اب وقت آچکا ہے

270

سڑک کے کنارے گندے کپڑے پہنے شفیق بدحالی کی منہ بولتی تصویر تھا،اس کی نظریں کسی کی تلاش میں تھیں،اس کی پلکوں پر جمی گرد کسی صحرا کے سفر کی کہانی سنا رہی تھی،وہ تلاش میں تھا کہ کہیں سے اسے تھوڑا سا پانی مل جائے تاکہ وہ اپنا حلیہ درست کر سکے،وہ خستہ حال سڑک پر ادھر سے ادھر چکر کاٹتا راستے بھر خاک پھانکتے اور سڑک سے گزرتی گاڑیوں سے اڑتی گرد کی چادراوڑے شفیق کی حالت قابلِ رحم تھی،خاصی دیر گمشدہ پانی کی تلاش کے بعد وہ ایک طرف جا بیٹھا،اپنی حالت دیکھ کر وہ سوچ رہا تھا کہ چند گھنٹوں کے سفر نے اسے کیا سے کیا بنا دیا،اسےوہ زمانہ یاد آنے لگاجب اسی شہر میں وہ باعزت سفر کیا کرتا تھا،بچپن کی وہ یادیں جو اس شہر سے وابستہ تھیں اس کے دماغ میں گونجنے لگیں،وہ وقت بھی جب کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ٹریکر بسیں دوڑاکرتیں،پرانی خستہ حال بس کی چھت پر بیٹھ کر کیے گئے چند گھنٹوں کے سفر نے اس کی جو حالت کر دی تھی اس کے بعد اس کا ماضی کی یادوں میں گم ہونا فطری تھا،کبھی اسے دوران ملازمت کے وہ دن یاد آنے لگتے جب وہ بہترین بسوں میں سفر کیا کرتا،وہ کیسے بھلا سکتا تھا وہ دن جب انہیں رستوں سے گزر کر وہ اسکول جایا کرتا تھا لال رنگ کی لمبی بس میں کیاجانےوالاسفر اس کی زندگی کے یادگار ترین سفروں میں سے ایک تھا،بس کنڈیکڑ کا چلتی گاڑی سے اترتے چڑھتے کرتب دکھانا اب بھی اس کی نگاہوں کے سامنے تھا، غرض شہر سے جڑی ہربات اس کے ذہن میں پیوست تھی۔
شفیق سڑک کے کنارے بیٹھا آ تےجاتے لوگوں کو دیکھتا رہا،جب کہ لوگ اسے ضرورت مند سمجھ کر نظریں چراتےاس کے قریب سے گزرتے رہے۔وہ حیران تھا کہ جس شہر میں اس نے اپنی زندگی کے حسین دن گزارے اسی شہر میں وہ آ ج اجنبی بنا بیٹھا ہے،وہ اپنے ساتھ لوگوں کی جانب سے ہونے والے برتاؤ پر خفا ہونے کے بجائے اپنے حلیے کی جانب دیکھتا وہ لوگوں کے رویئے پر قصوروار اس سفر کو ٹہراتا جس نے اس کی حالت ایسی کردی تھی کہ وہ حمام ڈھونڈنے پر مجبور تھا،وہ جتنی دیر ٹوٹی سڑک کے کنارے بیٹھا رہا بسوں میں انسانوں کو جانوروں کی طرح بھر کر لے جاتے ہوئے دیکھتا رہا، وہ ہر گزرتی ہوئی بس کو بڑی غور سے دیکھتا اس کی آنکھیں ان بسوں کی تلاش میں تھیں جووہ کبھی اس شہر کی سڑکوں پر ہی چھوڑ کر گیا تھا،اس کی نظریں کشادہ سڑکوں اور صاف ستھری فٹ پاتھوں کی تلاش میں تھیں،اس کے سامنے اجڑے ہوئے پارک کے ساتھ بہتے گندےپانی کے سوا کچھ نہ تھا۔
