پہاڑوں کے بیٹے

57

(انیسویں قسط)
’’ہمارا رب ہمارے ساتھ ہے، مبارک ہو عبدالجبار! تمہارے زخم ٹھیک ہورہے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر کی آواز میں جوش کی لرزش تھی اور آنکھوں میں جذبۂ شکر کے قطرے۔ اس نے کمانڈر ادریس اور اسماعیل خان سے ہاتھ ملایا اور باہر نکل گیا۔
’’ہاں عبدالجبار، کل جو کچھ تم بتانا چاہ رہے تھے، ہم آج سننا پسند کریں گے‘‘۔ وہ دونوں سامنے پڑی ہوئی لکڑی کی بینچ پر بیٹھ گئے۔ عبدالجبار بازوئوں سے تکیے کا سہارا لے کر سیدھا بیٹھ گیا۔ ایک لمحہ خوش رہ کر اس نے ایک گہری سانس لی اور بولا ’’کمانڈر صاحب! یہاں سے جانے کے بعد ہم نے کئی چھوٹے بڑے معرکے لڑے اور بہت سے روسیوں کو جہنم رسید کیا۔ پھر ایک دن ہمارا سامنا روسیوں کے ایک بڑے کانوائے سے ہوا جس میں ٹینک اور بکتربند گاڑیوں کی بڑی تعداد تھی۔ روسیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ فضا سے روسی طیارے ان کے قافلے کو کور کررہے تھے۔ ابھی ہم ان سے کئی فرلانگ دور تھے۔ ہم نے ان کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ لیکن پھر یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ انہوں نے اپنے قافلے کو واپس موڑ لیا ہے۔


کچھ دیر بعد روسی طیاروں نے بم برسانے شروع کیے۔ یہ ایک ایک بم اتنا طاقتور تھا کہ جہاں گرتا، زمین کی گہرائیوں میں پہنچ کر چشمے جاری کردیتا تھا۔ طیارے ساتھ ساتھ ایسے بم بھی پھینک رہے تھے جو وقفے وقفے سے پھٹتے تھے۔ میزائلوں کی بارش ہورہی تھی۔ سب کی وہ حالت تھی جس کا نقشہ قرآن نے یوں کھینچا ہے کہ:
’’جب وہ تمہارے اوپر سے، نیچے سے تم پر چڑھ آئے، جب آنکھیں پتھرا گئیں، دل اچھل کر حلقوموں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے، اُس وقت مومنوں کو آزمایا گیا اور وہ بری طرح ہلا مارے گئے۔‘‘
سچ یہ ہے کہ ہم واقعی بری طرح ہلا مارے گئے، ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی اوٹ کے پیچھے چھپ جانے کی سعی میں مصروف تھا اور حیران تھا کہ بموں کی اس بارش سے کیسے بچا جاسکے گا! لیکن اللہ ایسے موقع پر اپنی رحمت کیسے اور کس طرح نازل کرتا ہے، کوئی نہیں جانتا۔ ہم نے دیکھا کہ اللہ نے تیز اور تند ہوائیں بھیج دیں۔ یہ ہوائیں ایسی تھیں کہ راستے میں آنے والے درختوں اور بڑی بڑی چٹانوں کو ہلا ڈال رہی تھیں۔ روسی طیارے ان ہوائوں سے خوف زدہ ہوکر واپس چلے گئے اور یہ قرآن کی اس آیت کے مطابق محسوس ہورہا تھا جس میں سورہ احزاب میں اللہ فرماتا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے کفار کو ان کے غیظ و غضب کے ساتھ بے نیل و مرام واپس لوٹا دیا اور مومنوں کی طرف سے اللہ خود ہی لڑنے کو کافی ہوگیا کہ اللہ بڑی قوت اور غلبے والا ہے۔‘‘
