عنبرین حسیب کا شعری مجموعہ ’’تم بھی ناں‘‘ محسوسات‘ کیفیت و تجربات کا آئنہ دار ہے‘ سحرانصاری

86

ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر سے میری پہلی ملاقات 2007ء میں اختر سعیدی کے توسط ہوئی تھی جب وہ میرے نعتیہ مجموعہ نورالہدیٰ محمدؐ کی تقریب اجرا میں نظامت کار تھیں‘ تاہم وہ کئی مرتبہ میرے غریب خانے پر ہونے والے مشاعروں میں شریک ہوتی رہی ہیں انہوں نے میرے بہاریہ مجموعہ کلام آئنوں کے درمیان کی تقریب اجرا کا اہتمام کیا میں ان کا شکر گزار ہوں۔ 22 مئی 2020ء کو شاعر علی شاعر نے مجھے عنبرین حسیب عنبر کا مجموعہ کلام ’’تم بھی ناں‘‘ عنایت کیا میں اس سلسلے میں شاعر علی شاعر کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں نے عنبرین کا شعری مجموعہ پڑھا۔ میرا دل چاہا کہ میں اپنے کالم میں اس پر بات کروں۔ 222 صفحات پر مشتمل یہ کتاب لوح پبلی کیشنز نے شائع کی ہے جس کی قیمت 600 روپے ہے۔ عنبرین نے اپنی کتاب کا انتساب اپنی والدہ ڈاکٹر خیرالنساء کے نام کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک نعت رسولؐ اور ایک سلامِ امام حسینؓ کے علاوہ 91 غزلیں شامل ہیںجب کہ زیر تبصرہ شعری مجموعے کے آخری صفحات پر حنیف اسعدی‘ سرشار صدیقی‘ شہزاد احمد‘ شبنم شکیل‘ زہرہ نگاہ‘ افتخار عارف‘ اسد محمد خان‘ ڈاکٹر شمیم حنفی‘ ڈاکٹر سلیم اختر‘ ڈاکٹر انور سدید‘ آفتاب اقبال شمیم‘ سید مظہر جمیل‘ محمود شام‘ ڈاکٹر اسلم انصاری‘ ڈاکٹر تحسین فراقی‘ ڈاکٹر رشید امجد‘ رضی مجتبیٰ‘ ڈاکٹر یونس جاوید‘ سلیم یزدانی‘ باقر نقوی‘ انور شعور‘ اصغر ندیم سید‘ یاسمین حید‘ سلیم کوثر‘ احفاظ الرحمن‘ ڈاکٹر سید جعفر احمد‘ مبین مرزا‘ ڈاکٹر رئوف پاریکھ‘ محمد حمید شاہد‘ ڈاکٹر ضیا الحسن‘ امجد طفیل‘ ڈاکٹر ناصر عباس نیر‘ حمیرا رحمن‘ خالد معین اور محمد اسلام کے مختصر تبصرے موجود ہیں۔ پروفیسر سحر انصاری نے ’’سکوت کی آواز‘‘ کے عنوان کے تحت اپنی بیٹی کی شاعرانہ صلاحیتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر اپنی تخلیقی کاوشوں اور شعور و آگہی کا سفر طے کرتے ہوئے اب اپنی ایک پہچان بنا چکی ہیں۔ ان کی شاعری کاغذ پر بھی اتنی ہی پسندیدہ ہے جتنی مشاعروں میں پسند کی جاتی ہے۔ وہ اپنی شاعری میں روحِ عصر اور موجودہ دنیا کے ان موضوعات پر توجہ دیتی ہیں جو دوسروں کی زندگی میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ میانہ روی‘ شائستگی اور ایک خاص رکھ رکھائو کے تناظر میں ادبی دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چل رہی ہیں۔ عنبرین کی شاعری کا ایک حصہ تو وہی ہے جو انسان کے ذاتی جذبات و محسوسات اور تجربات سے متعلق ہوتا ہے دوسرا ان کا ایک آئیڈیل ان کے ذہن میں ہے جہاں انسان کی عظمت و تکریم کو سر فہرست رکھ کر معاشرے کو ناانصافی‘ بھوک‘ افلاس‘ دہشت گردی‘ تعصبات اور جہالت سے نجات دلائی جائے۔ اس طرزِ احساس نے عنبرین کی شاعری میں جذبے اور شعور کے ساتھ ساتھ فکری گہرائی بھی پیدا کر دی ہے وہ آئیڈیالوجی کی شاعرہ ہیں اسٹریجی (حکمت عملی) کی نہیں۔ راقم الحروف نثار احمد کے نزدیک یہ کتاب اردو زبان و ادب کے چاہنے والوں کے لیے ایک اچھا تحفہ ہے اس میں زندگی کے مسائل و معاملات‘ ذاتی تجربات و مشاہدات پر بات کی گئی ہے اشعار کی بُنت اچھی مضبوط ہے عنبرین نے اپنے مطالعے‘ شعور و فکر و آگہی اور دنیا کے سیر و سفر سے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے وہ شاعری کی شکل میں ’’تم بھی ناں‘‘ میں نظر آرہا ہے۔ عنبرین حسیب عنبر کو‘ فن شعری اور زبان و بیان پر گرفت حاصل ہے ان کے اشعار میں جدید لب و لہجہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے نسائی مسائل پر بھی بات کی ہے وہ کہتی ہیں کہ زمانہ اتنا ایڈوانس ہو گیا ہے کہ اب خواتین کو نظر انداز کرنے میں معاشی اور سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ دورِ حاضر کی خواتین نے تمام دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔ عنبرین حسیب عنبر کا تعلق ایک پڑھے لکھے مہذب خاندان سے ہے شاعری انہیں وراثت میں ملی ہے۔ شاعری کے علاوہ بھی وہ تنقید‘ تحقیق‘ ادبی سماجیات سے جڑی ہوئی ہیں۔ ’’دل کے اُفق پر‘‘ ان کا پہلا شعری مجموعہ تھا جو کہ 2012ء میں شائع ہوا تھا اب سات برس کے بعد یہ دوسرا مجموعہ ہے ان کے پہلے مجموعہ کو بے حد پزیرائی ملی ہے۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا مقالہ انجمن ترقی اردو پاکستان سے کتابی شکل میں شائع ہوا ہے اس مقالے کے موضوع ہے اردو ادب میں ترقی پسند تنقید کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ۔ ان کے تنقیدی مضامین کی کتاب ’’عصری ادب کے رجحانات‘‘ نے بھی لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ اس وقت جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے وہاں وہاں عنبرین کو عزت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عنبرین حسیب عنبر میں ایک فطری عورت کا اظہار موجود ہے وہ جانتی ہیں کہ شاعری میں عورت کی زبان کیا ہونی چاہیے۔ انہوں نے عورتوں کے عمومی مسائل کے ساتھ ساتھ مردوں کو یہ بتایا ہے کہ اب عورت ہر موضوع پر آپ سے مکالمہ کرسکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھتی ہیں جہاں ان کی بیٹی اور بیٹے اپنے اپنے جائز حقوق کے ساتھ خوش رہ سکیں۔ وہ اس وقت چیئرپرسن ادبی کمیٹی (شعر و سخن) آرٹس کونسل کراچی ہیں اس حوالے سے بھی اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے کام کر رہی ہیں۔ وہ کامیاب ٹی وی اینکر کے علاوہ بہترین نظامت کار بھی ہیں۔ ان کے تین بچے ہیں ان کے شوہر سید حسیب احمد زندگی کے ہر قدم پر عنبرین کے ساتھ ہیں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید خوشیاں نصیب فرمائے۔

