حکمرانی عوام کی تابع یا اللہ کی تابع؟۔

150

جدید جمہوری طرزِ معاشرت کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ اس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ جمہوریت کے بغیر انسانیت کی بقا ممکن نہیں۔ اس تصور نے دنیا بھر کے انسانوں، حتیٰ کہ دانشوروں، فلاسفروں، سیاسی تجزیہ نگاروں، غرض سوچنے سمجھنے اور وسیع مطالعہ رکھنے والے ماہرین کی بصارت کو بھی محدود کرکے رکھ دیا ہے۔ لوگ اب معاشروں کو اچھے برے، ظالم مظلوم، جابر انصاف پسند یا خیر اور شرکی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتے، بلکہ جمہوری اور غیر جمہوری معاشروں کی بنیاد پر انہیں پرکھتے، تولتے اور جانچتے ہیں۔ ایک جمہوری معاشرہ خواہ اس میں انصاف کا کوئی تصور نہ ہو، اقلیتیں دن رات ظلم کی چکی میں پس رہی ہوں مگر عالمی برادری اس کے ظلم، جبر، قتل اور بدمعاشی اس لیے معاف کرتی چلی جائے گی کیوں کہ اس ملک میں ایک جمہوری تسلسل ہے، کبھی فوج نے وہاں آئین نہیں توڑا، اور کوئی طالع آزما وہاں کبھی برسراقتدارنہیں آیا۔ بھارت اور اسرائیل ایسے ’’جمہوری‘‘ معاشروں کی روشن مثالیں ہیں۔
اسی طرح اگر آج کے دور میں کہیں بادشاہت یا ڈکٹیٹر شپ میں لوگ خوش حال ہوں، انصاف کا بول بالا ہو، اجتماعی اور انفرادی زندگی خوش گوار ہو، پوری دنیا سے لوگ وہاں آکر رزق کما رہے ہوں، مگر اس سب کے باوجود یہی عالمی برادری ایسے ملکوں کو حقارت اور نفرت سے دیکھے گی، کیوں کہ وہاں حکمرانی کے لیے جمہوریت کی سیڑھی استعمال نہیں ہوئی۔
قطر، بحرین، مسقط، عمان اور متحدہ عرب امارات ایسے خوش حال معاشرے اس کی شاندار مثالیں ہیں۔ ان ملکوں میں جمہوریت نام کو نہیں مگر خوش حالی، امن اور انصاف بے شمار ہے۔ ان خلیجی ریاستوں میں امن، خوش حالی اور انصاف کی عموماً یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ امن تیل کی دولت کی خوش حالی کی وجہ سے ہے، جو لوگوں کو جرم سے روکتی ہے۔ نائیجیریا کے پاس ان تمام خلیجی ریاستوں کے تیل کے کُل ذخائر سے زیادہ تیل موجود ہے، لیکن اس ملک میں جمہوریت کی ’’برکات‘‘ کی وجہ سے کرپشن ایک مسلسل رویّے کے طور پر نظر آتی ہے۔ دنیا کے بددیانت ترین ممالک کی فہرست جو 180اقوام پر مشتمل ہے، اس میں نائیجیریا 143ویں نمبر پر ہے۔ یہ وہ بدقسمت ملک ہے جو تیل کے ساتھ گیس کی دولت سے بھی مالامال ہے اور وہاں فیڈرل جمہوری نظام بھی نافذ ہے، مگر اس ملک کے چالیس فیصد عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
گزشتہ سال یعنی مارچ 2019ء میں تقریباً ستّر لاکھ افراد ایسے تھے جو قحط سالی اور خانہ جنگی کی وجہ سے بے گھر ہوئے، اور تیل کی دولت سے مالامال اس جمہوری ملک میں یو ایس ایڈ کے ادارے ’’امن کے لیے خوراک‘‘ (Food For Peace) نے انہیں خوراک فراہم کی۔
ان تمام حقائق اور جمہوری معاشروں میں ظلم، تشدد، اقلیتوں پر جبر و استبداد، بھوک، بیماری، بدحالی، کرپشن اور لوٹ مار کے باوجود آپ ’’جدید مہذب‘‘ دنیا کے دانشوروں کے ہجوم میں کبھی جمہوریت یا جمہوری نظام کے خلاف کوئی ایک فقرہ بول کر دیکھیں، سب آپ پر ایسے ٹوٹ پڑیں گے جیسے آپ نے کوئی گالی دی ہو۔ اس رویّے کی بنیاد یہ ہے کہ گزشتہ تین سو سال سے ایک منصوبے کے تحت نصاب کی کتب سے لے کر اعلیٰ ترین تحقیقی اداروں کی تصنیفات تک ہرجگہ انسانی ترقی کی معراج صرف جمہوریت اور جمہوری معاشرے کو قرار دیا گیا ہے، اور کسی بھی جمہوری معاشرے کی ایک ہی پہچان ہے کہ وہاں عوام کی اکثریت کی حاکمیت قائم ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثریت کی یہ حکومت ایک دن ’’اکثریت کی آمریت‘‘ میں خودبخود بدل جایا کرتی ہے۔ مگر جدید علم جو نصابی کتب اور جدید علمی ذخیرے کی صورت موجود ہے، اس کی لوریوں میں پلنے والے ہمیشہ جمہوریت سے ہی محبت کرتے ہیں۔ یہ ہے وہ محدود نظری یا سوچنے اور مشاہدے کی سرنگی بصارت۔