پھر جب ہوائیں تھمیں تو ہم نے دیکھا کہ روسی طیارے بھاگ چکے ہیں اور روسی کانوائے کا کوئی پتا نہیں ہے۔ پھر ہم نے اپنے ساتھیوں کو آوازیں دینی شروع کیں اور دیکھا کہ ایک ایک کرکے سارے ساتھی کسی نہ کسی سمت سے نکل کر زندہ سلامت جمع ہوگئے، پھر ہم نے اللہ کی مدد پر سجدۂ شکر ادا کیا اور فیصلہ کیا کہ روسی کانوائے کا پیچھا کیا جائے۔ ان ہزاروں روسیوں کو یوں زندہ سلامت چھوڑ دینا اور جانے کے لیے راستہ دینا درست نہیں۔ پھر ہم نے تیزی سے سفر شروع کیا اور اللہ کی مدد سے جلد ہی ان کو جا لیا۔ وہ راستے میں گرنے والی چٹانوں کے باعث رک گئے تھے۔ انہوں نے آگے اور پیچھے سے مورچے بنا لیے تھے اور کچھ روسی فوجی راستہ صاف کرنے میں مصروف تھے۔
ہم نے ان کو گھیر کر فائر کھول دیا۔ ہمیں خود حیرت ہورہی تھی کہ ہماری پرانی رائفلیں اُن کی بکتربند گاڑیوں میں سوراخ کررہی تھیں۔ اب انہوں نے اپنے ٹینکوں سے ہم کو نشانہ بنانے کا سوچا۔ اگرچہ اس سے اُن کا اپنا نقصان بھی ہورہا تھا کیوں کہ ٹینکوں کے گولوں سے چٹانیں ٹوٹ ٹوٹ کر گررہی تھیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ دور سے نہیں بلکہ نزدیک جاکر ان کو نشانہ بنانا چاہیے تاکہ ٹینک کی زد میں آنے سے بچ سکیں۔ لہٰذا ہم نے اپنے ساتھیوں کو یکجا کیا اور چکر کاٹ کر نیچے کا رخ کیا۔ ہمارے تین ساتھی شہید ہوچکے تھے لیکن اس کے باوجود بقیہ ساتھیوں نے پورے قافلے کو اچھی طرح گھیر لیا۔‘‘
کمانڈر عبدالجبار سانس لینے کو رکا۔ جوش کے مارے میں اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
’’کمانڈر صاحب! مجھے یقین ہے کہ روسیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی لیکن بچ جانے والے روسی دس سے زیادہ نہ تھے جو دُم دباکر ایک اور ٹینک کے ذریعے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، لیکن میرے سارے ساتھی شہید ہوگئے، بس میں ہی زندہ بچ گیا۔‘‘
عبدالجبار خان کو اپنے زندہ بچ جانے پر جیسے شرمندگی تھی، اس کے آنسو بہہ بہہ کر ڈاڑھی میں جذب ہورہے تھے۔ ’’شہادت کا انمول تاج اور شاہانہ خلعت میرے ساتھیوں کے حصے میں آئی اور میں بے نیل و مرام واپس آگیا۔‘‘
’’غم نہ کرو عبدالجبار! ابھی تمہاری قسمت میں جہاد کے مزید معرکے لکھے ہیں، جب تک وطن کی سرزمین کو ناپاک مشرکوں اور کافروں سے پاک نہیں کریں گے، تمہارا کام باقی رہے گا‘‘۔ کمانڈر ادریس نے عبدالجبار کو سینے سے لگا کر تسلی دی۔ کمانڈر ادریس نے ہلال کو شیردل کی شہادت کی اطلاع دے دی تھی لیکن زبیر کے بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا تھا کہ ابھی تو اُس کے بارے میں خود انہیں بھی کوئی بات معلوم نہیں تھی، البتہ معرکے کی کامیابی کی اطلاع ضرور دے دی تھی۔
ہلال باپ اور ماموں کے کارناموں پر فخر محسوس کررہا تھا۔ البتہ شیردل کی شہادت کے باعث کچھ لمحے افسردہ رہا، سوچ رہا تھا مامی صفیہ کی حالت تو ویسے ہی بے حد خراب ہے۔ اس نے کمانڈر ادریس کو شیردل ماما کی شہادت کی اطلاع فی الحال گھر بھیجنے سے منع کردیا کہ وہ خود بعد میں جب گھر جائے گا تو یہ اطلاع دے دے گا۔
