کراچی شہر کی سڑکوں پہ یاروں تباہی بال کھولے رورہی ہے

105

نجیب ایوبی
ابھی کراچی کو مزید غرقاب ہونا ہے۔ اس لیے کہ ہم نے تباہی کا یہ سامان خود اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ہے۔
کراچی میں حالیہ ایک دن کی چند گھنٹوں کی بارش نے یہاں کے رہنے والوں اور آبادیوں کا جو حال کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
مرحوم ناصر کاظمی کے اس شعر میں تھوڑی سی تحریف کی اجازت دیجیے:
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ
”کراچی شہر کی گلیوں میں یارو“
تباہی بال کھولے رو رہی ہے
اس معمولی سی تحریف میں کراچی کا سارا دکھ سمٹ کر آگیا ہے۔ تباہی کا یہ سلسلہ صرف بارش اور اس کے بعد کی تباہی پر ہی ختم نہیں ہے، بلکہ ہر شعبہ زندگی، ادارے، مقننہ اور انتظامیہ مکمل طور پر بے بس اور ناکام ثابت ہوچکے ہیں۔
کراچی کی یہ تباہی ایک دن یا ایک حکومت کی بات نہیں، یہاں کی تباہی کا نوحہ گزشتہ تیس سال سے جاری ہے۔
کراچی اس حال کو کیوں پہنچا؟ اور اب بہتری کی کیا گنجائش ہے؟ یہ دو باتیں ایسی ہیں جن پر ہمیں سوچنا اور کچھ کرنا ہوگا۔
ہمارے عزیز ساتھی جو بابائے کراچی جناب نعمت اللہ خان مرحوم کے ساتھ دو مرتبہ اپنی یوسی کے چیئرمین بھی رہے، ان کے مطابق کراچی ابھی تو نہیں ڈوبا!بہت پہلے ڈوبا تھا۔
دو دن کی بارش میں چند سڑکوں، گلیوں اور نالوں میں پانی بھرنے پر ایک شور برپا ہے۔۔ ٹی وی چینل بھی اس ہنگامے میں آگے آگے ہیں۔۔۔ ارے بھائی! کراچی تو اُسی وقت ڈوب گیا تھا جب شہر والوں نے پروفیسر غفور جیسے مجسم شرافت لوگوں کے بجائے شہر کے لچوں، بدنام بھتہ خوروں، ٹارچر سیلوں میں سینکڑوں افراد کے قاتلوں کو خوشی خوشی اپنا لیڈر چنا تھا۔۔۔ جب گلا پھاڑ پھاڑ کر ”ہم کو منزل نہیں رہنما چاہیے“ کے نعرے لگائے تھے۔۔۔ جب پیچھے بھاگتے قاتلوں سے دین کی دعوت دیتے نوجوانوں کو بچانے کے بجائے دروازے بند کرلیے تھے۔۔۔ جب اورنگی میں سینکڑوں مکان بناکر دینے والے اور سردی کی راتوں میں لحاف بانٹنے والے ووٹ مانگنے پہنچے تو محلے والوں نے چھتوں پر چڑھ کر پتھر برسائے۔۔۔ اربوں روپے لوٹ کر باہر بھیجنے والوں اور جوتیاں چٹخانے والوں کو پجیرو میں گھومتا دیکھ کر بھی ان کی وکالت کرتے رہے۔۔۔ جبری کھالیں، زکوٰۃ اور فطرہ دے کر بھی ڈھٹائی سے ان جرائم پیشہ افراد ہی کی پشت پناہی کرتے رہے۔۔ جب جانتے بوجھتے ان کے جرائم ایجنسیوں کے کھاتے میں ڈالتے رہے۔۔ جب اپنے شہر کے گھٹیا ترین لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجتے رہے۔۔۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلیں۔۔۔ بلکہ تبدیلی کے نام پر بہروپیوں اور نااہلوں کو ووٹ ڈال آئے۔۔۔۔ کراچی تو کب کا ڈوب چکا۔۔۔ اب تو مکافاتِ عمل بھگت رہے ہیں۔۔۔ لیکن سبق شاید اب بھی نہیں سیکھا۔


کراچی کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہاں کی تاریخ کو جاننا اشد ضروری ہے۔ جس کراچی کو ہم جانتے ہیں یہ ماضی میں ایسا بالکل نہیں تھا، بلکہ یہ 1795ء تک ”کولاچی“ تھا جو خان قلات کی مملکت کا حصہ تھا۔ جہاں مچھیروں اور ماہی گیروں کی کچھ آبادیاں سمندر کے ساتھ ساتھ آباد تھیں۔ قدیم کراچی چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل تھا جن میں بانا، شمس پیر، کیماڑی اور منوڑہ وغیرہ شامل ہیں جو ایک سمندر سے مل جاتے ہیں جس نے قدرتی بندرگاہ کا مقام حاصل کرلیا۔
خان آف قلات اور سندھ کے حکمرانوں کے درمیان اس جگہ کے حصول کے لیے جھڑپیں معمول تھیں۔ خان قلات اس پر زیادہ دیر اپنا تسلط قائم نہ رکھ سکے اور اس طرح ”کولاچی“ سندھ کے حکمرانوں کے پاس چلا گیا۔ کولاچی شہر کی بندرگاہ انگریزوں کے آجانے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی کاروباری ترسیلات اور سامانِ رسد کی بدولت جلد ہی تجارتی بندرگاہ میں تبدیل ہونے لگی۔ تجارتی مرکز بن جانے کی وجہ سے دیگر علاقوں سے بھی لوگ یہاں آنے لگے۔
