یہ فرزانے کب رکے ہیں؟۔

297

کہنے کو تو جماعت اسلامی کراچی کے تحت بھارتی ریاستی جبروتشدد کے خلاف اور کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کے لیے’یوم سیاہ ‘‘کے سلسلے میں مسجد بیت المکرم تا حسن اسکوائر مین یونیورسٹی روڈ پر ہونے والی ریلی بھارتی و امریکی ایجنٹوں کی جانب سے دستی بم حملے کی خبر بہت سوں کے لیے سوائے ایک حملے اور کچھ زخمی جسموں کے خون میں لت پٹ ہونے سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن اسی خبر میں بہت سے راز پنہاں ہیں ،عالمی سیاست اور غیر ملکی ایجنٹوں کے آلہ کار دیسی و بدیسی گماشتوں کے چہرے اور ان کی سیاست نگاہوں میں گھوم جاتی ہے۔ پاکستان اور کشمیر دو الگ اکائی کے طور پر دیکھنے والوں کو میڈیا کی بدولت چند سیکنڈز کی ویڈیو ز اور خبروں میں صرف یہ پتہ چلا
ہوگا کہ کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے والی جماعت اسلامی کی کراچی ریلی میں کسی نے دستی بم پھینک دیا اور چند لوگ زخمی ہوئے۔ مگر فرزانوں نے اصل حقیقت تک پہنچنے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کی۔
بدھ پانچ اگست کی شام مسجد بیت المکرم کراچی سے کشمیر کے لیے اظہار یکجہتی منانے کے لیے فرزانوں اور دیوانوں نے بہت پہلے سے تیاری کی ہوئی تھی جوق در جوق عشاق کے قافلے اپنے اپنے علاقوں سے نکل کر حسن اسکوائر کا رخ کر رہے تھے۔ بیت المکرم سے ریلی کا آغاز ہوچکا تھا ، امیر جماعت اسلامی کراچی کی قیادت میں کارکنان اور قائدین سب کا رخ حسن اسکوائر کی جانب تھا مرکزی ٹرک سے ترانے اور اعلانات جاری تھے قائدین ریلی میں سب سے آگے تھے ،شرکا نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے اور پرجوش نعرے لگارہے تھے۔ بیت المکرم مسجد سے کچھ دوری پر جب ریلی پہنچی تو اچانک ریلی کے شرکا پر دستی بم پھینکا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کارکنان اور شرکا ریلی خون میں نہا چکے تھے۔ ہر طرف زخمی تھے اور شرکا تھے۔
کچھ لمحوں کے لیے تو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ کیا ہوا ہے مگر جب کچھ سیکنڈ گزرے تو سجمھ آیا کہ کسی نے شرپسندی کی ہے اور دستی بم پھینکا ہے۔ میڈیا نے فوری طور پر خبریں چلانی شروع کیں ، مگر اس وقت صرف چار پانچ زخمیوں کے بارے میں بتایا جارہا تھا ، مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا آخر وقت میں تعداد تینتیس تک پہنچ چکی تھی جن میں سے تین کارکنان شدید زخمی تھے اور زندگی و موت کی کشمکش سے دوچار تھے ، آج ان میں سے ایک ساتھی رفیق تنولی بھائی نے جام شہادت نوش کرنے کے بعد اپنے رب سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کرلیا ہے۔
اس حوالے سے میڈیا نے جس تیزی سے ریلی پر حملے کی خبر چلائی تھی اسی تیزی کے ساتھ میڈیا ایڈوائز بھی آگئی کہ اس خبر کو ذرا ہلکا رکھنا ہے ظاہر ہے کہ آجکل جہاں سے میڈیا کے لیے ہدایات جاری کی جاتی ہیں وہیں سے یہ ہدایت بھی ملی ہوگی۔فرزانوں دیوانوں مستا نوں اور ایک قرآن ایک نبیؐ کے ماننے والے کب بھلا دھماکوں گولیوں اور سازشی ہتھکنڈوں سے گھبرائے ہیں جو اب گھبراتے۔ قافلہ چلتا رہا ، مجال ہے کہ کسی کارکن کے قدموں میں لغزش آئی ہو کارکن اپنے قائد حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں قدم آگے کی جانب بڑھاتے جارہے تھے اور ایک مثالی نظم و ضبط کا مظہرہ کرتے ہوئے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ ‘ میری تیری آرزو شہادت کے ترانے بھی پڑھتے جاتے کلمہ توحید سے اپنے لبوں کو سراب کرتے جا رہے تھے۔