دو تین دن بعد ہلال کو اطلاع دے دی گئی کہ آئندہ معرکے میں اس کے کمانڈر عبدالجبار ہی ہوں گے۔ ہفتے ڈیڑھ ہفتے کے بعد کمانڈر عبدالجبار کا زخم پوری طرح بھر گیا تھا اور وہ مزید معرکوں کے لیے تیار تھا۔ ہلال کے علاوہ بارہ مجاہد اور بھی تھے جو کمانڈر ادریس سے ہدایات لے کر اپنی مہم پر روانہ ہوگئے۔
…٭…
کرنل کرمانوف نے کلاشنکوف سے زبیر کا نشانہ لیا ہوا تھا، زبیر اس نازک موقع پر اپنا کام ادھورا چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ ماچس ابھی اس کے ہاتھ میں تھی۔ پیٹرول میں ڈوبے ہوئے الیکٹرک تار کو آگ دکھانا باقی تھا، اس نے ماچس جیب میں ڈالی اور ہاتھ اوپر اٹھا دیے۔
’’تم اس تار کو واپس لپیٹو، جلدی کرو‘‘۔ کرنل نے کرخت آواز میں زبیر کو حکم دیا۔ زبیر نیچے جھکا اور تار کا سرا اٹھا لیا۔
کرنل نے کلاشنکوف سے آگے کی طرف اشارہ کیا، بس یہی لمحہ تھا کہ جب زبیر نے ہوا میں اچھل کر ایک زوردار لات کرنل کے ہاتھ میں پکڑی کلاشنکوف پر ماری اور وہ اس کے ہاتھوںسے نکل کر دور جا پڑی۔ زبیر نے چیتے کی سی پھرتی سے کرنل کرمانوف کو قابو کیا اور اس کی گردن اپنے بازوئوں میں جکڑ لی۔ چند ہی لمحوں میں وہ کرنل کی گردن کا منکا توڑ چکا تھا۔ اب زبیر نے اپنے بازوئوں کی جکڑ سے کرنل کی گردن کو آزاد کیا تو اس کا جسم فرش پر گر پڑا۔
زبیر نے جلدی سے جیب سے ماچس نکالی اور تار کو آگ لگا دی۔ آگ کا شعلہ تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔ اب زبیر نے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔ جلد ہی وہ چھائونی سے باہر نکل آیا اور دیگر فوجیوں کی طرح ایک بس میں سوار ہوگیا۔ ٹھیک بیس منٹ بعد اس نے چھائونی میں ہونے والے دھماکوں کی آوازیںسنیں اور اطمینان کا سانس لیا۔ اس کا مشن کامیاب ہوگیا تھا۔ اب واپسی کا سفر تھا۔
چھائونی کے باہر ایک خاص مقام پر بھائی فیروز سے ملنا طے ہوا تھا۔ زبیر دیگر فوجیوں کے ساتھ بس میں بیٹھ کر چھائونی سے باہر نکل آیا۔ مقررہ چائے خانے پر پہنچ کر وہ بس سے اتر گیا۔ چائے خانے میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔ زبیر کی نظریں بھائی فیروز کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ وہ تو نظر نہیں آئے لیکن ان کے آفس کے دو افراد پر نظر پڑی۔
زبیر شس و پنج میں تھا کہ ان سے فیروز بھائی کے بارے میں سوال کرے یا نہ کرے۔ اتنے میں وہ دونوں زبیر کو پہچان کر اس کی میز کے پاس آگئے۔
زبیر نے ان سے باتوں باتوں میں فیروز کے بارے میں دریافت کیا۔ ’’وہ تو ٹریننگ کیمپ کے دھماکوں میں اڑ گئے، میں نے خود دیکھا تھا‘‘۔ ان میں سے ایک نے کہا۔
وہ دونوں کابل شہر کی طرف جانے والی بس کے منتظر تھے۔ بس کو دور سے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ زبیر کو خدا حافظ کہہ کر وہ اپنی بس کی طرف چلے گئے۔ اگر وہ کچھ دیر اور بیٹھتے تو فیروز کی خبر سن کر زبیر کے گم صم رویّے پر ضرور حیرت کرتے۔
