پہاڑوں کے بیٹے

86

(بیسویں قسط)
روس چاہتا تھا کہ ایک معاہدے کے تحت اس کی فوجوں کی واپسی ہو اور نجیب حکومت کی سلامتی کی ضمانت دی جائے۔ دوسری طرف امریکا بھی اس بات کے حق میں نہ تھا کہ نجیب کی حکومت فوری طور پر برطرف ہو جائے اور اس کے بجائے مجاہدین کی اسلامی حکومت برسراقتدار آجائے۔
سابق صدر نکسن پہلے ہی ’’اسلام‘‘ کو بنیادی مسئلہ قرار دے کر امریکی حکومت کو دہشت زدہ کرچکے تھے۔ امریکا سمجھتا تھا کہ علاقے میں ایک خالص اسلامی حکومت وجود میں آگئی تو اس کو خلیج میں مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس زمانے میں پاکستانی حکومت کی زمامِ کار محمد خان جونیجو کے ہاتھ میں آگئی تھی۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ روسی افواج کے انخلا کا کام ان کے دورِ حکومت میں امریکی مرضی اور خواہش کے مطابق انجام پائے، لہٰذا انہوں نے روسی افواج کے انخلاء کے ساتھ ساتھ امریکی خواہش کے مطابق نجیب کی حکومت کی حمایت میں مجاہدین کی امداد بند کرنے کا عندیہ ظاہر کیا۔ اُس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم جونیجو کو سمجھانا چاہا لیکن جونیجو نے امریکی خواہش پر سرِ تسلیم خم کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
دوسری طرف ضیا الحق نے مستحکم ارادہ کرلیا تھا کہ مجاہدین کی قربانیوں کو امریکی خواہش کی بھینٹ نہیں چڑھایا جائے گا۔ اگرچہ اس فیصلے کے نتیجے میں انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے لیکن بہرحال 15 فروری 1988ء کو ساری دنیا کے ریڈیو اور ٹی وی یہ اعلان کررہے تھے کہ ’’یہ روس کا آخری فوجی ہے جو افغان سرحد سے نکل رہا ہے۔‘‘
روسی فوج کے سربراہ نے اعلان کیا کہ روس آئندہ افغانستان یا کسی بھی ملک میں اپنی افواج بھیجنے کی غلطی نہیں دہرائے گا۔ اگرچہ جنیوا معاہدے کے تحت روسی افواج افغانستان سے نکل گئیں لیکن یہ معاہدہ ’’معاہدۂ امن‘‘ نہ تھا بلکہ قتل و غارت گری پھیلانے والا معاہدہ تھا جس کے تحت روسی افواج کی واپسی تو طے پائی لیکن ساتھ ہی دونوں بڑی طاقتوں میں افغانستان کو اسلحہ کی فراہمی مستقل بنیادوں پر فراہم کرنا طے پایا، جس کا سیدھا سادا مطلب یہ تھا کہ اب روسی اور امریکی اسلحہ افغانوں کی آپس کی لڑائی میں استعمال ہوگا اور کٹنے والے روسی نہیں افغانی ہوں گے۔
…٭…
مہروز، افروز اور بلال کیمپ میں خاصے مصروف رہتے تھے۔ ہفتے میں چار دن وہ لوگ مزدوری کرتے اور باقی دن کیمپ کے مختلف کاموں میں مصروف رہتے۔ افروز کمپونڈری کا کام سیکھ گیا تھا، لہٰذا ڈاکٹروں کے ساتھ کلینک میں مصروف رہتا۔ مہروز اُن خیموں تک پانی پہنچاتا جن کے لوگ معذوری، کمزوری یا ضعیفی کے باعث پانی بھر بھر کر نہیں لا سکتے تھے۔ اور بلال تو شروع سے تربیتی کیمپ کا رکن تھا جہاں لڑکوں اور جوانوں کو جسمانی ورزشیں اور مجاہدانہ کھیل سکھائے جاتے تھے۔
بلال کا بیٹا اور زبیر کا پوتا ’’مجاہد‘‘ تھا۔ صبح ورزشی کیمپ جاتے ہوئے باپ کے ساتھ لٹک جاتا۔ ننھا مجاہد باپ کے حکم کے مطابق کیمپ میں ایک طرف بیٹھ جاتا اور لڑکوں کو مختلف ورزشیں اور تربیت پاتے ہوئے دیکھتا رہتا۔
یہ مستقبل کا مجاہد تھا، جس کو وراثت میں جہاد اور گھٹی میں شہادت کا شوق ملا تھا۔ فاطمہ کی گود میں ننھی زرتاشہ تھی۔ دادی اور نانی کی لاڈلی، سارا دن گھر میں شرارتیں کرتی پھرتی۔ کبھی جب اپنے قد سے بڑی جھاڑو اٹھا کر صحن کی صفائی کرنے کا کام کرتی تو فاطمہ کو اپنا بچپن یاد آجاتا۔