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو‘ تم بھی ناں
مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو‘ تم بھی ناں
ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں
مجھ میں ایسے آن بسے ہو‘ تم بھی ناں
دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے
جیسے پہلی بار ملے ہو‘ تم بھی ناں
میری بند آنکھیں بھی تم پڑھ لیتے ہو
مجھ کو اتنا جان چکے ہو‘ تم بھی ناں
مانگ رہے ہیں رخصت مجھ سے اور خود ہی
ہاتھ میں ہاتھ لیے بیٹھے ہو‘ تم بھی ناں
٭
مشکل سے خود کو منوانا پڑتا ہے
ہم کیا ہیں دنیا کو بتانا پڑتا ہے
سچ کہنے آ جاتا ہے سقراط کوئی
اور پھر اُس کو زہر پلانا پڑتا ہے
سورج کا رستہ تکنے سے کیا ہو گا
اندھیاروں میں دیپ جلانا پڑتا ہے
اک دنیا اطراف میں ہوتی ہے‘ لیکن
اپنا بوجھ تو آپ اٹھانا پڑتا ہے
جانے والے یوں ہی لوٹ نہیں جاتے
رستے میں پلکوں کو بچھنا پڑتا ہے

اس شعری مجموعے میں ایک بھی نظم شامل نہیں ہے جب کہ عنبرین تو نظم بھی بہت عمدہ کہتی ہیں۔ اس سوال کا جواب مجھے کتاب میں مل گیا عنبرین نے لکھا ہے کہ ان کی نظموں کی تعداد اتنی ہے کہ وہ کچھ عرصے کے بعد ایک اور کتاب نظم کے لیے ترتیب دیں گی وہ غزلوں سے بننے والی فضا کو ایک مخصوص رنگ دینا چاہتی تھیں اس لیے انہوں نے اس کتاب میں کوئی نظم شامل نہیں کی۔ عنبرین کا پہلا مجموعہ بھی میں پڑھا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان کی والدہ ان کی پہلی استاد ہیں جب انہوں نے کالج میں داخلہ لیا اور وہاں بھی شاعری کے جوہر دکھائے اس وقت انہوں نے اپنے والد سحر انصاری سے اصلاح لی۔ ان کے گھر میں علمی و ادبی ماحول تھا جس نے ان پر خصوصی اثرات مرتب کیے ان کا کہنا ہے کہ شاعر محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ جذبات کی تہذیب‘ شاعری ہے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی ان کی والدہ نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی جب کہ کتابوں سے ان کی دلچسپی کے سبب ان کے والد نے بھی اپنی لائبریری میںجانے کی اجازت دی۔ عنبرین وسیع المطالعہ شخصیت ہیں ان کے بڑے بیٹے وجاہت کو مصوری اور تقریر کا شوق ہے ‘ منجھلے بیٹے جودت کو نعت خوانی اور نظامت سے لگائو ہے۔ جب کہ ان کی بیٹی زیرک کو آرٹ اور شاعری سے نسبت ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ڈھیروں خوشیاں نصیب فرمائے‘ آمین۔