میرا اور فیروز بھائی کا ساتھ اتنا ہی تھا؟ بھائی کی باتیں، اس کی یاد زبیر کو افسردہ کرگئی، لیکن ایک اطمینان بھی تھا کہ فیروز بھائی نی راہِ ہدایت پالی تھی۔ ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں شہادت کا تاج ضرور پہنائیں گے۔ زبیر نے ایک گہرا سانس لے کر سر اٹھایا۔ اِدھر اُدھر دیکھا تو محسوس ہوا کہ چائے خانہ ویران سا ہوتا جارہا ہے۔ نہ معلوم لوگ کس وقت اٹھ کر چل دیے تھے۔ کرسیوں پر اُکا دُکا ہی لوگ بیٹھے نظر آرہے تھے۔
یہاں بیٹھنا اب خطرناک ہے۔ زبیر کرسی کھسکا کر اٹھ کھڑا ہوا، اس کے سامنے ایک طویل سفر تھا جس میں سب سے اہم مرحلہ کابل سے بخیریت باہر نکلنا تھا۔ اپنا حلیہ تبدیل کرنے کے لیے اس نے ایک حجام کی دکان کا رخ کیا۔ سر کے بال اور داڑھی دونوں کٹوا کر جب اس نے آئینے پر نظر ڈالی تو دل ہی دل میں ہنس دیا۔
…٭…
سابق روسی صدر برژنیف نے جب افغانستان میں روسی مداخلت کا فیصلہ کیا تھا اور باقاعدہ فوجی دخل اندازی کا ارادہ کیا تھا تو اُس وقت اس کا خیال تھا کہ روسی فوجیں تین سے چھ ماہ کے دوران حالات کو قابو کرلیں گی اور افغانستان میں کمیونسٹ انقلابیوں کو وہ قوت فراہم ہوجائے گی جو کسی بھی مدمقابل کو سامنے آنے سے ہمیشہ کے لیے روک دے گی۔ لیکن روسی حکمرانوںکے یہ اندازے غلط ثابت ہوئے۔ نہ صرف روسی افواج اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوپائیں بلکہ اس کے برعکس ان کا یہ قدم دنیا کی دو بڑی طاقتوں میں سے ایک یعنی روس کے زوال کا سبب بن گیا۔ حالانکہ جس وقت برژنیف نے یہ فیصلہ کیا تھا اُس وقت دنیا کی کوئی طاقت بشمول امریکا کے، اس کے ساتھ مسلح تصادم کے لیے تیار نہ تھی۔ امریکا چونکہ ویت نام میں ایک شرمناک شکست سے دوچار ہوچکا تھا لہٰذا وہ اس قسم کی کسی مہم جوئی کا تصور بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
دوسری طرف دنیا میں جہاں کہیں کوئی بھی ملک ناکامی کا شکار ہوتا اور دوسرے ملک کو فتح حاصل ہوتی تو اس فتح کے پیچھے روس کا ہاتھ نظر آتا۔ مشرقی یورپ کے جن ممالک میں کمیونزم کے غلبے کے ذریعے روس نے رسائی حاصل کی، وہ وہاںسے واپس نہیں گیا۔
افغانستان میں روسی مداخلت کے فوری بعد امریکا کے صدر جمی کارٹر نے جو الفاظ اپنی تقریر میں کہے، وہ یہ تھے کہ ’’امریکا افغانستان کی آزاد سرزمین پر روسی مداخلت کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور اگر روس نے جنوب کی جانب مزید پیش قدمی کی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘
یعنی اب تک جو کچھ روس نے کیا، سو کیا، لیکن مزید جنوب کی طرف آگے بڑھنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔ امریکا کی کمزوری کا اندازہ روس کو بخوبی تھا، لہٰذا دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں سوال کا جواب دیتے ہوئے برژنیف نے کہا کہ ’’ہم افغانستان کے مسائل پر تین ماہ کے اندر اندر قابو پا لیں گے اور وہاں مکمل امن قائم کردیا جائے گا۔‘‘
لیکن برژنیف کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا، اور بالآخر روس کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ افغانستان سے نکل جانا ہی اس کے لیے بہتر ہے۔
(جاری ہے)

حصہ