مجھے یاد آگیا پلٹن میدان ڈھاکہ میں بانی جماعت اسلامی کی تقریر سے پہلے کا حملہ اور لاہور میں جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں مولانا مودودی پر ہونے والی فائرنگ جب اس وقت کے آمر ایوب خان کے گماشتوں نے مولانا مودودی کی آواز کو دبانے کے لیے بھرے جلسے میں حملہ کیا۔
یہ 27 اکتوبر 1963ء کی بات ہے ، لاہور میں جماعت کے کْل پاکستان اجتماع پر سرکاری غنڈوں نے مولانا مودودی پر براہِ راست اندھا دھند فائرنگ کی مولانا مودودی بدستور اسٹیج پر موجود رہے حالانکہ ناظم جلسہ نے مولانا کو بیٹھ جانے کا کہا مگر مولانا کے یادگار سونے سے لکھے جانے والے الفاظ تھے کہ “اگر آج میں بیٹھ گیا تو پھر کون کھڑا رہے گا ” ایک گولی مولانا کی جانب آتی ہوئی جماعت اسلامی کے کارکن اللہ بخش کے سینے میں چھید کرگئی اور اللہ بخش اللہ کو پیارے ہوگئے ، لیکن اس نازک اور جذباتی موقعے پر بھی مولانا نے گولی کا جواب تشدد سے دینے سے منع کردیا۔ اپنے کارکنوں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے پُرامن طریقے سے اپنی جدوجہد پر قائم رہنے کا سبق دیا تھا۔
کل کی ریلی میں حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں قدم آگے بڑھاتے ہوئے مولانا کے وہی الفاظ شدت سے یاد آرہے تھے۔
کل حافظ نعیم الرحمن نے جس طریقے سے کارکنان کو فوری طور پر پُر امن انداز میں کاروا ں کو آگے بڑھنے اور پُر امن رہنے پر آمادہ کیا اور ہمہ وقت زخمیوں کی تیمار گیری دیکھ بھال ، ریلی کو منظم رکھنا کارکنان کو اپنی تمام تر توجہ اصل مقصد پر مرتکز رکھنا کے لیے جس قدر حکمت و دانا ئی کا مظا ہرہ کیا ہے وہ کم از کم آج کی سیا سی قیادت کے بس کی بات نہیں۔
میں حیران ہوں کہ کس طرح حافظ نعیم الرحمن صاحب ریلی کو ازسرنو منظم کر رہے ہیں بلا کا اعتماد ، زخمی کارکنان کو فوری مدد اور ہسپتال پہنچانے کے لیے مستعد ، پھر کارکنان کو اشتعال میں نہ آنے کی تلقین ، ریلی کی دوبارہ تشکیل اور منزل مقصود تک لے جانے کے لیے کوشاں ، ریلی سے فارغ ہوکر جناح ہسپتال ، آغا خان لیاقت نیشنل اور پھر ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس ، جماعت اسلامی کے موقف لائحہ عمل کے اعلان اور پھر رات تین چار بجے تک ہسپتالوں میں زخمی کارکنان کی دیکھ بھال !
اللہ اکبر ! ایسی متحرک، جوان مرد ،حوصلہ مند اور ہوشمند قیادت کراچی نے بہت عرصے کے بعد دیکھی ، اس قحط الرجا ل میں ایسی ہیرے جیسی قیادت کے ماتحت کام کرنے والے جری ، بہادر اور دلیر کیسے نہیں ہوں گے۔
یہ کارکنان سونے میں تولنے کے لائق ہیں کہ ابھی چند رو ز قبل عید الاضحی میں چرم قربانی میں مصروف رہے اور کراچی میں خدمت خلق کے لیے اپنی جانوں کو کھپاتے رہے ، کورونا مہم میں اپنے آپ کو مہینوں مشکل میں رکھا اور غریب و پریشا ن حال افراد کے لیے رات دن مصروف رہے ، کشمیر کے لیے سراج الحق صاحب نے یوم یکجہتی کی کال دی تو یہ دیوانے اپنے امیر کی ہدایت پر لبیک کہتے ہوئے کشمیر ریلی میں نکل آئے۔
رات ہسپتال کے مناظر بھی کم حیران کردینے والے نہیں تھے ، میں جب آغا خان ہسپتال گیا باہر بےشمار کا رکنان اپنے زخمی بھائیوں کی دیکھ بھال کے لیے اور خون عطیہ کرنے کے لیے موجود تھے ، ملاقات کے لیے جب میں ہسپتال پہنچا تو معلوم ہوا نور الحق بھائی داؤد بھائی ( اراکین جماعت اسلامی) رفیق تنولی (شہید) اس وقت وہ آئی سی یو میں تھے۔ شوکت ربانی بھائی اور بہت سے دوسرے ساتھی اندر داخل ہیں ، ایک بچے سے ملنے کی جستجو تھی جو آج پہلی مرتبہ ریلی میں آیا تھا فیروز نام تھا نشتر بستی سے تعلق ہے ، معلوم کرتے کرتے جب الٹرا ساونڈ سیکشن میں پہنچا تب اس بچے سے ملاقات ہوئی ، چہرے پر اطمینان جسم میں چار لوہے کے ٹکرے مگر لبوں پر مسکراہٹ ، اللہ اکبر میں اس بچے کے تبسم کو کیسے بھول سکتا ہوں ؟