اب اس کے بعد کا دور ایسٹ انڈیا کمپنی کا تھا۔ اعجازالحق قدوسی اپنی کتاب ”تاریخ سندھ“ میں سر چارلس جیمز نیپئر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اُس نے امیرانِ سندھ کی حکومت ختم کرنے میں بڑا حصہ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کے ہاتھوں تالپروں کی حکومت کا آفتاب غروب ہوا وہ یہی چارلس نیپئر ہے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے سپاہیوں کے لیے بزرٹا لین، جیکب لائن اور دوسرے ناموں سے رہائشی کالونیاں بنائیں، اور سندھ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اس نے کولاچی کے قرب و جوار کا باقاعدہ سروے کروایا، جس کے نتیجے میں یہ بات معلوم ہوئی کہ اس علاقے کو قدرت نے دو قیمتی قدرتی دریاؤں سے نوازا ہے، آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ کراچی میں کون سے دریا تھے؟
یہ دریا حقیقت میں قدرتی پانی کے (جو برسات کے دنوں میں پہاڑوں اور دیگر اونچے علاقوں سے بہ کر آتا تھا) راستے یعنی گزرگاہ تھے۔ ایک قدرتی آبی گزرگاہ ملیر ندی اور دوسری لیاری ندی۔ اُس وقت اسے ندی نہیں بلکہ دریا کہا جاتا۔ یہاں تک کہ ان میں پورا سال اسٹیمر بھی چلا کرتے تھے۔
کراچی میں انگریز کے قبضہ کرنے کے ساتھ ہی 1846ء میں انگریز فوج میں ہیضے کی وبا پھیلی اور دیکھتے ہی دیکھتے سات ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہ اتنا خوفناک ہیضہ تھا کہ انگریز فوج کے بیشتر سپاہی اس کی تاب نہ لاسکے اور اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔
انگریز فوجیوں کی نگہداشت اور ہنگامی بنیادوں پر وبائی امراض سے بچنے کے لیے شفا خانے بنائے گئے۔ ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے شہر میں مزید پُرفضا مقامات تلاش کیے گئے، اور کئی امدادی مراکز اور علاج گاہیں بنوائی گئیں۔
الغرض جب یہاں کا سروے کروایا گیا کہ کیا یہ علاقہ عام لوگوں کے رہنے کے قابل ہے بھی کہ نہیں؟ اور یہاں کسی نئے شہر کی بنیاد ڈالی جاسکتی ہے تو اُس وقت یہ بات سامنے آئی کہ قدرتی آبی گزرگاہوں کی بدولت اس مقام پر بہترین شہر بسایا جاسکتا ہے۔ اُس وقت یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ برساتی پانی کے بہاؤ کے اٹھارہ قدرتی راستے ہیں جو شہر کی نہ صرف پینے کے صاف پانی کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ شہر کو غذائی ضروریات کے لیے خودکفیل بھی بنا سکتے ہیں۔
ان اٹھارہ قدرتی گزرگاہوں سے پہاڑوں کا برساتی پانی ملیر ندی، لیاری ندی اور دیگر راستوں سے گزر کر سمندر میں گر جاتا۔
کراچی شہر کی جغرافیائی صورت حال یہ ہے کہ کراچی ایک طرف سے ڈھلوان سطح پر ہے، شمال سے آنے والا پانی اونچائی سے آکر کراچی کی آبادیوں میں قدرتی نالوں کی بدولت پہنچ کر اصولی طور پر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ ان نالوں کی تعداد تقریباً 44 ہے جو بڑے نالوں کی شکل میں ہیں، جیسے گجر نالہ، محمود آباد کی آبادی کے ساتھ بہنے والا بڑا برساتی نالہ، پاک کالونی کے ساتھ بہنے والا نالہ، موسیٰ کالونی سے گزرتا نالہ، تین ہٹی، لسبیلہ سے گرتے ہوئے بھی یہی نالے دکھائی دیتے ہیں۔ گجر نالہ، اورنگی نالہ اور محمود آباد نالہ میں کچی آبادیوں اور چائنا کٹنگ کی بدولت قدرتی راستے بند ہوچکے ہیں۔