شفیق اپنی نوکری سے ریٹائرمنٹ کے خاصے عرصے بعد کراچی آیا تھا،اب وہ کراچی سے باہر مضافاتی علاقے کی ایک چھوٹی سی بستی میں رہائش پذیر تھا،بچوں کے جوان ہونےکےبعد وہ بستی کا ہی ہوکر رہ گیا تھا،وہ جس کام سے کراچی آیا تھا ماضی کی یادوں نے اسے اس قابل نہ چھوڑا کہ وہ خوشی خوشی اپنے کام انجام دیتا،شفیق ٹوٹ چکا تھا،اسے اپنے شہر کراچی سے بہت محبت تھی اسی لیے وہ بستی والوں کو یہاں پر گزارے ماہ وسال کی داستانیں سناتا تھا،اب اس کے سامنے وہ منظر آ رہا تھا جس میں کراچی سے باہر کے مضافاتی علاقے کی وہ پسماندہ بستی جہاں وہ اپنی زندگی کے ایام گزار رہا تھا اس کی ہنسی اڑا رہی تھی، وہ ندامت اور شرمندگی سے زمین میں دھنستا جا رہا تھا،بستی کے ان نوجوانوں نظریں اس کے سینے میں تیر بن کر پیوست ہو رہیں تھی جو اس کی طرف سےکراچی کی تعریفیں سن کر غور سے دیکھا کرتے تھے، وہ سمجھ چکا تھا کہ لوگ محض اس کی عزت کی خاطر اس کی باتیں سنا کر تھے،وہ سوچ رہا تھا کہ بستی والوں نے تو یہ تباہ حال شہر ہی دیکھا ہو گا اس لیے اس کی بتائی ہوئی باتیں لوگوں کے نزدیک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں،شفیق جس طرح کراچی آیا چند گھنٹے سڑک کے کنارے بیٹھ کر تلخ یادوں کے ساتھ واپس اپنی بستی کی طرف لوٹ گیا۔
شفیق تو یہاں کے سفری نظام پر ماتم کر کے اپنے گاؤں لوٹ گیالیکن کراچی والے کہاں جائیں!ٹوٹی سڑکیں،خستہ حال انفراسٹریکچر اور بدحالی ان کا مقدر ہے،یہاں کےمکینوں کے نذدیک تو صحت و صفائی،تعلیم،ٹرانسپوٹ پینے کا صاف پانی،بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کی راہیں تکتے تکتے دنیا فانی سے کوچ کر جانے کا نام زندگی ہے۔
شفیق کو کیا پتا کہ یہ سب کچھ ایک رات میں نہیں ہوابلکہ اس شہر کے ساتھ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت سازش کی گئی ہے،کراچی کے ساتھ ظلم و نا انصافی کی ابتدا تو اس وقت کر دی گئی تھی جب دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا،دارالحکومت کی منتقلی کا مقصد شہرکی رونقیں کم کرناتھا یہ شہر پڑھے لکھے لوگوں کا شہر تھا،اس لیے حکمرانوں کے خلاف یہاں سے چلائی جانے والی تحریکیں کامیاب ہوتیں یوں کراچی سے دارالحکومت کی منتقلی کے پیچھے سیاسی شعور رکھنے والےعوام کو سبق سکھانا بھی مقصود تھا،خیر اس شہرکے باسی سمندرکی طرح دل وجگر رکھتے ہیں اس لیے یہاں کے رہنے والوں نے اف تک نہ کی،پھر ایک وقت ایسا آیا جب اسی شہر کی شاہراہوں کو انسانی خون سے نہلایا جانے لگا،خون ریزی کے ہنرمندوں نے بڑی سفاکی سے اس شہر کی زندگی کو لتاڑا،اور ایک عرصے تک یہ شہر بموں کے حملے،خودکش حملہ آور کےخوف و دہشت، اسٹریٹ کرائمز،ڈکیتی کی وارداتیں،اغوا برائے تاوان،ٹارگٹ کلنگ،بھتہ خوری،غیر ضروری ہڑتالوں اور کاروبار کی بندش سمیت بے شمار مسائل سے دوچار رہا مگر شاید اہل کراچی کی زندگی سے لفظ سکون کھو کر رہ گیا ہے، اسی لیے تو کئی عشروں تک بدامنی وغارت گری کی آگ میں جلنے والا شہر اب محرومی کے عذاب سے دوچار ہے۔