’’ارے زرتاشہ جھاڑو رکھ دے، تُو تو سارا کوڑا پھیلا رہی ہے اور دھول اُڑ رہی ہے۔‘‘ زینب پوتی پر چیختی۔
پلوشہ کی گود میں ہلال کی نشانی ’’سیف الاسلام‘‘ کی شکل میں آچکی تھی۔ ماں کی طرح سرخ و سفید اور باپ کے تیکھے نقوش والا سیف الاسلام سارے گھر کی جان تھا۔
فاطمہ نے بچوں کے شوق کو دیکھتے ہوئے دیسی مرغی کے چوزے پال لیے تھے، خاص طور سے خریدتے ہوئے رنگوں کا دھیان رکھا تھا ’’سرخ اور سیاہ‘‘۔
بلال اس کے بچپنے پر خوب ہنستا تھا۔ ’’فاطمہ تیرا دل ابھی بھی انہی سرخ اور سیاہ چوزوں میں اٹکا ہوا ہے۔‘‘
’’نہیں لالہ یہ بات نہیں۔ بس مجھے اچھے لگتے ہیں، پھر دیکھیے بچے بھی کتنے خوش رہتے ہیں۔‘‘ اس نے چوزوں کے پیچھے بھاگتے بچوں کی طرف اشارہ کیا۔
’’ہوں…!‘‘ بلال نے اثبات میں سر ہلایا۔
اسی لمحے اس کے دل نے ہلال کو یاد کیا۔ پتا نہیں اس یاد میں کیسی دل سوزی تھی کہ چند ہفتے بعد ہی ہلال چھٹی لے کر کیمپ آگیا۔
ہلال نے جس وقت میدانِ جہاد میں قدم رکھا تھا، یہ وقت روسی اقتدار کا آخری زمانہ تھا۔ لہٰذا ہلال کو صرف چند معرکوں ہی میں روسیوں سے مقابلے کا موقع ملا اور وہ کچھ ہی ماہ کے بعد اپنے کمانڈر سے اجازت لے کر مہاجر کیمپ میں اپنی ماں اور بیوی کے پاس آگیا۔ ابراہیم خان کا انتقال ہوچکا تھا۔ پلوشہ کی گود میں اپنے بیٹے کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔ زینب نے اس کا نام ’’سیف الاسلام‘‘ رکھا تھا۔
’’ماں اب تو جنگ ختم ہونے کو ہے، ہمارا ملک آزاد ہوگیا ہے، اب یہاں اسلام کی حکومت قائم ہونے والی ہے، ان شاء اللہ۔‘‘
ہلال نے اپنے ننھے سے معصوم بیٹے کو گود میں اٹھایا اور اس کے بھورے گھنگریالے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔
’’ہاں میرے بیٹے! روسی فوجیں واپس جارہی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھنا کہ جہاد ختم ہوگیا، ابھی اسلامی حکومت کے قیام کی راہ میں کس قدر دشواریاں ہوں گی، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ میرے خاندان کی یہ تیسری نسل ہے جو اسلام کی تلوار بن کر دشمنانِ اسلام کے سر پر لہرائے گی۔‘‘
کچھ ہی دنوں میں زینب کے خدشات کی تصدیق ہوگئی جب امریکا نے پاکستان کو مجاہدین کی امداد سے روکنے کی کوششیں شروع کردیں۔ وہی مغربی ذرائع ابلاغ، اخبارات اور رسائل جو دن رات مجاہدین کے نام کی مالا جپتے تھے اور انہیں نامور جنگی ہیرو کے خطاب سے نوازتے تھے، اب ان کے خلاف ہوگئے تھے۔
مجاہدین کی امداد بند کردی گئی اور ساتھ ہی پاکستان میں موجود اسلحہ کے بڑے ڈپو ’’اوجڑی کیمپ‘‘ اور نوشہرہ کے اسلحہ خانے کو تباہ کردیا گیا تاکہ مجاہدین کو اسلحہ کی ترسیل ختم کی جاسکے۔
امریکا نجیب کی حکومت قائم رکھنا چاہتا تھا تاکہ اس سے اپنی مرضی کے کام لے سکے۔ اس کا خیال تھا کہ اگر افغانستان میں اسلام پسندوں کی حکومت قائم ہوگئی تو یہ اس کی دسترس سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گا اور ساتھ ہی تیل سے مالامال خلیج پر بھی اس کے اثرات پڑیں گے۔
اگرچہ نجیب کی حکومت برقرار رکھنے میں امریکا مکمل طور پر کامیاب نہ ہوسکا، لیکن پھر بھی وہ ایک عرصے تک موجود رہی، لیکن بعد میں مجاہدین کو بھی حکومت قائم نہ کرنے دی گئی۔
امریکا نے ہر صورت میں مجاہدین کی حکومت قائم ہونے سے روکنے کا فیصلہ کررکھا تھا۔ ضیا الحق کی شہادت اسی سلسلے کی کوششوں کا ایک حصہ تھی۔
