پروفیسر منظر ایوبی کی یاد میں بزمِ یارانِ سخن کا تعزیتی ریفرنس اور مشاعرہ

458

بزمِ یارانِ سخن طویل عرصے سے ادبی پروگرام ترتیب دے رہی ہے اس ادارے کا آخری پروگرام فروری 2020ء میں ہوا تھا کورونا کی وجہ سے پاکستان میں لاک ڈائون کا نفاذ ہوا جس کے باعث زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے تاہم حکومت کی جانب سے لاک ڈائون کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی بزم یارانِ سخن کراچی نے اگست 2020ء میں شان دار مشاعرہ پروفیسر منظر ایوبی کی یاد میں منعقد کیا جس کی صدارت سعید الظفر صدیقی نے کی‘ رفیع الدین راز اور رونق حیات مہمانانِ خصوصی تھے۔ توقیر اے خان ایڈووکیٹ مہمان اعزازی تھے جب کہ حامد علی سید نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ یہ ادبی تنظیم راقم الحروف نثار احمد نے 1976ء میں قائم کی تھی جس میں وقت کی پابندی لازمی قرار دی تھی یعنی تاخیر سے آنے الوں کو میں نے کبھی بھی بزمِ یارانِ سخن کا مشاعرہ نہیں پڑھنے دیا یہ سلسلہ تمام شعرائے کرام کے تعاون سے تادمِ تحریر چل رہا ہے۔ میری اس پابندی کے شکار میرے دوست بھی ہوئے جس کی گواہی بہت سے شعرا دے سکتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے مجھے برا بھلا بھی کہا اور دھمکیاں بھی دیں لیکن خدا کے فضل سے ہم ادبی پروگرام کر رہے ہیں اس وقت میرے ساتھ سلمان صدیقی‘ خالد رانا قیصر‘ شاعر علی شاعر‘ عارف شیخ شامل ہیں جو کہ مشاعرے کے اخراجات میں میرے مددگار ہیں تاہم ڈاکٹر مرزا علی اظہر کے تعاون سے ہم PMA ہائوس میں اپنے پروگرام کر رہے ہیں‘ ہماری تنظیم کے سرپرست سعید الظفر صدیقی ہیں۔ میں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جب تک ڈاکٹر اکرام الحق شوق زندہ رہے وہ ہماری مالی امداد کر رہے تھے۔ بات یہ ہے کہ مہنگائی کے اس زمانے میں مالی تعاون کے بغیر کوئی ادارہ نہیں چل سکتا لیکن کچھ لوگوں نے مالی امداد کو اپنا ذریعۂ معاش بنا لیا ہے۔ ہم اس طرح کے لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دوسرے قلم کار ہماری تائید کریں گے۔ راقم الحروف نے ان خیالات کا اظہار خطبۂ استقبالیہ میں کیا۔ مشاعرے کا آغاز تلاوتِ کلام مجید سے ہوا جس کی سعادت الحاج یوسف اسماعیل نے حاصل کی‘ واحد رازی نے نعت رسولؐ پیش کی۔ اس پروگرام کے دو حصے تھے پہلے حصے میں پروفیسر منظر ایوبی کے بارے میں سلمان صدیقی نے کہا کہ پروفیسر منظر ایوبی نے 1946ء میں شاعری شروع کی تھی اور آخری سانس تک وہ شعر و ادب سے جڑے ہوئے تھے ان کے پانچ شعری مجموعے اور تاثراتی مضامین کی کتابیں اور ایک تحقیقی مقالہ بعنوان ’’اردو شاعری میں نئے موضوعات کی تلاش‘‘ آج بھی ہمارے لیے سرمایۂ ادب ہے۔ پروفیسر منظر ایوبی میں ایک Reformer موجود تھا یہی وجہ ہے کہ ان کا بیشتر کلام معاشرے کے مسائل کا بیانیہ ہے‘ ان کے شعری اظہار میں بے خوفی اور دیدہ وری کا عنصر بھی موجود ہے۔ ان کی نظمیں ہیئت کے اعتبار سے آزاد بھی ہیں اور پابند بھی مگر ان کے موضوعات کی ترقی پسندی‘ مشاہدات اور محسوسات کے علاوہ حمد‘ نعت‘ مناقب پر بھی انہوں نے بہت کام کیا ہے۔ رونق حیات نے کہا کہ پروفیسر منظر ایوبی ہمہ جہت شخصیت تھے ان کی ادبی اور علمی خدمات قابل تحسین ہیں زندگی بھر وہ ظلم کے خلاف نبرد آزما رہے۔ اسکی ساتھ ساتھ وہ سماجی خدمات کے لیے اپنے علاقے کے کونسلر بھی رہے۔ ان کی موت ہمارے لیے ایک سانحہ ہے‘ ان کی یاد میں پروگرام کرنا ایک اچھا عمل ہے کیوں کہ اپنے محسنوں کو یاد رکھنا اسلامی روایات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت قلم کاروں کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ہم متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں امید ہے کہ ہمارے مسائل حل ہوں گے‘ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مقاصد کے لیے ایک پلیٹ فارمِ پر جمع ہوں۔ پروفیسر منظر ایوبی کو اختر سعیدی اور صفدر علی انشا نے منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ مشاعرے کے مہمان اعزازی توقیر اے خان ایڈووکیٹ مشاعرے میں باوجوہ شریک نہ ہوسکے لیکن انہوں نے اپنے ٹیلی فونک خطاب میں کہا کہ پروفیسر منظر ایوبی قادرالکلام شاعر تھے انہوں نے درس و تدریس میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں‘ وہ سندھ کے مختلف کالجوں میں جہالت کے خلاف مصروف جہاد تھے‘ ان کے بے شمار شاگرد ہیںجو کہ ان کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اردو زبان و ادب کے حوالے سے وہ ایک انٹرنیشنل شاعر تھے جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے وہاں وہاں پرفیسر منظر ایوبی زندہ رہیں گے حالانکہ وہ اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں لیکن وہ اپنی ادبی خدمات کے تناظر میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ صاحبِ صدر مشاعرہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروفیسر منظر ایوبی ایک نزم مزاج‘ درویش صفت شخصیت تھے‘ وہ اپنے جذبوں کو بڑی کامیابی سے محبت کی نرم اور گداز شعری احساس میں ڈھالنے کے ہنر سے خوب واقف تھے۔ ان کے یہاں آج کے دور کا کرب پوری طرح نمایاں ہے انہوں نے مبہم علامتوں اور دور از استعاروں کا سہارا لیے بغیر زندگی کے مسائل پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ وہ ایک زندہ دل شاعر تھے انہوں نے سچائیوں کا سودا نہیں کیا وہ علم و فن کے دبستان تھے ان کی تعلیمی خدمات پر بھی ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ پروگرام کے اختتام پر خالد رانا ایڈووکیٹ نے اظہار تشکر میں کہا کہ بزم یارانِ سخن کراچی ایک ایسی تنظیم ہے جو کراچی میں تواتر کے ساتھ ادبی خدمات میں مصروف عمل ہے۔ ہمارے کریڈٹ پر کئی اہم تقریبات موجود ہیں ہمارے لیے اس محفل میں شریک تمام لوگ قابل ستائش ہیں کہ انہوں نے ہمیں وقت دیا‘ اس کے ساتھ ساتھ ہم PMA انتظامیہ کے بھی شکر گزار ہیں۔ مشاعرے میں صاحب صدر‘ مہمانان خصوصی اور نظامتِ مشاعرہ کے علاوہ ریحانہ روحی‘ اختر سعیدی‘ سلمان صدیقی‘ ڈاکٹر نثار‘ عبدالمجید محور‘ سحر تاب رومانی‘ شاعر علی شاعر‘ ناہید عظمی‘ یاسین یاس‘ عارف شیخ عارف‘ خالد رانا قیصر‘ حامد علی سید‘ تنویر سخن‘ یاسر سعید صدیقی‘ کامران طالش‘ کشور عدیل جعفری‘ واحد علی رازی‘ خالد میر‘ الحاج یوسف اسماعیل‘ شائق شہاب‘ صفدر علی انشاء‘ طاہرہ سلیم سوز‘ احمد سعید خان اور اختر علی افسر نے کلام پیش کیا۔ سامعین کی بڑی تعداد مشاعرے میں موجود تھی جو کہ ہر اچھے کلام پر کھل کر داد و تحسین سے نوازتے رہے۔