بڑے نالوں کے علاوہ بھی تقریباً 550 چھوٹے برساتی نالے ہیں، لیکن یہ سب کے سب اب کچرے سے بھر چکے ہیں یا پھر ان میں باقاعدہ کچرا پھینک کر انہیں بند کردیا گیا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ان نالوں پر درجنوں چائنا کٹنگ اسکیمیں نکال کر لوگوں کو بسا دیا ہے۔
کراچی کو اس حال میں پہنچانے والے کون ہیں؟
کس نے قدرتی گزرگاہوں کا ٓراستہ روک کر بلندو بالا عمارات بنائیں؟ چائنا کٹنگ کے نام پر ہر ندی نالے کے اوپر تجارتی اور رہائشی مراکز قائم کیے؟
حسن اسکوائر کے ساتھ عیسیٰ نگری سے متصل تمام علاقہ قدرتی پانی کی گزرگاہ تھا۔ آج قدرتی نالے سکڑ کر بمشکل ایک نالی جتنے رہ گئے ہیں۔ ائرپورٹ کے سامنے کا تمام علاقہ قدرتی پانی کی گزرگاہ تھا، فلک ناز اپارٹمنٹ اور گرین و گولڈن ٹاون جیسی آبادیاں کس نے بسائیں؟
اس وقت کراچی کا کوئی میدان اور پارک ایسا نہیں بچا جو اس چائنا کٹنگ سے محفوظ رہا ہو۔ مجبور ہوکر مرحوم نعمت اللہ خان صاحب کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا اور بمشکل کچھ پارک ان بھتہ مافیا سے واگزار کروائے گےے، مگر اس کے باوجود بیشتر علاقوں میں تجاوزات قائم ہوچکی ہیں۔
ملیر ندی کے اطراف بلند رہائشی عمارتیں ہمارا مذاق اڑاتی دکھائی دیتی ہیں، لیاری ندی محدود کرکے اس کے اطراف عمارات کا جال، سپر ہائی وے کے دونوں طرف رہائشی اسکیمیں… یہ سب قدرتی پانی کی گزرگاہیں تھیں۔ کس صاحبِ اختیار نے ان زمینوں کا سودا کیا؟ مجھے یہ سب بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کھلواڑ میں سب ہی سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔
ہر سال مون سون کے موسم میں ایک دو گھنٹوں کی بارش میں کراچی کی سڑکوں پر چار چار دن پانی کھڑا رہتا ہے، اور بالآخر دھوپ نکلنے کے بعد سوکھ کر یا زمین میں جاکر غائب ہوچکا ہوتا ہے۔ کسی نے اچھا کہا کہ ”بارش سے ڈر نہیں لگتا صاحب! بارش کے پانی سے جان نکلتی ہے“۔ یہی پانی جو کچرے سے اٹے ہوئے نالوں میں جانے سے رہ جاتا ہے، سڑکوں اور میدانوں میں ہفتوں ہفتوں کھڑا رہتا ہے۔ اس کے بعد یہی پانی اپنے ساتھ زہریلے مادے لے کر زمین میں چلا جاتا ہے۔ پھر یہ بورنگ اور پانی کے پلانٹس کی بدولت صاف پانی کے نام پر ہمیں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس آلودہ پانی کو اگرچہ صاف بھی کرلیا جاتا ہے، مگر اس کے اندر موجود سیسہ اور سنکھیا نامی خطرناک زہر بظاہر اس صاف پانی میں ہی موجود رہتے ہیں جو ہمارے جسم میں آہستگی کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ہمارے مدافعتی نظام کو کھوکھلا کرچکے ہیں۔
جسم کا مدافعتی نظام تو اب کھوکھلا ہورہا ہے، مگر اس سے پہلے ہمارا سیاسی، انتظامی اور معاشرتی نظام کھوکھلا ہوکر زمین بوس ہوچکا۔
پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور اب تحریک انصاف… سب کے سب اس لوٹ مار اور کراچی کو تباہی کے کنارے پہنچانے والے آج مگرمچھ کے آنسو بہا تے دکھائی دیتے ہیں۔
کچھ بھی ہو، یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہم نے پانی کے قدرتی راستوں کا سودا کیا، یہاں تک کہ سمندر کی زمین تک پاٹ کر ڈی ایچ اے کے درجنوں فیز بنا ڈالے، جن سے فیض یاب ہونے کا حق صرف فوج کے پاس ہے۔ گویا سیاست دانوں، لینڈ گریبرز اور بھتہ مافیا کے ساتھ عسکری اداروں نے بھی سانجھا کیا ہوا ہے۔ ہم بحیثیتِ مجموعی اس قدرتی پانی اور اس کے راستوں کی حفاظت نہ کرپائے۔ ہم نے اپنے لیے خود ہی تباہی و بربادی کا سامان خریدا۔
میرے منہ میں خاک، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک ”حادثے“ کے نتیجے میں بسایا جانے والا شہر کراچی مستقبل قریب میں پانی کی وجہ سے کسی ناگہانی اور المناک حادثے میں صفحہ ہستی سے مٹ کر ”پومپائے شہر“ کی طرح ہمیشہ کے لیے عبرت کا نمونہ بن کر تاریخ میں محفوظ ہوجائے۔
nn

حصہ