حالات نے ثابت کردیا تھا کہ امریکا ایک نہایت بے اعتبار، خودغرض، بے مروت اور دوستوں کو قربان کردینے والا ملک ہے۔ اس کے نزدیک اپنے مفادات دنیا کے ہر اصول اور اخلاقی ضابطوں سے بالاتر ہیں۔ اب اگر دنیا میں کوئی اس پر اعتبار کرے تو یا تو وہ نہایت احمق ہے یا نہایت ہی بددیانت، جسے اپنے ذاتی مفادات سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں۔
امریکا کو دوست ناپسند ہیں، اس کے مقابلے میں وہ ایسے کندھوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے لیے مزدوری کریں، اور اگر اس کے لیے انہیں اپنے ملک اور قوم کے مفادات کی قربانی دینی پڑے تو بخوشی راضی ہوجائیں۔ لیکن ایسے لوگوں کی اہمیت بھی امریکا کے نزدیک صرف اُس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس کے لیے منافع بخش ثابت ہوں، بصورتِ دیگر وہ ان کو ٹھکانے لگانے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کرتا۔
روسی فوج سے دس سالہ طویل جنگ کے بعد زخموں سے نڈھال افغانستان میں 30 دسمبر 1989ء کی صبح آزادی کا سورج لے کر طلوع ہوئی۔
افغانستان کے شہر اور قصبے سب کے سب تباہی و بربادی کا منظر پیش کررہے تھے، لیکن وہاں کے مکین پھر بھی خوش اور ایک سپر پاور کے خلاف اپنی فتح پر نازاں تھے، لیکن افسوس کہ جہادی راہنما متحد ہو کر افغانستان میں اپنی حکومت قائم کرنے میں ناکام رہے۔ راشی اور مجرم گروہوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور لوٹ مار کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ کوئی شاہراہ ان سے محفوظ نہ رہ سکی۔
جب حالات حد سے زیادہ بے قابو ہوگئے تو قندھار سے کچھ صالح افراد نے حالات کو سدھارنے کا ارادہ کیا۔ یہ ابتدا میں صرف تیس تھے لیکن ایمان اوریقین کی قوت کے ذریعے انہوں نے پہلے پورے قندھار پر اپنا قبضہ مستحکم کیا اور پھر وہاں ظلم کا خاتمہ کیا اور اسلامی قوانین نافذ کیے۔
یہ اسلامی قوانین کی برکت تھی کہ وہ جس طرف کا رُخ کرتے وہاں کے باشندے ان کے ساتھ ہوجاتے اور 1994ء تک پورے افغانستان کے نوّے فیصد علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہوچکا تھا۔
پوری دنیا ان کے معاملے میں انتہائی تجسس کا شکار تھی۔ خانہ جنگی کا شکار افغانستان امن و آشتی کا گہوارہ بن گیا۔ اسلامی قوانین کے نفاذ کے باعث جرائم کا خاتمہ ہوگیا۔ انصاف سب کے لیے تھا، اس میں کسی قسم کی مصلحت پسندی نہیں تھی۔ وہ قوم جو ہتھیار کو اپنا زیور سمجھتی تھی، اب امیر کے حکم کی اطاعت میں انہوں نے اپنے اسلحہ جمع کرا دیے اور افغان قوم ڈھائی ہزار سالہ تاریخ میں پہلی بار غیر مسلح ہوگئی۔
امیر نے حکم دیا کہ ’’اب ملک میں افیون، چرس اور ہیروئن کا کاروبار نہیں ہوگا‘‘، تو وہ کام جو برسوں کی محنت و مشقت اور کروڑوں ڈالر کے خرچ کے باوجود کوئی نہ کرا پایا تھا، محض ایک ہفتے کے اندر اندر ہوگیا۔ طالبان کی حکومت نے کسی قسم کی غیر ملکی امداد کے بغیر پل اور سڑکیں بھی تعمیر کیں اور ڈیم بھی بنائے۔ یہ طالبان کا وہ دور تھا کہ جب افغانستان میں امن بھی تھا اور انصاف بھی۔ لیکن ایسا افغانستان امریکا کو مطلوب نہ تھا۔ لہٰذا بیرونی ذرائع ابلاغ نے کبھی خواتین کی تعلیم اور برقع کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کبھی بت شکنی اور عیسائی مبلغین کے نام پر طالبان کو انتہا پسند قرار دیا اور انسانیت کا دشمن قرار دے کر ان پر پابندیاں عائد کیں۔

حصہ