداروں نے اپنے پمپ کس کے کہنے پر ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں لگائے؟
سنا ہے حالیہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والی تباہی پر کراچی کے عوام سے اظہارِ یکجہتی اور ان کی دادرسی کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان جمعہ کو کراچی تشریف لا رہے ہیں۔ سنا ہے وہ اس سلسلے میں ایک ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گے۔ سنا ہے کراچی کے تباہ حال انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا جائے گا۔ سنا ہے پانی کی گزرگاہوں پر قائم کی جانے والی تجاوزات کے خلاف آپریشن کی منظوری بھی دی جائے گی۔ وفاق کی جانب سے بنائے جانے والے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی جائے گی۔ لیکن سوال پھر جنم لیتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان اگر ایک بڑے پیکیج کا اعلان کر بھی دیتے ہیں تو کراچی پیکیج کے لیے مختص کی گئی رقم کون خرچ کرے گا؟ کیوں کہ وزیراعظم پاکستان اور اُن کی جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے تو سندھ حکومت پر کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ جب سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان اعتماد کا فقدان ہو،ایک دوسرے کی نیتوں پر شک ہو اور بلدیاتی ادارے بھی موجود نہ ہوں توایسی صورت میں سندھ خصوصاً کراچی کو دیا جانے والا پیکیج کس طرح تباہ حال صوبے کی تقدیربدل سکتا ہے؟
آخر میں اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر وزیراعظم پاکستان کراچی کے تباہ حال انفرااسٹرکچر کی بحالی چاہتے ہیں تو نیک نیتی کے ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز اور کراچی سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو بٹھا کر کشادہ دل کے ساتھ کام کا آغاز کریں، بصورتِ دیگر شہر کراچی کی مزید تباہی و بربادی کوئی نہیں روک سکتا۔

حصہ