دنیا میں ازل سے لے کر آج تک انسانی تاریخ میں حکمرانی کے دو نظریات ہمیشہ سے ایک دوسرے سے متصادم رہے ہیں۔ ایک ایسی بادشاہت کا نظریہ جو ذاتی اقتدار، توسیع سلطنت اور غلبے کے لیے قائم ہوتی ہے۔ فراعنہِ مصر اور نمرودانِِ عراق سے لے کر دارا و سکندر تک سب ایسی ہی حکومتوں کے نقیب تھے۔ یہ حکمران خود ہی قانون بناتے، توڑتے اور خود ہی جیسا چاہتے انصاف کرتے۔ جب کہ دوسرا نظریۂ حکمرانی وہ تھا جسے اللہ نے پیغمبروں کے ذریعے پیش کیا۔ اس کے مطابق اس کائنات کو اللہ نے تخلیق کیا ہے اور یہ اللہ ہی کا حق ہے کہ اس دُنیا پر اس کے حکم کو نافذ کیا جائے۔ دنیا میں انہی دونوں نظریات کی بنیاد پر آج تک آدابِ حکمرانی کی بے شمار کتب تحریر ہوتی چلی آرہی ہیں اور رہنمائی کے اصول مرتب ہوتے رہے ہیں۔ ایک جانب افلاطون، چانکیہ اور میکاولی کی کتب ہیں جب کہ دوسری جانب قرآن و سنت کے اصولوں پر مبنی کتب ہیں۔ پہلے انبیائے کرام علیہم السلام آتے تھے اور ہر معاشرے کو سدھارنے کے لیے اصول بتاتے، لیکن اب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم چوں کہ آخری نبی ہیں اس لیے قیامت تک رہنے والی کتاب ’’قرآن‘‘ کی تعلیمات اور سنتِ نبویؐ کی بنیاد پر ہی لاتعداد آدابِ حکمرانی کی کتب تحریر کی گئیں۔
ان تحریروں کی ایک تاریخ ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاذ بن جبلؓ کو یمن کا حاکم بنانے پر دی جانے والی ہدایات سے شروع ہوتی ہے، اور اس کے بعد حضرت عمرؓ کا وہ خط جس کا اصولی فقرہ ’’مائوں نے لوگوں کو آزاد جَنا، تم نے انہیں غلام بنانا کہاں سے سیکھ لیا!‘‘ پھر حضرت علیؓ کے مالک الاشتر کے نام خط سے لے کر بنگال کے حاکم ’’فخر الدین مبارک شاہ المعروف فخرمدبر غزنوی‘‘ کی کتاب ’’آداب الملوک و کفایت الملوک‘‘ تک چلی آتی ہے۔ فخرالدین مبارک شاہ کی کتاب جس میں اُس نے کسی بادشاہ کو اللہ کا سایہ اسی صورت میں گردانا ہے جب وہ امن اور انصاف قائم کرے۔ آج اس کتاب کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو جس میں اس نے حکمران کی ذمہ داریاں گنوائی ہیں: ’’احکامِ شرع میں سے چند امور بادشاہوں کی ذات اور اُن کے فرمان سے متعلق ہیں۔ مثلاً جمعہ اور عیدین کا خطبہ، حدود و جہات کا تعین، خراج اور صدقات لینا، جنگ کرنا، فریقین کے درمیان جھگڑے کا فیصلہ کرنا، مقدمے سننا، ملک کو دشمن کی افواج سے محفوظ رکھنا، لشکروں کو ترتیب دینا، لڑنے والوں کی روزی کا انتظام کرنا، رعایا کی بھلائی کے لیے مختلف احکام صادر کرنا، مختلف سزائوں کا نفاذ کرنا، عوام میں انصاف کرنا اور مظلوموں کی دادرسی کرنا۔‘‘
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے’’ایک گھڑی کا انصاف ساٹھ سالہ عبادت سے بہتر ہے‘‘۔ ایک اور جگہ آپؐ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک پل کا انصاف اُس شخص کی عبادت سے بہتر ہے جس نے مسلسل ساٹھ سال تک راتیں نماز میں گزاریں اور دن کو روزے رکھے ہوں‘‘۔ علاوہ ازیں مفسدوں کی بیخ کنی کرنا، مختلف بدعتوں اور ناپسندیدہ کاموں کو مٹانا، لوگوں کی دولت و زندگی، ان کی عورتوں اور جائداد پر ظالموں کی دست درازی کو روکنا، اپنی رعایا کی غم خواری اور ان کے لیے روزی مہیا کرنا، بیت المال کا مال اُن مستحق لوگوں پر صرف کرنا جن کے بارے میں اللہ جل جلالہ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے ’’خیرات فقرا، مساکین اور صدقات وصول کرنے والے کارکنوں، ان لوگوں کے لیے جن کی تالیف قلب منظور ہے، غلاموں، قرض داروں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور وہ جاننے والا دانا ہے۔‘‘
فخر الدین مبارک شاہ نے ان تمام امور کی بجا آوری کے لیے تفصیلی ابواب تحریر کیے ہیں اور ہر جگہ قرآن و سنت سے دلائل درج کیے ہیں۔ اللہ کے احکامات کی تابع حکومت میں جہاں انصاف کی بالادستی اہم ہے، وہاں جواب دہی کے لیے بالاتر ذاتِ الٰہی کا خوف بھی ہے۔ لیکن جدید جمہوری معاشرے کی ترقی کے بنیادی پیمانوں میں صرف اور صرف جمہوری تسلسل اہم ہے۔ عوام کی حاکمیت کا قیام اس بات کا ہدف ہے خواہ اس حاکمیت کے پائوں تلے اقلیت چیونٹیوں کی طرح مسلی جارہی ہو۔

حصہ