سراب

147

مسکارے سے سجی بڑی بڑی آنکھوں سے اُس نے اپنی تیاری کو آئینے میں آخری بار دیکھا، سر پر بندھے اسٹائلش سے اسٹالر کو تھوڑا اور سمیٹ کر گردن کے گرد لپیٹا، اپنے سراپے پر نظر ڈالی، سراہا اور بہترین کا اشارہ کیا۔ پاس رکھی جیسمین کی فریگنینس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ’’خوشبو لگا کر نامحرم مردوں کے سامنے جانے والیوں پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے‘‘۔ ایک آواز اس کے ذہن کے پردے پر لہرائی، ساتھ ہی ایک موہوم سی شبیہ آنکھوں میں در آئی… نقاب سے بہ مشکل نظر آتی آنکھیں بس ایک لمحے کو، صرف ایک لمحے کو… دوسرے ہی پل اس نے سر کو نخوت سے جھٹکا ’’ہونہہ… خود تو حسین ہوں گی نہیں اور کسی کو حسین اور جوان دیکھ کر تعریف برداشت نہیں ہوتی، جب ہی تو وعظ و نصیحت کا پنڈورا بکس کھل جاتا ہے‘‘۔ یہ سوچتے ہی اس نے جیسے ہر خیال کو جھٹک کر پرفیوم بے دریغ خود پر انڈیلا اور اسٹائلش سا بیگ اٹھا کر باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔
’’اوکے مام، میں جارہی ہوں‘‘ لاؤنج سے گزرتے ہوئے اس نے گویا ماں کو اپنے جانے کا بتانا چاہا۔
’’ارے ناشتا تو کرتی جاؤ‘‘۔ متوقع طور پر مام نے پیچھے سے آواز دی تو اس نے سرعت سے باہر نکلتے ہوئے یونیورسٹی میں ہی کچھ کھالینے کا وعدہ کرلیا۔
سلور جوبلی گیٹ پر گویا رنگ برنگے آنچلوں کی بہار تھی، اس نے پوائنٹ سے اترتے ہی اسٹالر کو ایک جھٹکے سے سر سے اتارا، خودساختہ بوجھ سے آزاد کیا، ریشمی بالوں کا آبشار اس کی پشت پر پھیل چکا تھا۔ ایک اندازِ دلربائی سے اس نے روش پر قدم رکھے اور آرٹس لابی کی طرف چلنا شروع کردیا۔ اب اس کی منزل پی جی یعنی پریم گلی کی کینٹین تھی۔ جیسے ہی وہ اپنی منزل کے قریب پہنچی تو اسے دور سے ہی فہد اور انصرام بینچ پر بیٹھے نظر آئے۔ اس کے قدموں میں تیزی آگئی، اس کی سمت میں ان دونوں کی کمر تھی، اس نے سرپرائز دینے کا سوچ کر آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھنا شروع کیا۔
’’پاگل ہوگیا ہے تُو؟‘‘ فہد کی غصیلی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’اوہ آج پھر موصوف غصے میں ہیں، پتا نہیں آج تختۂ مشق کون ہے؟‘‘ اس نے مسکرا کر سوچا ہی تھا کہ اس کے بڑھتے قدم رک گئے، موضوعِ گفتگو اسی کی ذات تھی۔ وہ ایک دم ستون کی اُوٹ میں ہوگئی۔
’’میرے لیے، میرے لیے؟ علینہ؟ تم نے سوچا بھی کیسے؟ کیا وہی بے حیا، خود کو سپر ماڈل سمجھنے والی علینہ چودھری ہی رہ گئی ہے؟‘‘ فہد کے زہرآلود الفاظ اس کی سماعت سے ٹکرائے۔ ’’تمہیں میرا ٹیسٹ اتنا گھٹیا لگتا ہے؟‘‘وہ مسلسل بولتا جارہا تھا۔
علینہ کے تو گویا آسمان سر پر آگرا۔ اس نے لڑکھڑا کر ستون کا سہارا لے لیا۔
’’کیا مطلب … تم علینہ سے شادی نہیں کروگے؟ پورا ڈپارٹمنٹ تمہارے اور اس کے افیئر کا گواہ ہے؟‘‘ انصرام ششدر رہ گیا تھا۔
’’ارے نہیں بھئی، میں نے افیئر سے کب انکار کیا ہے! وہ تو اسی سے ہے اور بے انتہا سچا ہے۔‘‘ فہد کی خباثت اپنے عروج پر تھی۔ ’’مگر افیئر والی مخلوق سے شادی نہیں کی جاتی، یہ شاید تمہیں کسی نے نہیں بتایا…‘‘