اب یہ بات شفیق کو کون بتائے کہ برسوں کی بدانتظامی، سیاسی مفاد پرستی، لسانی جھگڑوں اور کرپشن نے ہی اس شہر بے مثال کو تباہ و برباد کردیا ہے،شہر میں صفائی وستھرائی،نکاسی آب کا نظام چلانے اور تجاوزات ختم کرنے والی انتظامی مشینری زوال پذیر ہوچکی ہے۔آبادی کے سیلاب نے شہری منصوبہ بندی کا جنازہ نکال دیا ہے،ایک طویل عرصے سے اس شہر کی ضرورتوں کے مطابق کسی بھی بڑے منصوبوں پر کام نہیں کیا گیا،دنیا کے ہر شہر کا ماسٹر پلان ہوتا ہے،لیکن اس شہر کے لیے کوئی ماسٹر پلان نہیں بنایا گیا،ماسٹر پلان بنانے کے لیے بھی اس بدقسمت شہر کے حقیقی اعدادوشمار موجود نہیںکیونکہ اس کے لیے بھی 1998 میں ہونے والی مردم شماری کے اعداد وشمار پر انحصار کیا جارہا ہے،ظاہر ہے کہ اس سے کوئی ڈیولپمنٹ وژن نہیں بنایا جاسکتااور سب سے اہم تو یہ ہے کہ کراچی کی آبادی قیام پاکستان کے وقت ڈھائی لاکھ بتائی جاتی ہے،جو اب ڈھائی کروڑ سے بھی تجاوز کرچکی ہے،بڑھتی ہوئی آبادی کو بسانے کے لیے کوئی پلان نہیں بنایا گیا، بلکہ کہ رہائشی مکانات کو کمرشلائز کرتے ہوئے ہزار اور دوہزار گز کے مکانات پر پر 10 سے 20 منزلہ عمارتوں کی تعمیر شروع کر دی گئی جس سے یہ شہر عمارتوں کا جنگل بن گیا،اتنا کچھ ہوجانے کے بعد کوئی بھی شہر اپنی خوبصورتی برقرار نہیں رکھ سکتا جب کہ شہر کراچی کو تو ایک منظم سازش کے تحت کھنڈرات میں تبدیل کیا گیا ہے،یہی وجہ ہے آج یہاں باران رحمت بھی زحمت بن جایا کرتی ہے،ذرا سی بارش ہوتے ہی پورا شہر کسی تالاب کا منظر پیش کرنے لگتا ہے،کشتیاں چلنے لگتی ہیں کینٹینر بہنے لگتے ہیں،اور تو اورحکمرانوں کی جانب سے ریلیف ملنے کے بجائے۔
’’زیادہ بارش ہوتی ہے زیادہ پانی آتا ہے‘‘
جیسےجملے سننے کو ملتے ہیں بلکہ بارش کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کے لیےعوام سے خدا کے حضور سجدہ ریز ہونے کی اپیل بھی کی جاتی ہے،اس بدترین صورتحال میں کراچی کے لوگ جائیں تو جائیں کہاں؟کون ان کے زخموں پرمرہم رکھے گا،حکمرانوں نے ہمیشہ کر اچی کو سونے کے انڈے دینے والی مرغی سمجھا اور اس مرغی سے انڈے وصول کیے جاتے رہے،لیکن بدقسمتی سے اب اس مرغی کو ذبح کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے،لہٰذا اس صورتحال میں ارباب اختیار کو یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ نانصافی سے محرومیاں جنم لیتی ہیں اور بڑھتی ہوئی محرومیوں کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں، زندہ قومیں اپنے ماضی سے سبق حاصل کرتی ہیں،ہمیں بھی اپنے ماضی پر نظر ڈالنی ہوگی،حکمرانوں کو کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کرنے ہوں گے،کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ،صت و تعلیم، پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب سمت تباہ حال انفرااسٹرکچر کی درستی کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے،کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیےکوششیں تیز کرنا ہوں گی،اور یہ بات بھی یاد رہے کہ کراچی کو اس کا جائز حق دے کر ہی خوشحال سندھ اور روشن پاکستان کے خواب کو عملی شکل دی جاسکتی ہے۔

حصہ