گلنار آفرین کے لیے نیاز مندانِ کراچی کا مشاعرہ

گلنار آفرین ہمارے عہد کی ایک سینئر شاعرہ ہیں‘ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں تاہم پچھلے چھ ماہ سے کراچی آئی ہوئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے نیازمندانِ کراچی کے زیر اہتمام طارق جمیل کی رہائش گاہ پر گلنار آفرین کے لیے ایک محفل مشاعرہ سجائی گئی جس میں صاحبِ صدر محسن اعظم ملیح آبادی‘ گلنار آفریدی‘ رونق حیات‘ حجاب عباسی‘ راقم الحروف ڈاکٹر نثار‘ نزہت عباسی‘ سعدالدین سعد‘ خالد میر‘ سخاوت علی قادر‘ شائق شہاب‘ احمد سعید خان‘ تنویر سخن‘ عبدالمجید محور اور نعیم انصاری نے اپنا کلام پیش کیا۔ صاحبِ خانہ طارق جمیل نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گلزار آفرین کی آمد سے بڑی خوشی ہوئی ہے‘ میرے گھر میں ادبی پروگرام ہوتے رہتے ہیں لیکن کورونا کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا تھا۔ میں نے رونق حیات کے حکم کی پاسداری میں مشاعرے کا انتظام کر دیا ہے‘ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ اگلے برس تک مشاعروں اور ادبی پروگرام کے لیے ایک جگہ فراہم کر دیں گے جہاں دو سو افراد کی گنجائش ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں اردو کو بحال کیا جائے اس زبان کو رومن انگریزی میں نہ لکھا جائے بازار میں ’’اردو کی بورڈ‘‘ میسر ہیں انہیں اپنے موبائل میں لوڈ کرا کر آپ اردو رسم الخط میں بات چیت کریں تو بہتر ہوگا۔ رونق حیات نے کہا کہ گلنار آفرین ایک تجربہ کار شاعرہ ہیں ان کے شعری مجموعوں پلک پلک سمٹتی رات‘ تم بن ادھورے گیت‘ شام کا تنہا ستارا‘وہ اور پھول‘ جرس گل اور تیشہ غم شائع ہو چکے ہیں اس کے علاوہ ان کے کلام ادبی رسائل میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ میں ان کا بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر تقریب میں تشریف لائیں اس کے ساتھ ساتھ میں طارق جمیل کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمارے لیے اپنے گھر پر شاندار تقریب منعقد کی اللہ تعالیٰ انہیں مزید عزت و شہرت عطا فرمائے۔ ڈاکٹر نزہت عباسی نے کہا کہ گلنار آفرین کی شاعری میں گہرائی اور گیرائی کے ساتھ ساتھ تمام شعری محاسن موجود ہیں ان کی نظمیں ہماری زندگی کے مسائل کی ترجمان ہیں۔ صاحبِ صدر نے کہا کہ طارق جمیل ادب نواز انسان ہیں یہ اردو ادب کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں آج کی تقریب بھی ان کی مرہون منت ہے کہ ہم یہاں گلنار آفرین کے لیے جمع ہوئے ہیں جو کہ ہندوستان اور پاکستان کے ادبی منظر نامے میں بہت اہم ہیں یہ مزاحمتی شاعری کے حوالے سے اپنی پہچان بنا چکی ہیں ان کا لب و لہجہ مشرقیت کا آئینہ دار ہے ان کی نسائی شاعری ایک حدود میں محفوظ ہے انہوں نے ظلم و جبر کے خلاف آواز بند کی۔ ہر زمانے میں ان کی شاعری زندہ رہے گی۔ اس موقع پر گلنار آفرین کو گل دستے پیش کیے گئے۔