اسی کوریڈور میں نور الحق بھائی سے ملاقات ہوئی ان کے دونوں بچے تیمار داری کے لیے ان کے ساتھ ہی تھے ، میں نے پہچان کر نور الحق بھائی کو مخاطب کیا ، خون اس وقت بھی نہیں رکا تھا ، مگر ان کے چہرے کو مطمئن دیکھ کر میں مزید حیرانی کے سمندر میں ڈوب گیا ، مجھے عبدالواحد بلیدی بھائی سے ملنا تھا ، مگر ملاقات کی اجازت نہ تھی وہ شدید زخمی تھے ان کے بچے نے بھی زخم کھائے باپ اور بیٹا دونوں زخمی ہیں ، اس چھوٹے سے بچے کی وڈیو وائرل ہوچکی ہے ، اس بچے کے حوصلے نے بہت سوں کو رلا دیا ، اللہ کرے عبدالواحد بلیدی جلد صحتیاب ہوجائیں ان کے سر میں لوہے کے ٹکرے پوسٹ ہیں ایک آپریشن ہوچکا ہے ،سوچ رہا ہوں کہ کیا واقعی یہ کسی لبریشن آرمی نامی خفیہ تنظیم کا حملہ تھا جیسا کہ میڈیا میں روپورٹ کیا گیا ، بیروت میں بھی کیا کسی پٹاخے بنے والی فیکٹری میں ہی دھماکہ ہوا جس نے 9۔11۔ جیسی تباہی پھیلا ئی ؟ کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ رپو رٹ کیا جارہا ہے ؟اور کیا کسی دہشت گرد تنظیم کے اعلان اور ذمہ داری قبول کرلینے سے ریاست اور ایجنسیز کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے ؟
کراچی شہر جو اب قدرے امن میں آچکا ہے اچانک یوں دن کی روشنی میں بھرے جلوس میں موٹر سائکل پر آکر دھماکہ کرنا اور بھاگ جانا اتنا آسان ہے ؟ جبکہ دائیں بائیں پولیس اور دیگر ایجنسیز کے لوگ بھی موجود تھے ؟
پھر یہ بھی سوچتا ہوں کہ را کے ایجنٹ کشمیر کے حوالے سے ہر جدوجہد اور آزادی کی آواز کو دبانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
اور اگر ہما رے حکمران ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرکے دنیا کو اپنا بند منہ دکھا سکتے ہیں تو دشمن نہتے کارکنان پر حملہ کرکے جواب دینے کی جسارت کر سکتا ہے۔ اگر ہم کشمیر کی آزادی گانے اور نغمہ لاونج کرکے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو دشمن گانے بجانے میں ہم سے زیادہ تجربہ کار ہے۔
ہمارے حکمرانوں نے کلبھوشن یادیو کو مزید رعایتی پیکجز دینے کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ، دیکھتے ہیں عدالت ان کے لیے کیا آسانی فراہم کرتی ہے ؟
اس دہشت گردی کے باوجود کامیابی کے ساتھ ریلی کا جاری رہنا ہی بھارتی ایجنٹوں کا طاقتور جواب ہے۔حافظ نعیم صاحب کی یہ باتیں کیسےنظر انداز کی جاسکتی ہیں کہ کشمیر میں بھارتی ریاستی جبروتشدد کے خلاف جماعت اسلامی کی ریلی پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے۔وزیر اعظم ،آرمی چیف سے سوال تو بنتا ہے کہ بھارت کے ایجنٹ کس طرح کھلے عام گھوم رہے ہیں ؟
ا مریکی و بھارتی مقامی ایجنٹوں کی بزدلانہ کارروائیوں سے عوام کے حوصلے پست نہ کیے جاسکتے اور نہ ہی ہوں گے۔
کیا اس سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ حکومت ریلی کا تحفظ نہ کرسکی ،سیکورٹی کی ذمے داری حکومت کی نہیں تھی تو پھر کس کی تھی ؟
حملہ کرنے والوں کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ جماعت اسلامی ایک تحریک اور جدوجہد کا نام ہے جو کراچی سے لے کر آزاد کشمیر اور سری نگر تک جاری ہے ،کشمیر کی جدوجہد آزادی میں ہماراخون بھی شامل ہوگیا ہے ،یہ راستہ شہادت اور جدوجہد کا راستہ ہے ان فرزانوں دیوانوں نبیؐ کے مانے والوں نے امریکی وبھارتی ایجنٹوں کا مقابلہ ماضی میں بھی کیا تھا اور آئندہ بھی کریں گے ،شہادت ہماری آرزو ہے،کشمیر کی جدوجہد آزادی کی حمایت اور پشتیبانی جاری رہے گی۔ کشمیر کی آزادی کا واحد حل جہاد ہے، پاکستان کے پرانے نقشے کو بحال کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، نقشے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ موجودہ کشمیر بھی بزور شمشیر ہی آزاد ہوا تھا اور مقبوضہ کشمیر بھی جذبہ جہاد سے ہی آزاد ہوگا۔

حصہ