غزل کے جدید خدوخال بڑی اہمیت کے حامل ہیں‘ سلیمان صدیقی

غزل کا مستقبل اردو زبان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے‘ بلکہ یہ سمجھنا بے جانا نہ ہوگا کہ غزل کی شاعری اور اردو کا ارتقائی سفر دو ’’عشاق کے پہلو بہ پہلو چلنے کا سفر‘‘ لفظ جدت‘ تازگی اور نئے پن سے عبارت ہے۔ جیسے جیسے اردو زبان اپنے دامن کو نئے الفاظ‘ نئی تشبیہات‘ تازہ محاورات اور بیان کے نئے اطوار سے وسیع کر رہی ہے‘ اسی طرح جدید غزل کے خدوخال بھی‘ تیزی سے سکڑتی اور تبدیل ہو تی ہوئی دنیا کی سماجی‘ معاشرتی اور تہذیبی اقدار کی نئی صورت گری کے تناظر میں واضح ہو رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ غزل کے اشعار مضامین کو اختصار سے بیان کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں اور اختصار پسندی تیزی سے فروغ پاتا ہوا ایک عالمی رویہ۔ یہ بھی واضح ہے کہ ہر تخلیق اپنے سماج کی حدود میں رہ کر اظہار خیال کرتی ہے مگر اس سماج کی وسعت کا تعین تخلیق کار کے فہم و ادراک کی سطح کے بلند و پست اور وسیع و محدود ہونے پر ہے۔ ایک شخص کھڑکی میں لگی لوہے کی Grill کے ڈیزائن پر غور کرتا ہے جب کہ دوسرا شخص اسی کھڑکی سے باہر تاحد نظر پھیلے منظر اور رواں زندگی میں امکانات کے نئے زاویے تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ گویا تخلیقی اڑان ہر تخلیق کار کی مختلف ہوتی ہے۔ غزل کی کلاسیکی روایت کا سفر ایک طویل دورانیہ رکھتا ہے اور اس روایت میں قابل ذکر تبدیلی بڑی آہستگی کے ساتھ غیر محسوس انداز میں وقوع پزیر ہو رہی ہے۔ کسی معاشعرے میں سماجی اور تہذیبی تبدیلی‘ تخلیقی اظہار میں تبدیلی سے عبارت ہے۔ فرد کا انفرادی شعور سماج کے اجتماعی شعور پر اثر انداز ہوتا ہے مگر اس تبدیلی کی بنیاد فراہم کرنے کے لیے تخلیق کار کا طاقتور علمی اور دانشورانہ پس منظر سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ تبدیلی کے عوامل کے ادراک اور اس کی مابعد اثر پزیری کو سمجھنے والی بالغ نظر کا حامل ہونا ضروری ہے۔ تخلیق کاروں کا ایسا ہی مستقبل پرست گروہ اپنے عہد کی رائج الوقت اور اذکار رفتہ روایتوں سے انحراف کی راہ نکالتا ہے جو اگرچہ فوری طور پر لائق اعتنا اور قابل تقلید نہیں گردانی جاتی مگر بعد میں آنے والے عہد میں نظریۂ ضرورت کے تحت منطقی طور پر درست سمجھنے والی اکثریت کے لیے وہی انحراف تازہ کاری کا حوالہ بن جاتا ہے۔ گویا تاریکی سے مایوس ہونے سے بہتر ہے کہ اپنے حصے کی شمع جلا دی جائے۔ اردو شاعری کا منظر نامہ اب بھی پوری طرح تبدیل نہیں ہوا ہے مگر صورت حال کچھ بدلی بدلی ضرور نظر آرہی ہے۔ غزل کی صنف میں بھی کہیں کہیںچنگاری کی صورت میں یا ایک جھماکے کی طرح ایک غیر واضح تغیر پزیر اور نامانوس لہجہ اچانک اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگا ہے یہی جدید تر غزل کی صوررت گری کا اشاریہ ہے۔گو ابھی اس تبدیلی نے کوئی قابل فہم شکل و صورت اختیار نہیں کی ہے مگر توقع کی جا سکتی ہے کہ جلد یا بدیر غزل نئی لفظیات اور تازہ امیجری کے ساتھ اپنی ایک نئی پہچان کے ساتھ سامنے آئے گی۔ غزل کی کلاسیکی روایت میں کسی حد تک تبدیلی کا پہلا اشاریہ ہمیں یگانہ کی شاعری سے ملتا ہے جس نے ارتقائی منازل طے تو کیں مگر اس صنف میں کوئی بہت غیر معمولی تبدیلی وقوع پزیر نہیں ہو سکی اور گمان غالب ہے کہ ابھی کم و بیش اگلی صدی تک بھی لکھی جانے والی غزلوں کی روایت کو غیر محسوس سہارے کی ضرورت ہوگی اور غزل کی کلاسیکی روایت آنے والی جدید تر غزل کے عہد میں بھی مخفی قوت کے طور پر سفر میں اس کی معاون رہے گی۔ مگر تبدیلی بہرحال ناگزیر ہے کہ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘ مگر محل نظر رہے کہ جدید غزل کے ارتقا اور اس کے نئی شکل و صورت اختیار کرنے کے سفر میں راستے کے پتھر کے طور پر قاری کے غزل کی کلاسیکی روایت سے ذہنی ہم آہنگی اور ثقافتی طور پر مانوسیت کے بت کو توڑنا بھی ضروری ہوگا اور اس کے لیے نہ صرف یہ کہ اسے زیادہ فکر انگیز اور تبدیل شدہ سماجی زندگی کے مسائل کو موضوع بنا کر قاری کی دلچسپی کو برقرار رکھنا ہوگا بلکہ گزشتہ سے پیوستہ جمالیاتی اور ثقافتی اقدار کو بھی عام آدمی کے تجربے میں آنے والی نئی دنیا کی معاشرتی اور سماجی تبدیلیوں کے تناظر میں جمود سے آزاد کرنا ہوگا۔ا گر وسیع النظر اور خلاق ذہن ادیب معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں تو یہ طے ہے کہ ان کی تازہ کاری ہی قوم کو بلندی کی طرف لے جاتی ہے اور ان کی قنوطیت اور طرزِ کہن پر اڑے رہنے کی روش ان کی قوم کو کنویںسے باہر نہیں نکلنے دیتی۔ اختصار پسندی اور Minimigation کے فروغ پانے والے عالمی رجحان کے تناظر میں مختصر مگر کثیر الجہت Multidimensional بیانیے کی پزیرائی کے اس عہد میں غزل کی مقبولیت کے امکانات ہمیشہ سے زیادہ ہیں۔ غزل کا شعر مستقبل میں وقت کی قلت کے بڑھتے ہوئے احساس اور کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ علم بیان کرنے اور حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف شاعرانہ شغف رکھنے والے انسان کے ادبی ذوق کی تسکین کا واحد ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جدید غزل کی خصوصیات میں جو چار عوامل اہم کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں ان میں تفکر‘ حقیقت پسندی‘ اظہارِ ذات اور تعلق داری شامل ہیں۔ شعر کی ساخت میں حسن تعمیر اور مصرعوں کے درمیان تازہ کا حامل غیر روایتی جمالیاتی ربط اس کی اثر پزیری میں حصے دار ہوگا۔ شعر کی تفہیم کے زاویے بہت سست رفتاری سے سہی مگر تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایک بالکل سرسری سطح کا فہم سخن رکھنے والا عام قاری بھی شعر میں علم و آگہی کی موجودگی کو اہم سمجھنے پر مائل نظر آتا ہے اس حوالے سے وہ وقت دور نہیں جب کسی شاعر کی غزل میں شامل فکر و فہم کے عنصر سے عاری شعر کو ناقابل تحسین قرار دینے والے اکثریت میں ہوں گے۔اردو ادب کی اہم تخلیق کار اور اہل علم قاری بھی اردو شاعری اور خصوصاً غزل کے سطحی نوعیت تک محدود رہنے اور اس میں جدید عصری رجحانات کی شمولیت کے حوالے سے خالص علمی اور نظریاتی مباحث کے فقدان کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں اس پس منظر میں تنقید کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کسی نے افسانے کے حوالے سے لکھا کہ ادب کے ارتقا میں تنقید کا کردار بنیادی ہے اور افسانے کا ارتقا اس لیے بھی سست ہے کہ اردو افسانہ ابھی اپنے نقاد کی تلاش میں ہے۔ غزل بھی بڑے تنقیدی مباحث سے محروم رہی۔ غزل پر ہونے والی ہر گفتگو کو غزل دشمنی قرار دیا گیا۔ گویا غزل کو اس کے اسیروں نے تنقید کی نظر سے دیکھنے میں ڈیڑھ سو سال لگا دیے۔ اس پر تحریکی لیبل تو بہت سے چسپاں کیے گئے مگر تعمیری تنقید اس کے حصے میں نہ آسکی یہی وجہ ہے کہ غزل اپنی سخت جان کے ساتھ خود پر سے آج بھی روایت کی چھاپ ہٹانے کی تگ و دو میں مصروف نظر آتی ہے۔

نعت رسول مقبولؐ

حکمتِ خیر الوریٰ سے ہم کو دانائی ملی
بارگاہِ مصطفیؐ میں آ کے زیبائی ملی
ہم کہاں جاتے بھلا تسکینِ دل کے واسطے
جب دلِ مضطر کو طیبہ میں شکیبائی ملی
سرورِ کونینؐ کی پُر نور نسبت کے طفیل
رونقِ بزم جہاں میں مجھ کو رعنائی ملی
ہے اُسی کی زندگی میں حسنِ اخلاق و عمل
جس کو اخلاقِ نبیؐ سے شانِ زیبائی ملی
کیوں نہ دربارِ نبی سے ہوگا عالم فیض یاب
ہر مریضِ دل کو جس در سے مسیحائی ملی
ہے روا کہنا اسی کو محسنِ انسانیت
صاحبِ قرآن سے حق کی شناسائی ملی
کوئی بھی خالی نظرؔ آتا نہیں دامن یہاں
ایسی دربارِ نبوت سے پذیرائی ملی

نظرؔ فاطمی

حصہ