فریدہ عالم فہمی کا شعری مجموعہ ’’کس سے کہوں‘‘ شائع ہو گیا

گزشتہ ہفتے محترم نسیم شیخ نے راقم الحروف ڈاکٹر نثار احمد کو فریدہ عالم فہمی کی کتاب عنایت کی جو میں نے پوری توجہ سے پڑھی۔ نسیم شیخ نے گزشتہ جمعہ اپنے آن لائن مشاعرے میں اس کتاب کی تقریبِ پزیرائی کا اہتمام کیا تھا جس میں پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے شعرا بھی شریک تھے جنہوں نے فریدہ عالم فہمی کے فن اور شخصیت پر اپنے تاثرات بیان کیے کورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت آن لائن مشاعرے ہو رہے تھے لیکن اب لاک ڈائون کے خاتمے کے ساتھ مناسب پابندیوں اور SOP’s کے تحت ادبی اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ آن لائن مشاعرے میں فریدہ عالم فہمی نے کہا کہ وہ نسیم شیخ کی ممنون و شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنے ادارے کے تحت میری کتاب شائع کی اس کتاب میں میری سوچوں کا سفر شائع ہو رہے ہیں تو ایک میڈیکل کمپنی میں جاب کرتی ہوں‘ شاعری چونکہ میرا جنون ہے اس لیے میں اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر کھچھ نہ کچھ لکھتی رہتی ہوں۔ 224 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔ تبصرہ نگاروں میں شازیہ ملک‘ محمود اختر خان‘ نسیم شیخ‘ جہاں آرا تبسم‘ عرفان خانی اور نصرت یاب خان شامل ہیں۔ یہ کتاب فریدہ عالم فہمی نے اپنی والدہ جان شہناز عالم کے نام انتساب کی ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ شاعرہ نے شعر و سخن کی دنیا میں اپنے ہونے کا احساس دلایا ہے۔ انہوں نے سہل ممتنع میں اچھا کلام کیا ہے ان کی نظموں میں زندگی رواں دواں ہے نسائی مسائل بھی ان کے یہاں موجود ہیں اور معاشرتی کرب کا احوال بھی۔ اکثر غزلیں صاف ستھہرے لفظوں پر مشتمل ہیں مجھے امید ہے کہ یہ شاعرہ مزید ترقی کرے گی۔ کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے نسیم شیخ نے کہا کہ فریدہ عالم فہمی ایک باصلاحیت شاعرہ ہیں جو کہ قرطاس پر انتہائی خوب صورتی کے ساتھ اپنی شاعری آگے بڑھا رہی ہیں ان کے یہاں ایسے اشعار ملتے ہیں جو کہ ہمارے دلوں میں اتر جاتے ہیں ان کا یہ مجموعہ اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔ جہاں آرا تبسم (کوئٹہ) نے کہا کہ فریدہ عالم فہمی کا ایک ورکنگ وومن ہونے کے ساتھ ساتھ ادویات کے متعلق معلومات اور اس پر ڈبل ایم ایس سی کرنے کے بعد ایک دوا ساز ادارے میں اہم پوسٹ پر ہوتے ہوئے شاعری کرنا بہت قابل تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے آسان زبان کا سہارا لے کر اپنے مافی الضمیر کو شاعری میں ڈھال دیا ہے آسان الفاظ اور سادگی کے ساتھ انہوں نے بڑی سے بڑی بات با آسانی قارئین اور سامعین تک پہنچائی ہے۔ یہ ایک باہمت خاتون ہیں انہوں نے مردوں کے معاشرے کا بہت گہرا مطالعہ کیا ہے جس کی جھلک ان کے اشعار میں نظر آرہی ہے۔ عرفان خانی کے نزدیک فریدہ عالم فہمی نے الفاظ کے چنائو میں مشکل پسندی کے بجائے آسان الفاظ میں اپنے جذبات و محسوس کو رقم کیا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ صنفِ نازک بھی مردوں کی طرح عشق محبت‘ پیار‘ غم‘ جدائی اور وصل کے جذبات سے گزرتی ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ خواتین جبر سے کام نہیں لیتیں بلکہ ملائم اور شگفتہ لہجے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہیں۔ فریدہ عالم فہمی کی شاعری انہی جذبات سے آراستہ ہے۔ یہ ایک کامیاب شاعرہ کے طور پر ہماری صفوں میں جگہ بنا رہی ہیں ان کے خواب ان کے اشعار میں موجود ہیں‘ یہ زمانے کے گرم اور سرد سے واقف ہیں اور دھیمے لہجے میں معاشرتی خرابیوں کو اجاگر کررہی ہیں۔ نصرت یاب نصرت اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ فریدہ عالم فہمی عمدہ‘ نفیس‘ اچھوتے اور نئے موضوعات کو شاعری میں ڈھالنے کے فن پر دسترس رکھتی ہیں‘ ان کے یہاں فصاحت و بلاغت موجود ہے‘ انہوں نے دورِ حاضر کے حالات پر بہت خوب صورتی سے اشعار کہے ہیں۔ یہ بحیثیت انسان انتہائی نفیس طبیعت اور شگفتہ لب و لہجے کی مالک ہیں ان کی شاعری میں استعمال ہونے والی پرکشش الفاظ‘ تراکیب‘ جدت‘ نئی نئی تماثیل اور دھنک کے بہت آئنہ دار ہیں ان کی شاعری کا کینوس ایک خوش کن احساس سے منور ہے۔

حصہ