’’ہوش میں ہے تُو؟‘‘ انصرام نے زور سے اس کا کندھا ہلایا۔ فہد نے پُرزور قہقہہ لگایا اور اپنی بات کو جوڑا ’’اس کے ساتھ کلاسز بنک کی جاتی ہیں، کمبائن اسٹڈی کے نام پر الگ سے ہوٹلنگ کی جاتی ہے، اس کی زلفوں کی، کلیکشن اور ٹیسٹ کی تعریف کی جاتی ہے…‘‘ سگریٹ ہونٹوں سے ملاتے ہوئے وہ پھر بولا:
’’ایسی لڑکیاں اتنی عام سی ہوتی ہیں کہ کوئی بھی ان کی تعریف کرسکتا ہے۔‘‘
’’ڈرامے چھوڑ، کہیں تُو نے کوئی اور تو نہیں دیکھ رکھی؟‘‘ انصرام سر ہاتھوں میں لیے بیٹھا تھا۔
’’شادی کے لیے تو وہ خاص موتی چنوں گا جو رب نے صرف میرے لیے ہی بنایا ہوگا، اُسے صرف میں ہی دیکھوں گا، سراہوں اور چاہوں گا۔‘‘ فہد کے ایٹم بم جیسے الفاظ سے علینہ کا وجود گویا ڈھے گیا۔
’’جب تم ٹوٹنے لگو، بکھرنے لگو تو اسے آواز دینا، وہی سب کا خالق ہے۔ وہی تو ہے جو گرتے ہوئے کو بڑھ کے تھام لیتا ہے۔‘‘ دور کہیں سے ایک آواز تھی جو اس کا پیچھا کررہی تھی۔ اس نے ہمت کو یکجا کیا اور ستون کی آڑ میں ہی پیچھے کی جانب سرکتی چلی گئی۔
وہ رات اس نے کرب میں گزاری۔ بالآخر دوسرے دن یونیورسٹی کے دروبام نے ایک اور بااعتماد حیا دار علینہ کو دیکھا۔ اس پر پڑنے والی ہر گستاخ نگاہ اس کے وجود کو ڈھانپے ہوئے لمبے ڈھیلے ڈھالے عبایا سے ٹکرا کر جھک رہی تھی۔ مگر ابھی کچھ قرض چکانے باقی تھے۔ وہ نپے تلے باوقار قدموں سے اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف گامزن تھی۔ ایک کے بعد دوسرا پیریڈ اور تمام کلاسز بڑی دل جمعی سے لیتی، سب کے تیر جیسے کمنٹس نظرانداز کرتے ہوئے آخرکار اس کا مطلوبہ انتظار فری پیریڈ میں ختم ہو ہی گیا تھا۔
’’ارے بس کردو یار، اب بور ہوگیا ہوں، بند کرو یہ ڈرامے بازی… ہٹاؤ یہ نقاب۔ ہم تو رُخِ روشن کے دیدار کو ترس کررہ گئے، کیوں بھئی‘‘۔ فہد دھپ سے اس کے برابر بیٹھ کر مسخرے پن سے بولا اور ساتھ ہی دوسروں سے تصدیق کے لیے ان سے بھی مخاطب ہوا۔
لیکن اچانک علینہ کی دھاڑ پر حقیقی معنوں میں ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔
علینہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور دھاڑ کر بولی: ’’ہاؤ ڈیر یو؟ تمہیں کس نے جرأت دی کہ ایک باحجاب لڑکی کے قریب بیٹھو اور اتنی بے حیائی و بے تکلفی کا مظاہرہ کرو! مائنڈ یو مسٹر، یہ میرا حجاب نہیں میرا فخر و غرور ہے کہ جس کے حصار میں مَیں تم جیسے لوفر، آوارہ اور نظر باز لوگوں سے محفوظ ہوگئی ہوں۔‘‘
فہد دبے لہجے میں بولا ’’کم آن، پہلے تو کبھی تم نے ایسی باتیں نہیں کیں۔ یقینا…‘‘
علینہ نے اس کی بات کاٹی ’’کیوں، کیسے،کس لیے اور اب کیوں، پہلے کیوں نہیں… یہ سوال پوچھنے کا حق تو صرف میرے رب کو ہے، جب اس نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا تو تم کون ہوتے ہو؟‘‘ شہادت کی انگلی اٹھا کر وہ گویا وارننگ دیتے ہوئے خود پر اٹھی نگاہوں کو جھکا چکی تھی۔

حصہ